Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Usay Panay Ki Chah (Episode 16)

Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas

ايک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تيسراگلاس رستم ختم کرچکا تھا۔

وہ خود سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس لڑکی کو نيچا دکھانے کے لئے وہ کيوں اتنا انتظار کررہا ہے۔

“اچھا چلو ايک ڈيل کرتے ہيں۔ تم صرف يہ بتادو کہ اس سب کے پيچھے تم کيوں پڑی ہو ميں تمہيں ابھی اسی وقت چھوڑ دوں گا۔ جو بھی بولنا سچ بولنا۔ ويسے بھی تم اپنے سچ بولنے کی وجہ سے مشہور ہے۔ ميں بھی تو ديکھوں آج اس حالت ميں بھی تم سچ بولتی ہو يا پھر جھوٹ کا ساتھ دے کر يہاں سے بچ نکلنے کی کوشش کرتی ہو۔ ہم بھی تو ديکھيں۔ اللہ پر اتنا يقين رکھنے والی اس پر يقين رکھتے ہوۓ سچ کا سامنا کرتی ہے يا پھر يہ يقين، بس کہنے سننے تک ہی ہے” رستم نجانے کيوں اسے اتنا مارجن دينے کو تيار تھا شايد اسی لئے کہ اسکے شکنجے ميں پھنسنے کے بعد، رستم کی اتنی واضح دھمکياں دينے کے بعد بھی يہ واحد لڑکی تھی جو اسکی آنکھوں ميں آنکھيں ڈال کر بے خوف لہجے ميں اسے چيلنج کررہی تھی کہ اسکا ايمان رستم کی طاقت سے کہيں زيادہ ہے۔ اور يہی بات اسے اکسا رہی تھی کہ وہ جانے کے وہ لڑکی اپنے يقين ميں کس حد تک جاسکتی ہے تاکہ جب وہ اسے چيونٹی کی طرح مسل کر رکھ دے تب وہ اسکے يقين کا مذاق اڑاۓ۔

“تم جيسے جھوٹوں کے منہ سے سچ کا لفظ بہت اجنبی لگتا ہے۔ تم اور تمہاری حيثيت ہی کيا ہے کہ ميں تمہارے آگے اپنا سچ بيان کروں۔ اور آخری بات وہ اللہ جو يہ تک جانتا ہے کہ کس درخت کا کونسا پتہ گرا، جو يہ تک جانتا ہے کہ ہمارے دل ميں آنے والے خيال کی نيت تک کيا ہے وہ ميرے حال سے کبھی بھی ناواقف نہيں ہوگا۔ اور نہ ہی وہ تمہيں تمہارے مقصد ميں کبھی کامياب ہونے دے گا” اس کا نڈر لہجہ اب رستم کو چبھنے لگا تھا۔ وہ پے در پے حقيقت کے آئينے ميں اسیا بھيانک چہرہ دکھا رہی تھی جسے ديکھنے کی اس ميں ہمت نہيں تھی۔

ايک ناگوار نگاہ اس پر ڈال کر وہ کمرے ميں موجود الماری کی جانب مڑا۔ اور ابيشہ کے لئے يہ بہترين موقع تھا اپنے دل ميں کئے جانے والے ارادے پر عمل پيرا ہونے کا۔

دل ميں اللہ کو پکار کر اس نے تيزی سے اپنا دوپٹہ اتار کر ہاتھوں ميں لپيٹ کر دبے پاؤں بھاگتے ہوۓ رستم کی گردن کو اپنے دوپٹے کی لپيٹ ميں لے کر جلدی سے دو بل تيزی سے دے ڈالے۔

رستم اس وار کے لئے بالکل بھی تيار نہيں تھا۔ اسکے وہم و گمان ميں نہ تھا کہ وہ بہت غلط لڑکی کا انتخاب کرچکا ہے جو اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے والی نہيں۔

ابيشہ نے اپنے دونوں ہاتھوں ميں بندھے دوپٹے کو زور سے باہر کی جانب کھينچتے رستم کی گردن پر دباؤ ڈالا۔

جو اپنی گردن سے اسکا دوپٹہ ہٹانے کے لئے شديد تيزی سے ہاتھ پاؤں نہ صرف مار رہا تھا بلکہ گھٹی گھٹی آواز ميں مغلظات بھی بک رہاتھا۔

