Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 06)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 06)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
گھر پہنچ کر جوں ہی وہ تينوں اندر داخل ہوۓ سکندر صاحب کے ضبط کا پيمانہ لبريز ہوچکا تھا۔
“يہ ہے ہماری اولاد جس پر ہم نے اعتماد کيا۔ جسے ہم نے اس قابل بنايا اس دن کے لئيے کہ آج وہ لڑکيوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالتا پھرے۔ اسے شرم نہيں آئ يہ سب کرتے۔ يہ سوچتے کے اس کے گھر ميں بھی ايک بہن موجود ہے۔ کيا سوچ کر تم نے يہ سب کيا۔ اتنی پستی ميں تم کيسے چلے گۓ کہ ہميں پتہ تک نہيں چلا۔ ميری عزت کا جنازہ اٹھا ہے آج صرف اور صرف تمہاری وجہ سے۔ اتنے اتاولے ہوۓ جارہے تھے تو بتاتے تو صحيح شادی کرکے باعزت طريقے سے اسے گھر لے آتا۔ پھر شوق پورے کرتے رہتے تم۔ ميرا دل کررہا ہے يا تو آج ميں اسے شوٹ کردوں يا خود کو؟” سکندر اس پر چلا رہے تھے۔ جو سر جھکاۓ صوفے پر بيٹھا تھا۔ منا اور شفق ششدر يہ سب سن رہی تھيں۔ جبکہ رومان مکمل طور پر خاموش تھا۔
وہ کچھ دير پہلے ہی ايک نيوز چينل پر يہ سب ديکھ چکی تھيں۔ سکندر صاحب کے جانے کے بعد وہ دعا کررہی تھيں یہ يہ سب غلط ہو۔ غازان کی فوٹيج بار بار ميڈيا پر دکھائ جارہی تھی اور اس لڑکی کا دوپٹہ اور وہ بريسليٹ بھی۔
وہ دعائيں مانگ رہی تھيں کہ يہ سب جھوٹ ہو مگر اب سکندر صاحب کے منہ سے نکلنے والے الفاظ نے انہيں بالکل نااميد کرديا تھا۔ وہ سوچ بھی نہيں سکتی تھيں کہ ان کا اتنا شريف اور سلجھا ہوا غازان ايسا کرےگا۔
“غازان” صدمے کے مارے وہ بس اتنا ہی کہہ سکيں۔
اس نے ايک آخری اميد بھری نگاہ ماں کے چہرے پر ڈالی مگر انکی آنکھوں ميں ہلکورے ليتے شک نے جيسے اسکی ساری ہستی اسی ايک لمحے ميں ختم کردی۔
“بتاؤ مجھے کيوں کيا تم نے ايسا۔۔کيا کہہ رہے ہيں تمہارے ڈيڈی”
وہ غصے سے اسکی جانب بڑھيں اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
اس نے جھکا سر نہيں اٹھايا۔ ماں کے اشک نہيں ديکھے۔
“ميں سمجھتا تھا يہ میرا سر ہميشہ فخر سے بلند رکھے گا۔ مگر اس نے آج ميری جو عزت اچھالی ہے ميں اب اپنا سر کسی کے سامنے اٹھانے کے قابل نہيں رہا۔ خبروں ميں فورا پٹياں چل گئ ہيں۔ کل کے اخبار ميں کس طرح کی کہانياں اسکی تصويروں کے ساتھ چھپيں گی۔ اوہ خدا ميں مر کيوں نہيں گيا” وہ صوفے پر بے دم بيٹھے تھے۔
“کون تھی وہ۔۔کيوں تم اتنے اندھے ہوگۓ۔ بولو غازان” شفق چيختے ہوۓ اسے تھپڑ مار رہی تھيں۔ ايک جنون سوار ہوگيا تھا انہيں يہ سب سن کر۔
يکدم وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر سب کو ديکھنے لگا۔
“ميں اب کبھی کسی کو کچھ نہيں بتاؤں گا۔ ميں نہيں اب وقت گواہی دے گا کہ ميں سچا تھا يا جھوٹا۔” ايک ايک لفظ پر زور ديتا وہ سيڑھياں چڑھ گيا۔
