Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 01)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 01)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
آپی ايک گڈ نيوز” وہ جو تھوڑی دير پہلے ہی آفس سے تھکی ہاری آکر فريش ہونے کے بعد بيڈ پر کمر سيدھی کرنے کے لئيے ليٹی تھی ورشہ کی آواز پر سيدھی ہو کر بيٹھ گئ۔
“کيا ہوا ہے” ابيشہ نے اسکے خوشی سے دمکتے چہرے کی جانب ديکھا۔
“جناب ہماری يونيورسٹی نے اولڈ سٹوڈنٹس کی رييونين گيٹ ٹو گيدر رکھی ہے خاص کر ان اسٹوڈنٹس کی جنہوں نے دس سال پہلے يہاں سے ماسٹرز کيا تھا” ورشہ کی بات پر اسکی تمام سوئ حسيات گويا جاگ اٹھيں۔
ماضی ہميشہ ہر انسان کے لئيے بے حد اہم ہوتا ہے خاص طور پر ماضی کے وہ لمحات جن ميں آپکی سنہری ياديں موجود ہوں۔ اور سکول، کالج ، يونيورسٹی کے زمانے کو تو ويسے بھی گولڈن پيريڈ کہا جاتا ہے۔
ابيشہ کے لئيے بھی يہ پيريڈ اسکی زندگی کا گولڈن پيريڈ تھا۔
“کيا واقعی” وہ خوشی کے ملے جلے تاثرات سميت ورشہ کو ديکھ کر بولی۔ جو ايک خوبصورت سا انويٹيشن کارڈ اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔ جس پر اسکے سيشن کا نام بھی درج تھا جس دوران اس نے يونيورسٹی سے ماسٹرز کيا تھا۔
“اف ميں تو ابھی سے اتنی ايکسائيٹڈ ہورہی ہوں۔ کتنے عرصے بعد سب کلاس فيلوز اور ٹيچرز سے ملنے کا موقع ملے گا” وہ خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی۔
“واقعی” ابيشہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
دونوں بہنوں نے ايک ہی يونيورسٹی سے ماسٹرز کيا تھا۔
ابيشہ نے جرنلزم ميں اور ورشہ نے بوٹنی ميں۔ دونوں اسکالرشپ ہالڈر بھی تھيں۔ اور اسی ذہانت کی بنياد پر ابيشہ کو يونيورسٹی سے فارغ ہوتے ساتھ ہی ايک اخبار ميں بآسانی جاب مل گئ۔ آجکل وہ شہر کے نامی گرامی اخبار ميں بطور ايڈيٹر کام کررہی تھی۔
ورشہ بھی ايک يونيورسٹی ميں بوٹنی کی ليکچرار تھی۔ ساتھ ساتھ ايم فل بھی جاری تھا۔
وقت کب پر لگا کر اڑا پتہ ہی نہ چلا اور آج دس سال بعد اسکے ذہن کے پردے پر نجانے کون کون سا منظر نہيں گھوم گيا تھا۔
ويک اينڈ آنے ميں ابھی چار دن تھے اور يہ دن کيسے گزريں گے وہ نہيں جانتی تھی۔
___________________
“اسلام عليکم ميرا ايک پيارا سا بھائ کينيڈا ميں کہيں کھوگيا ہے کيا آپ اسکا اتا پتہ جانتے ہيں” رومان کی شرارتی آواز پر وہ اپنی مسکراہٹ نہيں روک سکا۔
“جی غلطی سے ميں ہی آپکا وہ گمشدہ بھائ ہوں” مسکراتے ہوۓ اس نے رومان کو يقين دہانی کروائ۔
“نہ کريں يار۔۔۔۔کيا سچ ميں” جان بوجھ کر روہانسی لہجہ اپنايا گيا تھا۔
“بکواس نہ کرو اب” غازان اسکے ڈرامے پر ہنس پڑا۔
“ہا ۓ شکر تم نے فون پر تو اپنے بھائ کو پہچان ليا ويسے مجھے يقين ہے ميری شکل تم بھول چکے ہوگے” رومان کی بات پر اسکا دل کيا کاش وہ سامنے ہوتا تو ايک مکا تو اب تک وہ اسکی پيٹھ پر جڑ چکا ہوتا۔
“تمہارا يہ ڈرامہ کتنی دير مزيد چلے گا” کوفت زدہ لہجے ميں وہ بولا۔
“بيٹا يہ ڈرامہ تب تک چلے گا جب تک تو آۓ گا نہيں۔ اب تو ہميشہ کی طرح اپنے کاموں کی ايک لمبی فہرست گنواۓ گا ايسے جيسے پاکستان ميں تو ہم سب فارغ بيٹھے ہوتے ہيں” غازان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس نے غازان کا جواب بھی بول ديا۔