“کھول مجھے (گالی) عورت۔۔ تيرے ساتھ تو۔۔۔۔خخخخخ۔۔۔ کھ۔۔۔۔کھ۔۔کھول مجھے۔۔۔۔ (گالی)” ابيشہ پر ايک جنون سوار تھا وہ اس حد تک اسکی گردن دبا دينا چاہتی تھی کہ وہ بے ہوش ہوجاتا۔

رستم کی آنکھيں ابل رہی تھيں ۔ پورے کمرے ميں وہ گرتا پڑ رہا تھا مگر ابيشہ نے اپنی گرفت ڈھيلی نہيں کی۔

“اب تمہيں اندازہ ہوگا کہ اللہ کيسے کيسے اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے” وہ دانت پيس کر غرائ۔

رستم کی دم توڑتی مزاحمت اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ بے ہوش ہوچکا ہے۔ پھر بھی اچھی طرح اطمينان ہولينے کے بعد ابيشہ نے اسکی گردن سے اپنا دوپٹہ ہٹايا۔

وہ لڑھک کر کارپٹ پر اوندھے منہ گرا۔

ابيشہ نے اسکی جيبيں ٹٹول کر پسٹل نکالی۔

اس پر اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتے اس نے رومان کا نمبر تيزی سے ڈائل کيا۔

“ہيلو ابيشہ پوليس فورس نے علاقے کو چاروں جانب سے گھير ليا ہے۔ ميں بھی کچھ فاصلے پر کھڑا ہوں تم ٹھيک ہو”

ابيشہ نے سکون کا سانس ليتے اپنی کار گزاری بتائ۔

“آئم پراؤڈ آف يو” رومان کو حقيقی معنوں ميں اس پر فخر محسوس ہوا۔

“بس تم نے خاموشی سے کمرے ميں رہنا ہے۔ رستم اٹھنے کی کوشش کرے تو پسٹل کا بٹ اسکی کنپٹی پر مار کر پھر سے بے ہوش کردينا۔ اول تو اب تک پوليس اور فوج کے کچھ جوان فارم ہاؤس کے رہائشی حصے ميں پہنچ چکے ہوں گے۔ تم گھبرانا مت” رومان نے اسے تسلی دی۔

“تم فکر نہيں کرو ميں ٹھيک ہوں” ابھی اسکی بات پوری نہ ہوسکی تھی کہ باہر سے فائرنگ کی آوازيں آنی شروع ہوئيں۔

اس نے تيزی سے کمرے کی کنڈی چڑھائ۔ اگر رستم کا کوئ ماتحت کمرے ميں آکر اپنے باس کو يوں بے ہوش ديکھ ليتا تو ابيشہ مشکل ميں گرفتار ہوسکتی تھی۔

وہ خاموشی سے باہر کی آوازوں پر کان دھرے بيٹھی تھی۔

باہر رات کی تاريکی تھی اسی لئے پردے ہٹا کر کھڑکی کے ذريعے باہر ديکھنا بے کار تھا۔

يکدم باہر سے بھاگتے دوڑتے قدموں کی آواز آئ۔ ساتھ ہی دروازہ زور زور سے دھڑدھڑانے لگا۔

ابيشہ نے کوئ جواب نہ ديا۔

“باہر نکلو رستم تمہيں پوری طرح سے گھيرے ميں لے ليا گيا ہے” باہر سے آنے والی آواز يقينا کسی پوليس آفيسر کی تھی۔

ابيشہ نے تيزی سے چٹخنی گرائ اور دروازہ وا کيا۔

باہر بہت سے پوليس کے بندے موجود تھے۔

“ميڈم يہ” اندر آتے ہی انکی نظر زمين پر گرے رستم پر پڑی۔

“بے ہوش ہے” ابيشہ نے کمال اطمينان سے جواب ديا۔

پوليس آفيسر نے بھنويں اچکا کر اسکی بہادری کی گويا سراہا۔

فارم ہاؤس پر موجود تمام لوگوں کو پکڑ ليا گيا تھا۔

کچھ ہی دير بعد ابيشہ کو رومان اور نتاشا کے والد کے پاس لے جايا گيا۔

ايک کالی گاڑی کے پاس پريشان سا رومان کھڑا تھا۔

دور سے آتی ابيشہ کو ديکھ کر اسکی آنکھيں تشکر سے نم ہوئيں۔

ابيشہ کے قريب آتے ہی بڑھ کر رومان نے بھائ کی طرح اسکے سر پر ہاتھ رکھتے اسے اپنے حصار ميں ليا۔

