Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 08)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 08)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
گاڑی پورٹيکو ميں کھڑی کرکے جوں ہی وہ اندر داخل ہوا پريشان حال منا کو لاؤنج کے صوفے پر بيٹھے ديکھا۔
“کيا ہوا ہے تم ابھی تک جاگ رہی ہو” منا نے ہاتھوں پر گرا سر اٹھا کر بے خيالی سے رومان کو ديکھا۔
“نہيں خيريت نہيں ہے” اس نے نفی ميں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“ممی دو گھنٹے سے غازان کے کمرے ميں ہيں۔ باہر آنے کا نام نہيں لے رہيں اور مسلسل روۓ جارہی ہيں۔ ڈيڈی شام ميں ہی بزنس ميٹنگ کی وجہ سے کراچی گۓ ہيں۔ اور تم پتہ نہيں کہاں کہاں کی خاک چھان رہے ہو۔ ميں اکيلی کيا کروں”منا تو جيسے بھری بيٹھی تھی۔
“اوکے ميں ديکھتا ہوں۔ تم جاؤ۔ سوجاؤ جاکر” منا کو اس کے کمرے ميں بھيج کر وہ سيڑھياں چڑھ کر غازان کے کمرے کی جانب بڑھا۔
کمرے کے دروازے پر کھڑا وہ دکھ سے ماں کو ديکھ رہا تھا جو غازان کی تصوير تھامے اسے بار بار محبت سے چوم رہی تھيں۔
“کاش يہ پيار آپ اس وقت اسے دکھاتيں جب اسے اس کی ضرورت تھی۔” وہ کہے بنا رہ نہ سکا۔
“مجھے کيا پتہ تھا وہ يوں سب چھوڑ چھاڑ کہيں گم ہو جاۓ گا” پہلی مرتبہ اتنے دنوں ميں وہ غازان کے حوالے سے بات کررہی تھيں۔
“آخر کيا وجہ تھی ممی کے آپ نے اسے يوں بے اعتبار کرديا۔ آج ميں وہ وجہ جانے بغير يہاں سے نہ خود اٹھوں گا اور نہ ہی آپ کو يہاں سے اٹھنے دوں گا۔” ان کے سامنے دو زانو بيٹھتے اس نے حتمی انداز ميں کہا۔ وہ جو بيڈ پر بيٹھيں برستی آنکھوں سے رومان کو ديکھ رہی تھيں۔ کچھ لمحے اسی طرح اسے ديکھتی رہيں۔ پھر آنسو صاف کرکے اٹھنے لگيں۔ کہ اس نے ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر انہيں اٹھنے نہ ديا۔
“نہيں ممی مجھے بتائيں”
“وہی بوجھ ہلکا کرنے لگی ہوں تمہيں کچھ دکھانا چاہتی ہوں۔ کتنے مہينوں سے يہ بوجھ لئيے پھر رہی ہوں۔ اب مجھ ميں ہمت نہيں” اس کے کندھے کو تسلی سے تھپتھپاتے اپنی جگہ سے دوبارہ کھڑی ہوئي۔
“ابھی لے کر آتی ہوں” کہہ کر وہ کمرے سے گئيں۔ کچھ دير بعد ايک بڑا سا شاپر تھامے واپس آئيں۔ واپس اسی جگہ بيٹھتے انہوں نے وہ شاپر رومان کو تھمايا۔
وہ حيرت سے بيڈ پر ان کے مقابل بيٹھ کر وہ شاپر کھولنے لگا۔
جس ميں بے شمار خطوط تھے ايک خط کھولا تو کسی کا محبت بھرا پيغام تھا غازان کے لئيے نظر بھيجنے والی محترمہ کے نام پر پڑی تو وہ بری طرح چونکا۔
آخر ميں تمہاری ابيشہ لکھا ہوا تھا۔
ہر خط ميں جينے مرنے کی قسميں ان کی ملاقاتيں۔ اسے جاب دلانے کا شکريہ۔
وہ حيرت سے ايک ايک خط پڑھ رہا تھا۔ چکرا کر رہ گيا۔
کچھ خطوط ميں تو ان کی ملاقاتوں کے حوالے سے بے حد شرمناک گفتگو بھی کی گئ تھی جسے پڑھ کر رومان کا خون کھول گيا اور ماں کے سامنے شرمندگی الگ ہورہی تھی۔
آخری لفافے ميں تو غازان اور ابيشہ کی چند تصويريں بھی تھيں۔ نجانے کيسے انہيں ايڈٹ کيا گيا تھا۔
“وہ واقعہ ہونے سے دو ماہ پہلے سے مجھے يہ خطوط بلاناغہ مل رہے تھے۔ مگر ميں نے ان پر يقين نہيں کيا۔ مجھے غازان پر اعتبار تھا۔ ميں نے اس سے کچھ پوچھا بھی نہيں۔ مگر پھر کچھ دن بعد يہ تصويريں مليں۔ پھر ندا کی ماں کا فون بھی آيا اور اس نے مجھے بتايا کہ غازان کے پيچھے کوئ لڑکی ہے۔ ميں نے يہ سب خط تمہارے ڈيڈی سے چھپا کر رکھے کہ اگر ان کے ہاتھ لگ جاتے تو انہوں نے ہم ميں سے کسی کو نہيں چھوڑنا تھا۔
ميں نے غازان سے آخر پوچھا تو اس نے کہا ہاں ابيشہ نامی لڑکی کی ميں نے مدد کی ہے۔ ميں تب بھی خود کو دھوکہ ديتی رہی يہ کہہ کر کہ وہ غلط سمت نہيں جاسکتا۔ مگر کوئ بھی يہ خطوط پڑھ کر بآسانی سوچ سکتا ہے کہ غازان کا اس لڑکی کے ساتھ کوئ افئير تھا۔ کون لڑکی اتنی پاگل ہے کہ وہ يوں خود کو کسی کے پيچھے خوار کرے۔ مجھے دکھ صرف اس بات کا ہے اگر وہ کسی کو پسند کرتا بھی تھا تو وہ مجھے ايک بار بتاتا تو صحيح ميں تمہارے ڈيڈی سے جيسے تيسے کرکے غازان کے لئے راستہ ہموار کرديتی۔ اگر اسے ٹريپ کيا گيا ہے تو وہ لڑکی سب کے سامنے آکر کيوں نہيں بتاتی کے رستم اس کے ساتھ غلط نيت رکھے ہوۓ تھا۔ يہ سب باتيں مجھے کيا کسی کو بھی شک ميں مبتلا کرسکتی ہيں۔
بس اتنے دنوں کا وہ لاوا جو ان خطوط کی وجہ سے ميرے دماغ ميں پل رہا تھا وہ اس رات پھٹ پڑا۔
ميں نے تم لوگوں کی تربيت ميں کوئ کسر نہيں چھوڑی مگر اس بات سے بھی انکار نہيں کہ شيطان کبھی بھی حاوی آسکتا ہے۔ رومان کيا تم اس لڑکی کو جانتے ہو۔” ان کے استفسار پر وہ جو خطوط کے لفافے پر لگی اسٹيمپ کا جائزہ لينے ميں مگن تھا مسکرا کر ماں کو ديکھنے لگا۔
“ہاں ميں جانتا ہوں اور بہت اچھے سے جانتا ہوں اسے۔ پتہ ہے کيا ممی۔ ماؤں کو سادہ لوح کبھی نہيں ہونا چاہئيے۔ يہ جو اسٹيمپ ہے يہ يہيں کے پوسٹ آفس کی ہے۔ اور جس لڑکی نے ان خطوط ميں غازان سے محبت کے دعوے کئے ہيں وہ ابيشہ ہر گز نہيں ہے۔ اگر وہ ايسی ہوتی تو بہت سے مواقع تھے اس کے پاس جنہيں وہ بڑی آسانی سے استعمال کرکے آج يہاں اس گھر ميں ہوتی۔ اگر غازان اسے پسند کرتا بھی تھا تو اس نے کبھی ابيشہ کو تو کيا کسی کو بھی اپنی يک طرفہ پسند کی بھنک تک پڑھنے نہيں دی۔ ماں اس کی محبت تو بہت پاکيزہ تھی اس ميں کہيں کوئ ہوس کا گزر بھی نہيں تھا۔ يہ خطوط کسی ايسے بندے نے لکھے ہيں جو غازان کو تو جانتا ہی ہے وہ ابيشہ کو بھی بہت اچھے سے جانتا ہے اور جہاں تک ميرا شک ہے وہ ندا کے علاوہ اور کوئ نہيں۔ جبکہ ابيشہ کے بارے ميں بھی ذکيہ آنٹی نے ہی آپ کے ذہن ميں يہ گرہ ڈالی۔ ممی اگر ہم شاطر نہيں ہيں اس کا مطلب يہ نہيں کہ دنيا ميں کوئ بھی شاطر نہيں۔ دنيا بھری پڑی ہے ايسے لوگوں سے۔ اور يہ تصاوير بڑی مہارت سے ايڈيٹ کی گئ ہيں۔ اور يہ تصوير۔ يہ ہمارے اسپورٹس ڈے کی ہے جس ميں علی غازان کے ہمراہ کھڑا تھا۔ ميں آپ کو يہ اصل تصوير لا کر دکھاؤں گا۔ ممی ابيشہ کو ميں بہت جلد آپ سے ملوانے لاؤں گا۔ وہ ويسی بالکل نہيں جيسا ان خطوط نے اسے آپکے سامنے ظاہر کيا ہے۔ مليں گی تو جان جائيں گی۔ آپ کے بيٹے کی پسند کتنی پاک تھی۔ ممی اگر ابيشہ نے يوں غازان کو بدنام کرنا ہوتا تو پچھلے چھ مہينوں سے وہ آپ کے بيٹے کو بے قصور ثابت کرنے کے لئيے خوار نہ ہورہی تھی۔ ممی وہ تو فرشتہ ہے ہمارے لئے اور بہت جلد وہ غازان کو بے قصور ثابت کرنے ميں کامياب ہو جاۓ گی۔ ممی شايد اس سے بہتر لڑکی غازان کے لئے اور کوئ ہو ہی نہيں سکتی۔” رومان کی باتيں سن کر وہ جتنا حيران ہوتيں اتنا کم تھا۔
“کيا مطلب کيا کررہی ہے وہ غازان کے لئے”
“ابھی نہيں بہت جلد آپ کو بتاؤں گا۔اور ان خطوط کے پيچھے کون سا مکروہ چہرہ ہے وہ بھی جلد ہی بے نقاب کروں گا” شفق کے ماتھے پر پيار کرتے وہ لفافہ اٹھاۓ رومان کمرے سے باہر جاچکا تھا۔
__________________________
اگلے دن رومان ان خطوط ميں سے ايک لفافہ لے کر قريبی پوسٹ آفس گيا۔ ان خطوط ميں لگی پوسٹ آفس کی اسٹيمپ پر ايک ہی نمبر درج تھا۔ جس کا مطلب تھا يہ خطوط کسی ايک ہی پوسٹ آفس کے ذريعے سے بھجواۓ گۓ ہيں۔
وہاں پہنچ کر اسے قريبی علاقے کے ايک اور پوسٹ آفس کا بتايا گيا جہاں سے يہ ان خطوط نکلے تھے۔ وہ فورا وہاں پہنچا۔
“اسلام عليکم ميں رومان ہوں۔ مجھے آپ کی کچھ مدد چاہئيے۔” وہاں طعنيات ايک آفسر سے اس نے سلام دعا کرکے اس کی مدد لينی چاہی۔
“وعليکم سلام بيٹھيں بيٹا” مصافحہ کرکے اس نے رومان کو اپنے سامنے والی کرسی پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
رومان نے ہاتھ ميں تھاما خط اس کی ٹيبل پر لکھا۔
“سر کيا آپ بتا سکتے ہيں کہ کچھ ماہ پہلے يہ اور اس طرح کے بہت سے خطوط کون يہاں لان کر اسٹيمپ لگواتا تھا۔” اس کے پوچھنے پر وہ شخص کچھ دير تو سوچ ميں پڑا۔
“آپ کو کيوں پتہ کرنا ہے”
“سر کچھ ضروری معاملات ہيں۔ سمجھ ليں کے کچھ ذاتی وجوہات ہيں۔ جو فيملی سے متعلق ہيں۔ تو اگر آپ مدد کرسکيں تو ميں بہت شکرگزار ہوں گا” رومان نے گول مول جواب ديا۔
“ميں اپنے اسٹيمپ آفسر کے پاس آپکو بھيجتا ہوں آپ اس سے معلوم کرليں۔ اگر وہ جانتا ہوا تو ضرور آپکی مدد کرے گا۔ اول تو ا ۔اتنے لوگ آتے ہيں کہاں ياد رہتا ہے” اس نے کہتے ساتھ ہی بيل بجا کر آفس بو اۓ کو بلوايا
“انہيں حفيظ صاحب کے پاس لے جاؤ” جيسے ہی آفس بواۓ اندر آيا اس شخص نے رومان کی جانب اشارہ کرتے اسے ساتھ جانے کو کہا۔
“آپکے تعاون کا بہت شکريہ سر” رومان نے اٹھتے ہوۓ ايک مرتبہ پھر اس سے ہاتھ ملايا۔
کچھ دير بعد وہ حفيظ صاحب کے آفس ميں موجود تھا۔
“جی جناب تو ميں آپکی کيا مدد کرسکتا ہوں” رومان کو اپنی ٹيبل کے دوسری جانب موجود کرسی پر بيٹھنے کا اشارہ کرتے اس شخص نے بات کا آغاز کيا۔
“اس ايڈريس سے آپ واقف ہيں۔ کيا آپ بتا سکتے ہيں کہ ان خطوط پر کون يہاں آکر اسٹيمپ لگواتا يا لگواتی تھی؟” رومان نے بيٹھتے ساتھ ہی اپنے آنے کا مقصد بتايا۔
“ايڈريس تو کچھ جانا پہنچانا ہے” اس شخص نے خط پکڑتے ہوۓ پرسوچ انداز ميں سر ہلايا۔
“کيا ان دونوں ميں سے کوئ تھا” رومان نے ذکيہ اور ندا کی موبائل پر ايک تصوير نکال کر اس شخص کے سامنے کی۔ جسے آتے ہوۓ وہ اپنی فيملی فوٹوز کی ايک البم ميں سے نکال کے لے آيا تھا۔ پچھلے سال ہی کسی گيٹ ٹوگيدر ميں يہ تصوير لی گئ تھی۔
“ہاں بالکل يہ دائيں جانب والی خاتون يہ خطوط کافی دنوں تک روزانہ يہاں لاتی تھيں” اس شخص نے فوراّّ ذکيہ کو پہچانتے نشاندہی کی۔
رومان نے شکر کا سانس ليا۔
“بہت شکريہ سر” رومان نے تصویر واپس جيب ميں رکھی۔ خط والا لفافہ لے کر اس شخص سے مصافحہ کرکے باہر آگيا۔
________________________
“ڈيڈی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے اگر آپکے پاس ٹائم ہو تو” وہاں سے نکل کر وہ سيدھا سکندر صاحب کے آفس پہنچا۔ ان کے پی اے سے اجازت لے کر وہ ان کے روم ميں داخل ہوا۔
“بيٹھو” مصروف سے انداز ميں کچھ فائلز چيک کرتے انہوں نے آنکھوں پر لگے نظر کے چشمے کے اس پار نظر آتے رومان پر ايک نظر ڈالتے اسے بيٹھنے کا کہا اور پھر واپس فائلز چيک کرنے ميں مصروف ہوگۓ۔ کچھ دير کی خاموشی کے بعد بھی جب رومان کچھ نہيں بولا تو انہوں نے نظر اٹھا کر اسے ديکھا۔
“کہو ميں سن رہا ہوں”
“ڈيڈی کچھ ماہ پہلے غازان کے خلاف کچھ خطوط۔۔”
“پڑھ چکاہوں وہ سب۔ تمہاری ماں سمجھ رہی تھی کہ اپنے بيٹے کے کارنامے مجھ سے چھپا لے گی۔ باپ ہوں ميں تم لوگوں کا۔۔۔ اور پھر سب تصديق بھی ميں نے کروا لی تھی۔ جس لڑکی کے لئيے وہ بے غيرت ہماری عزت داؤ پر لگا گيا۔ اسے نہ صرف اپنے دوست کے آفس ميں نوکری دلوائ بلکہ يونيورسٹی ميں بھی آگے آگے ہوکر اسے اپنے رسالے ميں جگہ دی۔ کوئ لڑکی ايسے ہی کسی کے پيچھے پاگل نہيں ہوجاتی۔ اگر تم وہ خطوط پڑھ چکے ہو تو تمہيں اندازہ ہوچکا ہوگا کہ۔۔۔ شرم آتی ہے مجھے خود کو اس کا باپ کہتے ہوۓ۔۔۔ نجانے کب وہ ان سب چيزوں کی جانب متوجہ ہوا” فائل ايک جانب رکھتے وہ تکليف دہ لہجے ميں بولے۔
“کاش آپ واقعی بہت سی اور چيزوں کی بھی تصديق کرواتے۔ ڈيڈی مسئلہ پتہ ہے کيا ہے۔ آپ نے ہميں آزادی تو دے دی مگر ہم پر اعتبار نہيں کيا۔ اور جب ماں باپ اولاد پر اعتماد نہيں کرتے تبھی لوگ ان پر انگلياں اٹھاتے ہيں۔ آپ کو ياد ہے ايک مرتبہ پہلے جب اسد(ندا کا بھائ)کی بھری ہوئ سگريٹس پکڑی گئيں تھيں۔ اپنے پکڑے جانے کے خيال سے جب غازان اس کے گھر گيا تو اس نے رات ميں چپکے سے کسی لمحے وہ سگريٹس غازان کے اسکول بيگ ميں ڈال ديں۔آپ نے تب بھی ذکيہ آنٹی کے کہنے پر غازان کی بری طرح کھينچائ کی تھی۔ يہ جانے بغير کے اس بات ميں کس حد تک سچائ ہے۔ اور پھر جب وحيد انکل(ندا کے والد)نے خود اسے رنگے ہاتھوں وہ سگريٹس اس کے آوارہ دوستوں کے ساتھ پيتے ہوۓ پکڑا تھا تب آپ کو بھی يقين آيا تھا کہ غازان تو بے قصور تھا۔اور پھر اسد نے خود اعتراف کيا تھا کہ اپنے باپ کے ڈر سے اس نے وہ سگريٹس خود غازان کے بيگ ميں ڈالی تھيں۔ کيونکہ وہ اس رات غلطی سے وہ سگريٹس اپنے گھر لے آيا تھا۔ جنہيں وہ ماں باپ کے ساتھ چھپ کر پيتا تھا اور ذکيہ آنٹی نے بھی معذرت کی تھی کہ غلطی سے جب انہوں نے غازان کی کوئ بک اس کے بيگ ميں ڈالنے کے لئيے کھولی تو وہ سگريٹس اوپر ہی پڑی ہوئيں تھيں اور وہ يہ سمجھيں کہ غازان پيتا ہے اور وہ اسد کو بھی لگا دے گا۔ مگر اصل ميں ان کا اپنا بيٹا غلط تھا۔
بالکل اسی طرح ذکيہ آنٹی نے ايک مرتبہ پھر غازان کو ٹريپ کيا ہے۔ يہ تمام خطوط انہوں نے پتہ نہيں خود يا کسی اور سے لکھوا کر ہمارے گھر پوسٹ کئيے ہيں۔ اسی لئیے کہ انہوں نے ابيشہ کے ساتھ اس کا اسکينڈل بنا کر ممی کو فون کيا تھا۔ اور پھر اسی رات غازان نے ميرے اور علی کے کہنے پر ندا کو فون کرکے اس کا دماغ درست کيا تھا۔ ڈيڈی آپ نے کبھی مجھ پر، غازان اور منا پر يقين نہيں کيا تھا۔ منا کو بھی آپ نے ايک مرتبہ ايسی ہی سزا دی تھی جب اس کا کوئ کلاس فيلو اسے جان بوجھ کر رانگ کالز کرتا تھا آپ نے منا کو بھی تب اسکول سے اٹھوا ليا تھا۔ بعد ميں اس کی فرينڈز نے بتايا کہ نہ صرف منا بلکہ اور بھی بہت سی لڑکيوں کو وہ تنگ کرتا ہے۔ اور پھر اسے اسکول سے نکلوا ديا تھا۔ ڈيڈی اولاد ٹوٹ جاتی ہے بکھر جاتی ہے جب اس کے ماں باپ اس پر اعتبار نہيں کرتے۔
کيا آپ نے کبھی ہميں حرام کا ايک لقمہ بھی کھلايا۔ پھر آپ کيسے کہہ سکتے ہيں کہ ہم غلط راستوں کا تعين کرسکتے ہيں۔ اگر آپ کو يقين نہ آۓ تو ابھی ميرے ساتھ پوسٹ آفس چليں وہاں موجود بندہ خود تصديق کرے گا کہ يہ خطوط کون بھجواتا رہا۔ ڈيڈی يہ بہت واضح ہے کہ ذکيہ آنٹی جانتی تھيں کہ غازان کبھی ندا سے شادی نہيں کرے گا۔
اسی لئيے انہوں نے اسے ٹريپ کيا۔ اور وہ يہ بھی جانتی تھيں کہ آپ اپنی اولاد پر اعتبار نہيں کرتے اور وہی ہوا۔ مجھے اچھی طرح يفين ہے کہ جس طرح يہاں غازان بے قصور ہے ويسے ہی وہ اس رستم والی من گھڑت کہانی ميں بھی بے قصور ہے۔ پليز ڈيڈی آج کسی ايک لمحے ميں يہ سوچئيے گا کہ آپکی يہ بے اعتباری کہيں آپ کی ساری اولاد کو آپ سے دور جانے پر مجبور نہ کردے۔ اور ابيشہ کون ہے اور اس کا کہاں تک غازان سے تعلق ہے ميں بہت جلد آپ کو بتاؤں گا۔” وہ خط وہيں چھوڑ کر رومان ان کے آفس سے چلاگيا۔
مگر انہيں کٹہرے ميں کھڑا کرگيا۔
