Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Usay Panay Ki Chah (Episode 07)

Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas

تين ماہ بعد

“ہيلو! کيسی ہو فرح” ابيشہ کی آواز فون سے ابھری

“ميں ٹھيک ہوں باجی آپ کيسی ہيں” فرح آہستہ سے گويا ہوئ مبادا گھر ميں کوئ سن نہ لے۔

“ميں ٹھيک ہوں۔ ميں نے تمہيں جو کام کہا تھا وہ کس حد تک ہوا” اس کے سوال پر دوسری جانب کچھ دير کے لئيے خاموشی چھا گئ۔

“باجی اپيا تو کچھ بھی بتانے کو تيار نہيں۔ ميں اس موضوع پر اس سے بات کرتی ہوں تو وہ ہسٹرک ہوجاتی ہے۔ مجھے نہيں سمجھ آرہی ميں کيا کروں” وہ بے بسی سے بولی۔

“اچھا تم ايک کام کرو تم کسی بھی طرح اسے لے کر باہر آؤ ميں تمہيں ايک پارک کا بتاتی ہوں تم اسے لے کر کل شام سیدھا وہاں آجاؤ ميں بھی وہاں موجود ہوں گی۔ پھر ميں خود ہی اس سے سب سچ اگلوا لوں گی۔ ميں تمہارے گھر آکر بات نہيں کرسکتی۔ ورنہ وہيں آجاتی۔ تمہاری امی تو مجھے يہ سب کرنے کی اجازت نہيں ديں گيں۔ اور تمہارے گھر ميں ميں چھپ کر زنيرہ سے کوئ بات بھی نہيں کرسکتی” اس نے زنيرہ کو باہر بلانے کا مقصد بتايا۔

“ٹھیک ہے آپ مجھے جگہ کا بتا ديں ميں اسے لے آؤں گی” اس کے ہامی بھرتے ہی ابيشہ نے فوراّّ پارک کی لوکيشن بتائ۔اور فون بند کرديا۔

____________________

اگلی شام فرح، ابيشہ کی بتائ ہوئ جگہ پر زنيرہ کو لے آئ۔ جہاں ابيشہ پہلے سے ہی موجود تھی۔ يہ پارک عام پارک نہيں تھا۔ صرف جاگنگ اور واک کے لئيے لوگ اسے استعمال کرتے تھے۔ لہذا رش کی کوئ گنجائش نہيں تھی۔ اسی لئيے ابيشہ نے يہ جگہ پسند کی تھی تاکہ آرام اور تسلی سے وہ زنيرہ کو سچائ کا سامنا کرنے اور اسے بتانے کے لئيے کنونس کرسکے۔

زنيرہ وہی لڑکی تھی جسے کچھ ماہ پہلے رستم نے يونيورسٹی سے واپسی پر اٹھوا ليا تھا اور پھر اپنے فليٹ ميں لے جاکر زيادتی کا نشانہ بنايا تھا۔

زنيرہ اس کے ساتھ پوائنٹ ميں بھی آتی جاتی تھی۔لہذاان کی آپس ميں اچھی خاصی دوستی ہوچکی تھی۔کچھ دن کی مسلسل غير حاضری پر ابيشہ اس کے گھر گئ تاکہ پتہ کرے کہ کيا مسئلہ ہوا ہے۔ فون کرنے پر اس کی بہن نے بس اتنا بتايا کہ اس کی طبيعت ٹھيک نہيں۔ ليکن کتنی خراب تھی اس دن ابيشہ يہی پتہ کرنے گئ تھی۔

“اسلام عليکم! کيسی ہيں آنٹی زنيرہ بہت دنوں سے يزنيورسٹی نہيں آرہی تھی۔ پتہ چلا کہ اس کی طبيعت ٹھيک نہيں سوچا آکر حال چال پوچھ لوں” دروازہ کھولتے ہی زنيرہ کی ماں سے آمنا سامنا ہونے پر ابيشہ نے خوش دلی سے کہا۔ مگر وہ ابيشہ کو بری طرح گھور رہی تھيں۔

“مر گئ ہے وہ ہمارے لئيے” يکدم ان کے پھٹ پڑنے پر ابيشہ بھونچکا رہ گئ۔ اسی اثنا ميں اس کی بہن فرح دروازے کی جانب آئ۔