“ديکھو ۔۔۔ديکھو اس کمينے کو نجانے کس بات کا غرور ہے ۔ اپنی غلطی نہيں مان رہا” وہ غصے سے پاس رکھا گلاس زمين پر مار کر بولے۔ جو چکنا چور ہگيا انکے اعتماد کی طرح۔
________________________
وہ گھر آکر بھی کتنی دير غائب دماغ رہی۔ جس لمحے غازان نے اس کی تصوير اپنے موبائل ميں قيد کی۔ اس کے کچھ ہی لمحوں بعد وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ غازان سے پوچھے کہ کيا اس نے تصوير لی ہے يا اسے دھوکہ ہوا ہے۔
کہ اس نے غازان کو لائبريری کی جانب جانے والی سيڑھياں چڑھتے ديکھا۔
اور کچھ لمحوں بعد ہی وہ سب ہوگيا جو کسی کے گمان ميں بھی نہيں تھا۔
وہ کپڑے چينج کرکے بيڈ پر ليٹ چکی تھی۔ دوسرے بيڈ پر ليٹی ہوئ ورشہ کا بھی حال اس سے کم نہ تھا۔
“کيا تمہيں يقين ہے کہ غازان بھائ نے ايسا کچھ کيا ہوگا” ورشہ کے سوال پر وہ کچھ لمحے خاموش رہی۔
“نہيں۔ مجھے ہزاروں گواہياں بھی کوئ لا کر دے دے مگر مجھے يقين ہے وہ ايسے نہيں ہيں۔ تم خودسوچو ہم کتنے عرصے سے اس کو جانتے ہيں۔ کيا اس نے تم سے يا مجھ سے کبھی کوئ غلط بات کی۔ اور دوسری جانب رستم وہ شخص ہے ہی عياش اور اوباش يہ اسی کی چال ہے۔ پچھلے دنوں تمہيں پتہ ہے ہمارے ڈيپارٹمنٹ کی ايک لڑکی کو وہ اٹھا کر لے گيا تھا۔
کسی نے يونيورسٹی ميں يہ ذکر بھی سنا ہے۔ اسی لئيے کہ وہ ايک سياستدان کی اولاد ہے اگر کوئ ڈين بولتا تو اسے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑتے۔ مگر غازان کا بيک گراؤنڈ چونکہ ايسا نہيں ہے اسی لئيے اسے ٹريپ کر ليا ہے۔
اس خبر کو چھپا ليا گيا تب ان يونيورسٹی والوں کو اپنی ريپوٹيشن کی فکر نہيں تھی۔ روزانہ نجانے کتنے لڑکے لڑکياں يہاں افئير چلاتے ہيں۔ کلاسز بنک کرکے ڈيٹس پر جاتے ہيں تب انہيں ادارے کی عزت کا خيال نہيں ستاتا۔ آج بيان دے رہے ہيں کہ اس واقع نے اس ادارے کی عزت اچھالی ہے۔
ميں اس واقع کو ايسے نہيں چھوڑوں گی۔” وہ کچھ سوچتے ہوۓ بولی۔ اسکے لہجے کے يقين پر ورشہ حيرت سے بہن کو دیکھ رہی تھی۔
اسے بھی يقين نہيں آرہا تھا کہ وہ شخص جو عورت کی اتنی عزت کرتا ہے اس کی تذليل کيوں کر کرے گا۔
دل سے اسکی بہتری کے لئيے دعا نکلی۔
____________________
اگلے دن شام ميں غازان کے گھر ايک اور طوفان آچکا تھا۔
سکندر صاحب جيسے ہی آفس سے آۓ۔ آتے ہی انہوں نے جو خبر سنائ وہ سب کو پريشان کرنے کے لئيے بہت تھی۔
“ميں اس ناہنجارکا رشتہ طے کر آيا ہوں ندا کے ساتھ۔ اس سب کے بعد تو مجھے اميد نہيں تھی کہ نويد مجھے کبھی اپنی بيٹی دے گا مگر اس کی اعلی ظرفی نے ميرا دل جيت ليا ہے۔ اسی اتوار کو اسکا نکاح ہے ندا کے ساتھ اور اسی دن ہم خاموشی سے رخصتی کرواليں گے” سکندر صاحب تو جيسے سب فيصلے کرکے آۓ تھے۔ رومان ٹی وی بند کرچکا تھا۔
منا اور رومان نے خاموش نظروں کا تبادلہ کيا جبکہ شفق فق چہرہ لئيے سکندر صاحب کے سامنے والے صوفے پر بيٹھی تھيں۔
“کيا کہہ رہے ہيں آپ” وہ بمشکل اتنا ہی کہہ پائيں۔
“کيامطلب کيا کہہ رہا ہوں ميں۔ اونچا سننے لگ گئ ہو۔ کس خوش فہمی ميں تم بيٹھی ہو کہ اس کے ان کرتوتوں کے بعد لوگ اسے پھولوں کا ہار پہنائيں گے۔شکر کرو کہ کوئ اپنی لڑکی دے رہا ہے۔ جب اولاد ہاتھوں سے نکل جاۓ تو اسے لگاميں ڈالنی پڑتی ہيں۔
اور جس غلاظت ميں يہ جانے والا تھا اس کا بہتر حل يہی ہے کہ اسکی شادی کردی جاۓ تاکہ اسکی خواہشات کل کو ہميں کسی اور کے ماں باپ کے آگے شرمندہ نہ کريں۔ رومان اسے بلا کر لاؤ” اپنی بات کہہ کر انہوں نے رومان کو مخاطب کيا۔
وہ سيڑھياں چڑھ کر اسکے کمرے کی جانب گيا جو کچھ دير پہلے ہی گھر آيا تھا نجانے کہاں کہاں کی خاک چھان کر آيا تھا۔
“غازان تمہيں ڈيڈی بلا رہے ہيں” وہ جو بيڈ پر بيٹھا نجانے کس سوچ ميں گم تھا۔ رومان کی بات پر اپنی ويران نظريں اس کے چہرے پر ٹکائيں۔
“آرہا ہوں” رومان کو اس کا يہ انداز ديکھ کر کچھ ہوا۔ پھر خاموشی سے واپس چلاگيا۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ بھی لاؤنج ميں سب کے درميان تھا جہاں منا روتی ہوئ ماں کو خاموش کروا رہی تھی۔
“جی” خاموشی سے صوفے کے پاس کھڑا ہوگيا مگر باپ کی جانب نہيں ديکھا۔
“اتوار کو تمہارا اور ندا کا نکاح اور رخصتی ہے۔ اور اسکے بعد تم ميرا بزنس جوائن کروگے۔ بہت من مانياں ديکھ ليں تمہاری اسی بے جا لاڈ پيار کا يہ نتيجہ ہے کہ آج ہم لوگوں کے سامنے شرمندہ ہيں۔
اپنے دماغ سے نوکری کا بھوت اتار کر سيدھی طرح ميرا آفس جوائن کرو۔ اس بارے ميں ميں تمہاری کوئ لولی لنگڑی دليل نہ سنوں” کڑے لہجے ميں اسے اپنا فيصلہ سنايا۔ وہ جو پہلے کچھ کہنے کے لئيے لب کھولنے لگا تھا خاموش ہی رہا۔
“تم سے بکواس کررہا ہوں ميں۔ ديواروں سے نہيں بول رہا” اسکی خاموشی پر وہ دھاڑے
“جی سن ليا ہے” اتنا کہہ کر وہ جس طرح آيا تھا ويسے ہی واپس چلا گيا۔
“احسان کرکے دفع ہورہا ہے۔۔۔۔اس کے لئيے۔۔۔ايسی گندی اولاد کے لئيے تم رورہی ہو۔ اللہ ايسی اولاد سے بے اولاد ہی رکھتا تو بہتر تھا” غصے سے وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گۓ۔
شفق کے رونے ميں شدت آگئ۔
____________________________
“ہيلو ابيشہ کيسی ہو” ندا کالنگ دیکھ کر وہ کچھ دیر سوچتی رہی کہ اٹھاۓ يا نہيں۔ کچھ دیر پہلے ہی وہ اخبار کے دفتر سے واپس آئ تھی۔ اب اس نے فل ٹائم جاب شروع کرلی تھی۔
يونيورسٹی سے تو فارغ ہوچکی تھی لہذا اب بہتر يہی جانا کہ بھرپور طريقے سے عملی زندگی کا آغاز کرے۔
“ہيلو ہاں ميں ٹھيک ہوں تم سناؤ” اس ڈنر کے بعد آج دو دن بعد اس کی ندا سے بات ہورہی تھی۔
“ايک گڈ نيوز دينی ہے تمہيں” اس کا چہکتا لہجہ ابيشہ کو چونکا گيا۔
“ہاں ضرور” وہ بھی خوشگوار لہجے ميں بولی۔
“ميری اس اتوار کو شادی ہے غازان کے ساتھ۔ ميں مانتی ہوں کہ اس نے جو کچھ کيا غلط کيا۔ ليکن اپنے ہی آخر اپنوں کو سنبھالتے ہيں۔ غازان کے ڈيڈی آۓ تو ميرے بھی پاپا نے ہاں کردی۔ ظاہر اب اور کون اتنا اعلی ظرف ہوتا جو اسے اپناتا۔ تو بس ميں نے ہاں کردی۔ انويٹيشن دينے کا ٹائم نہيں تھا لہذا تمہيں فون پر ہی انوائٹ کررہی ہوں ضرور آنا” خوشی سے بھرپور لہجے ميں جو خبر اس نے ابيشہ کو سنائ وہ اسے سن کرگئ۔
“ہاں ضرور کوشش کروں گی۔ مبارک ہو۔ اچھا ندا مجھے کچھ کام ہے پھر بات ہوگی” خود کو سنبھال کر اس نے مسکراتے لہجے ميں اسے مبارک دے کر فون بند کرديا۔
اس کے اندر کہيں يکدم سناٹا چھا گيا۔ يا اسے محسوس ہوا۔خاموشی سے فون لئيے ٹيرس پر آگئ۔ غروب آفتاب کا منظر عجيب سی اداسی دے گيا۔
“ميں اتنی اداس کيوں ہوں۔ مجھے کيا اسکی شادی جس مرضی سے ہو” خود کو تسلی ديتے آخری بات پہ اسکے دل نے دہائ دی۔
“کيا مجھے واقعی کوئ فرق نہيں پڑتا۔” خود سے سوال کيا نجانے کيوں بہت سے آنسو آنکھوں کی دہليز کے پار ٹھہر گۓ۔ وہ رونا نہيں چاہتی تھی۔
“ميری زندگی ميں ابھی کسی محبت کی گنجائش نہيں۔ کسی مرد کا گزر نہيں۔ مجھے بہت آگے جانا ہے۔ اور يہ سب جذبے ميری راہ ميں رکاوٹ کے سوا اور کچھ نہيں” لمبی لمبی سانسيں ليتے اس نے اپنی سوچوں سے چھٹکارا پانا چاہا۔
_____________________
وہ سب دن ابيشہ بے حد مضطرب رہی۔ بار بار خود کو کام ميں مصروف کرتی مگر نجانے کيوں دھيان گھوم پھر کے غازان کی جانب چلا جاتا۔
“اس نے تو کبھی مجھ سے محبت کے دعوے نہيں کئيے تھے۔ کبھی ہلکا سا اشارہ بھی نہيں ديا تھا۔ وہ تو بس ايک محسن کی جيثيت سے ميری زندگی ميں تھا۔ اف ميں اتنی حقيقت پسند ہو کر کيوں خود کو الجھاتی جارہی ہوں۔” اتوار کی شام وہ سوچ سوچ کر خود کو ہلکان کررہی تھی۔
کبھی سوچتی اب ان کے گھر تياری ہو رہی ہوگی۔ شايد اس وقت ان کا نکاح ہورہا ہو۔
عجيب سوچيں اسے گھيرے ہوۓ تھيں۔ وہ خود ميں انتی ہمت نہيں پاتی تھی کہ ندا کے بلاوے پہ ان کی شادی اٹينڈ کرنے چل پڑے۔ کچھ سوچ کر ندا کے نمبر پر کال کی۔
“ہيلو” روئ ہوئ آوازاس کے کانوں سے ٹکرائ۔
يہی سوچا کہ رخصتی کے خيال سے وہ روئ ہوگی۔
“ہيلو سوری يار کچھ مصروفيت کے باعث شادی ميں نہيں آسکی۔ مگر ميری تمام نيک خواہشات تمہارے ساتھ ہيں۔ سوچا ابھی کال کرلوں رات تک شايد تم مصروف ہوچکی ہو۔ شادی مب۔۔۔۔”
“کون سی شادی کہاں کی شادی۔۔وہ گھٹيا انسان کل رات کو نجانے کہاں چلا گيا۔ ہمم ايسے گندے مرد کسی عورت کے قابل نہيں ہوتے۔ ميرے گھر عذاب آیا ہوا ہے اور تم مجھے مبارک دے رہی ہو۔ وہ چلا گيا ابيشہ۔۔مگر وہ کبھی خوش نہيں۔۔۔۔” ابيشہ کے مبارک باد دينے پر جس طرح ندا پھٹ پڑی اور جو کچھ اس نے بتايا وہ ابيشہ کو گنگ کرگيا۔ وہ کيا سوچ رہی تھی اور کيا ہوا۔
اس سے پہلے کہ ندا کے منہ سے غازان کے لئيے کوئ بدعا نکلتی ابيشہ نے کال کاٹ دی۔
وہ فون ہاتھ ميں تھامے حيران تھی۔
کچھ سوچ کر علی کا نمبر نکالا۔ جن دنوں اس نے يونی کا ميگزين جوائن کيا تھا انہی دنوں غازان نے احتياطاّّ اسے علی کا نمبر بھی دے ديا تھا۔ تاکہ اگر کبھی غازان چھٹی پر ہو اور ابيشہ کو کوئ کام ہو تو وہ علی سے رابطہ کرلے۔
