Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 13)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 13)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
“آخر وہ کہاں گيا” آج پورا ہفتہ ہوچکا تھا مگر رستم کا کہيں پتہ نہيں تھا۔ نہ ہی اس کا باپ اسکے بارے ميں کچھ بتا رہاتھا۔
“اس کا ايک ہی حل ہے کہ اسکے باپ کو اندر کرديا جاۓ۔” رومان غصے ميں مٹھياں بھينچ کر بولا۔
وہ دونوں اس وقت علی کے فليٹ پر تھے۔ لاؤنج کے صوفوں پر آمنے سامنے پريشان بيٹھے تھے۔
“تم لوگ ٹينس مت ہو۔ انکل (نتاشاکے والد)اس سارے معاملے کو اپنے طور پر ديکھيں گے۔ اس کا ايک فارم ہاؤس ہے جہاں تک ہمارا شک ہے اسے وہيں پر رکھ گيا ہے۔ ہم اسکے گھر ايک خفيہ ريڈ کرنے کا سوچ رہے ہيں۔ اميد ہے وہ وہيں سے مل جاۓ گا” علی کے بتانے پر وہ دونوں ايک دوسرے کی جانب ديکھ کر رہ گۓ۔ دل ميں دونوں نے آمين کہا۔
“غازان سے کل بات ہوئ تھی ميری۔ تم آنٹی اور انکل کی بات کيوں نہيں کرواتے اس سے؟” علی نے غازان کے بارے ميں بات کرتے ہوۓ رومان سے پوچھا۔
“نہيں ابھی نہيں۔ جب اس کيس کا کوئ مکمل نتيجہ نکلے گا۔ جب اس شخص کو سزا ہوگی تب ميں ممی ڈيڈی کو کہوں گا کہ اس سے ايکسکيوز کريں۔ شايد يہ سب بتاتے کہ وہ بے قصور ہے تب ہی اسکے دل ميں سے ہمارے لۓ ہر بدگمانی نکل جاۓ۔ اب اس طرح اسے فون کرنے کا کوئ فائدہ نہيں۔ ممی ڈيڈی جتنا مرضی اسکو کہہ ليں کہ ان سے غلطی ہوئ مگر اسکے دل پر ہم نے جو زخم لگاۓ ہيں وہ اتنی جلدی مندمل نہيں ہوں گے۔ ميں ابھی تک اس واقع کو اور غازان کی حالت کو نہيں بھول سکا تو وہ کيسے اتنی جلدی بھول جاۓ گا۔ غيروں کے لگاۓ ہوۓ زخم انسان بھول جاتا ہے۔ اپنوں کی دی ہوئ تھوڑی سی بھی تکليف سالوں انسان کو خون کے آنسو رلاتی ہے۔ ميں کبھی اسے کسی بھی بات کو بھول جانے کے لئے زور زبردستی نہيں کروں گا۔ جب وہ خود کو اس قابل سمجھے گا کہ وہ ہر بات کو دل سے بھلا چکا ہے۔ بے شک تب وہ ہم سب کے پاس آۓ۔” رومان کے لہجے ميں موجود درد پر ابيشہ کی آنکھيں اشک بار ہوئيں۔ آنکھيں نيچے کرکے اس نے آنسو پوروں سے صاف کئے۔
_______________________
شام کا وقت ہوچکا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد غازان تو ايسا سويا کہ شام کے چھ بجے ہی آنکھ کھلی۔ فريش ہو کر جيسے ہی قدم باہر نکالا ايک نسوانی آواز سنائ دی۔ يہ آواز نہ تو منا کی تھی، جو کل رات ہی آئ تھی، نہ شفق اور نہ فروا کی۔
آواز کے ساتھ ہی جھرنوں کی سی شفاف ہنسی سنائ دی۔ اس آواز کے ساتھ تو بہت گہرا رشتہ تھا۔ مگر اسکے گھر ميں۔۔۔يہی سوچ اسے بے اختيار کرگئ۔ وہ اپنی ہی رو ميں سيڑھيوں سے نيچے لاؤنج ميں اترنا چاہ رہا تھا تاکہ ديکھ سکے کہ اس کا شک شک ہی ہے يا حقيقت ميں وہ، وہی ہے جسکی اسکے دل نے گواہی دی ہے۔ اتنی دير ميں سيڑھيوں سے رومان اوپر کی جانب آتا دکھائ ديا۔
غازان نے وہيں رک کر اپنی جانب آتے رومان کو ديکھ کر سواليہ نظروں سے ديکھتے نيچے کی جانب اشارہ کيا۔
“يار فروا کی فريںڈ آئ ہے۔ تم اوپر ہی رہو ۔ وہ تھوڑا پردے والی ہے” رومان کی بات پر بھی اسے کچھ لمحے اپنی سماعتوں ميں پڑنے والی آواز کو شک سمجھنے ميں دير لگی۔
نجانے کيوں اسے شک نہيں لگ رہا تھا۔
“اوہ سوری” خود کو سنبھالتا وہ قدم واپس موڑ لے گيا۔
“ويسے تم سے پردہ نہيں کرتی” غازان نے شرارت سے اسے ديکھ کر کہا
“ارے يار ميرا تو بڑا اہم رشتہ بنتا ہے اس سے ميرے سامنے کوئ پردے وردے کا چکر نہيں۔ ہاں تم ابھی اجنبی ہو اسکے لئے اسی لئے۔” رومان نے مفصل جواب ديا۔
“اوکے اوکے۔۔ اور تم آج اتنی جلدی کيسے آگئے” وہ دونوں باتيں کرتے غازان کے کمرے ميں جا چکے تھے۔
تھوڑی دير بعد رومان کو کوئ ميسج آيا۔ وہ باہر چلا گيا۔
غازان بھی اپنے موبائل ميں مصروف ہوچکا تھا کہ تھوڑی دير بعد وہی آواز لان ميں سنائ دی۔
اپنے کمرے کی کھڑکی سے پردہ ہٹا کر غازان نے اس آواز والی کا چہرہ ديکھنا چاہاجو بہت دير سے اسے بے چين کررہی تھی۔
مگر افسوس اسکی پشت غازان کی جانب تھی۔ شفق کے ساتھ باہر نکلتے وہ ان سے نہ صرف باتيں کرنے ميں مصروف تھی بلکہ انکے کندھے پر ہاتھ رکھے بے حد محبت سے انہيں اپنے ساتھ لپٹاۓ کچھ کہتی گيٹ کی جانب بڑھ رہی تھی۔
اسی طرح انہيں تھامے ان سے مل کر وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر بيٹھ چکی تھی۔
بلو جينز پر پرپل شرٹ اور اسکارف گلے ميں لئے کھلے بال اسکے چہرے کے اردگرد آکر اتنی دور سے غازان کو اسکے خدوخال ديکھنے ميں روکاوٹ پيدا کررہے تھے۔
ايک ٹھنڈی سانس بھرتے غازان پردہ ہٹا کر واپس اپنی جگہ پر آچکا تھا۔
________________________
رات ميں نتاشا کے والدنے ابرار کے فارم ہاؤس پر ريڈ کروانا تھا۔
مگر اس خفيہ کاروائ کا بھی کوئ فائدہ نہ ہو سکا۔ تمام کوششيں بے سود گئيں۔ ان کے بندوں نے سارا فارم ہاؤس چھان مارا مگر رستم کہيں بھی نہ ملا۔
انکی سمجھ سے باہر تھا کہ آخر وہ گيا کہاں اسے زمين لے گئ يا آسمان کھا گيا۔
“اب ہم کيا کريں گے۔ يہ کيس تو بے جان ہوگيا ہے” علی، نتاشا، رومان اور ابيشہ چاروں نتاشا کے گھر ہی موجود تھے۔
“نہيں يہ کيس بے جان نہيں ہوا نہ ہوسکتا ہے، مجھے کل ہی ايک فيملی نے اپروچ کيا ہے جنکی بيٹی کے ساتھ زيادتی کے بعد رستم نے اسے مار ديا اور لاش انکے گھر کے باہر پھنکوا دی۔
اسکا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد جو گولی اسکے جسم کے آر پار ہوئ۔ وہ اس پسٹل ميں سے نکلی تھی جسے ابرار کا ايک ماتحت بہت عرصے سے استعمال کرتا ہے۔ ان لوگوں نے نہ صرف اس بندے کو غائب کرواديا بلکہ اس سے وہ پسٹل بھی برآمد کروالی۔
ليکن مسئلہ وہی ہے کہ يہاں اتنا اندھا قانون ہے جو سچے کو بھی جھوٹا کروا ديتا ہے۔ رستم کے خلاف ان لوگوں نے ايف آئ آر درج کروانی چاہی تو پوليس والون نے ان کا ساتھ دينے سے انکار کرديا۔ اور ميں نے اپنے طور پر بھی اسی کيس کی جانچ پڑتال کروائ ہے۔
اور تو اور ان لوگوں نے ايک اين جی او کو اپنے ساتھ ملايا مگر اس اين جی او کی ڈائريکٹر کو ابرار اور رستم نے مرواديا۔ ميں اس ڈائريکٹر کے بيٹے سے بھی ملی ہوں اور سابقہ ريکارڈ نکلوانے پر معلوم ہوا کہ يہ سب واقعی ہوچکا ہے۔
اب وہ لوگ ہماری مدد کرنے کو پوری طرح تيار ہيں۔ تو يہ ايک اور کيس ہمارے کيس کو مضبوط کردے گا اور نہ صرف يہ بلکہ اب تو قتل کا مقدمہ بھی بآسانی کيا جاسکتا ہے۔ کب تک ابرار اسے چھپاۓ گا۔ آخر تو وہ بل سے باہر آۓ گا ہی۔ ہميں ہمت نہيں ہارنی۔” ابيشہ کی باتيں ان سب ميں ايک نئ روح پھونک گئيں۔
“اس کا ايک اور حل بھی ہے” نتاشا جو کب سے خاموش بيٹھی تھی اچانک بولی۔
“وہ کيا؟” سب نے تجسس سے پوچھا۔
“اسکے باپ کو اندر کردو۔ رستم کسی نہ کسی طرح باہر آجاۓ گا” نتاشا کا مشورہ تھوڑا سا مشکل صحيح مگر غلط نہيں تھا۔
“اس پر عدالت کی بات نہ ماننےيا توہين عدالت کا مقدمہ چلايا جاسکتا ہے کہ جب عدالت کہہ رہی ہے کہ ملزم کو پيش کرو تو وہ اسے کيوں چھپا رہا ہے۔ کيا يہ عدالت کے حکم کی توہين نہيں؟” رومان کی بات ميں بھی وزن تھا۔
“ہاں اس کو ديکھا جاسکتا ہے ميں وکيل سے بات کرتی ہوں۔”ابيشہ نے فورا اس مشورے پر عمل پيرا ہونے کی حامی بھری۔
_________________-
“ريڈی ہو” رومان نے ہلکے سے غازان کے کمرے کا دروازہ ناک کرکے پوچھا۔
“ہاں آرہا ہوں” آخری مرتبہ سامنے لگے ڈريسنگ کے شيشے ميں اپنا جائزہ ليتے غازان نے اونچی آواز ميں کہا۔
نجانے کيوں دل عجب انداز ميں دھڑک رہا تھا۔
حال سے ماضی کی جانب جانے کا سفر کيسا ہوتا ہے آج غازان کو محسوس ہورہا تھا۔
ايک عجيب سا احساس اس لئے بھی تھا کہ وہ جگہ جہاں اس نے آخری دن ميں ذلت و رسوائ ديکھی۔ آج وہاں کون کون اسے معتبر کرنے والا ہے۔
جب سے وہ واپس آيا تھا اور اسکے يونيورسٹی کے اساتذہ کو معلوم ہوا تھا نجانے انہوں نے کتنے فون کئے تھے۔ کوئ اسے گھر آنے کی دعوت دے رہا تھا تو کوئ اسے بار بار کہيں باہر ملنے کی خواہش کا اظہار کررہا تھا۔
وقت واقعی بہت بڑا استاد ہے۔ وہ آپ کو نہ صرف اپنے پراۓ کی پہچان کرواتا ہے بلکہ آپکو ذلت سے عزت اور عزت سے رسوائ ہر رستے کا سفر کروا ديتا ہے۔
غازان نے دونوں رستوں کا مزہ چکھ ليا تھا۔
بليک ڈنر سوٹ ميں موو شرٹ پہنے ڈارک پرپل ٹائ لگاۓ ہلکی سی شيو ميں وہ اور بھی ہيںڈسم لگ رہا تھا۔
يونيورسٹی پہنچنے تک وہ بس خاموش تھا۔ ايک فلم نگاہوں کے سامنے چل رہی تھی۔
رومان نے بھی اسے چھيڑنے سے پرہيز کيا۔ کبھی کبھی آپکو کسی دوسرے کے تسلی بھرے الفاظ سے زيادہ خود اپنی ضرورت ہوتی ہے اور آپکی خود سے کی جانے والی گفتگو آپکے لئے سب بڑا کتھارسس ہوتی ہے۔
آخری بار بھی يہاں اسی طرح رنگ و بو کا سيلاب تھا جيسے کے اب تھا۔
غازان اور رومان بھی اس رنگ و نور کا حصہ بننے کے لئے آگے بڑھے۔
“اوہ مائ چائلڈ تھينک يو سومچ آج آکر تم نے ميری بات کا مان رکھ ليا۔ آئم سو ہيپی ٹو سی يو آفٹر آ لانگ لانگ ٹائم” سر باقر جو کہ غازان کے ٹيچر تھے بلکہ اب انکے ڈيپارٹمنٹ کی ڈين بن چکے تھے ہميشہ کی طرح غازان سے والہانہ انداز ميں ملے۔
وہ شروع سے غازان سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہوں نے تب بھی غازان کا ساتھ ديا تھا جب بہت سے اور اساتذہ اسے غلط سمجھے تھے۔
يہ وہ واحد استاد تھے جنہوں نے رومان کے پيچھے لگ کر غازان کا کينيڈا کا نمبر اس سے ليا تھا۔
“سر آپکا تھينکس کہ آپ نے مجھے ياد رکھا” غازان نے بھی انکی محبت کا جواب محبت سے ديا۔
بہت سے اسٹوڈنٹس انہيں ديکھتے ہميشہ کی طرح غازان کی جانب بڑھے۔
وہی عزت، محبت اور شہرت جو اس يونويورسٹی سے ہميشہ سے اسے ملی تھی۔ آج بھی وہی سب پھر سے غازان کے اردگرد تھی۔
لگ ہی نہيں رہا تھا کہ درميان ميں اتنے سارے سال آۓ تھے۔
کوئ بچوں والا تھا تو کوئ ابھی بھی سنگل۔ مگر سب خوش گپيوں ميں مگن تھے۔
غازان بھی سب کے ساتھ باتوں ميں مصروف تھا کہ پاس سے وہی آواز وہی خوبصورت مدہم ہنسی سنائ دی۔
جو ان دس سالوں ميں بھی غازان کے دل سے نہيں نکلی۔
پورے طمطراق سے وہ وہيں موجود تھی۔
غازان خود کو دائيں جانب ديکھنے سے روک نہ پايا۔ موو اور وائٹ خوبصورت سے ڈريس ميں ہلکے ميک اپ ميں بھی وہ ويسی ہی تھی جيسی دس سال پہلے تھی۔ باوقار سی۔ ايسہ لگا تھا زمانے کی گرد بھی اسے چھو کر نہ گزری ہو۔
آج غازان خود کو بے اختيار ہونے سے نہ روک پايا۔ اپنے دوستوں کے گروپ سے معذرت کرتا وہ ابيشہ کی جانب بڑھا جو خود بھی اس وقت اکيلی کھڑی تھی اسکے پاس موجود لڑکياں کہيں اور بڑھ گئيں تھيں۔
وہ انکی ہی جانب ديکھ رہی تھی۔
“اسلام عليکم! ابيشہ” اپنے پاس سے ابھرنے والی وہ آواز ابيشہ کے وہم و گمان ميں بھی نہيں تھی۔
گرد موڑ کر جس قدر حيرانی، خوشی اور نجانے کس کس جذبے سے اس نے غازان کی جانب ديکھا۔
غازان کا دل کيا ابھی اسی وقت ان آنکھوں کو سب سچائ بتا دے۔ اپنے دل کے سب جذبے ان پر عياں کردے۔
“آ۔۔۔۔آپ” بڑی مشکل سے يہ ايک لفظ اسکے ہونٹوں سے ادا ہوا۔
“کيسی ہيں” غازان کی نگاہوں کی چمک اسے خیرہ کئے دے رہی تھی۔
“ميں بالکل ٹھيک۔ آپ کيسے ہيں کب واپس آۓ؟” ابيشہ کے پوچھے جانے والے سوال نے اسے چونکايا۔
“چند دن پہلے آپ کو پتہ تھا کہ ميں کينڈا ميں ہوں؟” غازان نے الٹا سوال کيا۔
“ہاں وہ آپکے بھائ سے پتہ چلا تھا کہ۔۔” اس نے جلدی سے بات سنبھالی ۔ نظريں دور کھڑے رومان پر تھيں۔ جسے کچا چبانے کا وہ فيصلہ کر چکی تھی۔
“ويلکم بيک۔۔ آپکو يہاں ديکھ کر بہت خوشی ہوئ ہے” ابيشہ نے اپنی نظريں واپس غازان کی جانب موڑتے کہا۔
اسکے لہجے کی سچائ غازان کو سرشار کر گئ۔
“کيا کررہی ہيں آجکل؟”
“بس ايک اخبار کی ايڈيٹر ہوں۔”
“شادی اور بچے” نجانے کس مشکل سے دھڑکتے دل سے غازان نے يہ سوال کيا۔
وہ مدہم سا مسکرائ۔
“کچھ بھی نہيں۔ ابھی تو سنگل لائف انجواۓ کررہی ہوں” غازان کی بات کے جواب ميں جو کچھ اس نے کہا غازان کے دل کی دھڑکن کو اعتدال ميں لانے کے لئے کافی تھا۔
“اور آپ۔۔؟” ابيشہ انجان بنتے پوچھنے لگی۔
“کوئ دل کو بھائ ہی نہيں” اسکی نظروں کا اپنی نظروں کے حصار ميں جکڑتے غازان کے الفاظ ابيشہ کو گھبراہٹ ميں مبتلا کرگۓ۔ پلکوں کی جھالر گراتے ہلکا سا رخ موڑ کر وہ ادھر ادھر ديکھنے لگی۔
“آنٹی اور انکل کيسے ہيں” غازان کا دل ہی نہيں بھر رہا تھا۔ اسے اس وقت کسی کی پرواہ نہيں تھی کون ديکھ رہا ہے کون نہيں۔ بس وہ نظروں کے سامنے ہو دل کو بس اسی کی چاہ تھی۔
“سب ٹھيک” ابيشہ مختصر سا جواب دے کر خاموش ہوگئ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئ اور بات کرتا کچھ لڑکياں ان کی جانب بڑھيں۔
غازان کو ديکھ کر بے حد خوشی کا اظہار کيا۔
ابيشہ انکے ساتھ باتوں ميں مصروف ہوچکی تھی۔
کچھ دير بعد غازان مڑ کر کسی اور کو تلاش کرنے لگا۔
اسٹيج پر کچھ لڑکوں نے گانوں کا سلسلہ شروع کيا۔
ايک کے بعد دوسرا۔ سب کی فرمائشيں بھی پوچھی جارہی تھيں۔
بہت سے دوست ايک دوسرے کے گانے ڈيڈيکيٹ بھی کر رہےتھے۔ سب بيتے دنوں کی ياديں تازہ کررہے تھے۔
غازان کے دل ميں نجانے کيا سمائ ايک پيپر پر کچھ الفاظ لکھ کر اسٹيج پر موجود ايک لڑک کو تھمايا۔
“دا نيکسٹ سونگ از فار سم ون ويری اسپيشل فرام سم ون ويری اسپيشل۔” وہ لڑکا جو گانا گا رہا تھا ايک گانا ختم کرتے اس نے مائيک ميں اعلان کيا۔
کچھ لوگ بيٹھے تھے کچھ کھڑے تھے۔ مگر سب انکی جانب متوجہ تھے۔
ابيشہ غازان کو وہ چٹ اس لڑکے کی جانب بڑھاتے دیکھ چکی تھی۔
“نام بتاؤ اسپيشل کا” کسی نے ہانک لگائ۔
“بھئ يہ تو رازداری کی بات نہ ہوئ پھر” اس لڑکے نے جواب ديا۔
کچھ دیر بعد گٹار کے تار چھڑے۔
I’ve been gone for. so long now
Chasing everything that’s new.
I’ve forgotten how I got here
I’ve not forgotten you.
We were just children, with our eyes opened, and
You were all that I could see
You came close enough to know my heart-beat, but
Still not close enough for me.
Through the good times and the bad
You were the best I never had
The only chance I wish I had to take
There was no writing on the wall
No warning signs to follow
I know now, and I just can’t forget
You’re the best I never had.
غازان کی بے اختيار نظر دور گول ميز کے گرد اپنی فرينڈز کے ساتھ بيٹھی ابيشہ کی جانب اٹھی۔ اسی لمحے اس نے بھی غازان کی جانب ديکھا۔
کيا کيا جذبے نہيں تھے اس شخص کی نگاہوں ميں۔ اور وہ جان ليوا مسکراہٹ ابيشہ کو کنفيوز کرگئ۔
گھبرا کر نظروں کا رخ موڑا۔
غازان کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئ۔
“خيريت اکيلے اکيلے مسکرا رہا ہے طبيعت ٹھيک ہے” رومان اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
پاس ہی کھڑا کچھ لڑکوں سے باتيں کرنے ميں مصروف تھا۔
“بس ويسے ہی ” غازان نے مسکراہٹ سميٹی۔
کھانا کھانے کے بعد ابھی بھی سب لوگ وہيں موجود تھا۔ اس ماحول سے کسی کا نکلنے کو دل نہيں کررہا تھا۔
غازان پانی پينے کی غرض سے ايک ٹيبل کے قريب آيا کہ بائيں جانب سے کسی کی پکار پر مڑا۔
“واٹ آ پليزينٹ سرپرائز آپ کب آۓ” کوئ لڑکی بے حد خوشی کا اظہار کرتی غازان سے پوچھ رہا تھی۔
غازان نے اجنبی نگاہوں سے اسکی جانب ديکھا۔
“ميں نتاشا جسکی اس رات آپ نے جان اور عزت دونوں بچاۓ تھے” نتاشا کی باپ پر وہ چند لمحے خود کو نارمل نہ کرسکا۔
“بہت کچھ کہنا ہے آپ سے۔۔۔۔ بہت سارا شکريہ ادا کرنا ہے۔ آپ نہ ہوتے تو آج ميں يوں سر اٹھا کر جی نہ رہی ہوتی۔ آپ کا تو بہت بڑا احسان ہے مجھے پر” وہ تشکر بھرے لہجے ميں غازان سے مخاطب تھی۔
“ارے نہيں پليز بس اللہ نے آپکی عزت کی حفاظت کرنی تھی۔ ميرا کوئ کمال نہيں” غازان اپنے ہميشہ کے سے عجز و انکساری والے لہجے ميں بولا۔
“آپکے تو بھائ اور ابيشہ نے جس طرح مجھے اس ٹرانس سے باہر نکال کر مجھے دنيا کے سامنے آنے کے لئے ہمت بخشی آج بھی ياد کرتی ہوں تو دل ميں انکی محبت اور بھی بڑھتی ہے۔” وہ کيا کہہ رہی تھی غازان سمجھنے سے قاصر تھا۔
“ميں تو دعا کرتی ہوں ابيشہ جيسی لڑکی بننے کی اللہ ہر کسی کو توفيق دے۔ جس طرح اس نے کيس۔۔۔۔” نتاشا کی بات وہيں رہ گئ کہ پاس سے اسے کسی نے پکار ليا۔
وہ ايکسکيوز کرتی مڑی۔
مگر غازان وہيں ششدر سا اسکی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔
ابيشہ۔ رومان۔ کيس۔ سب کچھ گڈمڈ ہورہا تھا۔
نگاہ سامنے اٹھی۔ ابيشہ رومان کے ساتھ کھڑی نظر آئ۔ دور سے بھی محسوس ہورہا تھا جيسے وہ اس سے ناراض ہاور رومان اسے منانے کو کوشش کررہا ہو۔
ان ميں بے حد بے تکلفی لگ رہی تھی۔ رومان نے کبھی کوئ تذکرہ کيوں نہيں کيا۔
غازان کچھ سوچ کر نتاشا کو ڈھونڈتا اسکے پاس آيا۔
“نتاشا۔۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ يہاں نہيں۔ کہيں باہر اگر آپ مجھے مناسب جگہ بتا ديں”
“کيوں نہيں۔ آپ ميرا سيل نمبر رکھ ليں جب کہيں گے۔ جہاں کہيں گے۔ ميں آجاؤں گی” جلدی سے اپنا سيل نمبر ايک پيج پر لکھ کر اس نے غازان کی جانب بڑھايا۔
“آئيں ميں آپ کو اپنے ہزبينڈ سے ملواؤں” غازان کے لئے وہ اپنے ہزبينڈ کے پاس آئ۔
وہاں سے واپسی پر غازان اتنا تو جان گيا۔ کہ رومان نے ابيشہ اور اپنے تعلق کو غازان سے چھپايا ہے مگر وہ تعلق اور نتاشا اور غازان والے معاملے سے ابيشہ کا تعلق کيا ہے وہ سب جاننا بے حد ضروری تھا اور اس سب سے يقينا نتاشا واقف تھی۔