نتاشا کے والد نے بھی بڑھ کر اسے پيار کيا۔

سکندر اور سفق ابيشہ کے ہی گھر پر موجود اسکے ماں باپ کو تسلی اور حوصلہ دينے کے لئے موجود تھے۔

رومان انہيں پل پل کی اطلاع دے رہا تھا۔

گھر داخل ہوتے ہی فريد صاحب سے مل کر ماں اور بہن سے ملتے وہ اشکبار ہوئ۔

شفق نے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگايا۔

محبتوں نے اسے اپنے حصار ميں ليا۔

_______________________

“بس پھر اس واقع کے دوسال تک رستم کے خلاف کيس چلتا رہا اگر آرمی ہمارے ساتھ نہ ہوتی تو رستم بہت آسانی سے اس کيس سے بری ہوجاتا۔ انکی اسپورٹ کے بعد بھی دو سال بعد اس کيس کا فيصلہ ہوا اور رستم کو ايک نہيں تين لڑکيوں کے ريپ کے بعد قتل کئے جانے پر پھانسی کی سزا ہوئ۔ اور يوں آپکے يہاں سے چلے جانے کے چار سال بعد آپکے اور ميرے اور نجانے کن کن لوگوں کا مجرم اپنے انجام کو پہنچا” خاموش ہونے کے بعد نتاشا نے اپنی نم آنکھيں صاف کيں۔

غازان تو ششدر يہ سب انکشاف سن رہا تھا۔ اسے وہ دن ياد آيا جب رومان نے اسے فون کيا۔

“غازان پتہ نہيں يہ تيرے لئے اچھی خبر ہے يا نہيں۔ مگر پچھلے دنوں کسی کيس ميں رستم پکڑا گيا اور اس نے اپنے بہت سے جرائم کے ساتھ يہ جرم بھی مان ليا کہ يونيورسٹی ميں جس لڑکی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والا واقعہ آج سے چار سال پہلے اچھالا گيا تھا اس ميں غازان نہيں بلکہ رستم ہی انوالو تھا۔ رستم کو پھانسی کی سزا ہوئ ہے۔ اس نے تمام ميڈيا پر آکر اپنے جرائم کی کہانی سنائ ہے۔

غازان آج وہ سب لوگ جنہوں نے تجھ پر لگے جھوٹے الزام کو سچ مانا تھا وہ سب شرمندہ ہے۔ غازان تو نے صحيح کہا تھا وقت گواہی دے گا کہ کون سچا ہے کون جھوٹا۔

ديکھ غازان آج وقت نے گواہی دی کہ غازان سکندر عزتوں کا رکھوالا ہے۔ آج وقت نے دکھا ديا کہ تو سچا تھا۔” رومان کے لہجے کی نمی غازان کی آنکھيں بھی نم کرگئيں۔ بے اختيار چھت کی جانب ديکھ کر اس نے آنکھيں بند کيں۔

وہ اللہ بے حد رحمن اور رحيم ہے وہ اپنے بندوں کے صبر کو رائيگاں کبھی نہيں جانے ديتا۔

اگر اس دن غازان صبر نہ کرتا اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہتا تو شايد يہ دن کبھی نہ آتا۔

غازان نے ہر فيصلہ اللہ کے سپرد کرديا تھا اور اللہ بہترين فيصلہ کرنے والا ہے۔

غازان کا رواں رواں اللہ کا مشکور ہوا۔

“غازان کيا آج ميری ايک بات مانے گا” رومان کے سوال پر بھی وہ کچھ لمحے تک بولنے کے قابل نہ رہا۔

خود پر بڑی مشکل سے قابو پاتے بھاری آواز ميں بولا۔

“کہو”

“ممی ڈيڈی سے بات کرلو وہ لوگ بہت شرمسار ہيں۔ ميں تجھے کچھ بھی بھلانے کا نہيں کہتا مگر پھر بھی ان سے بات کرلے وہ بہت اکيلے رہ گۓ ہيں تيرے بعد”

اور پھر ان چارسالوں ميں وہ پہلی رات تھی جب غازان نے گھنٹوں شفق اور سکندر سے بات کی۔

وہ بار بار معافی مانگ رہے تھے اور غازان اپنے آنسوؤں پر بند باندھ رہا تھا۔

سکندر سے تو جيسے تيسے اس نے بات کرلی۔ مگر شفق کی آواز سنتے ہی وہ بچوں کی طرح رويا تھا۔

ماں چاہے چابک بھی مار دے مگر ماں کی ضرورت مرتے دم تک ختم نہيں ہوتی۔ اسکی محبت اولاد کے دل سے کبھی نہيں مرتی۔

اور غازان وہ تو تھا ہی ہميشہ سے ماں باپ کا فرماںبردار يہ الزام تو گھن کی طرح اسے کھا گيا تھا۔

جب جب اس نے واپس آنے کی کوشش کی نجانے کيوں ايک خوف اسے جکڑ ليتا۔ سب کچھ نارمل ہوچکا تھا مگر وہ پھر بھی اندر سے نارمل نہيں تھا۔ شفق، سکندر، رومان اور منا روز اسے فون کرتے۔

منا اور رومان کی شادی پر بھی وہ خواہش کے باوجود آ نہيں سکا۔ وہ خود کو ذہنی طور پر واپس اسی جگہ آنے کے لئے تيار نہيں کرپايا جہاں سے اسکی زندگی کوايک طرح سے ختم کرکے اسے دھتکارا گيا تھا۔

مگردس سال بعد نجانے کيسے اس مرتبہ وہ خود کو واپس آنے کے لئے آمادہ کرگيا۔

شايد اللہ نے اسے بہت سی حقيقتوں کا علم دينا تھا۔

کبھی پہلے آتا تو يہ سب اسکے سامنے کبھی بھی نہ کھلتا۔

ابيشہ کی بے لوث محبت کا راز ہميشہ راز ہی رہتا۔ اور يقينا اللہ جو کرتا ہے وہ اپنے بندے کی بہتری کے لئے کرتا ہے۔ بس ہم ہی سمجھ نہيں پاتے۔

“تھينکس نتاشا يہ سب حقيقت بتانے کے لئے ميں واقعی ميں انجان تھا۔ کبھی بچوں اور میاں کو لے کر گھر آئيے گا” کچھ دير بعد غازان خوش دلی سے نتاشا سے مخاطب ہوا۔

“ارے نہيں آپ تھينکس مت کہيں مشکور تو ميں آپکی ہوں۔ اور ہميشہ رہوں گی۔ ان شاء اللہ جلدہی آپکے گھر چکر لگاؤں گی” وہ بھی خود کو کمپوز کرتی مسکرا کر بولی۔

کچھ دير بعد دونوں اپنے اپنے گھر واپسی کے لئے رواں دواں تھے۔ مگر غازان رومان کی کلاس لينے کا ارادہ کر چکا تھا۔

____________________

“ابيشہ کو کب سے جانتے ہو” رات ميں کھانا کھانے کے بعد رومان اور غازان اپنے ہی علاقے ميں واک کے لئے نکلے۔

“کون ابيشہ؟” اسکا لہجہ صاف چغلی کھا رہا تھا۔

“تو جانتا ہے تو جب کبھی بچپن ميں مجھ سے کوئ بات چھپانے کی کوشش کرتا تھا تو ميں تيرا مکوں سے کيا حال کرتا تھا۔ اگر تو ايک بچے کا باپ بن کر بھی چاہتا ہے کہ ميں تجھ سے وہی سلوک کروں تو مجھے کوئ اعتراض نہيں” رک کر غازان نے تيکھی نظروں سے رومان کو ديکھا۔

“جب سے تو نے واقف کروايا” اب کی بار وہ شرافت سے بولا۔ مگر ابھی بھی لہجہ ميں واضح شرارت تھی۔

“اور ميرے جانے کے بعد بھی يہ واقفيت رہی” غازان نے چلتے ہو‎ۓ سامنے سے نظر ہٹا کر رومان کو ديکھا۔