تب تو کبھی نہيں ہاں مگر اب اسے وہ نمبر ملانے کی ضرورت پڑ گئ تھی۔
دوسری سے تيسری بيل نہيں ہوئ تھی کہ علی نے اسکی کال پک کرلی۔
“اسلام عليکم” خوبصورت لہجے ميں اس پر سلامتی بھيجی۔
“وعليکم سلام ميں ابيشہ بات کررہی ہوں۔ کيسے ہيں آپ” تعارف کروا کر اسکی خيريت پوچھی۔
“جی الحمداللہ ٹھيک آپ کيسی ہيں” پہچانتے ہی اس نے بھی خيريت پوچھی۔
“جی ميں بھی ٹھیک۔ ابھی ندا کو فون کيا تھا وہ بتارہی تھی کہ غازان کہيں چلے گۓ ہيں۔ ميں تو چکرا ہی گئ سب سن کر ان کی تو غالباّّ آج شادی تھی ندا کے ساتھ” اسکے سوال پر دوسری جانب علی نے سرد آہ بھری۔
“آپ نے ٹھيک سنا ہے۔ اس واقع کے بعد سے وہ اتنا خاموش ہوگيا تھا کہ اس کے دل ميں کيا چل رہا ہے اس نے کسی سے شئير نہيں کيا۔ حتی کہ مجھ سے بھی نہيں۔ مجھ سے تو وہ ملا ہی نہيں۔ ہاں رومان سے پتہ چلا کہ وہ سارا سارا دن گھر سے باہر رہتا تھا۔ اور کل رات سب کے سونے کے بعد وہ اچانک گھر چھوڑ کر چلا گيا۔ اسکے کچھ کپڑے، بيگز اور تعليمی اسناد سب غائب ہيں۔ کہاں گيا ہے کسی کو کچھ نہيں پتہ۔ بس آپ دعا کرنا جہاں ہو خيريت سے ہو۔ ان کے گھر ايک قيامت آئ ہوئ ہے۔ آنٹی اور منا کا بہت برا حال ہے۔” علی نے تفصيل سے بتايا۔
“يہ تو بہت برا ہوا۔ اللہ انہيں اپنی امان ميں رکھے۔ اور ان کا موبائل” اس نے اپنے تئيں سوال کيا۔
“اسکی سم نکال کر وہ موبائل لے گيا ہے۔ اب تو اس سے کانٹيکٹ کا کوئ ذريعہ بھی نہيں۔” اسکی بات پر وہ خاموش رہ گئ۔
“سمجھ ہی نہيں آرہا کيا کہوں” وہ صاف گوئ سے بولی۔ زبان جيسے بولنا ہی بھول گئ تھی۔ اتنا بڑا شاک تھا۔
“بس دعا کيجئيے گا۔ کيونکہ اس وقت اسکے علاوہ ہمارے ہاتھ ميں اور کچھ نہيں” علی کا اداس لہجہ اسے مزيد تکليف سے دوچار کرگيا۔
“ضرور” کہہ کر اس نے فون بند کرديا۔
“اے اللہ اس اتنے اچھے انسان پر کوئ آنچ نہ آۓ۔ اے اللہ وہ جہاں کہيں ہو اسے اپنی حفاظت ميں رکھنا” اس کا رواں رواں غازان کے لئيے دعاگو تھا۔
_______________________
ايک ہفتہ گزر چکا تھا۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ابيشہ کو اس شخص کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک اور بھی ستا رہا تھا۔
کچھ سوچ کر اس نے علی سے رومان کا نمبر ليا۔
نمبر ملا کر وہ سانس روکے دوسری جانب سے اٹھاۓ جانے کا انتظار کررہی تھی۔
“ہيلو” سنجيدہ سی آواز فون ميں ابھری۔
“اسلام عليکم، ميں ابيشہ بات کررہی ہوں۔ آپ لوگوں کی يونی فيلو تھی۔۔غازا”
“جی جی ميں آپکو اچھے سے جانتا ہوں ۔ کيسی ہيں آپ” اس نے فورا پہچان کا مرحلہ طے کيا۔
“جی الحمداللہ ميں ٹھيک ہوں آپ کيسے ہيں” اس نے بھی خيريت پوچھی۔
“بس جی رہے ہيں” اسکے لہجے کی اداسی ابيشہ کو بھی اداس کرگئ۔
