Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 11)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 11)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
اگلے دن اس نے سب سے پہلا کام ارشاد صاحب (باس)سے ملنے کا کيا۔
انہيں ميسج کرکے پہلے تسلی کی کہ وہ فری ہيں۔ ان کا ہاں ميں جوابی ميسج ملتے ہی وہ انکے آفس کی جانب گئ۔
“مے آئ کم ان سر” اجازت ملتے ہی اندر داخل ہوئ۔
“بيٹھو بيٹا” ارشاد صاحب ہميشہ اس سے بہت محبت سے بات کرتے تھے۔
“سر آپکی مدد چاہئیے” بيٹھتے ساتھ ہی اس نے اپنا مدعا بيان کيا۔
“کہو بيٹا جس حد تک ہوسکا ضرور تمہاری مدد کروں گا” ان کے يقين دلاتے وہ سب بتاتی چلی گئ۔ زنيرہ، رستم، غازان اور نتاشا کے بارے ميں وہ سب جو اس نے ابھی تک معلوم کيا تھا۔
“ميں چاہتی ہوں سر کہ ہم ان کے بارے ميں نہ صرف اپنے اخبار ميں چھاپيں بلکہ اس سب کو ميڈيا کے چينلز پر بھی لائيں۔ آپکے بہت سے جاننے والے ہيں۔ پليز سر انکار مت کيجئے گا” اس نے آس سے ان کی جانب ديکھا جو ہونٹوں پر ہاتھ کی مٹھی جماۓ گہری سوچ ميں تھے۔
“ميں ضرور تمہاری مدد کروں گا کيونکہ اسکے باپ کی طرف ميرا بہت حساب ہے جسے اسے چکانا ہوگا اور اس سے بہترين موقع ميرے لئے اور کوئ نہيں” انکی بات پر ابيشہ نے الجھ کر انہيں دیکھا۔
“کچھ سال پہلے ايک بہت بڑی رقم خورد برد کرنے پر ميں نے اس کے باپ کے خلاف آواز اٹھائ تھی اور اپنے اخبار ميں ساری تفصيل چھاپی تھی۔ کراۓ کے غنڈوں کو پوليس کی ودری پہنا کر اس نے ميرے آفس آکر نہ صرف توڑ پھوڑ کی تمام ثبوت جلا ڈالے بلکہ مجھے ايک بے بنياد الزام ميں پکڑ کر تھانے لے گيا۔ وہاں بھی بہت سے ان کے حامی بيٹھے ہوتے ہيں۔ وہاں ايک رات مجھے اندر بند رکھا کچھ مار بھی لگائ۔ اور پھر اگلے دن مجھے چھوڑ ديا۔ وہ تمام ثبوت جو میرے پاس تھے ان کے جل جانے سے ميں اس پر کوئ الزام نہيں دھر سکا۔ اور اس شخص نے مجھے اس قدر تنگ کيا کہ آخر کچھ عرصے کے لئے مجھے اپنا اخبار بند کرنا پڑا۔
مگر اب نہيں ہر مرتبہ اندھے قانون کی جيت نہيں ہوگی۔ اب کی بار ميں اس کے بيٹے کو نہيں چھوڑوں گا۔ تم ايک کام کرو کہ ان دونوں بچيوں اور کرنل صاحب کو کل ہی آفس لے آؤ۔ يہاں سکون سے ان کا بيان بھی ريکارڈ کرتے ہيں اور پھر چینل والوں سے بھی ڈسکس کرتے ہيں۔ اب لوگ باشعور ہوگۓ ہيں۔ بڑے بڑوں پر ہاتھ ڈالنا ناممکن نہيں رہا۔ ان شاء اللہ ہم انہيں انصاف دلائيں گے” ارشاد صاحب نے ہر طرح ابيشہ کا ساتھ دينے کا وعدہ کيا۔
“تھينک يو سو مچ سر” وہ تشکرآميز لہجے ميں گويا ہوئ۔
_________________________
شام ميں اس نے رومان کو فون کيا کہ وہ اسے آفس سے پک کرلے۔
“گيس واٹ” اس کا خوشی سے تمتماتا چہرہ دیکھ کر رومان نے اتنا تو جان ليا کہ نتاشا سے متعلق کوئ بات ہے۔
“نتاشا نے کانٹيکٹ کر ليا” اس نے اپنا اندازہ بتايا۔
“بالکل۔۔ نہ صرف نتاشا نے کانٹيکٹ کرکے ہم سے تعاون کا وعدہ کيا ہے بلکہ آج سر کو بھی ميں نے يہ سب تفصيل بتا کر مدد کی درخواست کی ہے۔ اور تمہيں پتہ ہے سر بھی اسکے وکٹمز ميں سے ہيں” ابيشہ کی بات پر رومان نے حيرت سے اسے ديکھا۔
“کيا مطلب؟” وہ الجھا۔
پھر ابيشہ نے اسے وہ تمام واقعہ کہہ سنايا جو ارشاد صاحب نے اسے بتايا تھا۔
“ميرے خدا کس قدر گھٹيا لوگ ہيں يہ” رومان نے افسوس سے سر ہلايا۔
“اب کل تم نے بھی وہاں ميرے ساتھ ہونا ہے” ابيشہ نے اسے پہلے سے ہی تيار کرنا چاہا۔
“ضرور۔۔ اور اب آپکے لئے ايک سر پرائز” رومان کی بات پر وہ چونکی۔
“وہ کيا؟” جوں ہی باہر کی جانب دھيان گيا اسے راستے انجان لگے۔ يہ وہ کہاں جارہے تھے۔
“کہاں لے جارہے ہو”
“سرپرائز کے پاس” رومان کی بات نے تجسس ميں اضافہ کيا۔
“رومان۔۔”
“بھروسہ رکھيں” اس نے ابيشہ کی بات کاٹ کر تيزی سے کہا۔ اب کی بار وہ خاموش ہوگئ۔
تھوڑی دير بعد گاڑی ايک پوش ايريا ميں داخل ہوئ۔ يہ تو ندا کے گھر والا راستہ ہے۔ اسے يکدم ياد آيا۔
اور يہی راستہ کہيں اور بھی جاتا ہے۔ اب کی بار جو خيال آيا اسے ابيشہ نے بری طرح جھٹلايا۔
گاڑی ايک خوبصورت سے گھر کے آگے رکی۔
“يہ” ابيشہ نے پھر سے پوچھنا چاہا۔
“ممی اور ڈيڈی سے آپ کو ملانے لايا ہوں۔ پليز انکار مت کرنا” رومان نے درخواست کی۔
“رومان ليکن وہ خط جو ميرے تھے تو نہيں مگر ميرے نام سے انہوں نے جو غلط فہمی پيدا کی۔۔ ان کی وجہ سے ايک برا تاثر انکل اور آنٹی پر پڑ چکا ہے۔” وہ اپنے خدشات کہنے لگی۔
“وہ جان گۓ ہيں کہ وہ غلط تھا” رومان نے اسے تسلی دی۔
“ديکھ لو کہيں جوتياں نہ پڑوا دينا” ابيشہ کی بات پر رومان اپنا قہقہہ روک نہ سکا۔
“ڈونٹ وری آدھی جوتياں ميں کھالوں گا” اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اترتے ہوۓ اس نے شرارت سے کہا۔
“يعنی پڑوانی ہيں جوتياں ۔۔۔چاہے آدھی ہی ہوں” وہ خفگی بھری نگاہ ڈال کر بولی۔
“آپ کو کيا پتہ آپکے لئے اب کيا کيا برداشت کرسکتا ہوں” دل ميں سوچتے اس نے نہايت محبت سے ابيشہ کو ديکھا۔
“آپ چليں تو صحيح” وہ جو گاڑی سے اتر چکی تھی مگر چہرے پر ہوائياں اڑی ہوئيں تھيں۔ اسے اپنے پيچھے آنے کا کہتے خود گیٹ کھول کر اندر داخل ہوچکا تھا۔
ڈری ڈری وہ اس کے پيچھے لاؤنج ميں آئ۔
جہاں يقيناّّ شفق اور ان کے ساتھ منا بيٹھی ٹی وی ديکھ رہی تھيں۔
“اسلام عليکم” رومان نے اونچی آواز ميں سلام کيا۔
دونوں نے مڑ کر اسے ديکھا مگر اسکے ساتھ موجود ايک بالکل نئے چہرے کو دیکھ کر ان دونوں کی سواليہ نظريں دوبارہ رومان کی جانب اٹھيں۔
“ممی يہ ابيشہ ہيں” رومان کے تعارف کرواتے ہی وہ بے اختيار اپنی جگہ سے اٹھيں۔
ابيشہ نے ہلکا سا مسکرا کر انہيں اور منا کو ديکھتے ہوۓ سلام کيا۔
“ادھر آؤ بيٹا” شفق نے محبت سے بازو وا کئے۔
ابيشہ نے رومان کی جانب ديکھا۔ اس نے ہولے سے اسے بڑھنے کا اشارہ کيا۔
وہ جھجھکتے ہوۓ ان کے بازوؤں ميں سما گئ۔ شفق کے بے اختيار آنسو چھلکے۔
ايسے لگا غازان انکے قريب، انکے آس پاس ہو۔ حالانکہ غازان کا بظاہر اس سے کوئ رشتہ نہيں تھا مگر وہ ان کے بيٹے کی پسند تھی۔
رومان نے ايک دن پہلے ہی شفق اور سکندر کو ابيشہ کی غازان کے سلسلے ميں جاری کوششوں کے بارے ميں بتايا تھا۔ وہ تو بن ملے، بن ديکھے ہی اسکے احسان مندہوگۓ تھے۔
وہ کام جو غازان کے ماں باپ ہوتے وہ دونوں نہ کرپاۓ اس کا خيال اللہ نے اس لڑکی کے دل ميں ڈال ديا۔
وہ واقعی اسے بے حد غلط سمجھے تھے۔
رومان نے سختی سے ماں کو منع کيا تھا کہ اگر ابيشہ يہاں آۓ تو اسے اس بات کی ہوا بھی نہ لگے کہ غازان اسے پسند کرتا تھا۔
اس بات کا يقین کرلينے کے بعد کہ شفق ابيشہ کے سامنے ظاہر نہيں ہونے ديں گی پھر رومان نے اسے گھر لانے کی ہامی بھری تھی۔
“سوری بيٹا” پيچھے ہوتے شفق نے آنکھوں سے بہنے والے آنسو صاف کئے۔
“اٹس اوکے آنٹی” ان سے مل کر وہ منا کی جانب بڑھی۔ اس نے بھی نہايت محبت کا مظاہرہ کيا۔
“بيٹھو بيٹا ميں جوس لاتی ہوں” وہ فورا کچن کی جانب بڑھيں۔
“ڈيڈی ابھی تھوڑی دير ميں آئيں گے” ابيشہ کے دائيں جانب موجود صوفے پر بيٹھتے رومان نے بتايا۔
منا اور شفق سے باتيں کرتے اسے محسوس ہی نہيں ہوا کہ وہ پہلی مرتبہ ان سے مل رہی ہے۔
ابھی اسے بيٹھے زيادہ وقت نہيں گزرا تھا کہ گريش فل سے سکندر صاحب لاؤنج ميں آۓ۔
اجنبی چہرے کو دیکھ کر وہ وہيں ٹھٹھکے ۔
“يہ ابيشہ ہے” ابيشہ نے کھڑے ہوتے انہيں سلام کيا۔
“ارے ابيشہ بيٹی آئ ہے” جس محبت سے وہ بھی اسکے پاس آکر اسکے سر پر پيار ديتے خوش ہوۓ۔ وہ ابيشہ کو عجيب سے احساس سے دوچار کرگيا۔
ايسا لگا وہ ہميشہ سے ان کی فيملی کا حصہ رہی ہو۔
انہوں نے زبردستی اسے کھانے پر روک ليا۔
جس وقت وہ واپسی کے لئے اٹھی۔
سکندر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر عجيب نادم سے دکھائ دئيے۔
“ميں کيسے آپ کا شکريہ اداکروں۔ جو کچھ آپ غازان کے لۓ کررہی ہو” انکے الفاظ پر وہ ہولے سے مسکرائ۔
“انکل پليز آئندہ يہ سب مت کہئے گا۔ اللہ نے غازان کو بے قصور ثابت کروانا ہی تھا وہ چاہے ميں ہوتی يا کوئ اور اللہ نے ان کی مدد کرنی ہی تھی۔ ميرا اس ميں کوئ کمال نہيں ہے۔ يہ تو اللہ کا حکم ہے” کبھی کے غازان کے کہے ہوۓ الفاظ آج اس کے ہونٹوں پر تھے۔ واقعی اللہ نے جب انسان کی مدد کروانی ہوتی ہے وہ يہ نہيں ديکھتا کہ کوئ اس کا اپنا ہے يا اجنبی وہ ايسی ايسی جگہوں اور لوگوں سے اپنے بندوں کی مدد کرواتا ہے جو ہمارے وہم و گمان ميں بھی نہيں ہوتے۔
“اللہ تمہيں ہميشہ خوش رکھے” شفق جو پاس ہی کھڑی تھيں اسکی بات سن کر اسے پيار کرتے ہوۓ بوليں۔
________________________
نجانے کب اور کيسے مگر رومان کی درخواست کے بعد غازان نے اس سے کانٹيکٹ ختم نہيں کيا۔ نہ صرف يہ بلکہ جلد ہی اسے اپنا سيل نمبر بھی دیا۔ ہاں مگر گھر ميں سے کسی اور سے بات کرنے سے اس نے سختی سے منع کرديا۔
رومان نے ابيشہ کو بتا ديا تھا کہ وہ اب مسلسل غازان سے رابطے ميں ہے۔
وہ چاہتا تھا کہ وہ غازان کو ابيشہ کی ان سب کوششوں کے بارے ميں بتاۓ۔
مگر ابيشہ نے اسے سختی سے منع کيا۔
“اگر اس سب کی ذرا سی اطلاع بھی غازان تک گئ تو ميں يہ سب يہيں چھوڑ دوں گی۔ ميری نيکی کو نيکی رہنے ديں۔ اور ان شاء اللہ جب ہم اس سب ميں کامياب ہوجائيں تب ضرور غازان کو بتا دينا کہ وہ بے قصور ثابت ہوا ہے۔ مگر تب بھی ميرا نام تک نہ آۓ۔ نہ ہی نتاشا اور زنيرہ والا کوئ معاملہ ان تک پہنچے۔ ميں نہيں چاہتی وہ کبھی بھی ميرے احسان مند ہوں۔ ميں چاہتی ہوں وہ ہميشہ ميرے محسن ہی رہيں ميں ان کی نہيں۔
پليز رومان مجھ سے وعدہ کرو۔ نہيں تو ميں بتا رہی ہوں۔ ميں سب يہيں ختم کرکے دوبارہ کبھی تم سے کوئ رابطہ نہيں رکھوں گی” ابيشہ سے وعدہ کرتے وہ خود کو بے حد بے بس محسوس کررہا تھا۔
مگر اسے اميد تھی وقت کبھی نہ کبھی ان دونوں کے راستے ايک کرے گا۔
____________________
شام ميں رومان کے آتے ہی وہ دونوں ری يونين ڈنر کے لئے شاپنگ کرنے نکل کھڑے ہوۓ۔
غازان حيرت سے ہر علاقے کو ديکھ رہا تھا۔ سب کچھ کتنا بدل چکا تھا۔
“ہيلو۔۔۔کيا حال ہے۔ يار تم ڈنر پر کيا پہن رہی ہو” ايک شاپ پر کھڑے وہ دونوں غازان کے لئے نيوی بلو شرٹ پسند کرچکے تھے۔ جب رومان نے سائيڈ پر ہوتے کسی کو فون کيا۔
آواز آہستہ ہونے کے باوجود اتنی ضرور تھی کہ ايک شرٹ تھامے غازان کے کانوں ميں پڑ رہی تھی۔
“ابھی ميرے اتنے برے دن نہيں آۓ کہ تمہيں گفٹ کرتا پھروں۔ يہ کام اب کوئ اور ہی کرے گا۔ بس جو پوچھا ہے وہ بتاؤ” وہ نجانے کس پر رعب جما رہا تھا۔
“اوکے باۓ” کہہ کر اس نے فون بند کيا جيسے ہی مڑا غازان کو اپنی جانب حيرت سے ديکھتے پايا۔
“يہ کون صاحبہ تھيں” اس کے سوال پر ايک خوبصورت سی مسکراہٹ رومان کے چہرے پر رکی۔
“تم کيسے کہہ سکتے ہو کہ صاحبہ ہی تھيں؟” مسکراہٹ دباتے اس نے ادھر ادھر ديکھتے سوال پہ سوال کيا۔
“کيہ پہن رہی ہو؟ شايد لڑکی کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے” غازان کے طنز کرنے پر وہ سمجھ گيا کہ اس نے پوری بات سنی ہے۔
“سيکرٹ افئير” اس نے رازدارانہ انداز ميں کہا۔
“بيٹا تو گھر چل فروا کو بتاتا ہوں” غازان نے اسے دھمکی دی۔
“ہاہاہا کوئ پروف تيرے پاس” اس نے غازان کو چڑايا۔
“پروف بھی لے آؤں گا”
“بتا کون تھی؟” وہ غصے سے آنکھيں نکالتا رومان کی کلاس لينے کھڑا ہوگيا۔ جو مسلسل شرارت سے مسکراۓ جارہا تھا۔
“ميری بھابھی تھی بس اب خوش۔۔چل اب آگے کوئ اور شرٹ ديکھتے ہيں” رومان کی بات پر وہ کچھ دیر اسے غصے سے گھورتا رہا۔
“اب کوئ اور شرٹ کيوں پہلے تو تم نے کہا تھا يہ ٹھيک ہے۔ تيرا دماغی توازن ٹھيک نہيں لگ رہا” غازان جھنجھلا کر بولا۔
“يہ لائٹ موو پرفيکٹ ہے۔ يہی ليتے ہيں” لمحوں ميں اسکی پسند کيوں بدلی تھی غازان کی سمجھ سے باہر تھا۔
بس يہی ڈن ہوگئ ہے۔” رومان شرٹ تھامے کاؤنٹر پر جاکر پے منٹ ادا کرنے لگا۔
