Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 05)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 05)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
ان کے فائنل امتحان آچکے تھے۔ دونوں باقی سب مصروفيات چھوڑ کر صرف پڑھائ پر فوکس کئیے ہوۓ تھے۔ ابيشہ پيپرز دينے کے ساتھ ساتھ اسی جاب کو جاری رکھے ہوۓ تھے جو غازان کے دوست کے والد کے اخبار ميں اسے ملی تھی۔
انہيں ابيشہ کے کالمز بے حد پسند تھے۔ وہ تلخ حقائق کو اس خوبصورتی سے لکھتی تھی کہ لوگ اسے سراہے بنا نہيں رہتے تھے۔ ڈھيروں کے حساب سے ای ميلز اخبار کو موصول ہوتی تھيں جن ميں ابيشہ کی تعريف بھری پڑی ہوتی تھی۔
مگر اس سب کے باوجود اس نے کبھی غرور نہيں کيا تھا۔ابھی تو آغاز تھا اسے کاميابيوں کی بلنديوں کو چھونا تھا۔
پيپر کی مصروفيت کی وجہ سے نہ تو اس کا غازان سے کوئ رابطہ ہوا تھا اور دانستہ بھی اس نے رابطہ نہيں کيا تھا۔
مگر جو ايک بات بہت عجيب سی اسکے پيپرز کے دوران ہوئ وہ کسی انجان بندے کا روز اسکے آفس ٹائمنگز کے دوران اسے پھول بھيجنا اور بيسٹ آف لک فار يور ايگزامز کا کارڈ ان پھولوں کے ہمراہ بھيجنا۔
کالم نگار کی حيثيت سے اب بہت سے لوگ اسے جاننے لگ گۓ تھے۔ اور ايسا بہت سے کالم نگاروں کے ساتھ ہوتا تھا جو اس اخبار سے جڑے تھے۔
لہذا وہاں کے اسٹاف کے لئيے يہ کوئ اچھنبے کی بات نہيں تھی۔ ہاں مگر ابيشہ کے لئيے يہ سب بہت عجيب تھا۔ بھيجنے والے نے کبھی اپنا نام نہيں لکھا ہوتا تھا۔
آخری پيپر والے دن آفس آکر اس نے بہت دنوں بعد اپنا ميل باکس چيک کيا جس ميں ايک انجانے آئ ڈی کی ميلز بھری پڑيں تھيں۔ اس کے کالمز کی بے حد تعريفيں کی گئيں تھيں۔
وہ باری باری سب پڑھتی جارہی تھی۔ آخری ميل پر اسکی نگاہيں ساکت ہوگئيں۔ کيونکہ بھيجنے والے نہ صرف ان پھولوں کا ذکر کيا تھا بلکہ اسکے امتحانات اور کاميابی کے لئيے بہت سی دعائيں دی تھيں۔
اس نے فورا اس آئ ڈی کی تفصيل چيک کی مگر کوئ ايسا کليو نہيں تھا جس سے وہ جانتی کہ يہ کون ہے۔ مگر جو بھی تھا اس کو اچھے سے جانتا تھا۔
آخر اسکے کالم پڑھنے والوں کو يہ کيسے پتہ چل گيا کہ اس کے پيپرز ہورہےہيں۔ جبکہ وہ کوئ ايسی بھی مشہور نہيں تھی کہ کہيں کوئ اس کا انٹرويو آيا ہو۔ يا اسکی شکل سے کوئ واقف ہو۔
سوچ سوچ کر اس کا سر درد کرنے لگ گيا۔
رات ميں اس نے ورشہ کو سب بتايا۔
“بے وقوف اس پروفيشن ميں يہ سب چلتا ہے۔ تم کيوں اتنی ٹينس ہورہی ہو۔”
“مگر يار وہ کون ہے جسے ميرے ايگزامز کا پتہ چل گيا۔ جبکہ يونی ميں کسی کو نہيں پتہ کے ميں اس اخبار ميں جاب کرتی ہوں۔ اور پھر ميں ابھی اتنی پاپولر بھی نہيں ہوئ کہ لوگ ميں نے کہيں انٹرويو دئيے ہو ں” وہ ابھی بھی پريشان تھی ۔
“اف آپی۔۔۔ کتنا بے تکا پريشان ہوتی ہو تم۔ وہ جو بھی ہے تمہيں نفصان تو نہيں پہنچا رہا نہ۔ کيوں کسی کو اپنے حواسوں پر سوار کررہی ہو۔ ايسے کرو گی تو اس پروفيشن ميں تمہار گزارا نہيں۔ ايسی باتوں پر پريشان نہيں ہوتے خوش ہوتے ہيں۔ فخر کرو کہ لوگ تم سے محبت کرنے لگے ہيں۔۔۔۔مطلب تمہارے کام سے اور کسی بھی لکھاری کے لئیے اس سے بڑی کوئ جيت نہيں کہ اس کا قاری اس سے خاموش محبت کرے۔” وہ بس گم صم ورشہ کو دیکھتی رہی۔
______________________
يونيورسٹی ميں فائنلز کو فير ويل ڈنر ديا جارہا تھا۔ جس ميں سبھی سينئر جونئير شامل تھے۔
ابيشہ اور ورشہ اپنے ڈريسز لينے کے لئيے بازار آئ ہوئ تھيں۔ صرف شام اور رات تک کا وقت تھا اگلے دن رات ميں ڈنر تھا لہذا انہيں آج ہی ڈريسز لينے تھے۔