“مجھے علی نے بتايا تھا غازان کے بارے ميں کچھ پتہ چلا کہاں گۓ ہيں” اس کے لہجے کی بے قراری رومان کو سن کرگئ۔ کيا وہ بھی غازان سے؟ وہ بس اتنا ہی سوچ سکا۔
“نہيں فی الحال تو کچھ نہيں پتہ کہاں ہے۔ اسکی چھوڑی ہوئ سم بھی اپنے موبائل ميں ڈال کر ديکھی مگر کہيں کوئ کليو نہيں ملا کہ وہ کہاں گيا ہے۔”
“مگر انہوں نے گھر تک چھوڑنے کا فيصلہ کيوں لے ليا۔ وہ اتنے کم ہمت لگتے تو نہيں تھے” اس کے لہجے کی ياسيت رومان کو اور بھی مضطرب کرگئ۔ کچھ سوچ کر وہ اسے شفق اور سکندر صاحب کے رويے کے متعلق بتاتا چلا گيا۔
“اور سونے پر سہاگہ ڈيڈی نے اس کی ندا سے شادی رکھ دی۔ جسے وہ کبھی پسند نہيں کرتا تھا۔ آپ خود سوچيں جو شخص اپنے ماں باپ کے آگے بے اعتبار ٹھہرے کيا اسے پھر بھی انکے سامنے يا انکے ساتھ رہنا چاہئے۔ ميرے نزديک اس نے بالکل صحيح اسٹيپ ليا ہے۔ يہاں ہر کوئ اسے ہر لمحہ کچوکے لگا رہا تھا۔ ايک ايسے گناہ کی سزا دے رہا تھا جو اس نے يقيناّّ نہيں کيا۔ ميں شايد اسکی جگہ ہوتا تو اب تک خودکشی کرچکا ہوتا۔ جس کے ماں باپ مشکل ميں اس کا ساتھ نہ ديں آپ سوچيں ايسے شخص پر کيا بيتے گی۔ وہ تو بس منظر سے ہٹا ہے۔ مجھے اميد ہے اس نے يہ قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھايا ہوگا۔ اور يہ بھی اميد ہے وہ کبھی نہ کبھی مجھ سے رابطہ کرے گا۔ ميرا جگر تھا وہ ميرے بغير کب تک رہے گا” اسکے لہجے کی تکليف اور پھر غازان کے متعلق ہونے والے انکشاف اسے گنگ کرگۓ۔ کس قدر تکليف سہی اس نے ان کچھ دنوں ميں۔ اس کا اندازہ ابيشہ کو آج ہوا تھا۔
“رومان ميں نے کچھ پلين کيا ہے اور يہ سب ميں آپکی مدد کے بغير اکيلی نہيں کرسکتی۔” ايک عزم لئيے وہ گويا ہوئ۔رومان چونکا۔
“کيا مطلب” اس نے سوال کيا۔
“يہ سب ميں آپ کو مل کر بتاؤں گی۔ کل شام ميرے آفس کے سامنے ايک ريسٹورينٹ ہے۔ کيا آپ وہاں آسکتے ہيں” اس کے سوال پر وہ کچھ لمحوں کے لئيے سوچ ميں پڑ گيا۔
“آپ مجھے لوکيشن بتائيں۔ ميں ضرور آپ سے ملنا چاہوں گا” رومان کو ايسا محسوس ہوا جيسے کوئ غمگسار مل گيا ہو۔ لہذا فورا نہ صرف اس سے ملنے کا ارادہ کيا بلکہ اس کی مدد کرنے کی ٹھانی۔
“ٹھيک ہے ميں آپکو ايڈريس ٹيکسٹ کر دوں گی۔اور مجھے اميد ہے ہم بہت جلد غازان کو بے قصور ثابت کريں گے۔ اللہ آپ کو اپنی امان ميں رکھے” اسکے کہے گۓ الفاظ رومان کو کچھ حيران کرگۓ۔ وہ کيا ٹھان چکی تھی يہ اب کل ہی پتہ چلنا تھا۔
_________________________
اگلی شام رومان اور وہ آمنے سامنے تھے۔
“جی آپ نے کيا سوچا ہے۔ کل سے اب تک ذہن بس آپکی اسی بات ميں اٹکا ہوا ہے۔” وہ اس وقت واقعی بہت الجھا ہوا تھا۔
