Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 12)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 12)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
رات ميں گھر پہنچ کر ابيشہ نے فريد صاحب سے تمام معاملہ ڈسکس کيا۔
زنيرہ، نتاشا اور غازان والے سب واقعات کہہ سناۓ۔
“ابو کل ميں بہت بڑا قدم اٹھانے لگی ہوں۔ اپنے باس کے ساتھ مل کر پہلے تو ان دونوں کا بيان ليں گے اور پرسوں کے اخبار ميں يہ سب واقعات نہ صرف چھپوانے ہيں بلکہ بہت سے نجی خبروں کے چینلز پر ان دونوں کے انٹرويو بھی ميں کررہی ہوں۔ تاکہ بے قصور کو انصاف ملے۔ مجھے آپکی اجازت چاہئے آپکی دعائيں چاہئيں” اس نے محبت سے فريد صاحب کے ہاتھ اپنے ہاتھوں ميں تھامتے کہا۔ جو اس وقت کرسی پر بيٹھے فخر آنکھوں ميں لئے اسے ديکھ رہے تھے۔
وہ خود بے حد محب وطن تھے اور يہی محبت انکی اولاد کے دل ميں بھی تھی۔
“پتہ ہے ابيشہ ميری ہميشہ سے خواہش رہی تھی کا اگر بیٹا ہوا تو اسے فوجی بناؤں گا۔ مگرپھر اللہ نے بيٹياں ديں۔ اور تب ميں نے سوچا کہ اس وطن سے محبت روا رکھنے کے لئے ضروری نہيں کہ سرحدوں پر ہی جاکر اس کی حفاظت کا بيڑہ اٹھايا جاۓ۔ اس ملک کے اندر بھی بہت سے غدار بيٹھے ہيں جو اسکی جڑوں کو کاٹ رہے ہيں۔ کيوں نہ اپنی اولاد کو اس قابل بنايا جاۓ جو ايسے ناسوروں کے خلاف آواز اٹھاۓ۔ تمہيں اس فيلڈ ميں بھيجنے کا مقصد ہی يہی تھا کہ تم حق کی فروغ اور باطل کو نيچا دکھاؤ۔ آج ميں تم پر جتنا فخر کروں کم ہے۔ کہ تم نے ميرے اس خواب کو حقيقت کی شکل دی۔ ميں اس پورے کيس ميں تمہارے ساتھ ہوں۔ مجھے نہ کسی سے ڈر ہے نہ خوف کيونکہ ميں جانتا ہوں کہ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہے۔ تمہيں ہر طرح سے اجازت ہے کہ شريف کپڑوں ميں نظر آتے ان غداروں کا نقاب الٹ دو اور دنيا کو دکھاؤ کہ برے کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔
اللہ کی بے آواز لاٹھی جلد يا بدير آخر ايسے لوگوں پر پڑتی ہی ہے۔ ميری تمام دعائيں تمہارے ساتھ ہيں۔ ان شاء اللہ تم کامياب ہوگی۔ بس گھبرانا نہيں۔” اسے محبت سے ساتھ لگاتے وہ ہميشہ کی طرح اس کا حوصلہ بڑھا گۓ۔
“تھينک يو ابو۔ بس امی کو آپ نے سمجھانا ہے۔” اس نے شرارت سے مسکراہٹ دباتے کہا۔
“وہ تو کوئ اتنا بڑا کام ہی نہيں۔ ميں نے اسے وہ چینل ہی ديکھنے نہيں دينا” شرارت سے مسکراتے ہوۓ وہ بڑے مزے سے اسے اپنے آئيڈياز بتا رہے تھے۔
_____________________
اگلے دن زنيرہ، نتاشا اور کرنل صاحب کو ابيشہ نے فون کرکے اپنے آفس آنے کی دعوت دی۔
ان سب کے آفس پہنچتے ہی ارشاد صاحب نے ان سے مل کر الگ الگ دونوں کا بيان ريکارڈ کروايا اور ساتھ ہی ساتھ کرنل صاحب کو بھی اپنا لائحہ عمل بتايا۔
“ميں جہاں تک اور جس حد تک آپ سب کی مدد کرسکا ضرور کروں گا۔ يہ بچی تو ويسے بھی اب مجھے بيٹيوں کی طرح عزيز ہوگئ ہے بيٹيوں کو ايسے ہی ہونا چاہئے نڈر اور بے خوف۔” پاس کھڑی ابيشہ کے سر پر ہاتھ رکھتے وہ محبت بھرے انداز ميں بولے۔ اس نے مسکرا کر سر جھکا ليا۔
“بالکل جناب۔۔۔ بہت ہمت والی بچی ہے۔ ابيشہ بيٹا چینل والے آگۓ ہيں تم انٹرويو والا کام سر انجام دو” “جی سر”کہتے ساتھ ہی وہ انکے آفس سے چلی گئ۔
اگلا دن يقيناّ بہت سے ہنگامے لانے والا تھا۔ وہ سب جانتے تھے کہ جب يہ بات رستم اور اسکے منسٹر باپ تک پہنچے گی۔ تو بہت بڑا طوفان آۓ گا۔
مگر اس طوفان کی زد ميں کون سب سے زيادہ آنے والا ہے يہ کوئ نہيں جانتا تھا۔
_________________
“رستم کو بلاؤ۔ جلدی” اخبار ميز پر پھينک کر ابرار نے غصے سے پاس کھڑے ملازم کو حکم ديا۔
“جی سرکار” ہاتھ باندھے گھگھيائ آواز ميں فورا سيڑھيوں کی جانب بھاگا۔
بيسمنٹ ميں رستم کا کمرہ تھا۔
کچھ ہی دير بعد آنکھيں ملتا غصے ميں وہ اوپر آيا۔
“کيا مسئلہ ہے پاپا صبح صبح اٹھا ديا ہے” اس پر ابھی بھی پچھلی رات کا خمار چڑھا ہوا تھا۔ روز رات کو شراب اور شباب کی محفلوں کا حصہ بننا اس کا معمول تھا۔
“بيٹھو يہاں اور يہ خبر پڑھو” ابرار نے اپنے سامنے پڑی کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ دانت پيس کر کہا۔
“افوہ۔۔۔” وہ جھنجھلاتا ہوا کرسی پر بيٹھ کر آنکھيں مسل کر پھر پوری طرح کھول کر سامنے رکھا اخبار پڑھنے لگا جس کے فرنٹ پيج کی بڑی بڑی سرخيوں ميں سے ايک کو پڑھ کر اسکی آنکھيں حققيت ميں کھل گئيں۔
“مشہور ايم اين اے کا بگڑا لاڈلا رستم پچھلے کچھ مہينوں ميں دو لڑکيوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکا ہے۔ ايک ميں تو کامياب ہوگيا مگر دوسری لڑکی پر حملہ کرتے وقت اسکے يونيورسٹی فيلو غازان نے اس لڑکی کو بچا ليا مگر رستم نے اپنی شاطرانہ چال سے اس لڑکے کو پھنسوا دیا۔” پھر اندر کے صفحات پر دونوں لڑکيوں کا بيان ديا گيا تھا۔
“يہ بکواس ہے۔ ميرے خلاف پروپيگنڈا ہے” اخبار کو غصے سے ميز پر پٹخ کر وہ مسلسل نفی کررہا تھا۔
“کتنی مرتبہ تمہيں بکواس کی ہے کہ يہ طوائفيں۔۔يہ ماڈل گرلز کس لئے ہيں۔ تم اپنی عياشی انکے ساتھ پوری کرو۔ مگر نہيں تمہيں تو ہر جگہ منہ مارنے کی عادت ہے۔ اور يہ جسے تم نے لائبريری میں پکڑا تھا يہ کرنل کی بيٹی ہے۔ اور يہ فوجی کس پاتال ميں انسان کو پھينکتے ہيں تم سوچ بھی نہيں سکتے۔” وہ غصے سے اس پر چلا رہے تھے۔
“افوہ۔۔۔ آپ نے ہی تو يہ عادت سکھائ ہے جہاں مرضی منہ ماری کرو۔ يہ ہوس آپ سے ہی تو سيکھی ہے۔ کبھی پيسے کی ہوس تو کبھی عورت کی ہوس۔ آج ميں نے ايسا کرليا تو کيا بڑا کيا” وہ معاملے کی سنگينی کو سمجھنے سے قاصر اپنی ہی کہے جارہا تھا۔
“بکواس بند کرو۔ اس باقی کے بيان ميں صاف انہوں نے لکھا ہے کہ وہ تم پر ريپ کا کيس کريں گے۔ اور پھر جب يہ فوجی کسی جج اور وکيل کے پيچھے لگتے ہيں تو وہ ہم جيسوں کے ہاتھوں بک بھی نہيں سکتے۔ مجھے کچھ سمجھ نہيں آرہی” ابھی ابرار ہاتھ مل ہی رہا تھا کہ موبائل بجنے لگا۔
“ہيلو۔۔ کيا بکواس کررہے ہو۔ کون ہے یہ لڑکی۔۔۔ ميں ميں انکے خلاف کيس کروں گا” وہ غصے سے دہاڑا۔ پھر فون بند کرکے ٹی وی کی جانب بڑھا
آن کيا تو وہاں بھی مختلف نيوز چينلز پر کوئ لڑکی انہی دونوں لڑکيوں کو سامنے بٹھاۓ رستم کے تمام کالے کرتوت کھول رہی تھی۔
“يہ سب پاگل ہوگۓ ہيں۔ ک۔۔ کون ہے يہ لڑکی جو ان کا انٹرويو کر رہی ہے۔ ہمت کيسے ہوئ ان چينلز کی”وہ غصے سے پاگل ہورہا تھا۔
اور اسکے بعد سے تو دھڑا دھڑ فون آنا شروع ہوۓ۔
رستم نے فورا ان چینلز کو فون کرکے سخت سست سنانی چاہی مگر انہوں نے بے بسی کا اظہار کيا۔
“ميں تم سب کے چينلز بند کروا دوں گا” وہ پھنکارا۔
“سر پہلے آپ عدالت ميں پيشياں بھگت ليں۔ کيونکہ يہ لڑکی کل تک عدالت کے ذريعے آپ کو نوٹس بھجوا رہی ہے۔” چينل کے پروڈيوسر کی بات پر وہ شاک ميں آگيا۔
“پتہ کرواؤ اس لڑکی کے بارے ميں۔۔ ميں ميں چھوڑوں گا نہيں اسے” ابيشہ اس وقت ان دونوں کے موبائلز ميں سے رستم کے ميسجز کا ريکارڈ دکھا رہی تھی۔
ايک ہی نمبر سے آنے والے وہ دوستی اور پھر دھمکيوں کے ميسجز پوری دنيا کے سامنے چل رہے تھے۔ نہ صرف وہ بلکہ جس کمپنی سے رستم نے اپنے آئ ڈی کارڈ پر وہ نمبر نکلوايا تھا اس کمپنی نے بھی تصديق کردی تھی کہ يہ موبائل رستم کے ہی زير استعمال ہے۔
“اب کوئ شک کی گنجائش ہی نہيں رہتی کہ يہ سب کام اس رستم نامی شخص نے کئے ہيں۔ بلکہ زنيرہ کے بتاۓ جانے پر جس فليٹ ميں لے جاکر اسکے ساتھ وہ گھٹيا حرکت اس شخص نے کی ہم نے اس کا بھی پتہ کرواليا ہے وہ بھی رستم نامی اس درندے کا ہی ہے۔ اور يہ رہے اس فليٹ کے تمام کاغذات کا ريکارڈ” وہ تمام پيپرز ابيشہ کيمرے کی اسکرين کے سامنے دکھا رہی تھی۔
دونوں باپ بيٹا سر پکڑے بيٹھے تھے کہ يہ ہوا کيسے کس نے ساری انفارميشن دے دی اور انہيں پتہ تک نہ چلا۔
“مرگۓ تھے کيا تم سب جب ان لوگوں نے يہ چيزيں پتہ کروائيں تھيں۔ کس بات کے ہم تمہيں پيسے ديتے ہيں” رستم کمرے ميں موجود ان بارڈی گارڈز پر برسنے لگا جو ہمہ وقت ان کے پاس موجود رہتے تھے۔
“پاپا اس لڑکی کو اٹھوانے کے سوا کوئ چارہ نہيں” وہ مڑ کر ابرار سے مخاطب ہوا۔
“پاگل ہوگۓ ہو تم۔۔ خبردار اب اس لڑکی کو چھيڑا۔۔ديکھ نہيں رہے تم کتنی اين جی اوز اور وکيلوں کو اس نے اپنے ساتھ ملا ليا ہے۔ اگرابھی ہم نے اس پر ہاتھ ڈالا تو فورا پکڑے جائيں گے۔ ايسی کوئ حماقت اس وقت نہيں کرنی اور تم اب اس گھر سے باہر نہيں جاؤگے۔ بلکہ ميں تمہيں فارم ہاؤس شفٹ کرواتا ہوں۔ تم کچھ عرصہ وہيں رہوگے۔ اور اس لڑکی کے بارے ميں اب سوچنا بھی نہيں۔ يہ سب تمہاری حماقتوں کا نتيجہ ہے جو ہميں بھگتنا پڑے گا۔ ميں خود اس لڑکی سے بات کروں گا۔ اور تم ۔۔۔جب تک ميں نہ کہوں تم اس فارم ہاؤس سے باہر نہيں نکلوگے۔ نہيں تو ميں تمہاری ٹانگيں تڑوا دوں گا۔ابھی مجھے يہ معاملہ اپنے طور پر ہينڈل کرنے دو” ابرار نے کچھ سوچتے ہوۓ اسکے ارادوں پر پانی پھيرا۔
_________________
شام تک نہ صرف ابرار نے رستم کو اپنے فارم ہاؤس ميں روپوش کروا ديا بلکہ ابيشہ کا پرسنل نمبر بھی حاصل کرليا۔
“ہيلو۔ ابيشہ سے بات ہوسکتی ہے” جیسے ہی دوسری جانب سے آواز آئ ابرار نے کوئ بھی اور بات کئے بنا ابيشہ سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
“جی ابيشہ ہی بات کررہی ہوں”
“ديکھو لڑکی تم جو کچھ رستم کے خلاف اگل رہی ہو اس سب کا مقصد کيا ہے” ابرار نے اپنا تعارف کرواۓ بنا مطلب کی بات کی۔
“اول تو ميں جانتی نہيں کہ آپ کون ہيں۔ اگر آپ تعارف کرواديں تو مجھے جواب دینے ميں آسانی ہوگی” ابيشہ کی بات نے ابرار کو بہت اچھے سے بتا ديا کہ ابيشہ کوئ عام لڑکی نہيں
“ميں اس کا باپ ہوں۔ کتنے پيسے چاہئيں تمہيں۔ کون سی مراعات چاہئيں ميں سب دينے کو تیار ہوں۔ مگر تم يہ سب ختم کرو۔ اور پوليس ميں جو رپورٹ درج کروائ ہے وہ اور جو کيس کيا ہے وہ سب واپس لو۔” سپاٹ لہجے ابيشہ کو ہنسنے پر مجبور کرگيا۔
“ارے اتنی سستی چيزوں پر مان جاؤں پيسہ۔ مراعات نہيں جناب يہ ميرا اسٹينڈرڈ نہيں” استہزائيہ لہجہ ابرار کو صاف اپنا مذاق اڑاتا محسوس ہوا۔
“تو۔۔۔ تو پھر کيا چاہئے تمہيں۔ جو کہوگی تمہارے قدموں ميں ڈھير کر دوں گا” اب کی بار اسکی نہ آواز اونچی تھی نہ لہجہ تلخ بلکہ التجائیہ تھا۔
“نہ مجھے يہ پيسہ چاہئے نہ کوئ مراعات مجھے تمہارا بيٹا سلاخوں کے پيچھے يا پھر تختہ دار پر لٹکا ہوا چاہئے۔ سنا تم نے ” اس کے لہجے ميں پھنکار تھی جو ابرار کو منجمد کرگئ۔
“بھول ہے تمہاری۔۔ تمہيں تو ميں ايسی جگہ پھينکوں گا کہ کوئ ڈھونڈ نہ سکے گا” وہ منہ سے آگ برسانے لگا۔
“ارے ارے سر۔۔۔ ذرا زبان اور ہاتھ ہلکا رکھيں۔ آپکی تمام گفتگو ميرے موبائل ميں لگے چھوٹے سے ٹرانسميٹر ميں ريکارڈ ہورہی ہے۔ اور آج صبح کی طرح کل صبح بھی يہ فون کال مختلف چينلز کی ہيڈ لائن بنے گی۔ اب آپ اپنے بيٹے سميت پيشيوں کے لۓ تيار رہئيے اب آپ سے ملاقات کمرہ عدالت ميں ہوگی” بڑے مزے سے اسے مطلع کرتے وہ کال کاٹ گئ۔
صبح ہی رومان نے يہ مشورہ دیا تھا کہ ابيشہ کے موبائل پر آنے والی کالز کی ريکارڈنگ کی جاۓ۔ ظاہر ہے ايسے لوگ اوچھے ہتھکنڈوں پر تو اترتے ہيں اور وہی ہوا۔
_____________________
دو دن بعدجب پوليس پوچھ گچھ کرنے ابرار کے گھر گئ وہاں رستم کی گمشدگی اس بات کا ثبوت تھی کہ اس سب ميں وہ ملوث ہے۔
“ارے آفيسر چند ميسجز اور کالز سے يہ بات کہاں ثابت ہوتی ہے کہ ميرا بيٹا کسی کا ريپ کرسکتا ہے۔” بڑے دھيمے انداز ميں وہ پوليس آفيسر کو اپنی لچھے دار باتوں ميں الجھا رہا تھا۔
“ويسے بھی ميں اس لڑکی پر کيس کروا رہا ہوں۔ ارے ايسے ہی کوئ بھی اٹھ کر ميرے بيٹے پر الزام لگا دے گا”
“جناب اگر آپ کے بيٹے نے کچھ نہيں کيا تو ان سے ملنے ميں کيا حرج ہے۔ لیکن آپ نے تو لگتا ہے انہيں غائب کروا ديا ہے” آفيسر کی باتيں سن کر اسکے تن بدن ميں آگ لگ رہی تھی۔
“ايسا نہيں ہے۔ ديکھيں جوان بچہ ہے اپنے دوستوں کے ساتھ پھرنے گيا ہے”
“کہاں پھرنے گيا ہے؟” اس نے جانچتی نظروں سے ابرار کو ديکھا۔
“يہيں کہيں شمالی علاقہ جات”
“چليں آپ ابھی ہمارے سامنے اس سے فون پر ہماری بات کروا ديں۔ ہميں بھی تسلی ہو۔ کيونکہ ہم ان کے نمبر پر فون کررہے ہيں تو وہ تو نمبر ہی بند ہے” آفيسر نے پھر مشکوک نظروں سے اسے ديکھا۔
“ہوسکتا ہے کسی ايسی جگہ ہو جہاں سگنل نہ ہوں”
“ديکھيں سر اگر آپ سچ پر ہيں تو ان لولی لنگڑے بہانوں کی آپ کو ضرورت نہيں ہے۔ اور اگر ۔۔۔۔۔تو پھر ہم آپکے ساتھ تعاون نہيں کرسکتے۔ کيونکہ يہ کيس اوپر خانے کھل چکا ہے۔ اور آرمی کے بندے اس ميں انوالو ہوچکے ہيں۔ آپ بہتر سمجھ سکتے ہيں کہ آگے کيا ہوگا۔ اگر آپ تعاون کريں تو شايد کوئ مصالحت کی راہ ہموار کی جاسکے۔” آفيسر اٹھ کر اسے مصافحہ کرکے اجازت لے کر چلا گيا۔