“بہرحال جو بھی تمہارے کام ہيں انہيں فوراّ سے پہلے ترک کرکے ٹکٹ بک کرواؤ اور آجاؤ کيونکہ ايسے موقع بار بار نہيں آتے” رومان نے اسپنس طاری کيا۔
“کيا مطلب؟” غازان نے الجھ کر سوال کيا۔
“يونيورسٹی ری يونين فنکشن منعقد ہورہا ہے اور تم جيسے دس سال پرانے پيسوں کو خاص طور سے دعوت دی گئ ہے” رومان کی بات پر ايک خوشگوار سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر بکھری۔
“رئيلی” اس نے حيرت اور خوشی سے پوچھا۔
“بالکل۔ پھر بتاؤ کب تک تمہارا بوسيدہ کمرہ صاف کروائيں” رومان پھر سے اسے تنگ کرنے سے باز نہيں آيا۔
“بک بک نہ کر ميں جانتا ہوں ممی روز ميرا روم صاف کرواتی ہيں” وہ اسکی بات جھٹلا کر وثوق سے بولا۔
“اور پھر بھی تم انہيں اس اذيت ميں مبتلا رکھے ہوۓ جو وہ تمہاری جدائ ميں تمہارے بند کمرے ميں جاکر تمہاری ايک ايک چیز کو چھو کر محسوس کرتی ہيں” رومان کی بات نے اسے چپ لگادی۔
“منا کيسی ہے” اسکے بات پلٹنے پر رومان کے لبوں پر پھيکی سی مسکراہٹ آکر گم ہوگئ۔
“وہ روز تمہيں کوستی ہے، کہتی ہے کہ لوگوں کی شادياں سجا سجا کر لگتا ہے ميرے تمام آئيڈياز ختم ہوجائيں گے مگر وہ دن کبھی نہيں آۓگا کہ ميں اپنے بھائ کی شادی کا ايونٹ آرگنائز کروں” وہ پھر سے مسکرايا جانتا تھا منا نے يہی کہا ہوگا۔
ہر چيٹ اور ميسج پر وہ اس سے نجانے کتنی ہی مرتبہ شادی سے متعلق پوچھتی مگر وہ بھی کيا کرے۔ وہ نہيں جانتا تھا کہ وہ سراب کے پيچھے دوڑ رہا ہے يا نہيں۔ يا پھر قسمت اسے کبھی اسکے سامنے لا کھڑا کرے گی۔ وہ يہ بھی نہيں جانتا تھا۔
مگر جب بھی ممی يا کوئ اور اس سے بات کرتا تھا نجانے کيوں وہ ہر مرتبہ دو تين سال اور کا ٹائم مانگتا تھا۔
قسمت ايک ايسی انديکھی راہ ہے جس کے بارے ميں ہم جتنے مرضی قياس لگا ليں، پيروں فقيروں سے رجوع کرليں مگر پھر بھی يہ نہيں جانتے کہ اگلے لمحے ميں ہمارے ساتھ کيا ہونے والا ہے۔
غازان بھی لاعلم تھا مگر پھر بھی اسے اميد تھی کہ شايد کبھی کسی راہ پر وہ اسے مل ہی جاۓ۔ اور وہ واقعی نہيں جانتا تھا کبھی کبھی ہم جس سے جگہ سے دور بھاگ رہے ہوتے ہيں اللہ نے ہماری قسمت کا فيصلہ اسی جگہ لکھا ہوتا ہے
چاہے وہ فيصلہ ہماری موت کا ہو يا کسی کے عمر بھر مل جانے کا ۔
________________
“جلدی کرو بھئ بيٹھنا ہے کہ نہيں” وہ يونيورسٹی کے گيٹ کے پاس کھڑی بس ميں چڑھنے کے انتظار ميں تھی۔ دوسروں کو تکليف نہ دينے والی عادت کے سبب وہ بہت مرتبہ پچھتائ تھی اور آج بھی يہی ہوا تھا۔ باقی سب لڑکيوں نے ايسی دھکم پيل مچائ کہ وہ مروت ميں باقيوں کو چڑھنے کا موقع دينے کے چکر ميں خود پيچھے ہوتی گئ۔ اور نتيجہ يہ نکلا کہ اب وہ اس بھری ہوئ بس کو پريشانی سے ديکھ رہی تھی جس کی سيڑھيوں تک لڑکياں لٹکی ہوئ تھيں۔ ايک پاؤں تک رکھنے کی جگہ نہيں تھی۔ ليکن يہ شکر تھا کہ ڈرائيور نے بس آگے بڑھا نہيں دی۔
اس پوائنٹ کے بعد اسکے علاقے ميں جانے والا اگلا پوائنٹ رات سات بجے چلتا تھا۔ اتنی دير تک بيٹھنے کی نہ تو اب اس ميں ہمت تھی نہ وہ يہ جرات کرسکتی تھی۔ اماں کا پريشانی سے برا حال ہوجانا تھا اور ٹيوشن والے بچوں کو کون سبنھالتا۔
وہ حسرت اور بے چارگی سے بس کو ديکھ رہی تھی۔
“پيچھے سے چڑھ جاؤ۔۔جيسے ہی کچھ بچے اتريں گے تم آگے آجانا۔” کنڈيکٹر کی بات پر اس نے جواس مجتمع کئيے پھر ہمت کرکے تيزی سے پيچھے والے دروازے کی جانب بڑھی جہاں سے لڑکے بس ميں چڑھتے تھے۔
يونيورسٹی بس اس وقت اسٹوڈنٹس سے کھچا کھچ بھری ہوئ تھی۔ پہلی مرتبہ ايسا ہوا تھا کہ ابيشہ کو اس قدر مصيبت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آج اسٹوڈنٹس کا رش روزانہ کی نسبت بہت زيادہ تھا۔
وہ خاموشی سے سامنے کی جانب ديکھتے ہوۓ دھڑکتے دل سے پول کو پکڑ کر کھڑی تھی۔
کچھ لڑکے بھی کھڑے تھے۔ وہ بہت احتياط سے کھڑی تھی۔ مگر اسکے باوجود گھبراہٹ عروج پر تھی۔
دوسال سے وہ يونيورسٹی ميں پڑھ رہی تھی۔ مگر ابھی بھی لڑکے اسکے لئيے ايلين سے کم نہيں تھے۔ بہت شديد ضرورت کے وقت وہ اپنے کسی کلاس فيلو لڑکے سے بات کرتی تھی۔
اور يہاں تو وہ اتنے سارے لڑکوں ميں کھڑی تھی۔ حالانکہ يونيورسٹی ميں لڑکے لڑکيوں کا بات تو کيا اکٹھے اٹھنا بيٹھنا معمولی بات تھی۔
ابيشہ کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔ شہر کی اس مہنگی يونيورسٹی ميں بھی وہ اسکالر شپ کی بنياد پر پڑھ رہی تھی۔
نہيں تو اسکے ابو جوکہ سرکاری ملازم تھے کہاں سے اسکی اتنی مہنگی فيسيں برداشت کرپاتے۔
وہ دو بہنيں ہی تھيں۔ عام سے علاقے ميں پانچ مرلے کا گھر تھا جہاں وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ پرآسائش تو نہيں مگر کسی قدر پرسکون زندگی گزار رہی تھی۔ اپنے باقی اخراجات پورے کرنے کے لئيۓ وہ اور اسکی بہن ورشہ بچوں کو ٹيوشن پڑھاتی تھيں۔ غير معمولی ذہانت اور محنت کے سبب وہ اپنے خواب پورے کر رہی تھيں۔ ان خوابوں ميں سب سے بڑا خواب ابيشہ کے لئيے بہت سارے پيسے اکٹھے کرکے ماں باپ کو سہوليات سے آراستہ زندگی دينا تھا۔
وہ مضبوطی سے ايک پول کو پکڑے کھڑی تھی۔
“گلابی آنکھيں جو تيری ديکھيں ديوانہ يہ دل ہوگيا” کسی لڑکے کی گنگناہٹ اور پھر بہت سارے لڑکوں کے قہقہوں کی آواز گونجی۔
ابيشہ نے اپنا گلابی آنچل ٹھيک کيا۔ اور بھی مضبوطی سے پول کو پکڑ ليا۔ وہ جان گئ تھی کہ ان بيہودہ لڑکوں نے يہ گانا اسی پر کسا ہے۔
“بے وقوف آنکھيں نہيں آنچل گلابی ہے” ايک اور بے ہودہ لڑکے نے تصيح کی۔ اب تو شک کی گنجائش نہيں تھی کہ ان لڑکوں نے ابيشہ کو ٹارگٹ بنايا ہے۔
اسکی ہتھيلياں پسينے سے شرابور ہوگئيں۔
“ايکسکيوزمی مس” يکدم اسے اپنے پيچھے سے کسی لڑکے کی آواز آئ۔
وہ جان بوجھ کر ان سنی کرگئ۔ دل ميں شدت سے آيت الکرسی کا ورد کررہی تھی۔
“ايکسکيوزمی مس” پھر سے آواز آئ۔
ابيشہ نے نہ ديکھنے کی قسم کھالی نجانے اب کيا بے ہودہ بات کرديں۔ اسکی آنکھوں ميں اپنی حالت اور بے بسی پر آنسو جمع ہونے لگے۔
مرد کے لئيے کتنا آسان ہے عورت کو اپنے چند الفاظ سے کچوکے لگا کر اذيت ميں مبتلا کرنا۔ ايسا کرتے وہ يہ بھی نہيں سوچتا اسکی ماں، بہن اور بيٹی بازار ميں نکلتی ہے۔ کبھی کوئ اسکے ساتھ ايسا کرجاۓ تو غيرت کے نام پر مرنے مارنے کو تيار ہوتا ہے اور جب خود وہی سب دہراتا ہے تب يہ جوانی کی شرارت يا پھر اپنے مرد ہونے کی دليل ہے۔
وہ اپنے ہی مفروضوں ميں مصروف پيچھے ديکھنے سے احتراز برت رہی تھی۔
“مس پليز آپ يہاں بيٹھ جائيں يوں کھڑے ہونا مناسب نہيں لگ رہا” اب کی بار اسی آواز ميں جو بات کہی گئ وہ اسے حيرت زدہ کرگئ۔
اسی حيرت کے باعث اس نے پيچھے مڑ کر ديکھا تو غازان سکندر کو کھڑے ديکھ کر حيرت سوا ہوئ۔
وہ جو اپنے غصے اور مغرور طبيعت کے باعث يونيورسٹی ميں مشہور تھا۔ ابيشہ جيسی عام لڑکی کے لئيے اپنی سيٹ چھوڑ کر کھڑا تھا۔
فی الحال وہ اس بات پر مزيد غور نہيں کرنا چاہتی تھی خاموشی سے اسکی خالی کی گئ سيٹ پر بيٹھ گئ۔
ان لڑکوں کو غازان اچھے سے جانتا تھا۔ وہ بے حد بيہودہ اور لڑکيوں کے پيچھے پيچھے پھرنے والے تھے۔
جس لمحے ابيشہ آکر اسکی سيٹ کے پاس بنے پول کے ساتھ آکر کھڑی ہوئ اس لمحے اپنے ساتھ بيٹھے دوست سے باتيں کرتے ہوۓ اس نے حيرت سے ضرور اسے ديکھا تھا۔ مگر کبھی کبھی ايسا ہوجاتا تھا کہ جب رش زيادہ ہوتا تو لڑکياں پچھلے دروازے سے داخل ہوکر لڑکوں والے حصے ميں ضرور کھڑی ہوجاتی تھيں۔
مگر جيسے ہی کچھ دير بعد وسيم اور اسکے دوستوں نے بے ہودگی شروع کی اس سے برداشت نہيں ہوا۔ اس وقت وہ بس ميں تو ان سے لڑ نہين سکتا تھا لہذا اس نے بہتر حل يہی نکالا کہ خود کھڑا ہو کر اسے جگہ دے دے۔ اس نے ساتھ بيٹھے شہريار سے بات کی دونوں متفق ہو کر کھڑے ہوگۓ۔ انہيں کھڑا ہوتا ديکھ کر وسيم اور اسکے ساتھيوں کی بتيسی اندر جاچکی تھی۔
اٹھتے وقت اس نے کڑی نگاہوں سے اسے ديکھا تھا۔ اسکے غصے سے يونيورسٹی کے بہت سے طلبا ڈرتے تھے۔ غلط بات وہ کہيں بھی اور کسی کی بھی برداشت نہيں کرتا تھا۔ لڑنے مرنے پر بھی آجاتا تھا۔
اسکے پکارنے پر جب دوسری مرتبہ بھی لڑکی نے پيچھے مڑ کر نہيں ديکھا تب وہ سمجھ گيا کہ وہ شديد گھبراہٹ ميں اسے بھی وسيم کی چال سمجھ رہی ہے۔
پھر اس نے سيٹ خالی ہونے کا کہا۔ جس قدر حيرت اور آنسوؤں سے بھری دو آنکھوں نے اسکی جانب ديکھا غازان کو اپنی نظريں اس پر سے ہٹانا مشکل ہوگيا۔
ڈبڈباتی ںظروں ميں تشکر بھرا وہ جھکيں اور جھکی نظروں سميت ہی وہ غازان اور شہريار کی خالی کی ہوئ سيٹ پر بيٹھ گئ۔
وہ جو اسے ان اوباش لڑکوں سے بچانا چاہتا تھا اسکی آنسو بھری آنکھوں سے خود کو نہيں بچا سکا۔
ٹھنڈی آہ بھر کر اس نے کن اکھيوں سے اسے ديکھا جو اب دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو صاف کررہی تھی۔
اب کی بار غازان نے نظريں ہٹانے ميں دير نہ کی۔
________________
اگلے دن ہی وہ ٹکٹ کروا چکا تھا۔ ابھی ويک اينڈ آنے ميں چار دن باقی تھے۔ مگر وہ يہ موقع گنوانا نہيں چاہتا تھا۔ ايک آخری کوشش تھی اپنی لاحاصل تمنا کو پانے کی۔ نجانے اسے کيوں اميد تھی کہ وہ اسے مل ہی جاۓ گی۔ بس خود کو آخری موقع دينا چاہتا تھا۔ جس دن رومان نے فون کيا وہ اسی دن رات کی ٹکٹ کروالايا تھا۔ چھٹياں اس نے کبھی ليں ہی نہيں تھيں۔ لہذا اب جب پندرہ دن کی مانگيں تو فوراّّ مل بھی گئيں۔ اس نے گھر ميں کسی کو اطلاع نہيں دی تھی۔
سرپرائز کا بھی اپنا ہی مزہ تھا۔ اگلے دن شام ميں وہ پاکستان پہنچا۔ اپنی سرزمين پر قدم رکھتے ہی کيا کيا ياد نہ آيا تھا۔ اسے لگا کچھ زخم پھر سے ہرے ہوگۓ ہيں۔ خود کو کمپوز کرتا ٹرالی گھسيٹتا ائير پورٹ سے باہر آيا۔ کيب کروا کر گھر کی جانب جاتے ہر سڑک ہر جگہ وہ حيرت سے ديکھ رہا تھا۔ کتنا کچھ بدل گيا تھا اسے لگا وہ کسی اور لاہور شہر کی سير کررہا ہے۔ يہ وہ راستے تو نہ تھے۔
کچھ سوچ کر رومان کو واٹس ايپ پر کال کی۔
“ہيلو۔ کيسے ہو بڈی ابھی ہم سب تمہيں ہی ياد کررہے تھے۔ ميں نے سوچا تھا انويٹيشن ملتے ہی تو شايد نہ آنے کی قسم توڑ دے ليکن لگتا ہے اس خبر نے بھی کوئ خاطر خواہ اثر نہيں کيا” رومان چھوٹتے ہی بولتا چلا گيا۔
“اگر آپ کہيں فل سٹاپ لگا ليں تو ميں کچھ کہنے کی جسارت کروں” غازان اسکی باتوں پر خفيف سا ہنسا۔
“جی جناب فرمائيں” وہ بھی اسی کے سے انداز ميں بولا۔
“يار يہاں تو ہر چيز اتنی بدل گئ ہے لگتا ہے گھر کے قريب کا نقشہ بھی نہ بدل گيا ہو۔ ہمارا گھر اسی بلاک ميں ہے يا کہيں آگے پيچھے ہوگيا ہے۔” غازان کيا کہہ رہا تھا چاۓ پيتا رومان سمجھنے سے قاصر تھا۔
“کيا بول رہا ہے کيا سٹھيا گيا ہے۔ کون سا گھر کہاں کا علاقہ” وہ واقعی اسکی بات سمجھنے سے قاصر تھا۔
“وہی علاقہ وہی گھر جہاں بيٹھا تو چاۓ پی رہا ہے۔ ميں اس وقت لاہور کی سڑکوں پر کيب ميں بيٹھا تيری حالت انجواۓ کررہا ہوں۔ مزيد بيس منٹ ميں تيرے سامنے آکر تيری فضول سی شکل ديکھنے جيسا عظيم کام کرنے والا ہوں” غازان کی بات پر رومان اچھل کر صوفے سے اٹھا۔ سب حيرت سے اسے ديکھنے لگے کہ ہوا کيا ہے۔
“سچ کہہ رہا ہے” رومان کو يقين کرنا مشکل ہوگيا وہ دونوں شروع سے يک جان دو قالب تھے۔ دوريوں نے بھی انکے رشتے پر کبھی کوئ اثر نہيں ڈالا تھا۔ اب بھی ايک دوسرے پر جان چھڑکنے والے بھائ تھے۔
“ابھی تک تو ميں خود بے يقين ہوں کہ جہاں نہ آنے کی قسم کھائ تھی آج پھر سے وہيں موجود ہوں” اسکی آواز ميں جو ياسيت تھی وہ رومان کو کچھ لمحوں کے لئيے خاموش کرگئ۔
“اچھا فضول باتيں چھوڑ۔ ہمارا گھر اب بھی وہيں ہے اور تيری خوشبو کا منتظر ہے” رومان کی بات پر نہ چاہتے ہوۓ بھی اسکی آنکھيں نم ہوئيں جنہيں کمال خوبصورتی سے اس نے بند کرکے آنسوؤں پر بند باندھا تھا۔
کيا کيا نہ چھوڑ گيا تھا وہ اپنے پيچھے کس کس طرح اپنے پياروں کے لئيے نہ تڑپا تھا۔ مگر خود سے کيا عہد اسے اپنے فيصلے سے ايک انچ ہٹنے پر آمادہ نہ کرسکا۔
مگر نجانے کل دل ميں کيسا تلاطم اٹھا کہ وہ ہر چيز فراموش کرآيا وہ يہ بھی جانتا تھا کہ اس نے ايک اندھی بازی لگائ ہے۔ مگر نجانے دل کيوں اس کے صحيح ہونے کی تصديق کررہا تھا۔ موبائل نکال کر دس سال پہلے کی اسکی تصوير نکالی جو آج بھی اسکے موبائل کے وال پيپر کی زينت تھی۔ وہ جانتا تھا يہ غلط ہے مگر اس ايک تصوير کو اس نے کبھی کسی غلط مقصد کے لئيے استعمال نہيں کيا تھا۔ اسکی محبت تو بہت بے ريا اور مخلص تھی۔۔
ايک مرتبہ پھر اسے نظر بھر کر ديکھا اور موبائل کی اسکرين بند کردی۔
جس لمحے وہ گھر پہنچا سب بے چينی سے لان ميں ہی موجود اسکے منتظر تھے۔ گھر کے سامنے گاڑی رکتے ہی اس نے ايک ٹھنڈی آہ بھری۔ يادوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا جو آہستہ آہستہ اسے اپنی لپيٹ ميں لے رہا تھا۔ وہ، رومان اور منا تينوں نے کيسے کيسے زندگی کے خوبصورت دن اس گھر ميں گزارے تھے۔ وہ سب تو اب بھی وہيں تھے بس وہ ہی اپنے مدار سے ہٹ گيا تھا۔ پيسے ديتے جيسے ہی وہ مڑا رومان اپنی تمام تر وجاہت سميت اسکے سامنے منتظر نگاہوں سے اسے ديکھ رہا تھا۔ دس سال بعد اپنے جان سے پيارے بھائ کو ديکھ کر محبت بھری مسکراہٹ اسکے چہرے کو چھو گئ۔ ہولے سے اسکی جانب بڑھا جو پہلے ہی اسے سينے سے لگانے کے لئيے بازو وا کرچکا تھا۔
“ويلکم ہوم۔ بہت ترسايا ہے تو نے ” نم آنکھوں اور لہجے ميں اس نے غازان سے بغلگير ہوتے ہوۓ اسکے کان ميں سرگوشی کی۔ ابھی اس سے مل کر فارغ ہی ہوا تھا کہ اپنی جنت سامنے آنسوؤں سے تر چہرہ لئيے نظر آئ۔ ماں کا نعمالبدل اس دنيا ميں کوئ نہيں اور آج اتنے سالوں بعد انہيں ديکھ کر شرمندگی نے بہت زور سے وار کيا تھا۔ انکی حالت ديکھ کر اسے اندازہ ہوگيا تھا کہ وہ انکے ساتھ بہت زيادتی کرگيا ہے۔ آہستہ سےبڑھ کر روتی ہوئ شفق کو اپنے ساتھ لگايا۔ جو اس سے لپٹ کر اور زور و شور سے رونے ميں مصروف ہوگئيں۔ پاس ہی سکندر صاحب کھڑے تھے۔
“بس کرو اسے اندر تو آنے دو” انہوں نے زبردستی بيوی کو بيٹے سے الگ کيا۔ اندر آکر باپ سے ملنے کے بعد رومان کی بيوی کو سلام کرتا اسکے پيارے سے بيٹے کو گود ميں اٹھا کر ماں کے کندھے پر بازو پھيلاۓ لاؤنج کی جانب بڑھا۔
گھر کی سيٹنگ ميں تھوڑی بہت تبديلی آئ تھی۔ مگر وہ اچھی لگ رہی تھی۔
“تمہيں ان گزرے دنوں ميں ہم کبھی ياد نہيں آۓ” شفق جو اسکے کندھے پر سر رکھے اسکے ساتھ صوفے پر بيٹھيں تھيں۔ سر اٹھا کر اپنے وجيہہ شہزادے کو ديکھ کر بوليں۔ براؤن آنکھيں جن تر خوبصورت مڑی ہوئ پلکوں کی چھاؤں تھی۔ ماں سے نظريں ملانے کی ہمت نہيں کرسکیں۔ ماں کو کيا بتاتا نجانے کب کب کون کون ياد نہيں آيا تھا۔
“ارے اسے سکون کا سانس تو لے لينے دو آتے ہی تفتيش شروع کردی” سکندر صاحب نے انہيں ٹوکا۔
“کچھ کھانے کا انتظام کرو ميرے بيٹے کے لئيے” سکندر صاحب اسکے چہرے پر رقم اذيت کو جان گۓ تھے لہذا جلدی سے شفق کو وہاں سے اٹھايا۔
________________________
“غازان يہاں کيا کررہا ہے” وہ جو کب سے کلاس کے سامنے بنے کاريڈور کے جنگلے سے لگا ساتھ والے ڈيپارٹمنٹ کے لان ميں اسی بس والی لڑکی کو ديکھنے اور سوچنے ميں مگن تھا علی کی آواز پر چونک کر فوراّ سے پہلے نظروں کا زاويہ بدل گيا۔ اسے سمجھ نہيں آرہی تھی کہ وہ کيوں اس لڑکی کی جانب کھينچتا چلا جارہا ہے اور وہ کام جو اس نے کبھی ٹين ايج ميں بھی نہيں کئيے تھے کل سے اب تک کررہا تھا۔
دو نم آنکھيں باربار اسے ڈسٹرب کر رہی تھيں۔ اور اب يونيورسٹی آکر اس وقت اسے سامنے ديکھ کر ايک عجيب سا سکون ملا تھا۔ ايسا کيوں تھا وہ اپنے محسوسات کو کوئ نام نہيں دے پارہا تھا۔
“کچھ نہيں بس کل کی پريزينٹيشن کے بارے ميں سوچ رہا تھا۔ تم نے سر خليق سے بات کی تھی فانانس کے اس ٹاپک کی جسے ہم کل ڈسکس کررہے تھے۔ ” وہ فوراّسے پيشتر علی کو وہاں سے لے کر ہٹ گيا تھا۔
غازان کے والد بہت امير بزنس مين تھے اس کے باوجود غازان ميں کسی قسم کا غرور نہيں تھا۔ وہ تين بہن بھائ تھے۔ غازان سے دو سال چھوٹا رومان اور اس سے سال چھوٹی منا۔ بھائيوں کی آپس ميں بے حد دوستی تھی۔ يک جان دوقالب تھے۔ غازان شروع سے بے حد لائق اسٹوڈنٹس ميں شمار ہوتا تھا اور يونيورسٹی ميں بھی اسکالر شپ کی بنياد پر پڑھ رہا تھا۔ اپنی گاڑی ہونے کے باوجود وہ يونيورسٹی پوائنٹ سے آتا جاتا تھا۔ جب کبھی سکندر صاحب اسے ٹوکتے تھے تو وہ ہميشہ کہتا تھا۔
“ڈيڈی مجھے سيلف ميڈ لوگ پسند ہيں۔ ميں ايسے ہی لوگوں کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہوں۔ آپکی دی گئ آسائشات کو استعال کرکے آرام پسند زندگی نہيں گزارنا چاہتا۔ ميرے پاس تو فخر کرنے کے لئيے آپکا پيسہ ہےليکن کل کو ميری اولاد کے پاس فخر کرنے کے لئيے کيا ہوگا انکے دادا کی دولت؟نہيں ڈيڈی ميں چاہتا ہوں ميں اپنے زور بازو پر اتنا کماؤں کہ کل کو جيسے مجھے پيسہ خرچ کرتے پريشانی نہيں ہوتی ميری اولاد کو بھی نہ ہو۔بے شک آپکی دولت ميرے اور ميری اولاد کے لئيے بہت ہوگی مگر ميرک اس تعليم اور ذہانت کا کيا فائدہ کہ ميں تعليم حاصل کرنے کے بعد بھی آپکی جانب ديکھوں۔ مجھے خود اپنی راہيں ڈھونڈنے ديں۔ ميں چاہتا ہوں کہ ميں اپنے نام سے جاناجاؤں” سکندر صاحب کو ہميشہ اس پر فخر ہوتا تھا کہ ان کا بيٹا اتنی پرتعيش زندگی ہونے کے باوجود سہل پسند نہيں بنا بلکہ زندگی کی سختيوں کو جھيلنا چاہتا ہے۔ لہذاانہوں نے اسکے پيشن کو کبھی نہيں روکا تھا۔ اسے وہ سب کرنے ديا تھا جس کی اسے خواہش تھی۔
ليکن اپنی اتنی ٹف لائف اور اتنے بہت سے امبيشنز ميں اس نے محبت جيسے جذبے کا کبھی سوچا ہی نہيں تھا يا پھر کبھی ٹائم نہيں ملا تھا يا پھر کوئ ايسا ٹکرايا نہيں تھا جس سے محبت ہوتی۔
اور جب ہونی تھی تب يوں پہلی نظر کی ہونی تھی وہ يہ بات کبھی سوچ بھی نہيں سکتا تھا۔
اب تو کيوپڈ کا تير لگ چکا تھا مگر وہ فی الحال اپنے اس راز ميں کسی کو شريک نہيں کرنا چاہتا تھا۔ ابھی تو وہ خود حيران تھا کہ اس کے ساتھ يہ ہوا کيا ہے؟
___________________
“تم کتنے پاگل ہو غازان کيوں پراۓ پھڈے ميں پڑتے ہو۔” رومان اچھا خاصا جھنجھلايا ہوا تھا۔ وہ بھی اسی يونيورسٹی سے بی ايس کررہا تھا جہاں غازان پڑھتا تھا۔
تھوڑی دير پہلے ہی علی اس کے ڈيپارٹمنٹ گيا يہ بتانے کے لئيے کہ غازان کا کچھ لڑکوں سے بہت زبردست جھگڑا ہوا ہے اور غازان کسی طرح قابو نہيں آرہا وہ لڑکے تو اس مار کر اور کچھ مار کھا کر چلے گۓ ہيں ليکن غازان ان سے بدلہ لينے کا سوچے بيٹھا ہے۔
غلی کے بتانے پر رومان کو پتہ چلا کہ ان کے ڈيپارٹمنٹ کا ايک بگڑا ہوا رئيس زادہ رستم جس کا باپ بہت بڑا سياستدان بھی ہے اس نے گاؤں سے آۓ ايک معصوم سے لڑکے کو صرف اس بات پر پيٹا کہ اپنی بائيک نکالتے ہوۓ اس لڑکے سے رستم کی گاڑی پر ہلکا سا سکريچ لگ گيا۔ شومئ قسمت غازان ،علی اور ايک دو اور کلاس فيلوز کے ساتھ وہيں کھڑا ہوا تھا۔ غازان معاملے ميں کود پڑا اور نہ صرف رستم بلکہ اسکے جگری دوست وسيم اور ايک دو اور بندوں کو بہت بری طرح پيٹا ہے۔
اب رومان اس پر برس رہا تھا۔
“تو کيا ميں ايک معصوم انسان کو يوں پٹتے ہوۓ ديکھتا” پھٹے ہونٹ سے رسنے والے خون کو صاف کرتے ہوۓ وہ ترچھی نظر اس پر ڈال کر بولا۔
“ميں نے يہ نہيں کہا مگر تم وہاں کسی ٹيچر کو بلا سکتے تھے۔ بجاۓ يہ کہ تم يہ سب اپنے ہاتھ ميں ليتے” رومان نے اب کی بار رسان سے اسے سمجھايا۔
“ہاں اور ميرے آنے تک جيسے وہ اس لڑکے کو پھولوں کے ہار پہناتا۔”
“اور اب گھر جاکر کيا بتاؤ گے۔ اگر يہ معاملہ ڈين تک پہنچ گيا تو انہوں نے سيدھی ڈيڈی کو کال کردينی ہے۔ غازان يہاں لوگ اتنا اچھے بننے والوں کو جينے نہيں ديتے۔ کبھی کبھی نہ چاہتے ہوۓ بھی اپنے اردگرد ہونے والی زيادتيوں سے منہ موڑنا پڑتا ہے نہيں تو ان رستم جيسے اوباش لوگ ہمارا جينا دوبھر کرديں گے۔ نجانے کتنے غنڈوں کو ساتھ ان کی دوستياں ہوتی ہيں۔ ميں اور تم ايسے لوگوں کا مقابلہ نہيں کرسکتے۔” رومان نے اسے حقيقت دکھانی چاہی۔
“موت جب آنی ہے تب آکر رہے گی۔ اب ان جيسوں سے ڈر کر ميں غلط بات کو غلط نہ کہوں تو پھر ميں موت سے پہلے ہی اپنے ضمير کے سامنے مرجاؤں گا اور ايسی موت دائمی موت سے کہيں زيادہ تکليف دہ ہوتی ہے۔” ہميشہ کی طرح اپنی دليلوں سے اس نے رومان کو خاموش کرواديا۔
_______________________
اگلے دن وہی ہوا جس کا رومان کو ڈر تھا۔ رستم اپنے باپ کو لے کر ڈين کے آفس پہنچا۔ سکندر صاحب کو کال کی گئ تب تک غازان کو بھی آفس ميں طلب کر ليا گيا تھا۔ سکندر صاحب کے آتے ہی سارا معاملہ پيش کيا گيا جس ميں جھوٹ کی آميزش تھی۔
بقول رستم کے اس نے بائيک والے لڑکے کو صرف غصے ميں کہا تھا کہ تم نے اسکريچ کيوں ڈالا اس پر غازان بھيچ ميں کود پڑا اور رستم کو سخت سنانے لگا ساتھ ہی گالی گلوچ کی جب رستم نے اسے يہ سب کرنے سے منع کيا تو وہ ہاتھا پائ پر اتر آيا۔ اسکے ساتھ ہی رستم نے کچھ لڑکوں حتی کے وہاں کے گارڈ کو بھی ثبوت کے طور پر پيش کيا۔
غازان ششدر يہ سب بکواس سن رہا تھا۔
“يہ سب جھوٹ ہے” وہ غصے سے بولا۔
“ايک شخص جھوٹ بول سکتا ہے دو مگر دس لوگ جھوٹ نہيں بول سکتے۔ غازان آپ بہت اچھے اسٹوڈنٹ ہو اور ميں بالکل نہيں چاہتا آپ ان سب چیزوں ميں انوالو ہو۔ آپکے ريکارڈ کو ديکھتے ہوۓ ہی ميں آپکو وارننگ دے رہاہوں کہ نيکسٹ ٹائم ايسا کچھ نہ ہو۔” ڈين نے اسے رسان سے سمجھايا۔
سکندر صاحب تو کسی سے نظريں بھی نہيں ملا پارہے تھے۔
“سر آئندہ آپکو شکايت کا موقع نہيں ملے گا۔” انہوں نے قہر بھری نگاہ غازان پر ڈال کر ڈين سے معذرت کی اور اسے لئيے باہر نکل آۓ۔
“اس سب بکواس کے لئيے ميں نے تمہيں اتنا پڑھايا لکھايا ہے کہ تم يونيورسٹی ميں جاکر غنڈہ گردی کرو” سارا راستہ گاڑی ميں وہ خاموش رہے تھے۔ گھر آتے ہی وہ برس پڑے۔ شفق کے پوچھنے پر سب قصہ بتايا۔
“ڈيڈی آپ يقين کريں وہ سب جھوٹ کہہ رہے تھے۔ وہ اسے مار رہے تھے تب۔۔۔”
“ہاں تب تم خدائ فوجدار بن کر کود پڑے کہ آؤ ميرے ساتھ مقابلہ کرو۔ ان کا جو بھی مسئلہ تھا۔ ميں آئندہ تمہيں اسطری کی ايکٹيوٹيز ميں انوالو نہ ديکھوں۔ وہاں کی انتظاميہ کافی ہے ايسے مسئلے نمبٹانے کے لئيے ليکن تمہيں ميری آخری وارننگ ہے اور لاسٹ چانس بھی آئندہ ايسی کوئ خبر ملی ميں نے تمہيں يونيورسٹی سے اٹھا لينا ہے۔ مجھ ميں ہمت نہيں کہ روز روز ميں تمہاری بے وقوفيوں کے باعث لوگوں کے سامنے کٹہروں ميں کھڑا ہوں۔ تم لوگوں کو پال پوس کر اسی لئيے بڑا نہيں کيا تھا۔اور اگر معاشرے کی ناہموارياں برداشت نہيں کرسکتے تو گھر بيٹھو۔ يہاں جگہ جگہ ايسے جھوٹے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ کس کس کا مقابلہ کروگے” اپنی بات کہہ کر وہ رکے نہيں۔ اپنے کمرےکی جانب بڑھ گۓ۔ جبکہ وہ لاؤنج ميں شفق کے سامنے والے صوفے پر جبڑے بھينچے بيٹھا کارپٹ پر کسی غير مرئ نقطے کو ديکھ رہا تھا۔
“غازان ميرے بچے دفع کرو ايسے گھٹيا لوگوں کو۔ بس آئندہ اس سب کی نوبت نہ آنے دينا۔ بيٹا مجھ ميں اولاد کا کوئ دکھ اٹھانے کی ہمت نہيں” ان کی بات پر اس نے اپنی ويران آنکھوں کو اٹھا کر انہيں ديکھا۔
“ماں اپنے ہميشہ سچ بولنے اور صحيح کو صحيح اور غلط کو غلط کہنے کا سبق سکھايا ہے اب آپ سب مجھ سے يہ چاہتے ہيں کہ ميں يکدم اپنی سرشت بدل دوں”
“اف غازان ميں کيا کروں تمہارا۔ بيٹا بہت سی جگہوں پر مصلحت سے کام لينا پڑتا ہے” انہوں نے عاجز آکر کہا۔
“مصلحت سے يا پھر جان بوجھ کر آنکھيں بند کرلينے سے۔” اس نے پھر سے دليل دی۔
“اپنی يہ دليليں اپنے پاس رکھو ميں ناک کے ذريعے ساری ذہانت نکال دوں گا۔ سمجھ ہی نہيں آتی لاڈلے کو” سکندر صاحب جو آفس جانے کے لئيے کمرے سے نکلے تھے اسے اپنی بات پر ڈٹہ ديکھ کر غصے سے بولتے باہر کی جانب چل دئيے۔
غازان کی خاموش نظروں نے ان کا تعاقب کيا۔