“ميں يہ نہيں جانتی کہ جو ميں سوچ رہی ہوں اور جو ميں کرنے چلی ہوں اس ميں ہم کب تک کامياب ہوتے ہيں۔ ہوتے بھی ہيں يا نہيں۔ مگر ميں اس طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہيں بيٹھ سکتی۔ کل کو جب ہم اللہ کے سامنے جائيں گے اور وہ ہم سے يہ سوال کرےگا کہ ميرا ايک شخص بے گناہ تھا لوگوں نے اس پے الزام لگايا۔ تم اسے جانتے تھے۔ تم نے اسکی بے گناہی کے لئيے کيا کيا۔ تو ہم اللہ کو کيا منہ دکھائيں گے۔ ميں بس کوشش کرنا چاہتی ہوں۔ تاکہ کل کو ميں اللہ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں کہ ميں نے اپنے طور پر اس شخص کے لئیے کچھ نہيں کيا جس نے بغير مجھے جانے ميری بہت سی جگہوں پر مدد کی۔” اس کے عزائم جان کر رومان ششدر رہ گيا۔
غازان کا بھائ ہوتے ابھی تک وہ يہ سب نہيں سوچ سکا تھا جو اس نے بغير کسی رشتے کے سوچ ليا تھا۔
“ميں چاہتی ہوں کہ سب سے پہلے ہم اس لڑکی کو تلاش کريں جو اس رات اس سب واقع کا سبب بنی۔ آخر وہ ہماری يونی ہی کی تھی تو اسے ڈھونڈنا اتنا مشکل نہيں ہو گا۔ کيا آپ کے پاس وہ دوپٹہ يا بريسليٹ ہے جو اس رات اس لڑکی کا لائبريری ميں رہ گيا تھا۔ اگر وہ مل جاۓ تو ہم بآسانی اسے ڈھونڈ سکتے ہيں” اس کی بات رومان کو کسی حد تک ٹھيک تو لگی۔
“ليکن صرف ايک دوپٹے اور بريسليٹ سے ہم کيسے اسے ڈھونڈ نکاليں گے۔ ہم يہ دونوں چيزيں لئيے پوری يونی کی لڑکيوں کو دکھانے سے تو رہے۔ چھوٹا سا کالج ہوتا تو ايک ايک سے جاکر پوچھنا آسان ہوتا۔ اتنی بڑی يونيورسٹی” وہ اس کے آئيڈيا پر کشمکش کا شکار ہوا۔
“نہيں ہم ايسا کر ہی نہيں سکتے۔ اور بالفرض وہ جس بھی لڑکی کا ہوا وہ کبھی مانے گی ہی نہيں۔ جس لڑکی ميں اتنی جرات نہيں ہوئ کہ وہ وہاں ٹھہر کر لوگوں کو بتا سکتی کہ اس رات کس نے اسکے ساتھ زبردستی کرنی چاہی تو وہ اپنی چيزوں کو سامنے ديکھ کر کيونکر مانے گی۔”
“تو پھر”رومان الجھتا جارہا تھا۔
“اس رات بہت سے لوگوں نے اس ڈنر کی تصويريں بھی کھينچی ہوں گی اور ويڈيوز بھی بنائ ہوں گی۔ ميڈيا سے وہاں کی ويڈيو تو ميں لے لوں گی مگر اردگرد کے ہر ڈيپارٹمنٹ کے کسی بھی لڑکے يا لڑکی سے تصويريں اور ويڈيو لينا آپ کا کام ہے۔ کچھ جگہوں پر تو ميں کوشش کرسکتی ہوں۔ ان ويڈيوز کے ذريعے ہم اس لڑکی کو ٹريس کرسکتے ہيں۔ ايک مرتبہ شکل پتہ چل جاۓ پھر اسے ڈھونڈ نکالنا کچھ بھی مشکل نہيں ہوگا” ابيشہ کے آئيڈيے کو وہ سراہے بغير نہ رہ سکا۔
“مگر اس ميں ہميں کچھ وقت لگے گا۔ شايد مہينوں بھی لگ سکتے ہيں” رومان نے اسے حقيقت بتائ۔
“سالوں بھی لگ جائيں مگر ميں اس کيس کو نہيں چھوڑوں گی” اس نے پرعزم لہجے ميں کہا۔
“کيا يہ سب کرکے بھی ہم کامياب ہوجائيں گے۔ کيا ہم لوگوں کو يہ يقین دلا پائيں گے کہ غازان بے قصور ہے۔ اور کيا اتنے اثرو رسوخ والے رستم کو ہم سزا دلوا پائيں گے؟” رومان نے اپنے ذہن ميں ابھرنے والے سوالات کو الفاظ دئيے۔
“ميں جانتی ہوں کہ ميں اور آپ اسکے جتنے طاقتور نہيں۔ ميں کمزور ہوں۔ مگر اس کے باوجود ميں اس سے کہيں زيادہ طاقتور ہوں کيونکہ سب سے بڑی طاقت رکھنے والا وہ اللہ ميرے ساتھ ہے۔ ان کے پاس زمين پر اثر و رسوخ ہے۔ ان کا اثر و رسوخ آسمان اور زمين پر اختيار رکھنے والے کہ آگے کچھ بھی نہيں۔ پھر ميں ان سے کيوں خوفزدہ ہوں۔ جب اللہ کی بے آواز لاٹھی پڑتی ہے تو انسان کے سب کس بل نکل جاتے ہيں۔ وہ اس زمين پر ہزاروں لوگوں کو خريدنے کی اہليت رکھتے ہيں۔ مگر وہ اللہ کی سزا کو اپنے پيسے کے بل بوتے پر موڑ دينے کی صلاحيت نہيں رکھتے۔ تو پھر جب اللہ ہی ہمارے لئيے کافی ہے تو پھر ہميں کيا ضرورت ہے ايسے لوگوں سے ڈرنے کی۔ جب اللہ نے اس کام کو کرنے کا ارادہ ميرے دل ميں ڈالا ہے۔ تو منزل تک کی سب راہيں بھی وہی آسان کرے گا۔ بس آپ کو اور مجھے ہمت نہيں ہارنی۔” اس کا يقين اس کا بھروسہ رومان کی آنکھوں کو پرنم کرگيا۔
کبھی کبھی اجنبی اپنوں سے کہيں زيادہ اپنے نکلتے ہيں اور اپنے اجنبيوں سے بھی زيادہ اجنبی۔ آج جب غازان کے سبھی اپنوں نے اسے ڈس اون کرديا تھا تو اللہ نے ايک اجنبی کے دل ميں اس کے لئیے کس قدر درد ڈالا تھا کہ وہ اس کے لئيے سب کچھ تياگ دينے کو تيار تھی۔ يہ محبت نہيں تو اور کيا تھا۔
“ميں ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوں” رومان نے اسے يقین دلايا۔ اس کا جان سے پيارا بھائ اب معتبر ٹھہرے يہی اس کا مقصد بن گيا تھا۔
______________________
ايک ہفتہ ہوگيا تھا اسے کينيڈا آۓ ہوۓ۔ فائنل سمسٹر کے پيپر شروع ہونے سے پہلے ہی اس نے انٹرنيٹ پر کينيڈا کی اس جاب کے بارے ميں پڑھا۔ اور فوراّّ اپلائ کرديا۔
انہوں نے اس کی انفارميشن پروسس کرنے ميں کچھ دن لگاۓ۔ جب انہيں غازان اس جاب کے لئے موضوع لگا تب انہوں نے اسکائپ پر اس کا انٹرويو کرکے اسے جاب کے لئے بہترين کينڈيڈيٹ کی حيثيت سے چن ليا۔ غازان نے گھر ميں کسی کو يہ خبر نہيں بتائ تھی۔
وہ چاہتا تھا کہ جب فائنل پيپرز ہو جائيں تب وہ سب کو يہ خوشخبری سناۓ۔ مگر وہ نہيں جانتا تھا کہ قسمت اس کی زندگی کو کس نہج پر لے آۓ گی۔
جب وہ واقعہ ہوا اس کے اگلے دن غازان کو اپائنٹمنٹ ليٹر بمع کينيڈا کا ويزا اور ٹکٹ سب موصول ہوگيا۔
اس نے انہی دنوں اپنی ضروری چيزيں فائنل کرکے کسی کو بھی بتاۓ بنا ہفتے کی رات ہی کيںيڈا کے لئيے فلائ کرگيا۔
يہاں انہوں نے اس کی رہائش کا بھی انتظام کررکھا تھا لہذا اسے کہيں کوئ مسئلہ نہيں ہوا۔
گھر سے نکلتے وقت اس نے عہد کيا کہ آئںدہ کبھی ان سب کی زندگيوں ميں لوٹ کر نہيں آۓ گا۔
جس رات وہ واقع ہوا اور جو بے اعتباری شفق نے دکھائ وہ مرد ہوکر زندگی ميں پہلی مرتبہ اس تمام رات روتا رہا۔
اسے دکھ يہ تھا کہ اسے جنم دينے والی ماں نے اسے بے توقير کرديا۔ اس پر شک کيا۔ اس کے لئے يہ بات برداشت سے باہر ہوگئ۔ پوری دنيا بھی اسکے کہے پر ايمان نہ لاتی تو اسے پرواہ نہ ہوتی مگر ماں کی بے اعتباری اسے کھوکھلا کرگئ۔
اور پھر اس نے وہ فيصلہ جو سب کو بتا کر کرنا تھا۔ خاموشی سے کيا۔ وہ کبھی کم ہمتی کا مظاہرہ نہ کرتا اگر اسکی ماں اسکا ساتھ نہ چھوڑتی۔
اب اس کے لئيے وہاں کچھ نہيں بچا تھا۔