“کيا ہوگيا ہے امی” ماں کو ٹوکا۔ وہ مڑ کر فرح کو بھی غصے سے ديکھتی ہوئ پاؤں پٹخ کر اندر کی جانب بڑھ گئيں۔

“سوری وہ امی کی طبيعت ٹھيک نہيں۔ آپ آئيں پليز” کچن کی کھڑکی سے وہ ابيشہ کو نہ صرف ديکھ چکی تھی بلکہ اس کا تعارف بھی سن چکی تھی۔

تين مرلے کا بنا چھوٹا سا گھر تھا۔ فرح اسے لئے سيڑھياں چڑھ کر اوپر لے آئ۔

سامنے ہی دو کمرے بنے ہوۓ تھے۔ فرح ايک کمرے کی جانب بڑھی۔ ابيشہ نے بھی اس کی پيروی کی۔

“زنيرہ تمہاری يونيورسٹی سے کوئ ملنے آيا ہے” بيڈ پرگھٹڑی بنا ہوا ايک وجود منہ دوسری جانب کئيے ليٹا تھا۔ فرح کی بات پر وہ کرنٹ کھا کر سيدھی ہوئ۔

ابيشہ تو اسے ديکھ کر پہچان نہ سکی۔ وہ تو کوئ ہڈيوں کا ڈھانچہ معلوم ہورہی تھی۔ اچھی خوش شکل لڑکی تھی مگر يہ کيا ہوا۔

وہ سرد نظروں سے ابيشہ کو ديکھ رہی تھی۔ عجيب سی وحشت اور اجنبی پن تھا اس کی نظروں ميں۔

“ہيلو زنيرہ” وہ ہچکچا کر آگے بڑھی۔

“دور رہو مجھ سے خبردار ميرے قريب مت آنا” اسکے چہرے سے ٹپکتا خوف ابيشہ کو سن کر گيا۔

“کيا ہوا ہے اسے۔ يہ اس طرح کيوں ری ايکٹ کررہی ہے اور اس قدر بری حالت ميں کيوں ہے” آخر ابيشہ سے رہا نہ گيا تو فرح سے پوچھا۔ جو نظريں چرا گئ۔

“آپ آئيں ميرے ساتھ” وہ اسے لئيے دوسرے کمرے ميں آگئ۔

“سمجھ نہيں آرہا کيسے بتاؤں۔ پچھلے دنوں يونيورسٹی سے واپسی پر زنيرہ کو کوئ رستم نامی لڑکا اٹھوا کر لے گيا تھا اور پھر۔۔۔۔۔” بيڈ پر ابيشہ کے سامنے بيٹھ کر فرح نے سچ بتانا شروع کيا مگر اس قدر کڑوا سچ وہ بتا نہ پائ۔ اور منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی۔ ابيشہ تو حيرت کی تصوير بنی اسے ديکھ رہی تھی۔ اس کے وہم و گمان ميں بھی نہ تھا کہ زنيرہ کے ساتھ يہ سب ہوسکتا ہے۔

“آپ سمجھ سکتی ہيں کہ کيا ہوا ہوگا۔۔۔رستم بہت دنوں سے اپيا کو تنگ کررہا تھا۔ نجانے کہاں سے اس نے اپيا کا نمبر لے ليا اور مسلسل اسے دوستی کی پيشکش کررہا تھا۔ مگر اپيا نہيں مانی۔ کوئ بھی شريف لڑکی يہ سب نہيں کرتی۔ اس واقع سے ايک دن پہلے يونيورسٹی ميں ہی اس نے اپيا کو کافی پريشان کيا۔ اور جب اپيا نے اسے منہ توڑ جواب ديا کہ وہ اس جيسے گھٹيا انسان سے دوستی نہيں کرنا چاہتی تو اگلے دن اس نے اپيا کو اٹھوا ليا۔ اسکے فليٹ پر پہنچنے کے کچھ دیر بعد اپيا نے موبائل پر مجھے کال کی اور روتے ہوۓ سب کہہ سنايا۔ امی ابو کو بتانے پر پہلے تو انہيں يقين نہ آيا۔ ابو نے مجھے ڈانٹا کہ جب سب پتہ تھا تو پہلے کيوں نہيں بتايا۔ ابو اسی وقت قريبی تھانے گۓ۔ مگر وہاں تو الٹا حساب۔ رستم کی اسٹرانگ بيک گراؤنڈ ہونے کے سبب بجاۓ ابو کی فرياد سننے کے پوليس والے نے الٹا ابو کو بے عزت کرکے پوليس اسٹيشن سے نکال ديا۔ کہنے لگا تمہاری اپنی ہی بيٹی گھر سے بھاگی ہوگی۔ اور بھی نجانے کياکيا الزام۔ ہم غريب کيا کرسکتے ہيں۔ سواۓ ان زمين کے خداؤں کے آگے اپنی عزت لٹانے کے اور وہی ہوا۔ شام ميں زنيرہ کو وہ اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد چھوڑ گيا” فرح زاروقطار رو رہی تھی اور کم حال ابيشہ کا بھی نہيں تھا۔