ابيشہ نے تو حسب سابق جلد ہی ايک دکان سے ہلکی سی ايمبرائيڈری والا ڈارک پرپل اور سٹيل گرے کلر کا سوٹ لے ليا مگر ورشہ کو کوئ سوٹ پسند نہيں آرہا تھا۔
“بس کردو ورشہ آج ساری رات ہم نے يہاں نہيں رہنا۔ اندھيرا بڑھ رہا ہے۔ جلدی کرو” وہ پريشان سی باہر بڑھنے والی تاريکی کو ديکھ کر بولی۔ ماں کا بھی بہت مرتبہ فون آچکا تھا۔
“يار اب ٹائم کم تھا ميرا تو کوئ قصور نہيں” وہ منہ بنا کر بولی۔
“اچھا جلدی کرو” بالآخر اللہ اللہ کرکے ورشہ کو ايک بليک اور مسٹرڈ سوٹ پسند آہی گيا۔ دکان سے نکل کر ايک ہوٹل کے قريب سے گزرتے ورشہ کو شديد پياس ستانے لگی۔
ہوٹل کی بہت سی سٹنگ باہر کی گئ تھی جہاں زيادہ تعداد مردوں کی تھی۔ عورتيں زيادہ تر کار پارک کرکے ان ميں موجود کھانے پينے کی اشياء کا آرڈر دے رہی تھيں۔
“ورشہ بہت آدمی ہيں يہاں۔ ابھی رہنے دو۔ آگے سے کہيں لے ليں گے” ابيشہ نے اسے ٹوکنا چاہا۔ بھانت بھانت کے مرد بيٹھے تھے۔ اور پھر وہ تھی بھی اکيليں۔ وہ نہيں چاہتی تھی کہ کوئ غلط بات ہو۔
“يار جوسز لے کر ہم نکل چليں گے” ورشہ پياس سے بحال تھی۔
“ورشہ کبھی کبھی تم اتنی ضدی ہوجاتی ہو کہ” ابيشہ اسے ہلتے نہ ديکھ کر غصے سے گھور کر رہ گئ۔
“تم يہاں کھڑی ہو ميں جوس لاتی ہوں۔” آدميوں کی لمبی قطار جوس کارنر پر ديکھ کر اس نے ہمت مجتمع کی۔
ورشہ تھی بھی اس کی لاڈلی اسی لئیے اس کی خواہش پوری کرنے کے چکر ميں وہ کبھی کبھی اپنے اصولوں کو بھی توڑ ديتی تھی۔
جوس کارنر پر ايک لائن عورتوں کی بھی تھی مگر بمشکل دو يا تين عورتيں موجود تھيں۔
ابيشہ بھی خاموشی سے ان کے قريب چلی گئ۔
پانچ منٹ بعد ہی وہ عورتيں بھی وہاں سے ہٹ گئيں اب وہ اکيلی کھڑی تھی۔
“بھائ صاحب دو گلاس کاک ٹيل جوس کے بنا ديں۔”
شيشے کی بنی کھڑکی کے اس پار بيٹھے شخص کو جلدی سے اپنا آرڈر دے کر وہ تھوڑا پيچھے کھڑی ہوگئ۔ مگر پھر شيشے کے پار اور اپنے بائيں جانب کھڑے بہت سے آدميوں کی چھبتی نظروں کو خود پر محسوس کررہی تھی۔
جونہی گلاس اسکے سامنے آۓ اس کے عقب سےايک ہاتھ نے آگے بڑھ کر وہ گلاس اٹھا ليا ۔
جانی پہچانی خوشبو قريب سے آئ۔ مڑ کر ديکھنے پر جو شخص نظر آياشدت سے دل کيا کاش وہ وہاں نہ آتا۔
سرد نظريں اسکی نطروں سے ٹکرائيں۔
_________________________
“ايک تو پتہ نہيں تمہيں اتنے کپڑے لينے کا کريز کيوں ہے۔ لڑکيوں کو بھی پيچھے چھوڑ ديتے ہو” غازان کی جھنجھلاہٹ عروج پر تھی۔ کل کے فئیر ويل کے لئیے رومان کو کپڑے چاہئيے تھے۔ کل کے فنکشن کے علاوہ بھی نجانے کتنا کچھ اس نے لے ليا تھا۔
غازان فضول خرچ نہيں تھا۔ وہ پيسہ ہميشہ بہت طريقے سے خرچ کرتا تھا۔
“بھائ ميں تيرے جيسا عقل مند نہيں اور نہ ہی اتنے طريقے سليقے والا ہوں۔” وہ واقعی حيران ہوتا تھا کہ غازان بہت کم شاپنگ کرتا تھا۔ مگر پھر بھی ہر فنکشر کی مناسبت سے بہت طريقے سے ڈريس اپ ہوکر ہميشہ ماحول پر چھا جاتا تھا۔
وہ دونوں باتيں کرتے ہوۓ گاڑی کی جانب جارہے تھے کہ يکدم بائيں جانب يوں ہی ديکھتے ہوۓ غازان کی نگاہ ورشہ پر پڑی۔ جو ايک ريسٹورينٹ کے سامنے ہاتھوں ميں تھيلے تھامے اکيلی کھڑی تھی۔
ريسٹورينٹ کا سٹنگ ايريا زيادہ تر باہر تھا جہاں اس وقت مردوں کا ہجوم تھا۔ ايسے ميں ورشہ اکيلی کھڑی کيا کررہی تھی۔
وہ يکدم رکا۔
“رومان ميں ابھی آتا ہوں” تيزی سے ورشہ کی جانب بڑھا۔
رومان بھی حيران ہوتااس کے پيچھے ہوليا۔
“ورشہ يہاں کيا کررہی ہيں” دائيں جانب سے آنے والی آواز پر بے اختيار بائيں جانب نگاہ کی۔
“اسلام عليکم! کيسے ہيں غازان بھائ۔ وہ ہم شاپنگ پر آۓ تھے مجھے پياس لگی تو ہم يہاں سے جوس لينے کے لئيے رک گۓ” وہ خوشگوار لہجے ميں غازان کو بتا رہی تھی جس کا دھيان لفظ ہم پر اٹک گيا۔
“ہم؟”
“جی ابيشہ آپی جوس لينے گئ ہے” رومان جو کب سے يہ سمجھ رہا تھا کہ شايد يہ ابيشہ ہے اس لڑکی سے ابيشہ کا نام سن کر جان گيا يہ اس کی بہن ہے۔
دل ميں شکر کيا کہ آج وہ پری چہرہ ديکھنے کا موقع ملے گا جو اسکے بھائ کے دل کی دنيا کو آباد کرچکا ہے۔
اس کی بات پر غازان تيزی سے سامنے بنے جوس کارنر کی جانب بڑھا۔
لائيٹ بلو اور پنک کلر کے سوٹ ميں ايک ہی لڑکی وہاں کھڑی تھی جو ابيشہ کے علاوہ کوئ اور نہيں تھی۔
جوس والا جن گندی اور غليظ نگاہوں سے ابيشہ کو ديکھ رہا تھا بلکہ وہ ہی نہيں مردوں کی لائن ميں موجود بہت سے اور لوگ جس طرح ابيشہ کو ديکھ رہے تھے غازان کا دل کيا ان سب کی آنکھيں پھوڑ ڈالے اور ابيشہ کو کہيں چھپا لے۔
جيسے ہی دو گلاس کاؤنٹر پر رکھے غازان نے ہاتھ بڑھا کر وہ اٹھا لئيے۔
ابيشہ نے کچھ پريشان ہوکر جوں ہی مڑ کر ديکھا اپنے پيچھے کھڑے غازان کو ديکھ کر وہ بری طرح چونکی۔
دونوں گلاس اسے تھما کر اس نے جيب سے پيسے نکال کر کاؤنٹر پر رکھے۔
“کيا کررہے ہيں ميں۔۔۔”
“چليں” سرد لہجہ اسکی بات کاٹ گيا۔
ابيشہ خاموشی سے اسکے پيچھے چلنے لگی۔
ورشہ کے قريب آکر وہ رکا۔
“کيا ضرورت تھی آپ دونوں کو رات کے اس وقت يہاں آنے کی۔ دنيا ميں اور سب دکانيں بند ہوچکی ہيں” غصے سے ابيشہ کو ديکھتے اس نے اپنی کھولن نکالی۔
“گھر جانا ہے آپ دونوں نے؟” اسی لہجے ميں سوال کيا۔
“جی” ابيشہ نے ايک نظر اسکے غصيلے چہرے پر ڈال کر ہولے سے جی کہا۔
“چليں” اپنے پيچھے آنے کا اشارہ کرتا وہ چل پڑا۔ رومان نے حيرت سے بھائ کو ديکھا۔
“ميں ان کا بھائ ہوں” آخر اس نے خود ہی تعارف کروايا۔ غازان جتنے غصے ميں تھا اس سے تو يہ اميد لگانی بے کار تھی کہ وہ رومان کا تعارف کرواتا۔
“ميں ابيشہ ہوں اور يہ ورشہ ميری بہن” اس نے بھی اپنا اور ورشہ کا تعارف کروايا۔ گاڑی کے پاس آتے غازان نے اسے ان لاک کيا۔ انہيں بيٹھنے کا اشارہ کرکے ڈرائيونگ سيٹ پر بيٹھ کر دھاڑ سے دروازہ بند کيا۔
“کيا ہوگيا ہے بھائ” رومان نے بيٹھتے ساتھ ہی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے شانت کرنا چاہا۔
“آپ دونوں يہاں کيوں کھڑيں تھيں آخر۔۔جانتی ہيں کس قماش کے مرد يہاں موجود ہوتے ہيں۔ آپ سے کم از کم اس حماقت کی مجھے اميد نہيں تھی۔” غصے سے گاڑی پارکنگ سے نکالتے وہ ان دونوں پر برسا۔
آخری بات بيک ويو مرر ميں نظر آتی ابيشہ کو ديکھ کر کہی۔
“غازان بھائ۔ آپی کا قصور نہيں اس نے تو منع کيا تھا ميں نے ہی ضد کی تھی کہ مجھے جوس پينا ہے۔ ويسے بھی ہم مردوں کے ساتھ يونی ميں بھی تو پڑھتے ہيں” ورشہ نے فورا کلئير کيا۔
“ورشہ وہاں اور يہاں بہت فرق ہے۔ وہاں آپ اکيلی نہيں يہاں اس وقت آپ اکيلی کھڑی تھيں اور مردوں کے ساتھ پڑھ لينے کا مطلب يہ نہيں کہ آپ ہر طرح کے مرد کے ساتھ اٹھنے بيٹھنے کی صلاحيت رکھتی ہيں۔” دھيمے سے اسے سمجھايا۔
“سوری” ابيشہ کی آواز پر نظر بے اختیار اس کی جانب اٹھی تو اپنے لہجے کی تلخی ٹھيک نہيں لگی۔
“ميرا مقصد آپ دونوں کو ہرٹ کرنا نہيں تھا۔ ميں جانتا ہوں کہ آپ کس قسم کی لڑکياں ہیں۔ اسی لئيے اس وقت آپ دونوں کو يہاں ديکھ کر حيران ہوا تھا۔ آپ چاہے جتنی مرضی صاف ستھری سوچ کے مالک ہوں۔ ضروری نہيں آپ کو ديکھنے والا بندہ بھی اتنی ہی صاف ستھری سوچ کا مالک ہو۔ يہاں ايليٹ کلاس کے شراب اور شباب والے لڑکے بھی ہوتے ہيں، غنڈے اور بدمعاش بھی اور ان ميں سے چند شريف بھی ہوتے ہيں۔ مگر آپ نہيں جانتيں آپ پر پڑنے والی نگاہ ان ميں سے کس شخص کی ہے۔ بس اسی لئيے ميں ہائپر ہوگيا تھا۔ ويسے بھی رات کے اس وقت لڑکيوں کا باہر نکلنا مناسب نہيں۔” نرم لہجے ميں کہتا وہ اپنے غصے کی وجہ بتانے لگا۔
“آپی نے تو ڈريس لے ليا تھا ميری وجہ سے دير ہوئ ہے۔” ورشہ نے پھر اس کی حمايت کی۔
“اچھا چليں بس اب اس ٹينس سچوئيشن سے نکليں۔ آپ دونوں يقينا ہماری ہی يونيورسٹی ميں پڑھتی ہيں اتنا تو پتہ چل گيا ہے مگر کيا پڑھتی ہيں یہ نہيں پتہ۔ آپ بتانا پسند کريں گی” رومان نے ان کا رخ اپنی باتوں کی جانب موڑ کر ماحول کو نارمل کيا۔
ابيشہ اسے بھی بے حد پسند آئ۔ دھيمے مزاج کی نازک سی مگر پرعزم ارادے لئيے يہ لڑکی اسکے بھائ کے لئيے پرفيکٹ تھی۔ دل ہی دل ميں اس نے غازان کی پسند کو بےحد سراہا۔ کاش وہ منا کو بھی اپنا ہمنوا بنا سکتا پھر تو ممی اور ڈيڈی کو کنوينس کرنا کچھ مشکل نہيں تھا۔ مگر ابھی تو غازان خود بھی نہيں جانتا تھا کہ وہ کيا چاہتا تھا تو وہ منا کو کيسے سب بتا سکتا تھا۔
دل ميں ڈھيروں خواہشيں پل رہی تھيں۔ مگر ابھی وہ مجبور تھا۔
“آپ لوگ پليز اندر آئيں” انہيں گھر کے باہر اتار کر جيسے ہی غازان نے گاڑی سٹارٹ کی ابيشہ نے اسکی جانب والی کھڑکی کے پاس جھک کر کہا۔
اس نے رومان کی جانب ديکھا جو پہلے ہی دروازہ کھول چکا تھا۔
رومان کے انداز سے وہ جان گيا تھا کہ ابيشہ اسے بے حد اچھی لگی ہے۔
“چاۓ پلوائيں گی” رومان بے تکلفی سے بولا۔
“رومان؟” غازان کی پکار ميں تنبيہہ تھی۔
“ضرور کيوں نہيں۔ ان کے تو احسانوں کی لسٹ اتنی لمبی ہوتی جارہی ہے۔ کہ جس کے لئيے ايک چاۓ نہيں بلکہ ڈنر بھی ہونا چاہئيے۔” ايک نظر غازان کو ديکھ کر وہ مسکراتے لہجے ميں بولی۔
غازان نے دانستہ اسے ديکھنے سے اجتناب کيا۔ ورشہ کے بيل بجاتے ہی دروازہ کھل چکا تھا۔
“آئيں پليز” وہ انہيں آگے بڑھنے کا اشارہ کرتی خود بھی ان پيچھے داخل ہوئ۔
اندر داخل ہوتے ہی سامنا ابيشہ کے والد سے ہوا۔
“اسلام عليکم ابو يہ ميرے يزنيورسٹی فيلو ہيں غازان جن کے بارے ميں ميں نے آپ کو بتايا تھا۔ آرٹيکلز اور جاب کے سلسلے ميں انہوں نے ميری مدد کی تھی۔ اور يہ ان کے چھوٹے بھائ ہيں” بارعب سے ابيشہ کے ابو غازان کو بے حد بھلے مانس انسان لگے۔
“ارے ہاں۔ آئيں بيٹا آپ دونوں بھئ ہمارے گھر ميں تو آپ کا بہت ذکر ہوتا ہے” وہ دونوں انہيں سلام کرکے ان کے ساتھ ڈرائينگ روم کی جانب بڑھے۔ اتنی دير ميں ورشہ اپنی امی کو بھی بلا لائ۔
“ہم بھی اسی مارکيٹ ميں تھے جہاں يہ لوگ شاپنگ کررہے تھے” ابيشہ نے ان کے ساتھ آنے کا مقصد بتانا چاہا۔
“جی انکل انہيں وہاں ٹيکسی کا انتظار کرتے ديکھا تو ميں نے سوچا رات کے وقت بہتر ہے کہ کوئ اعتبار کا بندہ ہو۔ بس اسی لئيے انہيں گھر تک چھوڑنے کا کہا۔” غازان نے ابيشہ کی بات اچک کر جو بات بنائ وہ سن کر ابيشہ کچھ لمحوں کے لئيے کچھ بولنے کے قابل نہ رہی۔ عجيب شخص تھا اسکے لئیے ہر مرتبہ مسيحا بن کر آتا تھا۔ وہ نہيں چاہتا تھا کہ انکے ابو کو سچ معلوم ہو اور انہيں ڈانٹ پڑے۔
ابيشہ چاۓ بنانے چلی گئ ساتھ ميں لوازمات کی ٹرے بھی سجانے لگی۔
چاۓ تيار کرکے ڈرائينگ روم ميں لائ جہاں خوشگوار ماحول ميں باتيں ہورہی تھيں۔
“اتنا کچھ کيوں کرليا آپ نے” غازان نے ٹرے ميں موجود کباب، سينڈوچز اور سنيمن رولز ديکھ کر ابيشہ کو سرزنش کی۔
“کچھ خاص نہيں ہے آپ ليں پليز” اسکی جانب چيزيں بڑھاتے وہ مہمان نوازی بھر پور طريقے سے نباہ رہی تھی۔
“اچھا انکل اب اجازت” چاۓ ختم کرتے ہی غازان نے اٹھنے کے لئيے پرتولے۔
“ارے بيٹا کھانا کھا کر جانا” سميعہ بيگم نے محبت سے کہا۔
“نہيں آنٹی بہت شکريہ۔۔ممی کھانے پہ انتظار کررہی ہوں گی۔ پھر کبھی ہم آئيں گے ان شاء اللہ۔” کہتے ساتھ ہی اس نے جھک کر ان سے پيار ليا۔ اونچا لمبا وجيہہ غازان انہيں بے حد اچھا لگا۔ نہايت شريف اور بردبار سا۔ ايسے لڑکے اب کے دور ميں کم ہی ديکھنے ميں آتے ہيں۔ ان کی دونوں بيٹياں سامنے بيٹھی تھيں مجال ہے جو اس نے کوئ غلط نگاہ ان پر ڈالی ہو۔
خدا حافظ کرتے وہ دونوں ڈرائنگ روم سے باہر نکلے۔ فريد صاحب بھی انکے پيچھے انہيں باہر تک چھوڑنے گۓ۔
“ابو کی ڈانٹ سے بچانے کا شکريہ” رات ميں جس وقت وہ ليٹنے لگا ابيشہ کا ميسج پڑھ کر بے اختيار مسکراہٹ چہرے کا احاطہ کرگئ۔
“شکريہ سے کام نہيں چلے گا۔ ڈنر کب کروا رہی ہيں” اسے اسی کی کہی بات ياد دلائ۔
“جب آپ کہيں” اس کا ميسج پڑھ کر چند لمحوں کے لئيے کچھ سوچا۔
“پھر جلد ہی تيار رہنا” ميسج لکھ کر سينڈ کرتے اس کا آج کا سراپا نظروں کے آگے لہرايا۔
“ضرور۔ ول سی يو ٹومورو نائٹ۔ اللہ حافظ” اگلے دن رات ميں ان کا فئیر ويل ڈنر تھا۔ غازان نے بھی خدا حافظ کہہ کر آنکھيں موند ليں۔
_________________________
اگلے دن رات ميں يونيورسٹی کے گراؤنڈ ميں رنگ و بو کا سيلاب امڈا ہوا تھا۔ تمام اسٹوڈنٹس اور اساتذہ خوش گپيوں ميں مصروف تھے۔ غازان، رومان، علی اور بہت سے دوسرے کلاس فيلوز کے ساتھ باتيں کرنے ميں مصروف تھا مگر نظريں ابيشہ کو ڈھونڈ رہی تھيں۔ جو ابھی تک نہيں آئ تھی۔
دل تھوڑا پريشان بھی ہوا يہ سوچ کرکہ آۓ گی بھی يا نہيں۔ آج کا دن يونيورسٹی ميں آخری دن تھا نجانے پھر کب اس سے ملتا۔ ملتا بھی يا نہيں۔
پاس کھڑے ويٹر کی ٹرے سے جيسے ہی پانی کا گلاس اٹھا کر پلٹا۔ سامنے ندا کے ساتھ وہ پری چہرہ موجود تھا۔
بلو اور اسٹيل گرے جديد تراش خراش کے سوٹ ميں بالوں کو ادھ کھولے ہلکے سے ميک اپ ميں وہ سيدھا غازان کے دل ميں اتر رہی تھی۔
اسے ايک نظر ديکھ کر غازان کے مضطرب چہرے پر سکون کی پرچھائیاں لہرائيں۔
وہ خود اس وقت گرے سوٹ، وائٹ شرٹ اور رائيل بلو ٹائ لگاۓ ہوۓ اپنی وجاہت کے سبب سب ميں نماياں نظر آرہا تھا۔
“تم دونوں نے ميچنگ کی تھی” علی آہستہ سے اسکے کان ميں بولا۔
ايک خوبصورت سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آکر ٹھہری۔ گلاس منہ سے لگاتے اس نے اپنی مسکراہٹ چھپائ۔
ںظريں سامنے اٹھيں جہاں وہ بھی اسی کی جانب ديکھ رہی تھی۔ ہولے سے سر ہلا کر سلام کيا۔
غازان نے بھی اس کی جانب مسکراہٹ اچھال کر نظروں کا زاويہ بدل ليا۔
کھانے کے بعد جوئنيرز نے کچھ سئنيرز کو القابات دئیے۔ کچھ سينرز نے اپنی فيرویل اسپيچ کی۔
غازان ايسی ٹيبل پر موجود تھا جہاں سے ابيشہ اسے صاف دکھائ دے رہی تھی۔
اس کے باقی سب دوست ٹيبل سے اٹھ کر کچھ اور کلاس فيلوز سے ملنے گۓ۔
اس وقت وہ وہاں اکيلا تھا۔ دل ميں اٹھنے والی خواہش کو کچھ لمحے وہ دباتا رہا۔
پھر آخر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے موبائل نکالا۔
کيمرہ آن کيا۔ اور کچھ فاصلے پر بيٹھی ابيشہ کی ايک تصوير زوم کرکے اپنے موبائل ميں محفوظ کرلی۔
جس لمحے اس نے تصویر لی ابيشہ کی نظر بھی اس کی جانب اٹھی۔
اس نے کچھ حیرت سے غازان کی يہ حرکت ديکھی۔
گمان يہی گزرا کہ اس نے تصوير لی ہے۔ اسے بے حد عجيب لگا۔
دل کيا اس سے پوچھے اس نے تصویر لی ہے کيا۔
مگر پھر سوچا اس نے کہا نہيں تو کتنی سبکی ہوگی۔ وہ اپنے ہی تانوں بانوں ميں الجھ گئ۔
تھوڑی دير بعد غازان اٹھ کر لائبريری کی جانب بڑھا۔ اس نے کوئ کتاب لينی تھی۔ لائبريرين کو ڈنر شروع ہونے سے پہلے ہی اس نے کہہ ديا تھا۔ اس نے وہ کتاب نکال کر لائبريری ميں اپنی ٹيبل پر رکھ دی تھی اور غازان کو کہا تھا کہ وہ واپسی پر اسکی ٹیبل سے وہ کتاب ليتا جاۓ۔
ڈنر تقريباّ ختم ہونے ہی والا تھا لہذا وہ اٹھ کر لائبريری کی جانب بڑھا تاکہ وہاں سے نکلتے وقت بھول نہ جاۓ۔
لائبريری پہنچا، لائبريرين نے اس کے لئيے دروازہ کھلا چھوڑا تھا تاکہ وہ کتاب آسانی سے لے لے۔
لائبريری ميں داخل ہو کر لائبريرين کی ٹیبل کے قریب بڑھا جہاں اس کی مطلوبہ کتاب دھری تھی۔
ابھی کتاب لے کر موڑ ہی رہا تھا کہ ايک دبی دبی نسوانی چیخ اسکی سماعتوں سے ٹکرائ اور ساتھ ہی ريکس کی جانب سے ٹھک ٹھک کی آواز آئ جيسے کوئ ان ريکس سے ٹکرايا ہے۔ وہ تيزی سے اس جانب لپکا جہاں سے آواز آرہی تھی۔
“کون ہے” وہ يکدم چلايا۔
“بچ۔۔۔۔” کسی لڑکی کی آواز کو دبايا گيا تھا۔
جوں ہی ايک ريک کے پاس پہنچا۔
رستم ايک لڑکی کے ساتھ نظر آيا۔ لڑکی کے منہ پر اس نے زبردستی ہاتھ جمايا ہوا تھا دونوں خاصی قابل اعتراض حالت ميں کھڑے تھے۔ لڑکی کا دوپٹہ غازان کے پاؤں کے نيچے آيا۔
اتنا اندازہ ہو گيا کہ رستم زبردستی اس لڑکی کی عزت پر ہاتھ ڈال رہا ہے۔
“کيا کر رہے ہو تم يہاں” غازان چلايا۔
“بکواس بند کرو اور خاموشی سے يہاں سے دفع ہوجاؤ” رستم غرايا۔ وہ لڑکی کو چھوڑنے پر تيار نہيں تھا جو زاروقطار رو رہی تھی۔ اور مزاحمت بھی کر رہی تھی۔
مگر وہ اسے بری طرح دبوچے ہوۓ تھا۔
غازان نے آگے بڑھ کر ايک مکا اسکے سر پر رسيد کيا۔ وہ جو نشے ميں بری طرح جھول رہا تھا۔ غازان کا مکا نہيں سہہ سکا اور الٹ کر فرش پر گرا۔
مگر پھر زخمی شير کی طرح اٹھا غازان اس سے پہلے ہی اسے قابو کرچکا۔
“جائيں آپ يہاں سے ” وہ لڑکی کو ديکھ کر تيزی سے بولا جو منہ پر ہاتھ رکھے انہيں گتھم گتھا ہوتے ديکھ رہی تھی۔
“جائيں” غازان پھر سے چيخا۔
وہ تيزی سے روتی ہوئ وہاں سے بھاگی۔
“گھٹيا انسان تجھے ذرا شرم نہيں آتی۔ ” وہ دو تين مکے اسکے منہ پر رسيد کرتے ہوۓ بولا۔ غازان پر اس وقت جنون سوار ہوچکا تھا۔
اسی لمحے باہر سے بھاگتے دوڑتے قدموں کی آواز آئ۔
“کيا ہورہا ہے يہاں” غازان کے ايک ٹيچر کی آواز آئ ان کے پيچھے اور بھی بہت سے لوگ تھے۔
اور وہ تمام ميڈيا جو وہاں اس ڈنر کی کوريج کے لئيے آيا تھا انہيں تو ايک چٹ پٹا موضوع مل گيا تھا۔ موقع کا فائدہ اٹھاتے بہت سے فوٹوگرافرز وہاں آچکے تھے۔ دھڑا دھڑ تصويريں لے رہے تھے۔ حالانکہ يونيورسٹی کی انتظاميہ کے بندے انہيں پوری طرح روکنے کی کوشش ميں تھے مگر وہ کسی کی نہيں سن رہے تھے۔ “
سر يہ۔۔يہ ايک لڑکی کو يہاں لا کر اسے ريپ کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ ميں بروقت پہنچ گيا” رستم تيزی سے غازان کو چھوڑ کر اس ٹيچر کے پاس آيا جبکہ غازان ہانپتے ہوۓ اسے حيران نظروں سے ديکھ رہا تھا۔
“بکواس کررہا ہے يہ سر” غازان آنکھوں ميں خون لئيے اسکی جانب بڑھا مگر وہاں موجود رومان تيزی سے آگے بڑھ کر اسے قابو کرنے لگا۔
“اگر ميں بکواس کررہا ہوں تو يہ دوپٹہ، يہ بريسليٹ اور حتی کہ يہاں پر موجود کچھ گرے ہوۓ بال اس سب واقع کی ضمانت ہيں” غازان کے قريب گرے بريسليٹ اور زمين پر موجود دوپٹے اور چند لمبے بالوں کی جانب اشارہ کرتے وہ خباثت سے بولا۔ جو ہر ديکھنے والی آنکھ کو بآسانی نظر آرہے تھے۔ غازان تو اسکی شاطرانہ چال پر چکرا کر رہ گيا۔
“لائبريری آج کيوں کھلی تھی کس نے کھولی تھی۔” وہ دونوں کو غصے سے ديکھتے ہوۓ بولے۔
“سر وہ غازان نے کہا تھا کہ اسے کوئ کتاب لينی ہے اسی لئيے ميں نے کتاب نکال کر کھول دی تھی تاکہ يہ وہ کتاب لے لے” لائبريرين کی بات پر سب کا شک يقين ميں بدل گيا۔
“ديکھا سر اس نے پورا پلين کيا تھا” غازان ششدر حالات کو اپنے خلاف جاتے ديکھ رہا تھا۔
“اب کہو تم يہاں کتاب لينے کے بہانے نہيں آے تھے” رستم نے اسے اکسايا۔
“بتاؤ غازان لائبريرين سچ کہہ رہا ہے” سر سميع غازان سے پوچھنے لگے۔
“سر يہ ٹھيک ہے کہ ميں کتاب لينے آيا تھا مگر یہاں ميں نہيں رستم اس لڑکی کو ريپ کرنے کی کوشش کررہا تھا۔” وہ صاف گوئ سے بولا۔
“اف خدايا اب اپنا کيا ميرے سر ڈال رہا ہے، اچھا تو کس لڑکی کو ميں ريپ کررہا تھا” رستم نے اپنی خون آشام آنکھيں اس پر گاڑھيں۔
“سر وہ تو ميں نہيں جانتا مگر وہ يہيں کہيں ہوگی”
سب سر پکڑ کر بيٹھے تھے۔ معاملہ ڈين تک جاچکا تھا وہ بھی آگۓ۔
دونوں کو ان کے آفس لے جايا گيا۔ مگر لائبريرين کے بيان کے سبب وہ بری طرح پھنس چکا تھا۔ وہ چيخ چيخ کر اپنی گواہی دے رہا تھا۔ سونے پہ سہاگا جس لڑکی کو غازان نے بچايا تھا وہ اب پورے فنکشن ميں کہيں نہيں تھی۔
اور وہ تمام چيزيں جو وہاں موجود تھيں وہ گواہی دے رہی تھيں کہ کسی لڑکی کا ہی چکر تھا اور کون اس کے ساتھ زبردستی کررہا تھا يہ صرف غازان يا اس کا اللہ جانتا تھا۔ لائبريرين کا بيان سب سے زيادہ اس کو متاثر کررہا تھا۔
رومان بھی کچھ بولنے کے قابل نہيں رہا تھا۔ دونوں کے والد کو بلا ليا گيا تھا۔
“سر يہ کچھ عرصہ پہلے کی بات کا مجھے سے بدلہ نکال رہا ہے تب بھی اسی کی غلطی تھی اور آج بھی اسی کی ہے جسے وہ ميرے سر تھوپ رہا ہے۔”رستم مسکين شکل بناۓ بول رہا تھا۔
غازان نے غصے سے مٹھياں بھينچ رکھی تھيں۔ سکندر صاحب کا سر جھکا ہوا تھا۔
“جناب مجھے تو علی نے آکر بتايا کہ لائبريری ميں کسی کی لڑائ ہو رہی ہے۔ ليکن جيسا کہ رستم نے کہا ہے کہ يہ کسی لڑکی کے پيچھے تو سر ہمارے ادارے کی ريپوٹيشن بہت خراب ہوگی۔ غازان کو ہم کبھی ايسا نہيں سمجھتے تھے مگر آج بے حد افسوس ہوا ہے” وہ سب اسکے خلاف ہوچکے تھے۔
وہ جتنا مرضی اپنی صفائياں ديتا مگر اسکے حق ميں کوئ بھی بات نہيں جارہی تھی۔
وہ جبڑے بھينچے بيٹھا تھا۔
“سر اس کا آخری حل یہی ہے کہ اللہ اپنا کوئ فرشتہ اتارے يہ بتانے کو کہ ميں سچا ہوں” غازان تلخ لہجے ميں بولا۔
“فرشتہ کيوں قرآن لے آؤ ابھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاۓ گا” رستم کا باپ غازان کو غصے سے ديکھتے ہوۓ بولا۔
“ميں آپکے بيٹے جيسا گھٹيا نہيں کہ اللہ کی مقدس کتاب کو اپنے مقصد کے لئيے استعمال کروں۔ آپ جیسوں کو نہيں مگر ہميں اس کا تقدس بہت پيارا ہے” وہ ايک ايا لفظ چبا کر بولا۔
“ديکھ ليں اتنا ہی سچا ہوتا تو کہتا لائيں ميں ابھی ہاتھ رکھتا ہوں۔ اسی بات سے پتہ چلتا ہے کہ کون غلط ہے کون صحيح کيوں رستم تم کتاب پر ہاتھ رکھوگے” اس نے اپنے بيٹے کو فخر سے ديکھتے ہوے کہا۔
وہ فورا بولا “ہاں کيوں نہيں”
“ديکھ ليں” اس نے مغرور نظر سب پر ڈالی۔
“ايسوں پر ہی عذاب آۓ گا”
“خاموش رہو تم عازان ” اب کی بار سکندر صاحب نے اسے ڈپٹا۔
“اب تو فائنل ايگزامز ہوگۓ ہيں نہيں تو ميں اسے آج ہی ايکپیل کرديتا۔ مگر اب آپکے دوسرے بيٹے کو وارننگ ہے اگر وہ بھی اپنے بھائ کے نقش قدم پر چلا تو ہم آپکو نہيں بلائيں گے بلکہ اسے ايکسپيل کرديں گے” ڈين نے سرد لہجے ميں کہا۔
تمام ميڈيا پر خبريں چل رہی ہيں۔ ہمارے ادارے کی عزت داؤ پر لگی ہے۔ ميں غازان کی ڈگری اب نہيں دے سکتا۔ کيونکہ جس قدر آج ہمارے ادارے کو نقصان پہنچا ہے شايد ہی اس سے پہلے کبھی پہنچا ہو۔ روپے پيسے کا نقصان تو ہم برداشت کرسکتے ہيں۔ مگر رپپوٹيشن کا نقصان ہم برداشت نہيں کرسکتے۔” وہ سخت برہم لہجے ميں بولے۔
“سريہ انتہائ درجے کا جھوٹا انسان ہے۔ آپ پوچھيں کسی بھی لڑکی سے کيا کبھی ميں نے کسی سے کبھی کوئ غلط بات کی ہے۔ اور يہ نشے ميں بھی ہے اس وقت کيا آپ ميں سے کسی کو اس کے پاس سے شراب کی بو محسوس نہيں ہورہی۔ اس کے ٹيسٹ کروائيں تو آپ جان جائيں گے کہ يہ شرابی بھی ہے۔ اور پھر بھی آپ” وہ مشتعل ہو کر بولا۔ وہ کيسے اور کہاں سے اس لڑکی کو لے کر آتا جو رستم کے خلاف گواہی ديتی وہ بے بسی کی انتہا پر تھا۔
“ميں نے بہت بکواس سن لی ہے اس لڑکے کی مگر اب اور نہيں۔ ہم کيوں اپنے بيٹے کے ٹيسٹ کروائيں۔ کوئ طريقہ ہے يہ يہاں بيٹھے ہم اس کے ہاتھوں ذليل ہورہے ہيں۔ نجانے کيوں يہ لڑکا ہر بار ميرے بيٹے کے پيچھے لگ کر تماشا لگاتا ہے۔” رستم کے والد گرجے۔
“اگر يہ اتنا ہی سچا ہے کہ قرآن پر ہاتھ رکھ سکتا ہے تو يہ صرف ايک ميڈيکل ٹيسٹ سے کيوں اجتناب برت رہا ہے” غازان استہزائيہ مسکرايا۔
“يہ سب فضول کی گفتگو ہے غازان” ڈين نے غازان کو خاموش کروانا چاہا۔
“ميں کچھ کہوں تو وہ فضول ہے اور آپ جو اس گھٹيا انسان کی باتيں سن کر اسے سچ مان رہے ہيں وہ سب صحيح ہے۔ مجھے تو لگتا ہے اس سب ميں آپ سب ملے ہوۓ ہيں۔وہ ايک سياستدان کا بيٹا ہے آپکے ادارے کو ڈونیشنز ديتا ہے اسی لئیے وہ حق پر ہے۔ اور ميں گناہگار ہوں۔ کيا يہ تعليم ہے آپ لوگوں کی۔ايسے ادارے کی ڈگری پر ميں خود لعنت بھيجتا ہوں۔ جہاں تعليم کا معيار بچوں کے والدين کی پوسٹس پر ہے۔” وہ اپنی سيٹ سے کھڑا ہو کر غصے سے چلايا۔
“سکندر صاحب آپ اس کو اب يہاں سے لے جائيں تو بہتر ہوگا” ڈين نے سکندر صاحب کو مخاطب کيا۔
“بجاۓ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے يہ اکڑ رہا ہے” انہوں نے پھر سے اپنی غصے سے بھری نظريں غازان پر گاڑھيں۔
“جب ميں غلط ہوں نہيں تو کيوں مانوں۔۔ميں سب کو عدالتوں ميں گھسيٹوں گا۔ اتنے آرام سے نہيں بخشوں گا اس شيطان صفت انسان کو۔۔ميں۔۔” اس سے پہلے کہ وہ اور بھی کوئ دھمکی ديتا سکندر صاحب نے تيزی سے اٹھ کر ايک زناٹے دار تھپڑ اسے رسيد کيا۔
“بند کرو يہ سب” وہ غصے سے چلاۓ۔انہيں ايسا لگ رہا تھا ان کا ابھی اور اسی وقت دماغ ماؤف ہو جاۓ گا۔ بات چھوٹے موٹے جھگڑے کی ہوتی تو کوئ بات نہيں تھی مگر يہاں معاملہ ريپ کا تھا۔
“چلو” غازان بے يقينی سے باپ کو ديکھتا رہا۔ بجاۓ اس کا ساتھ دينے کے وہ بھی اسے قصوروار سمجھ رہے تھے۔
کچھ دير بعد وہ سکندر صاحب کے ہمراہ گاڑی ميں گھر جارہا تھا۔
گاڑی ميں مہيب خاموشی تھی۔ رومان باپ کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کے باعث خاموش تھا۔ مگر غازان وہ تو سکتے کی سی کيفيت ميں تھا۔ اسے ان کے تھپڑ سے زيادہ ان کی بے اعتباری مار گئ تھی۔ ۔
