Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 03)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 03)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
نہ غازان نے دوبارہ ابيشہ سے کانٹيکٹ کيا اور نہ ہی اس نے ہاں بس جب کبھی وہ آرٹيکل لکھتی اسے ميل کرکے ايک ٹيکسٹ کرديتی اور غازان تھينکس کے علاوہ کوئ اور بات نہ کرتا۔ اب وہ کسی اور کو يہ موقع نہيں دينا چاہتا تھا کہ اسکی خاموش محبت کو کوئ جان سکے۔
علی کو بھی ايسا ہی لگا کہ اسے کوئ دھوکا ہوا ہے۔ يہ تو وہی غازان ہے لڑکيوں سے مطلب کے علاوہ بات نہ کرنے والا۔
مگر غازان اپنی يہ اجنبيت والی کيفيت زيادہ دير برقرار نہ رکھ سکا۔ وہ اس سے انجان ہوتے ہوۓ بھی ہر لمحہ اس کی خبر گيری رکھتا تھا۔
ندا کی سالگرہ تھی اور اس نے اپنے بہت سے يونيورسٹی فيلوز کو انوائٹ کيا ہوا تھا جن ميں ابيشہ بھی تھی۔
“يار ميرے لئيے آنا بہت مشکل ہے پليز ميں تمہيں يہيں پر وش کرديتی ہوں” وہ لجاجت بھرے انداز ميں بولی۔
” تمہاری وجہ سے ميں نے رات کی جگہ شام ميں فنکشن رکھا ہے اور تم ہو کہ بس ٹھيک ہے ميں يہ فنکشن ہی کينسل کرديتی ہوں” وہ غصے ميں کہتی موبائل پر کسی کا نمبر ملانے لگی۔
“افوہ پاگل ہوگئ ہو کيا۔ اچھا ميں آجاؤں گی تم اب اپنا موڈ مت خراب کرو” ابيشہ اس کا ہاتھ تھام کر تيزی سے بولی۔
“يہ ہوئ نا بات ورشہ کو بھی لے آنا ڈراپ ميں تمہيں دے دوں گی۔ اسکی فکر مت کرو” اس نے جلدی سے پروگرام سيٹ کرديا۔ اب ابيشہ کے پاس انکار کی کوئ گنجائش نہيں تھی۔
“اچھا بابا” اسکی محبت پر وہ ہنستے ہوۓ بولی۔
“بيٹا دھيان سے جانا۔ آيت الکرسی پڑھتی رہنا” گھر سے نکلتے ہوۓ زبيدہ بيگم نے انہيں خاص تاکيد کی۔
اسکے ابو کے جاننے والا ايک ٹيکسی ڈرائيور تھا اس نے انہيں لے جانے کی ہامی بھر لی۔ راستے ميں سے ايک گفٹ شاپ پر ٹيکسی رکوا کر انہوں نے جلدی سے گفٹ ليا۔
يہ پہلی مرتبہ تھا کہ ابيشہ اتنے اہتمام سے کسی دوست کی برتھ پارٹی ميں جارہی تھی۔
جيسے ہی ٹيکسی ندا کے گھر کے سامنے رکی انکے بالکل سامنے ايک اور گاڑی بھی رکی۔
ابيشہ نے اترتے ہوۓ جونہی سامنے نظر کی وائٹ ٹی شرٹ اور بليو جينز ميں نک سک سے تيار غازان بکے تھامے نيچے اتر کر اپنی گاڑی کو لاک لگا رہا تھا۔
ابيشہ نے فوراّ نظريں پھيريں۔ اور ٹيکسی کا دروازہ بند کرکے ندا کے گھر کے گيٹ کی جانب بڑھی۔
غازان جيسے ہی سيدھا ہوا پاس سے گزرتی ہوئ ابيشہ پر نظر ٹھہر سی گئ۔
پنک اور اسکن کلر کے سادہ مگر خوبصورت سے فراک اور چوڈی دار پاجامے ميں سر پراسکارف لئيے دوپٹہ خوبصورتی سے آگے پھيلاۓ اسکن کلر کی لپ اسٹک لگاۓ وہ سيدھا اسکے دل ميں اتر رہی تھی۔ ورشہ غازان کو ديکھ کرنہ صرف رکی تھی بلکہ ساتھ چلتی ابيشہ کا بھی بازو پکڑ کے روک ليا تھا۔
“اسلام عليکم کيسے ہيں غازان بھائ” ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ وہ غازان کی جانب متوجہ تھی۔
“وعليکم کيسی ہو لٹل سس” غازان نے بھی مسکراتے ہوۓ جواب ديا۔
“الحمداللہ” ابيشہ نے حيرت سے بہن اور غازان کو ديکھا وہ دونوں ايسے بات کررہے تھے جيسے برسوں سے ايک دوسرے کو جانتے ہو ں۔ ابيشہ نے اپنی حيرت پر قابو پاکر غازان کو سلام کيا۔
جس کی آنکھوں ميں ايک نيا ہی جہاں بسا تھا۔
“وعليکم سلام کيسی ہيں آپ” مدہم مگر گھمبير لہجہ ابيشہ کو گھبراہٹ ميں مبتلا کرگيا۔
“جی ٹھيک” کہتے ساتھ ہی ورشہ کا ہاتھ تھامے وہ اندر کی جانب بڑھ گئ۔
غازان ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گيا۔
پھر خاموشی سے قدم اندر کی جانب بڑھاۓ۔
“تم کب سے غازان کو جانتی ہو” اس نے اندر آتے ہی بہن سے مدہم آواز ميں استفسار کيا۔
“انہيں کون نہيں جانتا” اس نے ايسے کہا جيسے بہن کی ياداشت پر ماتم کررہی ہو۔
“افوہ مگر وہ اس طرح کسی لڑکی سے بے تکلف نہيں ہوتا” اس نے گھور کر بہن کو ديکھا۔
“ہاں مگر ان سے بے تکلف نہيں ہوتے جو چپکو قسم کی لڑکياں ہيں۔ ميں ان جيسی نہيں ہوں۔ کچھ دن پہلے ميرا موبائل کيفے ميں رہ گيا تھا۔ غازان بھائ وہيں موجود تھے۔ انہوں نے ٹيبل سے اٹھا کر پھر مجھے ٹريس کيا اور ميرا موبائل باحفاظت مجھ تک پہنچايا۔ بس اس دن کے بعد سے سلام دعا ہوگئ تھی۔” اس نے تفصيل سے بتايا۔
غازان جو ان سے تھوڑے فاصلے پر چلتا اندر آرہا تھا بآسانی انکی گفتگو سن رہا تھا۔
ابيشہ کے تفتيشی انداز پر زيرلب مسکرايا۔
“اوکے” اسے تھوڑی تسلی ہوئ۔
باتيں کرتی وہ رہائشی حصے کی جانب آئيں جہاں ندا کھڑی ان کا انتظار کررہی تھی۔
“شکر تم آگئيں” ابھی وہ آپس ميں مل ہی رہیں تھيں کہ غازان انکے قريب پہنچ گيا۔
“ہيپی برتھ ڈے” غازان نے بکے ندا کی جانب بڑھاتے ہوۓ وش کيا۔
“تھينکس شکر ہے ميرک برتھ ڈے کے بہانے ہی سہی تم آۓ تو” غازان کو ديکھ کر وہ جان نچھاور کرنے والی مسکراہٹ ہونٹوں پر لئيے بولی۔
“خير اب ايسی بھی بات نہيں انکل سے ملنے تو ميں آہی جاتا ہوں” غازان نے اپنے لہجے کو سرسری رکھا۔
“ہاں مگر ہم سے ملنے نہيں آتے” ندا نے بڑے ناز سے نخرا کيا۔ ابيشہ کو اس کا انداز بہت عجيب لگا۔
“انکل کہاں ہيں” غازان نے کوئ جواب دينے کی بجاۓ اسکے والد کے بارے ميں پوچھا۔
نظريں ندا کی بجاۓ ادھر ادھر تھيں جيسے اسے اگنور کررہا ہو۔
“ادھر ہی ہيں اندر تو آؤ” ندا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا جسے کمال مہارت سے غازان نے ہٹايا
ابيشہ ندا کے يہ انداز ديکھ کر حيران ہورہی تھی۔ وہ لڑکوں کے ساتھ بے تکلف تو تھی مگر غازان کے ساتھ کچھ زيادہ اوور ہو رہی تھی۔
“آپکی فرينڈ کچھ چھچھوری نہيں ہے” ورشہ اسکے کان ميں ہولے سے بولی۔
“ہشش۔۔۔بری بات” ابيشہ نے اسے ٹوکا۔
“ميں نے تو سچ بتايا ہے”
“يہ لوگ فيملی فرينڈز ہيں”
“صرف وہی فيملی فرينڈ لگ رہی ہے۔ غازان بھائ تو بے زار نظر آرہے تھے” ورشہ نے جيسے اسکی تصيح کی۔
“ابھی خود ہی تو کہہ رہی تھيں کہ وہ چپکو لڑکيوں کو پسند نہيں کرتے” ابيشہ نے مسکراہٹ دبا کر شرارت سے کہا۔
“يعنی آپ مان گئيں ہيں کہ آپکی فرينڈ چھچھوری ہے” ورشہ نے جوش سے کہا۔
“آہستہ” وہ دونوں اسکے لان ميں موجود کرسيوں پر بيٹھی باتيں کررہی تھيں۔ جہاں اور مہمان بھی تھے۔
برتھ ڈے کا سارا ارينجمنٹ وہيں کيا گيا تھا۔
کچھ ہی دير بعد بہت سے لوگوں کے ہجوم ميں ندا نے کيک کاٹا۔ ان کی يونيورسٹی کے بہت سے لڑکے لڑکياں وہاں موجود تھے۔ غازان کا دوست علی بھی موجود تھا۔
ندا نے ابيشہ کو خاص طور سے اپنی ممی سے ملوايا۔
“تمہاری بہت تعريفيں کرتی ہے” اسکی ممی نے ساڑھی کا پلو سنبھالتے بڑے ناز سے کہا۔
“بس اسکی محبت ہے” ابيشہ نے بھی مسکرا کر کہا۔
“اس کو شروع سے شوق ہے اپنے سے کم معيار کے لوگوں سے دوستی کرنے کا۔” انکی بات پر ابيشہ کچھ دير کے لئيے سکتے ميں آگئ۔
“ممی” ندا نے انہيں تنبيہہ کی۔
“ہاں کيا ہوا۔۔۔ميں نے کون سی ايسی بات کہہ دی۔ بھئ يہی تو اس بچی کی کوالٹی ہے کہ اتنے لوئر مڈل کلاس طبقے ميں رہتے ہوۓ بھی اتنی ايڈوانس يونيورسٹی ميں اپنے بل بوتے پر پڑھ رہی ہے۔ ميں نے تو تعريف کی ہے۔” انہيں احساس ہی نہيں تھا کہ اپنے الفاظ سے وہ کسی کو بہت بری طرح کچوکے لگا رہی ہيں۔
ان سے کچھ فاصلے پر کھڑے غازان کی نگاہ اچانک ہی ان پر پڑی۔ ابيشہ کا زرد ہوتا چہرہ اس کی نظروں سے اوجھل نہيں رہ سکا۔
وہ اپنی بات کہہ کر اب منظر سے ہٹ چکی تھيں۔ مگر ابيشہ کی عزت نفس کو بہت بری طرح کچل گئيں تھيں۔
ندا خود سمجھنے سے قاصر تھی کہ اسکی ماں نے ايسے کيوں کيا۔
“آئم رئیلی سوری يار۔۔پتہ نہيں ممی کو کيا ہوگيا ہے” ندا خفت زدہ اس سے معافی مانگ رہی تھی۔
“کوئ بات نہيں يار سچ ہی کہا ہے انہوں نے تم پليز ہمارے واپس جانے کا کچھ کروا دو۔ يا اپنے گارڈ سے کہہ کر يہيں کوئ ٹيکسی منگوا دو ہميں اب جانا چاہئيے” ابيشہ اس سے نظريں ملاۓ بنا بہت دقت سے بولی۔
“يار تم ممی کی وجہ سے جلدی جارہی ہو نا۔ ميں تمہيں سوری کرتی ہوں۔ پليز ايسے مت کرو” ندا کی شرمندگی ختم ہونے کا نام نہيں لے رہی تھی۔
“نہيں يار ايسی کوئ بات نہيں کافی ليٹ ہوگيا ہے اب بس اسی لئيے کہہ رہی ہوں” ابيشہ نے خود کو کمپوز کرتے ہوۓ بدقت ہلکا سا مسکرا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“اچھا ٹھہرو” ندا اسے رکنے کا کہہ کر تيزی سے ايک جانب بڑھی۔ ورشہ کو اپنی کوئ سہيلی مل گئ تھی وہ اس سے باتوں ميں مصروف تھی۔
“چلو بھئ غازان تمہيں چھوڑ آۓ گا” ندا کی آواز پر وہ جو ورشہ کو اپنی جانب آنے کا اشارہ کررہی تھی حيرت سے مڑی۔
غازان بھی ساتھ ہی کھڑا تھا۔
“يار تم کوئ ٹيکسی ارينج کروا دو۔” ابيشہ غازان سے نظريں چراتے ندا کو ديکھ کر بولی۔
غازان نے بھنويں اچکائيں۔
“زيادہ اجنبی سے بہتر ہے کم اجنبی پر اعتبار کرليا جاۓ۔ ورشہ آپ چلو گی ميرے ساتھ؟” غازان نے کچھ جتاتی نظر ابيشہ پر ڈال کر پاس کھڑی ورشہ سے پوچھا۔
“جی” اس نے سر ہلا کر کہا۔
“جسے ٹيکسی پر جانے کا شوق ہے وہ اسی پر جاۓ چلو” غازان مڑ کر پورچ کی جانب چل پڑا۔
“يار اس طرح کسی کو زحمت دينا اچھا نہيں لگ رہا” ابيشہ نے بات بنائ۔ ندا کو بے بسی سے ديکھتے ہوۓ بولی۔
“يار ميں نے کہا تھا نا کہ تمہاری واپسی کا ميں ارينج کردوں گی۔ بس تم باقی باتيں چھوڑو اور خاموشی سے جاؤ۔ وہ اتنا اچھا نہيں کہ زبردستی کوئ کام کرے۔ اسکی جس کام ميں مرضی نہيں ہوتی وہ سو بار بھی نہ ہی کہتا ہے۔ ميرے ايک مرتبہ کہنے پر مان گيا۔ يہی غنيمت جانو” ندا اسے سمجھاتے ہوۓ بولی۔
“چلو نہ يار اب” ورشہ اسے زبردستی ہاتھ تھام کر پورچ کی جانب لے گئ۔
جب تک وہ پہنچيں غازان گاڑی سٹارٹ کرچکا تھا۔ وہ دونوں خاموشی سے پيچھے بيٹھ گئيں۔
غازان کا موڈ آف تھا۔
“بھائ ندا سے آپکے فيملی ٹرمز ہيں؟” آخر کچھ دير بعد ورشہ نے گاڑی ميں موجود خاموشی کو توڑا۔
“جی ميرے اور ندا کے فادر فرينڈز ہيں۔” غازان نے مختصر جواب ديا۔
“آہاں نائس ليکن آپ ميں اور ندا ميں اتنی دوستی نہيں لگتی” ورشہ کی بات پر وہ زير لب مسکرايا۔
“مجھے ايسی بچھے جانے والی لڑکياں نہيں پسند” صاف گوئ سے کہتے اس نے ايک سرسری نگاہ بيک ويو مرر سے پيچھے بيٹھی ابيشہ کو ديکھا۔
“يہی ميں ابيشہ سے کہہ۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات پوری کرتی ابيشہ نے اسکے ہاتھ پر چٹکی کاٹی۔
غازان نے اسکی بات نامکمل رہ جانے پر بيک ويو مرر ميں دیکھا جہاں ابيشہ ورشہ کو گھوری ڈال رہی تھی۔
“يہ جو بڑے بہن بھائ ہوتے ہيں نا يہ کبھی کبھی اپنے بڑے ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر چھوٹوں کو سچ کہنے سے بھی روک ديتے ہيں” اپنی مسکراہٹ روکتے اس نے ابيشہ پر چوٹ کی۔
“ميں نے اسے نہيں روکا” يکدم وہ وضاحت دينے لگ گئ۔
“ميں نے آپکا تو کہا ہی نہيں۔” اسکی جتاتی نظريں ابيشہ کو خاموش کرنے کے لئيے کافی تھيں۔
اسکے بعد انکے درميان کوئ بات نہيں ہوئ مگر وہ ابيشہ کی الجھی نظريں بار بار خود پر محسوس کررہا تھا۔
وہ اس سے کھچا کھچا کيوں تھا وہ سمجھ نہيں پا رہی تھی۔
پھر يہ کہہ کر خود کو تسلی دی کہ ہوتا ہے تو ہوتا رہے وہ اس کے لئيے صرف ايک اجنبی ہی تو ہے۔ مگر دل کوئ تاويل نہيں سن رہا تھا۔
گھر پر اتار کر وہ فورا سے گاڑی آگے بڑھا لے گيا تھا۔
دروازہ سميعہ (ابيشہ اور ورشہ کی امی) نے کھولا۔
“اسلام عليکم” وہ دونوں اندر آتے ہوۓ انہيں سلام کرنے لگيں۔
“کس کے ساتھ آئ ہو؟” انہوں نے فکرمندی سے پوچھا۔
“ندا کا کوئ کزن تھا وہ چھوڑ کر گيا ہے” ابيشہ کبھی ماں سے جھوٹ نہيں بولتی تھی اور نہ ہی ورشہ لہذا سچائ سے بتاديا۔
“بيٹا بس آئندہ اس طرح کے فنکشنز سے احتياط برتنا” انہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ ميں انہيں منع کيا۔
“آپ فکر نہيں کريں آئندہ ايسا نہيں ہوگا” ابيشہ نے ماں کو تسلی دی۔
“چلو چل کر ليٹو اب” وہ انہيں کمرے کی جانب بھيجتیں خود بھی اپنے کمرے کی جانب چل پڑيں۔
کمرے ميں آکر کپڑے بدلنے کے بعد دونوں نے عشاء کی نماز پڑھی۔
ورشہ تو پڑھتے ساتھ ہی ليٹ گئ۔ جبکہ ابيشہ ليپ ٹاپ کھولے اپنا نيا آرٹيکل لکھنے ميں مصروف تھی۔
ابھی کام کرتے زياد دير نہيں گزری تھی کہ موبائل پر غازان کے ميسجز ديکھ کر وہ حيران ہوئ۔
“آپکو اس وقت ڈسٹرب کرنے پر معذرت مگر مجھے لگ رہا ہے کہ آپ خود بھی آج ڈسٹربڈ ہيں۔” اس کی بات پڑھ کر وہ سناٹے ميں چلی گئ۔ اس نے کيسے بھانپ ليا۔ وہ حيران تھی۔
“نہيں ايسا کچھ نہيں ہے” تھوڑی دير بعد اس نے ٹائپ کرکے ميسج بھيجا۔
“اگر مناسب سمجھيں تو کيا ميں آپکو اس وقت کال کرسکتا ہوں” اس نے نہايت مہذب انداز ميں اجازت لی۔
کچھ دير سوچنے کے بعد اس نے جی لکھ کر سينڈ کرديا۔
“آئم رئيلی سوری مگر مجھے آپ بہت پريشان لگيں۔ خاص طور سے جب آپ ندا کی مدر ذکيہ آنٹی سے مل رہی تھيں۔
انہوں نے کچھ کہا تو نہيں” ابيشہ اب بھی حيران تھی کہ وہ شخص اس کو اتنا آبزرو کيوں اور کس لئيے کررہ ہے۔
“پتہ نہيں مگر کچھ لوگ سمجھتے ہيں اقتدار اور طاقت پر صرف ہمارا ہی حق ہے۔ کيا دولت انسان کو اچھے برے اخلاق بالکل ہی بھلا ديتی ہے۔ ميں آپ لوگوں کے جتنی امير نہيں جبکہ آپ اور وہ لوگ ہم پلہ ہيں۔ کيا آپ بھی دولت مند ہونے کی وجہ سے مڈل کلاس کو حقير تصور کرتے ہيں۔ کيا انسانيت سب کچھ نہيں ہوتی۔ يا پھر لوگوں کے معيار کو ديکھنے کا پيمانہ ہی صرف دولت ہے۔” اسکے لہجے کی تلخی سے وہ جان گيا تھا کہ ذکيہ نے ابيشہ کا دل دکھايا ہے۔
“نہيں ايسا نہيں ہے۔ ان فيکٹ آپ کی بات غلط نہيں يہاں زيادہ تر تعداد ايسے ہی امراء کی ہے جو يہ سمجھتے ہيں کہ دولت پر صرف انہی کا حق ہے۔ حالانکہ يہ سراسر غلط اور فرسودہ سوچ ہے۔ دولت مند ہونا کمال نہيں اگر آپ نے کسی امير گھرانے ميں آنکھ کھولی ہے تو وہ اميری آپکا کمال نہيں ہے۔ ہاں اميری مل کر بھی خود کو جدوجہد کی جانب مائل کرنا اصل اميری ہے۔ يہ دولت تو آنی جانی ہوتی ہے۔جو باقی رہ جاتا ہے وہ آپ کا ہنر اور آپکی صلاحيتيں ہيں۔ ابيشہ ميں نے بہت سے دولت مندوں کو کنگال ہوتے ديکھا ہے اور بہت سے کنگالوں کو اپنی ذہانت کے بل بوتے پر امير ہوتے ديکھا ہے۔ آپ کو کوئ کچھ بھی کہے اپنی صلاحيتوں کو ايسے لوگوں کی تلخی کی نظر مت کريں۔ يہ وہ لوگ ہيں جو خود تو کچھ کرنے کے قابل نہيں ہوتے مگر اپنے الفاظ سے دوسروں کو گمراہ کرديتے ہيں تاکہ وہ اپنی منزل نہ پاسکيں اور کہيں کسی مقام پر وہ ان سے آگے نہ چلے جائيں۔
ابھی تو آغازہے۔ جب آپ عملی زندگی ميں داخل ہوں گی تب قدم قدم پر آپکے حوصلے پست کرنے والے لوگ ملتے ہيں۔ مگر آپ کی قابليت ہی يہی ہونی چاہئيے کہ آپ کسی کی باتوں سے اپنی منزل اور اپنے راستے سے نہ ہٹيں” دھيمے لہجے ميں اسے سمجھاتا وہ ابيشہ کو کوئ مسيحا ہی لگا۔وہ کيوں اسکے سامنے اپنے دل کی بات کرگئ وہ نہيں جانتی تھی۔
غازان نے اسے پوری بات بتانے پر اصرار نہيں کيا۔ پھر بھی ابيشہ کو لگا وہ سب جان گيا ہے۔
“تھينک يو سر” ابيشہ کے سر کہنے پر وہ چونکا پھر ہنسا۔
“سر؟”
“ہاں نا جو شخص آپکو اچھی بات سکھاۓ وہ استاد ہوتا ہے۔ اور آپ نے تو کافی مرتبہ مجھے بہت سی اچھی باتيں سکھائ ہيں تو آپ بھی تو ميرے استاد ہوۓ۔ سو ميں آپکو اب سے سر کہوں گی” مسکراہٹ ميں چھپا لہجہ سن کر غازان کے اندر تک سکون سرائيت کرگيا۔
“ويل۔۔۔يہ کوئ ضروری نہيں۔ مجھے اتنا معتبر مت بنائيں ميں اتنا اچھا ہر گز نہيں” مسکراہٹ دباتا وہ نفی ميں سر ہلاتا بولا۔
“خير آپ واقعی ايک اچھے انسان ہيں۔” ابيشہ نے صاف گوئ سے اسکی تعريف کی۔
“اچھا يہ بتائيں اب تو کوئ الجھن باقی نہيں۔ اور آپ کا نيکسٹ آرٹيکل کب ملے گا” وہ فورا بات پلٹ گيا۔
“بس ابھی وہی لکھ رہی تھی ليکن يکسوئ نہيں ہو پارہی تھی” وہ پھر سے سچ بات بتاگئ۔
“ميرا خيال ہے اب تو آپ کی يکسوئ واپس آجاۓ گی” وہ يقين سے کہنے لگا۔
“بالکل۔۔۔اور پھر سے”
“نو تھينکس” اسکی بات اچک کر غازان تيزی سے بولا۔
“اوکے سر” وہ بھی ہولے سے مسکرائ۔
“ناؤ گو بيک ٹو يور ورک۔ اللہ حافظ” فرشتہ بن کر وہ اس لمحے آيا اور اس کی پريشانی دور کرکے کوئ بھی فالتو بات کئيے بنا خاموشی سے چلا بھی گيا۔
فون بند کرکے وہ غازان کے بارے ميں ہی سوچے گئ۔ کتنا عجيب شخص تھا ہر بار اسکی مدد کرنے پہنچ جاتا تھا۔ اس کے کہے بغير ايسے جيسے اللہ نے واقعی اسے ابيشہ کے مسئلے حل کرنے کے لئيے بھيجا تھا۔ ابيشہ کو يہ سوچ کر عجيب بھی لگا اور کسی قدر اچھا بھی۔ اچھا کيوں يہ ابھی وہ سوچنا نہيں چاہتی تھی۔
______________________
کچھ تعلقات ايسے ہی بن جاتے ہيں۔ جن کے لئيے نہ تو انسان شعوری کوشش کرتا ہے اور نہ ہی کبھی گمان رکھتا ہے کہ کوئ شخص آپکی ذات کے لئیے زندگی کے موڑ پر کبھی اتنا خاص الخاص ہو جاۓ گا۔ مگر ايسا بے ضرر تعلق جس ميں نہ کسی کو پانے کی آس ہو اور نہ ہی کسی کو چھيننے کی ہوس۔ بس وہ تعلق يوں ہی پنپتا رہے بہت کم کسی کی زندگی ميں آتا ہے۔ غازان اور ابيشہ ميں بھی ايسا بے ضرر تعلق قائم ہوچکا تھا جس ميں بندھ کر وہ ايک دوسرے کے لئيے صرف اچھا کرنے کی نيت رکھتے تھے۔ ايسے تعلق بڑے خاص اور کبھی نہ بھولنے والے ہوتے ہيں۔
“اسلام عليکم اگر فری ہيں تو کيا کيفے ميں مل سکتی ہيں” وہ جو کچھ دير پہلے کلاس لے کر فارغ ہوئ تھی۔ اس وقت بلاک کے سامنے بنے گراؤنڈ ميں ندا کے ساتھ بيٹھی باتيں کررہی تھی۔
اپنے ڈپارٹمنٹ کے فرسٹ فلور پر موجود غازان اس لمحے اسی کو ديکھتے ہوۓ ميسج کررہا تھا۔
موبائل ہاتھ ميں تھامے غازان کا پيغام پڑھتے کچھ لمحوں کے لئيے وہ سوچ ميں پڑ گئ۔
“نہيں آپکو پتہ ہے کہ ميرے لئيے يہ ممکن نہيں” صاف گوئ سے اس نے منع کيا۔
“کيا يونی کے باہر۔ آپ سے ايک بہت ضروری بات کرنی ہے” غازان نے پھر سے اصرار کيا۔
اب کی بار ابيشہ کے ماتھے پر ناگواری کی شکن نمودار ہوئ۔ ندا کتاب پڑھنے ميں مصروف تھی اسی لئيے اسکے تاثرات کی جانب متوجہ نہيں تھی۔
“ميں ايسی لڑکی نہيں ہو سر” غصے ميں ميسج ٹائپ کيا۔
“آپ ايسی نہيں ہيں اسی لئيے آپ سے بات کررہا ہوں۔ ايسی ہوتيں تو آپ کے ايک بھی ميسج کا ريپلائ نہيں کرتا” وہ بھی غازان تھا ہر لمحہ محتاط انداز ميں قدم اٹھانے والا۔
کچھ سوچ کر يکدم سيڑھيوں کی جانب بڑھا۔
پانچ منٹ ہوگۓ مگر غازان کا کوئ اور ميسج نہيں آيا۔ اب اسے فکر لگی کہ کہيں وہ برا نہ مناگيا ہو۔
پھر ہاتھ ميں پکڑا موبائل ايک جانب رکھتے اپنی کتاب کی جانب متوجہ ہوئ۔ اسی لمحے ايک گھمبير آواز پاس گونجی۔
“اسلام عليکم۔۔۔کيسی ہو ندا” آواز پہچانتے ساتھ ہی ابيشہ نے سر جھٹکے سے اٹھايا۔
“وعليکم سلام۔۔۔۔بھئ تمہيں آج کہاں سے ميری یاد آگئ۔” وہ نہال ہوتے غازان کو ديکھ کر مسکراتے لہجے ميں بولی۔ جس کی مسکراتی نظريں ايک لمحےکو حيرت سے خود کو تکتی ابيشہ کی جانب اٹھيں۔
“بس ابيشہ کو ڈھونڈتا ہوا آيا تھا تو تم بھی نظر آگئ” اب کی بار غازان کی بات پر ابيشہ کا چہرہ فق ہوا۔
“کيسی ہيں آپ” اب اس کا رخ ابيشہ کی جانب تھی۔
“ٹھيک” غصے سے اسے گھورتے اس نے مختصر جواب ديا۔
“تم تو جانتی ہو نا پچھلے کچھ عرصے سے يہ ہمارے ميگزين کا حصہ بن چکی ہيں” غازان نے ندا کی جانب ديکھا۔
“ہاں بھئ اب تو يہ ميڈم پوپلر بھی ہوگئ ہيں” ندا نے اسے سراہا۔
“اصل ميں ايڈيٹر صاحب آپکو ياد کررہے تھے۔ کچھ کام آپکے سپرد کرنا تھا۔ بس مجھے آپکو بلانے کے لئيے دوڑا ديا۔ اگر آپ فری ہوں تو چليں” نہايت طريقے سے اس نے اپنا مدعا بيان کيا۔
“واؤ بھئ۔۔۔۔مجھے بھی اپنے شمارے ميں تھوڑی سی جگہ دے دو” ندا چيزيں سميٹتی ابيشہ کو ديکھ کر حسرت سے بولی۔
“آپ بھی اپنے ٹيلنٹ کا مظاہرہ کريں تو ہم تمہيں بھی کنسيڈر کرنے کو تيار ہيں۔” غازان نے مسکراتے ہوۓ اسے ديکھا۔
“اب ميں اسکے جتنی جينئيس کہاں” وہ ہاتھ اٹھا کر بولی۔
“اوکے پھر بات ہوگی” غازان اسکی جانب ہاتھ ہلا کر بولا۔ اور آفس کی جانب جانے والے راستے کی جانب قدم بڑھا دئيے۔ ابيشہ بھی اسکے ہمقدم ہوئ۔
“معذرت کے ساتھ ميں اب تک آپکو بہت معقول اور شريف انسان سمجھتی تھی۔ مگر آج کی حرکت کے بعد مجھے اپنے خيالات بدلنے پڑيں گے” تھوڑا سا آگے جاکر وہ رکی اور تاسف بھری نظروں نے چند لمحوں کے لئيے غازان کو ديکھا۔
اسکی بے اعتباری پر غازان کچھ دير کے لئيے اسکے تنے ہوۓ چہرے کو ديکھتا رہا۔
ابيشہ اسکی خاموش نظريں اپنے چہرے پر محسوس کررہی تھی۔ اسکی الجھن ميں اب اضافہ ہورہا تھا۔ انکی اب تک کی ملاقاتوں ميں غازان نے کبھی ايسا اميج نہيں ديا تھا کہ وہ اسکے بارے ميں کچھ برا سوچتی۔ وہ ہميشہ مہذب انداز ميں ملا تھا۔ پھر اب يوں ٹين ايجرز والی حرکتيں کيوں کررہا تھا۔
“آپکے لئيے يہ آفر لايا تھا جاب کرنا چاہئيں تو شروع کرليں۔ آپکے کرئير کے لئيے يہ اچھا اسٹيپ ہوگا۔ اپنا خيال رکھئيے گا۔” ايک اخبار کا پيپر اسکی جانب بڑھاتے سنجيدہ سی نظر اس پر ڈال کر وہ واپسی کے لئيے مڑچکا تھا۔
جبکہ وہ پيچھے حيران صورت لئيے اسکی پشت کو گھور رہی تھی۔ جيسے ہی اخبار سيدھا کيا اس پر ايک اشتہار کو ہائ لائٹ کيا گيا تھا جس ميں ايک مشہور اخباری جريدے کو پارٹ ٹائم ايک جرنلسٹ کی ضرورت تھی۔
ابيشہ وہ اشتہار پڑھ کر بری طرح شرمندہ ہوئ۔ اس نے کيسے اس شخص کے بارے ميں اتنا برا سوچ ليا تھا کہ وہ کسی لفنگے کی طرح اسکے پيچھے پڑھ گيا ہے۔ غازان کبھی ايسا ہو ہی نہيں سکتا تھا اور اب اسے صحيح معنوں ميں اس پر يقين ہوا تھا۔
“اف ميں کتنی پاگل ہوں۔۔۔کتنے خلوص سے اس نے ميرے لئيے يہ اشتہار ڈھونڈا اور ميں نے کتنا غلط کيا۔ اسے بے اعتبار کر ديا۔” سر پر ہاتھ رکھے وہ اسی راستے کی جانب ديکھنے لگی جہاں اب وہ موجود نہيں تھا۔
پھر کچھ سوچ کر فورا موبائل بيگ سے نکال کر غازان کا نمبر ملايا مگر اس نے کاٹ ديا۔
مزيد شرمندگی نے اسے اپنی لپيٹ ميں ليا۔ “صحيح تو کيا ہے اس نے کال کاٹ کر ميں نے کوئ کسر نہيں چھوڑی۔ منہ سے اسے برا بھلا نہيں کہا مگر اپنے ہر عمل سے اسے جتايا کہ وہ عام لڑکوں کے جيسا لڑکيوں کے پيچھے پڑنے والا ہے۔ وہ کون سا ميرے عشق ميں ڈوبا ہوا تھا۔ کتنی بڑی بے وقوف ہوں اسے لڑکيوں کی کيا کمی ہوگی۔ اف ايک تو اس پر شک کيا پھر اسے يہ احساس دلايا کہ ميں کتنی بڑی خوش فہمی ميں مبتلا ہوں کہ وہ پوری دنيا کی لڑکيوں کو چھوڑ کر ميرے پيچھے پڑگيا ہے۔ کيا سوچتا ہوگا وہ۔۔۔ميں کہاں کی حور پری ہوں کہ وہ ميرے عشق ميں مبتلا ہو۔ کبھی کبھی تو غلط گمان انسان کو بری طرح کسی کے سامنے شرمندہ کرديتے ہيں۔” وہ جلتی کلستی واپس ڈيپارٹمنٹ کی جانب گئ۔ يونيورسٹی سے واپس آکر بھی اس نے شام ميں غازان کو کال کی مگر اس نے پھر کاٹ دی۔