اس قدر انسانيت کی تذليل پر اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔

“تم فکر مت کرو ميں اسے انصاف دلا کررہوں گی مگر تمہيں ميرا ساتھ دينا ہوگا” اسے حوصلہ دلاتے وہ عزم سے بولی۔

“رہنے ديں باجی ايسے لوگوں کو اس دنيا ميں کہاں سزائيں ملتی ہيں” فرح آنسو صاف کرتے ہوۓ مايوسی سے بولی۔

“اللہ کی پکڑ سے بڑے بڑے فرعون نہيں بچ سکے يہ لوگ کيا چيز ہيں۔ بس تم نے ميرا ساتھ دینا ہے۔جب بھی ميں تمہيں کہوں” فرح سے وعدہ لے کر وہ اٹھی۔ وہ کچھ دن مسلسل وہاں گئ تاکہ زنيرہ خود اس سے سب شئير کرے اور وہ اس کی ريکارڈنگ لے کر اپنے باس کو دے تاکہ وہ کچھ پيش رفت کرسکيں۔ مگر زنيرہ نے کچھ بھی کہنے سے انکار کرديا۔

فرح سے وہ مسلسل رابطے ميں تھی اور پھر غازان والے واقع کے بعد سے تو ابيشہ کے لئيے زنيرہ کو کنونس کرنا اور بھی زيادہ ضروری ہوگيا تھا۔

ابيشہ کو ايک بينچ پر بيٹھےديکھ کر زنيرہ نے غصے سے بہن کو ديکھا۔ اب وہ کافی حد تک سبنھل چکی تھی وہ زنيرہ نہيں تھی جو اس دن ابيشہ نے اس کے گھر ديکھی تھی۔

“زنيرہ پليز مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے” اپنی جگہ سے اٹھ کر ابيشہ نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے مقابل بٹھايا۔

“ابيشہ تم کيوں يہ سب کررہی ہو۔ ايسے درندوں کو انصاف نہيں ملتا” وہ بے چارگی سے اسے ديکھ کر بولی۔

“ملے گ ضرور ملے گا۔ تم بس مجھے سب بتاتی جاؤ۔ تم جانتی ہو رستم کے خلاف ايک اور کيس جلد ہی کھلنے والا ہے اس کی بربادی کے دن قريب آنے والے ہيں۔” اور پھر ابيشہ نے اسے غازان والا واقعہ کہہ سنايا۔

“اف ميرے خدا کتنا گھٹيا انسان ہے يہ رستم۔ غازان بھائ کو کون نہيں جانتا اتنے اچھے انسان ہيں” وہ سر پکڑ کر بيٹھی تھی۔

“کيا تم نہيں چاہتی کہ تم اور غازان جيسے بے گناہوں کو انصاف ملے۔ پليز زنيرہ مجھے تمہاری مدد کی اشد ضرورت ہے۔ تم اگر اس کے خلاف گواہی دو گی تو مجھے اپنے سر کو اس واقع پر ايکشن لينے کے لئيے اور بھی آسانی ہوگی۔ بہت سے بڑے بڑے وکيلوں کو ميں اب جانتی ہوں۔ اور پھر آجکل جو ميڈيا کی نظر ميں آ جاۓ۔تو پھر لوگ اسے کسی صورت نہيں چھوڑتے۔ ميں يہ سب ميڈيا پر بہت جلد لاؤں گی۔ اس لڑکی کو بھی پہلے ڈھونڈنا ہے تاکہ تم دونوں کی گواہياں اس رستم جيسے گھٹيا شخص کو اس کے انجام تک پہنچائيں” وہ ايک ايک لفظ چبا کر بولی۔

“ميں تمہارا ساتھ دوں گی” زنيرہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔

اور پھر اسی طرح قطرہ قطرہ مل کر جب سمندر بنتا ہے تو اسکی موجوں سے بچنا ہر کسی کے بس کی بات نہيں ہوتی۔ ابيشہ نے مسکرا کر اسے ديکھا۔

____________________

چھ ماہ بعد

چھوٹی ہونے ميں پندرہ منٹ رہ گۓ تھے اور آج کا آرٹيکل اسے ہر حال ميں مکمل کرنا تھا۔ کل صبح اخبار ميں يہ لازمی چھپنا تھا۔ تقريبا سارا مکمل تھا۔ بس وہ ايک نظر پورا پڑھ کر غلطياں ٹھيک کررہی تھی جب آفس بواۓ دروازہ بجا کر اندر داخل ہوا۔

“اسلام عليکم! ميڈم آپ سے رومان صاحب ملنے آۓ ہيں”

“فورا اندر بلاؤ انہيں” رومان کافی مرتبہ اس کے آفس آچکا تھا اور غازان کی وجہ سے ابيشہ کے باس اسے بہت اچھے سے جانتے تھے۔

“اسلام عليکم ميڈم کيسی ہيں” دروازہ بجا کر وہ اندر داخل ہوتے پچھلی بہت سی ہونے والی ملاقاتوں کی نسبت آج ابيشہ کو بہت فريش سا لگا۔

“وعليکم سلام بالکل ٹھيک۔ آئيں جناب” خوشگوار انداز ميں اسے جواب ديتے اپنے سامنے موجود کرسی پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔

“شکريہ” کہتا وہ بيٹھ گيا۔

ابيشہ نے جلدی جلدی سب پيپرز سميٹے۔

“گھر ميں سب کيسے ہيں” اس نے مصروف انداز ميں ہی پوچھا۔

“بس ٹھيک” رومان کے جواب پر لمحہ بھر اس کے ہاتھ روکے۔

“رومان آپ نے کبھی آنٹی کو خود سے نہيں سمجھايا کہ غازان ايسے نہيں” رومان اس کی بات پر لحظہ بھر کو اسکی جانب ديکھ کر نظريں جھکا گيا۔

“بہت مرتبہ کوشش کی ہے ميں نے بھی اور منا نے بھی۔ مگر انہيں تو جيسے ايک چپ سی لگ گئ ہے۔ پتہ نہيں ان کے دل ميں کيا چل رہا ہے ميں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ آج پھر کوشش کروں گا۔ گھنٹوں غازان کے کمرے ميں بيٹھ کر روتی رہتی ہيں۔ ايسے لگتا ہے ہم سب ايک دوسرے سے بہت فاصلے پر آ گۓ ہيں۔ ڈيڈی ہيں تو انہيں دن رات کا کوئ ہوش نہيں۔ ليٹ راتوں کو آنا اور صبح ہوتے ہی نکل جانا۔ ان کی صحت اتنی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ اور وہ بھی کسی سے کوئ بات نہيں کرتے۔ ايسے لگتا ہے وحشتوں نے ہمارے گھر کا ہی رستہ ديکھ ليا ہے۔” رومان کی ہر بات پر جيسے ابيشہ کا دل دکھ سے بھرتا جارہا تھا۔ کسی ايک شخص کے زندگی ميں ہونے سے ہر چيز کتنی مکمل لگتی ہے اور جب وہ چلا جاتا ہے تب معلوم ہوتا ہے اس نے ہر رشتے کو کيسے جوڑ رکھا تھا۔

“آپ سے کچھ خاص بات ڈسکس کرنی تھی۔ اگر فری ہوگئ ہيں تو کہيں اور چليں” رومان کی بات پر اس نے اثبات ميں سر ہلايا۔

دونوں آگے پيچھے چلتے آفس سے باہر آچکے تھے۔

ابيشہ رومان کے ساتھ ہی اس کی گاڑی ميں موجود تھی۔

تھوڑی دير بعد رومان کی گاڑی ايک ريسٹورينٹ کے آگے رکی۔ گاڑی سے اتر کر وہ دونوں اندر کی جانب بڑھے۔

ايک ٹيبل کے سامنے رک کر رومان نے پہلے ابيشہ کے لئيے کرسی گھسيٹ کر اسے بيٹھنے کا اشارہ کيا پھر خود اس کے سامنے والی کرسی پر بيٹھ گيا۔

“ہاں جی اب بتائيں” ابيشہ نے استفسار کيا۔

رومان نے پيکٹ ميں موجود ايک سی دی اس کی جانب بڑھائ۔

ابيشہ کی استفہاميہ نظريں اس کی جانب اٹھيں۔

“اس ميں فير ويل کی وہ تمام تصاویر اور ويڈيوز ہيں جو پچھلے کچھ مہينوں سے ميں بہت سارے اسٹودنٹس سے لے رہا تھا۔ ہر ڈيپارٹمنٹ کے دو دو بندوں سے ميں نے يہ ويڈيوز اور تصاوير لی ہيں۔ اللہ کرے اس لڑکی کو ٹريس کرنے کا جو طريقہ آپ نے سوچا ہے اس ميں ہم کامياب ہو جائيں” رومان کی بات پر اس نے بے اختيار آمين کہا۔

“ميں بھی دو دن پہلے ہی ميڈيا کے ايک بندے سے اس دن بننے والی ويڈيو لے چکی ہوں۔ اس کے علاوہ وہ دوپٹہ اور بريسليٹ بھی يونيورسٹی کی انتظاميہ سے لے ليا ہے۔ ميں چاہتی ہوں ہم يہ ويڈيوز اکٹھے بيٹھ کر کہيں ديکھيں اور مل کر ہی اسے ان ويڈيوز ميں ڈھونڈيں” اسکی بات پر لحظہ بھر کے لئيے رومان نے کچھ سوچا۔

“علی کی طرف چلتے ہيں۔ اس کا ايک فليٹ ہے وہ اکثر اس فليٹ پر غازان کے ساتھ کمبائن اسٹڈی کرتا تھا”

“ٹھيک ہے۔ آپ علی سے ابھی بات کرليں” اس نے ہاں ميں ہاں ملائ۔

“اوکے ” کہتے ساتھ ہی رومان نے علی کو فون کرکے فليٹ پر آنے کا کہا۔

“چليں” دونوں تيزی سے وہاں سے نکلے۔

کچھ دير بعد وہ علی کے فليٹ پر موجود تھے۔ رومان کچھ دن پہلے ہی علی کو اپنا اور ابيشہ کا پلان بتا چکا تھا علی نے بھی اپنی طرف سے ہر ممکن طريقے سے ان کی مدد کرنے کا وعدہ کيا۔

کمپاؤنڈ ميں ہی ان تينوں کی ملاقات ہوگئ۔

سيکنڈ فلور پر بنا خوبصورت سا فلیٹ علی کے زير استعمال تھا۔

اس ميں داخل ہوتے ہی کاريڈور کی ديوار پر لٹکی علی اور غازان کی تصوير نے ابيشہ کو چند لمحے آگے بڑھنے نہيں ديا۔

اجلی صاف مسکراہٹ لئے وہ شخص ابيشہ کو اپنے آس پاس محسوس ہوا۔

ايک گہرا سانس بھر کر وہ آگے بڑھی۔

رومان علی کو تب تک سی ڈی کے متعلق بتا چکا تھا۔

علی نے فورا سی ڈی پلئير کو لاؤنج ميں موجود ايل سی ڈی کے ساتھ جوڑا۔

“سی ڈی دو” علی نے مڑ کر رومان سے وہ سی ڈی لی۔ جو ابيشہ پہلے اسے پکڑا چکی تھی۔

دوپٹہ اور بريسليٹ ابيشہ کے بيگ ميں ہی موجود تھا۔

اور وہ سی ڈی بھی جو اس نے ٹی وی کے اس چينل سے لی تھی جنہوں نے اس دن ان کے فيرويل کی کوريج کی تھی۔

آدھی سے زيادہ ويڈيوز وہ ديکھ چکے تھے۔ بار بار روک کر تمام لڑکيوں کے دوپٹوں کو ديکھتے مگر کہيں کوئ ايسی لڑکی نظر نہ آئ جس نے وہ دوپٹہ ليا ہوا تھا۔

“اور اگر وہ ہميں نہ ملی” ايک کلپ پر روک کر علی نے ابيشہ اور رومان کی جانب ديکھ کر کہا۔

“ملے گی ضرور ملے گی” ابيشہ مايوسی کی کوئ بات سوچنا بھی نہيں چاہتی تھی۔

مسلسل تين گھنٹے ہوچکے تھے مگر کسی کلپ ميں وہ لڑکی موجود نہيں تھی۔

“آپ والی سی ڈی لگا کر ديکھيں” رومان نے ابيشہ سے کہا۔

“پہلے اس کو پورا ديکھ ليں۔ پھر وہ بھی لگاتے ہيں” ابيشہ ہار ماننے کو تيار نہ تھی۔

علی نے دوبارہ سے کلپ چلايا ابھی پانچ منٹ نہيں گزرے تھے کہ يکدم ابيشہ چلائ۔

“روکيں يہيں پر” اسکے کہتے ساتھ ہی علی کی انگليوں نے حرکت کی اور ويڈيو پوز کردی۔ چار لڑکيوں ميں گھری وہ مسکراتی ہوئ لڑکی بلاشبہ وہی تھی۔ وہی دوپٹہ اور ہاتھ سے بالوں کو درست کرتے وہی بريسليٹ اس نے پہن رکھا تھا جو اس وقت ابيشہ کے سامنے موجود ٹيبل پر پڑا تھا۔

رومان اور ابيشہ کے چہروں پر خوشی کی ايک چمک تھی سواۓ علی کے۔

“شکر اللہ کا” رومان اسی لمحے سجدے ميں گر گيا۔ چھ مہينوں سے وہ لگا تار لوگوں سے ويڈيوز ليتا پھر رہا تھا۔ اور آج آخر کار وہ لڑکی انہيں مل ہی گئ۔

“مائ گاڈ يہ۔۔۔۔يہ تو نتاشا ہے” علی کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ان دونوں کو ششدر کر گۓ۔ کيا علی اس لڑکی کو جانتا تھا۔

“نتاشا کون۔ تم جانتے ہو اسے” رومان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔

“بدقسمتی سے يہ ميری کزن بھی ہے اور ميرے ايک کزن کی منگيتر بھی” اس کے انکشاف پر وہ دونوں ہکا بکا رہ گۓ۔

“تو يہ کہاں ہے اب کون سے ڈيپارٹمنٹ کی ہے” ابيشہ نے پے درپے سوال کئيے۔

“يہ انگلش ڈيپارٹمنٹ کی تھی اور ہمارے ساتھ ہی اس کا فائنل ائير بھی ختم ہوگيا تھا۔ سب کا ارادہ تھا کہ اس کے فائنل ائير کے بعد اس کی اور ميرے کزن کی شادی کردی جاۓ گی۔ مگر نتاشا نے فی الحال شادی کرنے سے انکار کرديا۔ اوہ ميرے خدا تو يہ وجہ تھی اس کے انکار کرنے کی۔ اور ہم يہی سمجھتے رہے کہ ابھی وہ شادی جيسی ذمہ داری کے لئيے تيار نہيں۔ ميری چچا نتاشا کے ابو ريٹائرڈ کرنل ہيں۔ اور ميرا کزن يعنی نتاشا کا منگيتر بھی ائير فورس ميں ہے۔” علی نے تفصيل سے نتاشا کے بارے ميں بتايا۔

“مگر ہم اب کيسے اس سے حقيقت جانيں گے” رومان نے کہا۔

“علی ديکھيں ہمارا نتاشا سے ملنا اسے انوالو کرنا بہت ضروری ہے۔ اور يہ تو اللہ نے ہمارے لئے آسانی کردی کہ آپ اسے پہلے سے جانتے ہيں۔ ميرے ذہن ميں آئيڈيا آيا ہے۔ علی ميں آپ کو نہيں کہتی کہ آپ نتاشا سے پوچھ گچھ کريں۔ کيونکہ يہ سب وہ آپکو کبھی نہيں بتاۓ گی۔ تو کيوں نہ ميں يونيورسٹی فيلو کی حيثيت سے اس کے گھر جاؤں اور اسے کنوينس کروں۔ اس سے سچ اگلواؤں۔ اورميرا خيال ہے ہميں يہ کرنا پڑے گا” اس نے ان دونوں کی جانب ديکھ کر تائيد چاہی۔

“بالکل ميرے خيال ميں تو يہ پرفيکٹ آئيڈيا ہے” رومان نے اپنی راۓ دی۔

“ٹھيک ہے ميں آپ کو اس کے گھر تک لے جاؤں گا” علی نے بھی مثبت جواب ديا۔

“نہيں آپ لے کر نہيں جائيں گے۔ آپ صرف مجھے ايڈريس بتائيں ميں خود ہی جاؤں گی۔” علی نے فورا ايک پيپر پر اسے ايڈريس لکھ کر ديا۔

“شکريہ۔ رومان اب مجھے گھر ڈراپ کر ديں” صوفے سے اٹھتے ابيشہ نے رومان کو مخاطب کيا۔

“اور علی ابھی اس سب کی بھنک بھی کسی کو نہ پڑے” رومان نے علی سے ہاتھ ملاتے ہوۓ علی کو تنبيہہ کی۔۔

“ڈونٹ وری نہيں پتہ چلے گا” اس نے يقين دہانی کروائ۔

کچھ دير بعد ابيشہ رومان کے ساتھ اس کی گاڑی ميں موجود تھی۔

“آج کے دن مجھے دو خوشخبرياں ملی ہيں” رومان کی بات پر ابيشہ نے الجھ کر اسے ديکھا۔

“دو؟”

“يہ پڑھيں” اپنے موبائل پر ايک ای ميل کھول کر اس نے ابيشہ کو موبائل تھمايا۔

“ميرے جان سے پيارے بھائ رومان۔

سمجھ نہيں آرہی کيا لکھوں کہاں سے شروع کروں۔ چھ مہينوں سے جس تکليف سے گزر رہا ہوں۔ اسے لفظوں ميں بيان نہيں کرسکتا۔ سوچا تھا کبھی تم لوگوں سے رابطہ نہيں کروں گا۔ مگر چھ مہينوں ميں کوئ ايسا دن نہيں جب خود سے جنگ نہ کی ہو۔ اور آج آخر کار ميں وہ جنگ ہار گيا۔ اور تمہيں ای ميل کرنے کا سوچا۔ ميں نہيں جانتا تم نے مجھے بے قصور جانا يا نہيں۔ اب مجھے اس سب سے فرق بھی نہيں پڑھتا۔ مجھے لگتا ہے وہ غازان کہيں مر گيا ہے جو تمہارا بھائ تھا۔ ايک اجنبی دوست سمجھ لينا۔ ميں کينيڈا ميں ہوں۔ اور زندگی جی رہا ہوں۔ہمارے ايگزامز شروع ہونے سے کچھ دن پہلے ميں نے اس جاب کے لۓ اپلائ کيا تھا اور مجھے خوش قسمتی سے يہاں جاب مل بھی گئ تھی۔ اگر وہ واقع نہ ہوتا تو ميں تم سب کی دعائيں لے کر يہاں آتا۔ مگر چھ ماہ پہلے سب کی بددعاؤں کے بعد ميں يہاں خاموشی سے آگيا۔ کيونکہ گناہگاروں کے لئيے دعائيں نہيں نکلتی۔ اور نہ ہی کوئ ان سے محبت روا رکھتا ہے۔ تمہاری ممی، ڈيڈی اور بہن کيسی ہيں۔ رومان ميں نہيں جانتا ميں کبھی دوبارہ تم سے رابطہ کروں گا۔ ہاں اگر دل نے ايسے ہی مجبور کيا تو شايد کرلوں۔ مگر تم گھر والوں کو ميرے بارے ميں مت بتانا کہ ميں کہاں ہوں۔ پليز مجھ سے وعدہ کرو۔ ويسے کتنا بے وقوف ہوں اب انہيں مجھ سے غرض ہی کيا ہے۔ ميں تو شايد ان کے لئے مر چکا ہوں۔

خير اپنا خيال رکھنا۔

تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔

غازان

غازان کی ميل پڑھتے ابيشہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔

رومان کو اس کے آنسو ديکھ کر حيرت نہيں ہوئ۔ غازان کے لئے اس کا جنون ديکھ کر اسے اب حيرت نہيں ہوتی تھی۔

انسان نہيں مگر اللہ اپنے بندے کی خاموش اور بے لوث محبت سے واقف ہوتا ہے۔ ابيشہ تو نہ جان سکی مگر غازان کی ابيشہ کے لئے خاموش محبت کو اللہ تو جانتا تھا اور يہ کيسے ہوسکتا ہے کہ اللہ آپ کی نيک نيتی کا بدلہ نہ دے۔

ابيشہ کا غازان کے لئے تڑپنا اس کی تکليف کو محسوس کرکے اس کے لئے يہ سب کرنا حقيقت ميں غازان کی خاموش محبت کا جواب تھا۔

اور ابيشہ ابھی تو خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی يا جان بوجھ کر انجان بن رہی تھی۔

“ميرا جواب بھی پڑھ ليں” رومان نے ايک نظر آنسو صاف کرتی ابيشہ کو ديکھ کر کہا۔

ابيشہ نے ريپلائ ميل کھولی۔

“غازان ميری جان

تو آج سوچ نہيں سکتا مجھے تيرے بارے ميں جان کر کتنا سکون ملا ہے۔ ميری تجھ سے درخواست ہے ميں کبھی تجھے واپس آنے پر فورس نہيں کروں گا۔ مگر رابطوں کو تو نے اب کبھی ختم نہيں کرنا۔ ميں گھر ميں کسی کو تيرے بارے ميں نہيں بتاؤں گا۔ مگر ہاں تو گناہگار ہے يا بے گناہ تو نے کہا تھا نہ کہ اب وقت گواہی دے گا تو بس خود کو ملول نہ کر نہ موردالزام ٹھہرا ميں جانتا ہوں تو کيسا ہے۔ بس تو وقت کا انتظار کر ميں بھی کررہا ہوں۔ ان شاء اللہ جلد ہی اللہ تجھے سرخرو کرےگا۔

اللہ تيرا حامی و ناصر۔

تيرا دوست تيرا بھائ رومان

رومان کی ميل کے ايک ايک لفظ کے ساتھ ابيشہ دل ميں آمين پڑھ رہی تھی۔ ميل بند کرکے اس نے موبائل رومان کو واپس کيا۔

“تو اسی لئے آج آپ بہت خوش نظر آرہے تھے” اس نے ہلکی سی مسکراہٹ سے رومان کو ديکھتے ہوے کہا۔

“جی بالکل”

“مجھے خود يہ ميل پڑھ کر بہت تسلی ہوئ ہے۔ يہ جان کر کہ غازان خير خيريت سے ہيں” اس نے سچے دل سے خوشی سے سرشار لہجے ميں کہا۔

“اسی لئیے آپ کو يہ ميل پڑھائ ہے۔ آپ کا تو حق بنتا تھا يہ سب جاننے کا” ابيشہ بری طرح چونکی

“آخر ميری طرح آپ بھی تو پريشان تھيں غازان کے لئے اور سب سے بڑی بات اس کے لئے اتنا بڑا اسٹيپ آپ نے ليا تو آپ کا تو حق بنتا ہے۔ آپ اسکی اتنی بڑی ويل وشر ہيں۔ آپ کو تو جانا چاہئیے تھا” رومان نے فورا بات سنبھالی۔

ابيشہ خاموش ہی رہی۔

“ايک بات کہوں آپ مجھے آپ نہ کہا کريں تم کہا کريں” اس کی انوکھی فرمائش پر ابيشہ نے تحير سے اسے ديکھا۔

“آپ کو چھوٹے بننے کا شوق ہے۔ ويسے ہيں تو آپ مجھ سے چھوٹے ہی۔ چليں آج سے تمہيں تم کہوں گی” ابيشہ نے مسکراتے ہوۓ اس کی بات مان لی۔

“تھينکس ميم” وہ کورنش بجا لايا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *