Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 18)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 18)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
وہ حق دق شفق کا چہرہ ديکھ رہی تھی۔ فروا اور منا اسے لپٹاۓ پيار کررہی تھيں۔
اس نے حيران نظروں سے رومان کو ديکھا۔ جو چہرے پر اطمينان بھری مسکراہٹ لئے اسے شفق کی بات کے سچ ہونے کا جيسے يقين دلا رہا تھا۔
اسکے کانوں ميں کچھ دير پہلے کے غازان کے الفاظ گونجے۔ “ہوسکتا ہے آج قسمت آپکے لئے وہ بہترين فيصلہ کرے اور بہت سی خوشياں آپکی منتظر ہوں۔ انہيں تھامنے ميں دير نہ کرنا”
تو کيا وہ ان خوشيوں کی بات کررہا تھا۔
بمشکل وہ خود کو اس ماحول ميں واپس لائ۔
شفق نے اسے اپنے قريب بٹھا ليا۔
سب کے چہروں پر خوشی اور اطمينان تھا۔
اس نے تو کبھی سوچا ہی نہيں تھا کہ غازان يوں واپس آکر کبھی اسکی زندگی کا ہمسفر بنے گا۔
وہ حيران کيوں نہ ہوتی۔
“بس سميعہ مجھے جواب ہاں ميں ہی چاہئيے” شفق بہت مان سے سميعہ سے گويا ہوئيں۔
فريد صاحب بھی وہيں موجود تھے۔
“بھائ صاحب بس مجھے شادی کی ڈيٹ لے کر اٹھنا ہے۔” اب کی بار انہوں نے فريد صاحب کو مخاطب کيا۔
“بہن انکار کی تو گنجائش ہی نہيں۔ سمجھيں يہ آج سے آپکی امانت ہے” فريد صاحب نے محبت سے ابيشہ کو ديکھا۔
جو ابھی بھی خاموش تھی۔
“بہت شکريہ بھائ صاحب” وہ تشکر آميز لہجے ميں بوليں۔ سب خوش گپيوں ميں مصروف تھے مگر ابيشہ کچھ بے چين نظر آرہی تھی۔
تھوڑی ہی دير بعد سب کی اجازت لے کر وہ باہر گئ۔
کچھ دير بعد واپس ڈرائنگ روم ميں آئ۔
“رومان ميری بات سننا” رومان سے مخاطب ہوتی وہ پھر سے ڈرائنگ روم سے باہر جاچکی تھی۔
رومان کو اپنی شامت نظر آنے لگی۔
ايکسکيوز کرتا وہ ابيشہ کے پيچھے باہر لپکا۔
ڈرائنگ روم سے نکل کر باہر آتے ہی لاؤنج ميں وہ خطرناک تيور لئے رومان کو گھورنے ميں مصروف تھی۔ جس کی شکل پر دنيا جہان کی مسکينيت اتر آئ تھی۔
“کيسی ہيں بھابھی؟” جب کچھ دير اور وہ اسے کچا چبانے والی نظروں سے ديکھتی رہی تب رومان نے معصوم شکل بنا کر پوچھا۔
“منہ نہ توڑ دوں تمہارا جس منہ سے مجھے بھابھی کہہ رہے ہو” ابيشہ کے ارادوں پر وہ بس جز بز ہوکر رہ گيا۔
“کتنا گھٹيا مذاق کيا تھا تم نے رات کو” ايک زور دار دھپ اسکے کندھے پر لگائ۔ جس کے لئے وہ بالکل بھی تيار نہيں تھا۔
“اف کس قدر بھاری ہاتھ ہے تمہارا۔ ہاں بھئ رستم جيسے گينڈے کو جو قابو کرلے وہ تو بڑی توپ چيز ہی ہوسکتا ہے۔ معذرت کل کے مذاق ميں بھول گيا تھا کہ مت نازک اندام حسينہ نہيں۔ بلکہ سلطانہ ڈاکو ٹائپ ہو” رومان کہاں باز آنے والا تھا۔
اب کے ابيشہ نے اسکا کان مروڑا۔
“ارے کيا کررہی ہو۔ کيا کبھی گورنمنٹ سکول کی استانی بھی رہ چکی ہو۔” وہ درد سے بلبلايا۔
“غازان کو بتاؤں تمہاری سب گھٹيا گفتگو۔ آج بھابھی اور کل اس قدر عاشقانہ گفتگو کی تھی” وہ اسے بخشنے کو تيار نہ تھی۔ اور بخشتی بھی کيوں۔ کس قدر ٹينشن ميں رہی تھی کل سے اب تک۔
“يار ميں نے صرف تمہيں اپنے گھر کی زينت بنانے کو کہا تھا اور وہ اپنے حوالے سے نہيں غازان کی حوالے سے اور يقين پوچھوں تمہيں کبھی بہن مانا ہی نہيں ہميشہ بھابھی ہی سوچا۔ تو کيسے اپنی بھابھی کو کسی اور کا ہونے ديتا۔ ميری غيرت يہ گوارا کبھی نہ کرتی۔ تم سے اتنا مضبوط تعلق نہ جوڑتا تو کبھی کسی کو اپنی بھابھی کے روپ ميں قبول نہ کرتا” اپنا کان چھڑا کر سيدھا کھڑے ہوتے وہ جس قدر سچائ سے بولا ابيشہ کو اسکی محبت ميں کوئ کھوٹ کوئ شک نظر ہی نہيں آيا۔
مسکرا کر اسکی محبت کو ديکھا۔
“پتہ ہے ابيشہ زندگی ميں سچے لوگ بہت کم ملتے ہيں۔ اور تمہاری غازان کے لئے سچائ مجھے خود بخود تمہاری جانب کھينچتی چلی گئ۔ تمہاری بے غرض محبت اس دنيا کے کسی شخص کو کبھی سمجھ نہيں آسکتی۔ ميں جانتا ہوں تم نے کبھی اسکی زندگی ميں کسی رشتے کے حوالے سے آنے کی خواہش نہيں کی۔ مگر ميں يہ بھی جانتا ہوں کہ تم جيسی بے لوث محبت اسے کوئ نہيں دے سکتا۔ ہاں ميں خود غرض ہوکر تمہارے رشتوں ميں رخنے ڈالتا رہا کيونکہ مجھے علم تھا تم اور غازان کبھی کسی دوسرے کے ساتھ خوش نہيں رہ پاؤ گے۔ شايد خوش رہ بھی ليتے مگر وہ خوشی جو روح سے جڑی ہوتی ہے وہ کبھی تم دونوں کا نہ مل پاتی اور ايسی خوشی کے بغير ہر رشتہ ضرورت اور وقت کا ہوتا ہے۔ ايسے رشتے دير پا نہيں ہوتے۔ تم دونوں تو اپنی بے وقوفی سے کبھی ايک دوسرے کے قريب نہ آتے مگر سب جانتے بوجھتے ميں تم دونوں کی اس بے وقوفی ميں تم دونوں کا ساتھ نہيں دينا چاہتا تھا۔بس اسی لئے ميں نے يہ سب کيا۔اور کل رات وال مذاق اسی لئے کيا کہ ميں چاہتا تھا کہ تم اپنے منہ سے کہو کہ رومان اپنے بھائ کی محبت پر ڈاکہ ڈالتے شرم نہيں آتی مگر افسوس بھول گيا تھا تم جيسے لوگ اپنے اندر کے حال کو کبھی دوسروں پر آشکار نہيں کرتے۔ اسی لئے آج تمہاری پريشانی دور کرنے آگيا۔ اور ويسے بھی بھابھی سے مذاق نہيں کروں گا تو کس سے کروں گا۔ بيوی سے مذاق کرو تو جوتوں سے تواضع ہوتی ہے۔” رومان کی سنجيدہ گفتگو سے يکدم مسخرے پن کی جانب يو ٹرن لينے پر ابيشہ اپنی بے ساختہ ہنسی نہ روک سکی۔
“ابھی فروا کو بتاتی ہوں” وہ اسے چڑاتے ہوۓ اندر کی جانب بڑھی پھر رک کر پيچھے مڑ کر اسے ديکھا۔
“تھينکس رومان” دوستی واقعی ايک انمول رشتہ ہے۔ اس نے دل ميں سوچا۔
“بس کر پگلی رلاۓ گی کيا” وہ مصنوعی آنسو صاف کرتے ہوۓ بولا۔
___________________
رات ميں وہ ٹيرس پر چہل قدمی کرتی قسمت کے ہير پھير کو سوچے جارہی تھی۔
کل رات وہ سوچ بھی نہيں سکتی تھی کہ اسکی زندگی يوں اچانک آج بدل جاۓ گی۔
ٹھيک پندرہ دن بعد انکی شادی کی ڈيٹ فکس ہوئ تھی۔
غازان نے آج کی ملاقات ميں بھی ايسا کوئ اشارہ نہيں ديا تھا کہ يہ سب اسکی ايما پر ہوا ہے۔ نجانے وہ اسکے بارے ميں کيا سوچتا ہوگا۔
ابھی وہ غازان کے بارے ميں ہی سوچ رہی تھی کہ اس کا موبائل بج اٹھا۔
اندر کمرے کی جانب بڑھی۔ بيڈ کے سائيڈ ٹيبل پر رکھا موبائل اٹھايا۔ کسی انجان نمبر سے کال آرہی تھی۔
وہ سوچ ميں پڑی اٹھاۓ کہ نہيں۔
پھر کچھ سوچ کر اٹھا ہی ليا۔
“ہيلو”
“اسلام عليکم” دوسری جانب سے آنے والی گھمبير آواز کو وہ ہزاروں کيا لاکھوں اور کروڑوں آوازوں ميں بھی پہچان سکتی تھی۔
“وعليکم سلام” رکی سانس بحال کرتے وہ دھيرے سے بولی۔
“کيسی ہيں” مخصوص نرم لہجے ميں پوچھا گيا۔
“ٹھيک” وہ جھجھک کر بولی۔
“آپ خوش ہيں” وہ جان گئ وہ کس بارے ميں پوچھ رہا ہے۔
“پتہ نہيں ابھی تو صرف حيران ہوں” ہميشہ کی طرح اپنے دل کی بات اسے بتانے لگی۔
“مطلب آپکو يہ فيصلہ ناگوار نہيں لگا” وہ اپنی تسلی چاہتا تھا۔
“آپ سے جڑنے والا کوئ بھی تعلق کبھی بھی ناگوار نہيں لگا” وہ صاف گو ہميشہ سے تھی آج بھی جھوٹ کا سہارا نہيں ليا۔
“کيا يہ حيرانگی شادی کے دن تک رہےگی” اب دوسری جانب آواز ميں شرارت گھلی۔
“ابھی تو ايک رات نہيں گزری فيصلہ ہوۓ آپ اتنی آگے تک کی باتيں پوچھ رہے ہيں” وہ ہولے سے مسکرائ۔
“تو پھر آپ نارمل کب ہوں گی؟”
“ميں ابنارمل تو کبھی نہيں تھی” وہ اچھنبے سے بولی۔
“مگر کسی کو ابنارمل بنا ديا” اسکی آواز کی گھمبيرتا نے چند لمحوں کے لئے اسے چپ لگائ۔
“آپ کيا گھر ميں سب کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہے ہيں۔ يا پھر انہيں پہچاننے سے انکار کر ديا ہے۔ خوامخواہ مجھ غريب پر الزام لگا رہے ہيں” اپنی گھبراہٹ چھپانے کی خاطر وہ جان بوجھ کر اسکی بات مذاق ميں اڑانے لگی۔ دوسری جانب جان دار قہقہہ گونجا۔
“ابنارميلٹی صرف لوگوں کو نقصان پہنچانے ميں نہيں ہوتی۔ اس ابنارميلٹی کا تعلق اپنی ذات تک کو بھلا دينے سے ہوتا ہے اور آپکے معاملے ميں ميں ہميشہ خود کو بھی فراموش کرجاتا ہوں” ابيشہ کو اسے پٹری پر واپس لانا نہايت مشکل لگ رہا تھا۔
“اتنی رات کو اتنا فلسفہ ہضم نہيں ہورہا۔ صبح بات کريں گے۔ مجھے آفس بھی جانا ہے” وہ دامن بچانے لگی۔
کب سوچا تھا کہ غازان سے ايسا تعلق ہوگا اور اسکے تقاضے نبھانے ہوں گے۔
“سنا تھا آپ بہت بہادر ہيں۔ بڑے بڑے رستموں کا شکست دے ڈالی۔ مجھ جيسے بے ضرر شخص سے کيوں گھبرا رہی ہيں۔ جو کہ آپ سے ہے بھی بہت دور” غازان مسکراہٹ دبا کر بولا۔ پھر بھی اسکے لہجے کی شرارت وہ بآسانی محسوس کررہی تھی۔
“رستموں کو تو کوئ بھی ہرا ليتا ہے۔ يہاں مسئلہ فاتح اور مفتوح کا ہے اور مفتوح بننا کسی کو بھی گوارا نہيں ہوتا” غازان زوردار انداز ميں ہنسا يعنی وہ محبت کا اقرار کرنے سے انکاری تھی۔
“ميں نے تو کبھی چاہا ہی نہيں ميں فاتح بنوں۔ مجھے مفتوع بننا پسند ہے۔ بن لڑے آپ کو فاتح بنانے ميں مجھے بے حد خوشی ہوگی۔ خير ابھی آپ سوئيں اميد ہے شادی کے دن تک آپ اس تعلق پر حيران ہونے کی بجاۓ اسے دل و جان سے قبول کرليں گی۔ مجھے اپنی ہار کہ اعتراف آپکی آنکھوں ميں ديکھ کر کرنا ہے۔ اور اسکے لئے ميں پندرہ دن اور انتظار کرسکتا ہوں۔ اپنا خيال رکھنا۔” اسکے لہجے ميں صرف محبت تھی بے پناہ محبت۔
جو ابيشہ کو سرشار کرگئ۔
فون بند کرکے کمرے ميں اکر بيڈ پر ليٹنے تک وہ غازان کو سوچے جارہی تھی۔ اور اب بس اسی کو سوچنا تھا۔
___________________-
اور پھر آخر پندرہ دن بعد ڈل گولڈ لہنگے ميں دلہن کے روپ ميں پور پور سجی وہ غازان کے نکاح ميں آ چکی تھی۔
سب چہروں پر خوشی بکھری تھی۔ نتاشا اپنے شوہر کے ساتھ موجود تھی۔ زنيرہ جو آجکل ايک اين جی او چلا رہی تھی۔ وہ بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ موجود ابيشہ کی خوشيوں کے لئے دعا گو تھی۔ ہر دل ميں اسکے لئ صرف دعائيں تھيں۔
نکاح کے بعد جس لمحے اسے غازان کے ساتھ بٹھانے کے لئے اسٹيج پر لايا گيا۔ تب رومان نے دوست ہونے کا حق ادا کرتے فريد صاحب کے ساتھ اسپاٹ لائٹ ميں اسٹيج تک لانے ميں مدد کی۔
رومان اور فريد صاحب کا ہاتھ تھامے وہ ہر بڑھتے قدم کے ساتھ اپنی دھڑکنيں بھی بڑھتی ہوئ محسوس کررہی تھی۔
ان پندرہ دنوں ميں غازان نے اسے دوبارہ فون نہيں کيا تھا۔
ابيشہ زندگی ميں کبھی نہيں گھبرائ تھی اور غازان سے تو کبھی نہيں مگر آج اسکا سارا اعتماد کہيں جاسويا تھا۔
اسٹيج پر بليک سوٹ ميں ملبوس شہزادوں کی سےی آن بان ميں موجود غاوان کے ساتھ بيٹھنے تک وہ غائب دماغ تھی۔
سب کچھ خواب سا لگ رہا تھا۔
دس سالبعد پندرہ دنوں ميں اسکی زندگی يوں بدل جاۓ گی يہ تو اسکے وہم و گمان ميں بھی نہ تھا۔
غازان اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔ اسکی غائب دماغی اور گبھراہٹ محسوس کرگيا تھا۔
سب سے نظر بچا کر اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر گويا اسکا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی۔
“ايک بے ضرر سے عاشق سے گھبرا رہی ہيں۔ ميں تو اس لمحے کے انتظار ميں ہوں جب آپکے سامنے سر تسليم خم کروں۔ مجھے اس ابيشہ کی جھلک ديکھنی ہے جو ميرے لئے بڑے بڑے سورماؤں کے سامنے ڈٹ گئ۔” غازان کی آنکھوں سے پھوٹتی روشنی اور محبت کی جھلک ابيشہ کو پرسکون کرگئ۔
ہولے سے مسکرائ۔
کسی کی مسکراہٹ اتنی بھی جان ليوا ہوسکتی ہے غازان کو يہ آج معلوم ہوا تھا۔
دس سال پہلے بس ميں وہ اسکی آنکھوں کی نمی کے آگے دل ہار گيا تھا اور آج اس مسکراہٹ نے تو جيسے اسے سر سے پاؤں تک جکڑ ليا تھا۔
روح تو اسکی تھی ہی آج پورا وجود بھی ابيشہ کا ہوگيا تھا.