جسکی آنکھوں ميں شرارت ناچ رہی تھی۔

“کيا کروں تيری ہر چيز سے مجھے ہميشہ سے محبت رہی ہے۔ تو جانتا ہے تو ميری انسپريشن رہا ہے۔ لہذا ميں ہر چيز ميں تجھے فالو کرتا تھا۔ تجھے بو ايکٹر پسند ہے وہ ميرا بھی پسنديدہ تھا، تجھے جو سنگر پسند ہے وہ مجھے بھی اتنا ہی پيارا ہوجاتا تھا۔ تجھے جو برينڈ پسند ہے ميں پھر اسی کا ديوانہ ہوتا تھا۔ تو پھر ابيشہ سے واقفيت کيسے نہ رکھتا” اپنی گدی سہلاتے رومان مسکراہٹ دبا کر بولا۔

“وہ چيز نہيں انسان ہے اور اگر تو جانتا تھا تو مجھ سے کبھی کوئ ذکر کيوں نہيں کيا۔ اتنی بڑی بات مجھ سے چھپائ کہ رستم والے کيس ميں اس کا اتنا بڑا ہاتھ تھا۔ اور يہاں تک کہ وہ کس کس طرح کے حالات سے گزری۔ کڈنيپ تک ہوگئ” اب کی بار وہ رخ رومان کی جانب کئے بے بسی کی تصوير بنا اس سے پوچھ رہا تھا۔

“کسی نے مجھ سے وعدہ ليا تھا کہ اس کا نام تک نہ آۓ” رومان سنجيدگی سے اسے ديکھتے بولا۔ دونوں اس وقت چلتے چلتے رک چکے تھے ايک دوسرے کی جانب رخ کئے ايک دوسرے کو ديکھ رہے تھے۔

غازان نے حيرت سے اسے ديکھتے سر جھٹکا۔

“ميں تيرا زيادہ سگا تھا يا وہ” آنکھوں ميں غصہ در آيا۔

“وہ۔۔۔ تيرے حوالے سے وہ زيادہ سگی ہے اب” رومان نے ہولے سے مسکراتے جس انداز ميں کہا غازان کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ در آئ۔

“بہت خبيث ہے تو”

“اس دن بھی گھر ميں وہی آئ تھی جسے تو نے پردے والی بی بی بنايا تھا” غازان نے مشکوک نظروں سے اسے ديکھا۔

“ہاں نا پردہ نہ کراتا تو جناب کی باچھيں اس رات ابيشہ کو ديکھ کر کيسے اتنی کھلتيں” دونوں پھر سے چلنے لگے۔

“اور وہ فون بھی اسی کو کر کے ميرے کپڑوں کی ميچنگ اسکے ساتھ کروائ گئ تھی؟” ايک اور شک سے بھرا سوال۔

“تو اور کيا تو تو ہے ہی گھامڑ مگر مجھے تھوڑی سی عقل ہے” رومان نے اچھی طرح اسکی کلاس لی۔

غازان بس مسکرا رہا تھا۔ تصور ميں وہ خوبصورت چہرہ تھا۔

______________________

“ہيلو۔۔۔ مسئلہ کيا ہے تمہارے ساتھ” ابھی وہ غازان کے ساتھ واک کرکے گھر واپس آيا ہی تھا کہ ابيشہ کی کال آنے لگی۔

“اب کيا کرديا مجھ غريب نے” معصوميت کی انتہا تھی۔ ابھی وہ کمرے ميں اکيلا تھا۔ فروا نيچے تھی۔

“کيا کرديا يہ پوچھو کيا کيا نہ کرديا۔ کل جو رشتہ آيا تھا اس ميں اتنے کيڑے نکال کر امی کو کيوں بتاۓ ہيں۔ تم نے ميری شادی ہونے دينی ہے کہ نہيں۔ پچھلے چھ سالوں سے يہی کچھ ہو رہا ہے۔ ميرے ماں باپ نے تم پر اعتماد کرکے ميرے رشتوں کی جانچ پڑتال تمہارے ہا تھ کيا سونپ دی تم تو ميری شادی ميں رخنے ڈالی جارہے ہو” وہ بھری بيٹھی تھی۔

اور يہ حقيقت تھی۔ جب سے فريد صاحب اور سميعہ نے ابيشہ کے رشتے ديکھنے شروع کئے اور رومان سے ذکر کرنے پر اس نے اپنی خدمات پيش کيں۔ تب سے اب تک ہر رشتے ميں سو سو کيڑے نکال کے وہ بتاتا اور پھر وہ رشتہ ختم کرديا جاتا۔ ورشہ کا رشتہ اس نے خود اپنے ايک دوست سے دو سال پہلے کروا ديا تھا۔

مگر وہ رخصتی کے لئے تيار نہيں تھی۔ اسکا کہنا تھا پہلے ابيشہ کی ہوگی پھر ميری اور رومان ابيشہ کی کہيں ہونے نہيں دے رہا تھا۔

اب ابيشہ کو يہ بات صحيح سے سمجھ آرہی تھی کہ يہ سب رومان جان بوجھ کر کررہا ہے۔

اسی لئے آج اس نے سنجيدگی سے اسکی کلاس لينے کی ٹھانی۔

“تمہيں اتنی کيا مصيبت ہے شادی کی” اسکی بات پر ابيشہ کو پتنگے لگ گۓ۔

“مجھ سے چھوٹے ہو کر تم ايک عدد بچے کے باپ ہو اور مجھے پوچھ رہے ہو کہ مجھے کيا مصيبت ہے شادی کی۔ ” وہ بھنائ۔

“ميرا مسئلہ بہت گھمبير ہے تمہاری سمجھ ميں نہيں آۓ گا” رومان کا لہجہ صاف چڑاتا ہوا تھا۔

“کيوں مسئلہ کشمير سے بھی زيادہ گھمبير ہے” اس نے طنز کيا۔

“ہاں۔۔۔ اور اگر تمہيں زيادہ شوق ہے مسئلہ جاننے کا تو سن لو کہ تمہيں ميں کسی اور کا ہوتے نہيں ديکھ سکتا تمہيں ميرے گھر کی زينت بننا ہے ميرے گھر ميں آنا ہے۔ اور ميں ايسا کرکے رہوں گا۔۔ وہ بھی بہت جلد” ابيشہ اسکا اٹل لہجہ سن کر گنگ رہ گئ۔ کب وہم و گمان ميں تھا کہ وہ اپنے اور ابيشہ کے رشتے کو غلط رنگ دے گا۔

“پاگل ہوگۓ ہو تم۔۔ پی پلا تو نہيں لی” وہ مذاق ميں ٹالنے لگی۔

“ہوش و حواس ميں کہہ رہا ہوں۔ کہو تو لکھ کر بھی دے دوں۔ کہ تمہيں اپنے گھر لا کر دم لوں گا۔ اور بہت جلد اسکا انتظام بھی کر رہا ہوں” اسکے پھر وہی بات دہرانے پر ابيشہ کے اب کی بار حقيقت ميں ہاتھوں کے طوطے اڑے۔

“رومان ميں منہ توڑ دوں گی اگر کوئ بکواس مزيد کی تو۔ دماغ خراب ہوگيا ہے۔ ميں ۔۔۔ميں تو تمہاری بہنوں جيسی دوست تھی۔ کيا ہوگيا ہے تمہيں” وہ پريشانی سے بولی۔

“يہ تمہارا خيال تھا ميں نے کبھی تمہيں بہن کہا اور نہ مانا تم ميری دوست تھيں اور اب ميرے گھر ميں ايک مضبوط رشتے ميں بندھ کر آؤ گی۔ ” رومان کسی طور پيچھے ہٹنے کو تيار نہيں تھا۔

“اپنی بکواس بند کرلو اس سے پہلے کہ ميں تمہيں شوٹ کردوں۔ رومان اس رشتے کو آلودہ مت کرو۔ تمہاری بيوی اور بچہ ہے۔۔ کيوں يہ سب کررہے ہو” وہ صدمے سے بھری آواز ميں بمشکل بولی۔

“انہيں کوئ اعتراض نہيں انفيکٹ کسی کو بھی کوئ اعتراض نہيں” رومان نے اسے يقين دلايا۔

“کتنی گھٹيا سوچ ہے تمہاری۔ کاش پہلے پتہ ہوتا تو کبھی تم سے کوئ تعلق نہ رکھتی” وہ دکھ بھری آواز ميں بولی۔

“تم جو مرضی کرلو يہ تعلق تو اب بنے گا۔ تم جتنا مرضی انکار کرلو آخر تمہيں ميرے ہی گھر آنا ہوگا۔” رومان کی آواز ميں ايک چيلنج تھا۔

“مرگئ ميں اور مرگيا ہر تعلق” غصے سے چلا کر اس نے فون بند کيا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *