Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Usay Panay Ki Chah (Episode 02)

Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas

غازان کو جيسے چپ لگ گئ تھی۔ اس دن کے بعد سے وہ انتہائ سنجيدہ دکھنے لگا تھا۔ اسٹوڈنٹس فيڈريشن ميں اس کا بے حد عمل دخل تھا۔ مگر اب اسکے کاموں سے بھی وہ غفلت برتنے لگا تھا۔

ہاں اگر اسکے اندر کوئ چيز نہيں بدلی تھی تو وہ اس لڑکی کی چاہ تھی۔

کچھ ہی دنوں بعد پوائنٹ ميں وہی لڑکی غازان کے آگے والی سيٹ پر بيٹھی تھی۔ غازان بظاہر اس سے لاتعلق اپنے کلاس فيلو اسد سے باتيں کرنے ميں مصروف تھا مگر دھيان سارا اسی کی جانب تھا۔ جوںہی غازان کا سٹاپ آيا وہ تيزی سے اترا نظر دائيں جانب اٹھی تو وہ بھی غازان کے اسٹپ پر اتری۔

وہ حيران ہوتا چل پڑا۔ کچھ دير بعد وہ لڑکی تيز قدموں سے چلتی ہوئ غازان سے آگے نکل گئ۔ ہاتھ ميں تھاما موبائل کان پر لگاۓ کچھ آگے جاکر وہ رک گئ۔ غازان کے قدموں کی رفتار سست پڑ چکی تھی۔ اسکے قريب سے گزرا تو اسکی جھنجھلائ آواز سنائ دی۔

“يار ميں تو ايل بلاک ميں ہی کھڑی ہوں ليکن تم جو نمبر بتا رہی ہو وہ يہاں نظر نہيں آرہا۔ عجيب کنفيوژن ہے ايل کے ساتھ کے کی جگہ بلاک نمبر کوئ اور ہی لکھا ہوا ہے۔ اوپر سے گھروں کے نمبر بھی عجيب ہيں۔ ميں اگر تمہيں بتاؤں تو کيا تم يہاں آکر مجھے نوٹس نہيں دے سکتی۔۔۔” غازان کی رفتار ابھی بھی سست تھی اسی لئيے وہ بآسانی اسکی گفتگو سن سکتا تھا۔

“افوہ۔۔۔حد ہے یار اچھا کچھ کرتی ہوں” اس نے پاس سے گزرتے غازان کو ديکھ ليا تھا۔ تيزی سے فون بند کرکے وہ غازان کے پيچھے لپکی۔

“ايکسکيوزمی” وہ جو کب سے اسی آس مين تھا کہ شايد وہ اس سے مدد لے۔ اسکی وہ خواہش پوری ہوگئ تھی۔

“جی” غازان نے ايسے پوز کيا جيسے ابھی ابھی اسے ديکھا ہو۔ آنکھوں ميں شناسائ کا کوئ تاثر نہيں تھا۔

“مجھے يہاں کہ ہاؤس نمبرز کی کچھ سمجھ نہيں آرہی ميں يہاں پہلی مرتبہ آئ ہوں۔ کيا آپ يہ ايڈريس ڈھونڈنے ميں ميری مدد کرسکتے ہيں” وہ بے زار انداز ميں اسے موبائل پر ايک ميسج دکھا کر بولی جس پر نمبر لکھا ہوا تھا۔

شومئ قسمت وہ ندا کے گھر کا تھا جو کہ غازان کے ڈيڈی کے فرينڈ کی بيٹی تھی اور غازان پر بری طرح فريفتہ تھی۔

“چليں ميں آپکو لے جاتا ہوں” غازان کی بات پر اس نے سکھ کا سانس ليا اور اسکے پيچھے نظريں جھکاۓ چل پڑی۔ نجانے اس پر اعتبار کرنے کو کيوں دل کيا تھا۔

شايد اس لئيے کے اس دن ان لڑکوں کی بے ہودہ گفتگو سے بچا کر اسکے دل ميں غازان کا مقام کافی اونچا ہوگيا تھا۔ وہ اپنے دھيان ميں چل رہی تھی مگر غازان کے دھيان کے سب دھاگے اس سے جڑے تھے۔ وہ تقريبا بيچ سڑک ميں سر جھکاۓ چل رہی تھی۔ سامنے سے يکدم ايک لڑکا گاڑی کو اڑاتا ہوا لا رہا تھا۔ قبل اسکے کہ وہ ابيشہ کو بھی اڑاتا ہوا لے جاتا غازان نے تيزی سے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھينچا۔ کچھ دير کے لئيے تو وہ حواس باختہ ہوگئ کہ يکايک یہ ہوا کيا ہے۔

“اتنی غافل ہو کر چل رہی تھيں آپ اگر جو ميں آپکی جانب متوجہ نہ ہوتا تو وہ گاڑی والا تو اڑا کر چلا جاتا آپکو” نجانے غازان کو کيا ہوا تھا يکدم اس پر برس پڑا۔

وہ حيران اسکی صورت ديکھ رہی تھی۔

“آئم سوری۔ اتنی اچانک وہ آيا تھا کہ مجھے تو پتہ ہی نہيں چلا” وہ وضاحت دينے لگ پڑی۔ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔ ابيشہ کا بازو اب بھی غازان کی گرفت ميں تھا۔ اسکا دل اس بری طرح تيز دھڑک رہا تھا جيسے وہ گاڑی والا ابيشہ کو نہيں اسے کچلنے لگا تھا۔

سر جھٹک کر وہ تيزی سے ناک کی سيدھ ميں چل پڑا۔

ابيشہ اسکا رويہ سمجھنے سے قاصر تھی۔

ايک گھر کے آگے رک کر وہ اسکی جانب مڑا۔

“يہ ندا کا گھر ہے ميں اس سامنے والے درخت کے پاس کھڑا ہونے لگا ہوں۔ آپ پہلے اسے کال کرکے بتائيں کہ آپ اسکے گھر کے سامنے ہيں اور ميرا ہر گز نہيں بتانا کہ ميں نے آپکی مدد کی ہے۔ آپ جيسے ہی اندر جائيں گی ميں بھی چلا جاؤں گا” اسے سب سمجھاتے وہ تيزی سے مڑ کر کچھ گھروں سے ہٹ کر بنے ايک درخت کے ساۓ ميں کھڑا ہوگيا۔

وہ پل پل ابيشہ کو حيران کررہا تھا۔ وہ کيوں اسکی اتنی پروا کررہا تھا يا اسکی عادت ہی يہی تھی لوگوں کی مدد کرنے کی۔ وہ اپنی سوچوں کو پيچھے دھکيل کر تيزی سے ندا کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔

“ہاں ميں تمہارے گھر کے سامنے کھڑی ہوں” اسکے فون اٹھاتے ہی ابيشہ بولی۔

فون بند کرکے بھی وہ جانتی تھی کہ کوئ بائيں جانب کھڑا بہت غور سے اسے ديکھ رہا ہے۔

اس نے غازان کی جانب ديکھنے کی غلطی نہيں کی۔ دل عجيب انداز سے دھڑک رہا تھا۔ جيسے ہی دروازہ کھلا وہ خود کو بائيں جانب ديکھنے سے روک نہيں پائ۔

غازان واپسی کے لئيے مڑنے سے پہلے آخری نگاہ اس پر ڈال کر ايک ہاتھ سے تھمبز اپ کا اشارہ کرکے مڑ گيا۔

جبکہ ابيشہ غائب دماغی سے اندر کی جانب بڑھی۔

“شکر تم پہنچ گئيں۔ کيسے ملا گھر” ندا اسے لئيے سيدھا اپنے روم ميں ہی آگئ۔

“بس مل ہی گيا۔ چلو جلدی سے نوٹس دے دو۔ مجھے جلدی نکلنا ہے” کمرے ميں رکھی ايک کرسی پر بيٹھتے ہوۓ اس نے جلدی سے اس سے کہا۔

“افوہ ہوا کے گھوڑے پر سوار آئ ہو کيا۔ دے ديتی ہوں پہلے کچھ پانی وانی تو پی لو” ملازمہ کو آواز دے کر جوس لانے کا کہا پھر واپس اسکے پاس آکر باتيں کرنے لگی۔

“ندا تمہارے پاس غازان کا نمبر ہے”اپنے لہجے کو خاطر خواہ سرسری سا بنانے کی اس نے پوری کوشش کی۔

“ہاں ہے۔ ميں نے تمہيں بتايا تھا نہ وہ ميرا فيملی فرينڈ ہے۔” ندااسکی بات پر زيادہ چونکی نہيں۔

“خيريت تمہيں کيوں چائيۓ” بيڈ پر بيٹھی وہ اپنی فائل ميں سے اسکے لئيے نوٹس نکال رہی تھی۔

“وہ سر شاہد نے آج بتايا تھا کہ وہ اسٹوڈنٹس فيڈريشن کا کافی کرتا دھرتا ہے۔ تو ميں نے جو نيا آرٹيکل لکھا تھا سر کہہ رہے تھے کہ اسکو دے دوں وہ ميگزين ميں شا‏‏ئع کروا دے گا” اس نے جلدی سے بات بنائ۔ اس نے شا‏ئع تو کروانا تھا مگر سر نے اسے ايسا کچھ بھی نہيں کہا تھا۔

“اچھا گريٹ يار يہ توزبردست آئيڈيا ہے۔ تم ابھی لو نمبر” کہتے ساتھ ہی ندا نے جوش ميں آتے موبائل پر غازان کا نمبر نکال کر اسے ديا۔ ابيشہ نے جلدی سے فيڈ کرليا۔

“تھينکس” ہلکے سے مسکرا کر ندا کا شکريہ کہا۔

“پليزر”

________________________

رات ميں سب کاموں سے فارغ ہوکر اور يہ اطمينان کرکے کہ ورشہ سوچکی ہے۔ ابيشہ نے غازان کو کال کرنے کا سوچا۔

غازان کا نمبر لينے کی اصل وجہ اسکا شکريہ ادا کرنا تھا۔ جس طرح دونوں مرتبہ غازان نے اسکی مدد کی تھی نجانے ابيشہ کو ايسا کيوں لگا کہ اسے غازان کو شکريے کا فون کرنا چاہئيے۔ يونيورسٹی ميں چونکہ وہ بہت کم کسی لڑکے سے بات کرتی تھی لہذا وہ خاص طور سے غازان کے ڈيپارٹمنٹ جاکر اسے شکريہ نہيں کہنا چاہتی تھی۔ اس نے اب تک بہت محتاظ زندگی گزاری تھی جس ميں کسی سکينڈل کی کوئ گنجائش نہيں تھی۔

اور غازان کے ساتھ جب کوئ لڑکی بات کرتی تو اسے دس آنکھيں جيلسی کی وجہ سے ديکھ رہی ہوتی تھيں۔ کيونکہ وہ خود بہت کم لڑکيوں سے بات چيت کرتا تھا۔ ضرورتاّتو کرليتا تھا مگر اس سے آگے دوستيوں والا کوئ چکر نہيں رکھتا تھا۔ اسکی اپنی ايک بہن تھی لہذا وہ عورت کے تقدس کو بہت اچھے سے جانتا تھا۔

نمبر ڈائل کئيے اسے زيادہ دير نہيں گزری تھی کہ دوسری جانب سے فون اٹھا ليا گيا۔

غازان انجانا نمبر ديکھ کر پہلے تو کچھ لمحے سوچ ميں پڑا پھر اٹھا ہی ليا۔

ابيشہ اسکی آواز کی گھمبيرتا سن کر کچھ لمحے تو کچھ بولنے کے قابل نہ رہی۔

“ہيلو۔۔کون ہے يا پھر ان وقت تنگ کرنے کے ارادے سے فون کيا ہے۔” اسکی آواز ميں ہلکی سی مسکراہٹ محسوس ہوئ۔

“ہيلو ميں ابيشہ بات کررہی ہوں آپکی يونيورسٹی کی ہوں اور۔۔ ” اس سے پہلے کے وہ اسے ياد دلاتی کہ آج دوپہر ميں اس نے جس لڑکی کی مدد کی تھی وہ وہی تھی کہ غازان خوشگوار حيرت سے اسے سنتا اسکی بات کاٹ گيا۔

“جی ابيشہ کيسی ہيں آپ”اسکے يکدم اسے جان لينے اور پھر ايسے بے تکلف انداز پر وہ بھونچکا رہ گئ۔ وہ اسکی طرح يونيورسٹی ميں مشہور نہيں تھی پھر وہ اسے کيسے جانتا تھا۔

“آ۔۔۔آپ مجھے کيسے جانتے ہيں” وہ ہکلا کر بولی اور اس سوال پر غازان کی سٹی گم ہوئ۔ اب وہ اسے کيا بتاتا کہ اس سے پہلی ملاقات کے بعد ہی اس نے ابيشہ کا سارا بائيو ڈيٹا پتہ کروا ليا تھا۔

“اصل ميں آپکی فرينڈ ندا ہماری فيملی فرينڈ ہے تو بس اسکے توسط سے آپکو جانتا ہوں” اس نے جلدی سے بات سنبھالی۔

“اوہ اچھا” وہ قدرے مطمئن ہوئ۔ غازان نے شکر کيا۔

“جی بتائيں ابيشہ” وہ اتنے ميٹھے انداز ميں اسکا نام بول رہا تھا کہ ابيشہ کو نا چاہتے ہوۓ بھی اسکے منہ سے اپنا نام سننا بہت اچھا لگا تھا۔

“وہ ايکچوئلی مجھے سر شاہد سے پتہ چلا تھا کہ آپ اسٹوڈنٹس فيڈريشن کے ايک ايکٹو رکن ہيں۔ ميں نے کچھ آرٹيکلز لکھيں ہيں اور سر کو وہ بہت اچھے لگے تو ميں سوچ رہی تھی کہ اگر وہ ہماری يونيورسٹی کے ميگزين ميں لگ سکيں تو کيا آپ ميری مدد کرسکتے ہيں” ابيشہ کو حقيقت ميں اپنے آرٹيکل چھپوانے تھے مگر غازان کے ذريعے يہ اس سے پہلے ابيشہ کے وہم و گمان ميں کہيں بھی نہيں تھا۔

“ديٹس گريٹ۔ہميں بہت سے ايسے بريلينٹ اسٹوڈنٹس کی ضرورت ہے۔ اور ہميں خوشی ہوگی اگر آپ ہميں موقع ديں کی کہ ہم آپکے ٹيلنٹ کو لوگوں کی نظر ميں لائيں۔ ميں کل صبح يونيورسٹی ميں آپ سے ملتا ہوں پھر” غازان کو اور کيا چاہ‏ئيے تھے جيسے بھی صحيح وہ اس لڑکی کے قريب رہنا چاہتا تھا اور اب تو قدرت موقع دے رہی تھی۔ مگر اسکی بات سن کر ابيشہ کا رنگ فق ہوا تھا وہ يونيورسٹی ميں يہ سب نہيں چاہتی تھی۔

“نہيں اصل ميں ميں يونيورسٹی ميں نہيں مل سکوں گی” اس نے جلدی سے کہا۔ غازان چونکا

“کيوں۔۔ ميں سمجھا نہيں آپکی بات” غازان نے اپنی الجھن بتائ۔

“آپ مجھے ای ميل دے ديں ميں آپکو سينڈ کردوں گی۔ آپ تو جانتے ہيں کہ يونيورسٹی ميں کوئ تھوڑی دير کے لئيے ہی بات کرے تو لوگ اسکينڈلائز کرديتے ہيں اور آپ تو ہيں بھی بہت مشہور تو ميں وہاں آپ سے بالکل بھی بات نہيں کرسکتی۔” اس نے معصوميت سے اپنا مسئلہ بتايا۔

غازان کے چہرے پر بڑی خوشگوار سی مسکراہٹ رينگ گئ۔اسے فخر ہوا کہ جس لڑکی کی جانب دل نے اکسايا ہے وہ کس قدر محتاط طبيعت کی مالک ہے نہيں تو يونيورسٹی ميں لڑکياں موقع ڈھونڈتی تھيں اسکے آگے پيچھے ہونے کا۔

“اوکے نو پرابلم۔ ميں ابھی اسی نمبر پر آپکو اپنا آئ ڈی بھيجتا ہوں” وہ فورا ہی مان گيا۔

“اور مجھے آپکا شکريہ بھی کہنا تھا” آخرکار ابيشہ اس اصل بات کی جانب آہی گئ جس کے لئيے اسکا نمبر ليا تھا۔

“کس بات کا” وہ حيران ہوا۔

“ايک مرتبہ پہلے بس ميں آپ نے ميری مدد کی تھی اور آج بھی جس طرح آپ گرمی ميں ميرے لئيے خوار ہوۓ۔ آپکا بہت بہت شکريہ” اسکا تشکر آميز لہجہ غازان کو بہت فارمل لگا۔

“آئ تھنک ميری جگہ کوئ بھی ہوتا تو وہ اسی طرح آپکی مدد کرتا۔ جب اللہ نے آپکی مدد کرنی ہوتی ہے تو وہ کسی نہ کسی کواس پر معمور کرتا ہے وہ چاہے ميں ہوتا يا کوئ اور۔ ان دونوں لمحوں ميں اللہ نے آپکی مدد کروانی ہی تھی۔ تو بس اللہ کا شکر ادا کريں ہم بندے تو اسکے حکم کے محتاج ہيں۔ ہماری کيا مجال کہ ہم کسی کی مددکريں۔ انسان تو خودمختار ہے ہی نہيں لہذا اس شکريہ کا کريڈٹ ميں لينا بھی نہيں چاہتا۔ اپنا خيال رکھئيے گا۔ اور جيسے ہی ميں ميل کروں آرٹيکلز بھیج دينا ميں انتظار کروں گا۔ اللہ حافظ” غازان کی اتنی خوبصورت سوچ نے ابيشہ کو اسکا اور بھی گرويدہ بنا ديا۔ ہولے سے خدا حافظ کرتے وہ کتنی ہی دير جيسے اسکی باتوں کے سحر سے نہيں نکل سکی۔ اپنی سوچوں ميں ہی ڈوبی رہتی کہ ميسج ٹون نے اسے اپنی جانب متوجہ کيا۔ غازان کا ای ميل ايڈريس ديکھ کر ساری سوچوں کو پس پشت ڈالتی وہ اسے اپنے آرٹيکلز بھيجنے لگی۔

___________________

“اسلام عليکم” غازان نے صبح ہوتے ہی ابيشہ کو کال کی۔

وہ اس وقت يونيورسٹی کے لئیے تيار ہورہی تھی۔ غازان بھی اپنی تياری کے ساتھ ساتھ فون کان سے لگاۓ ہوۓ تھا۔

“وعليکم سلام۔ کيسے ہيں آپ” ابيشہ نے متانت سے جواب ديا۔

“الحمداللہ ميں نے رات ميں آپکے آرٹيکلز پڑھے تھے۔ اور انکو پڑھنے کے بعد ايک بات پر تو ميرا يقين پختہ ہوگيا ہے کہ آپ بہت آگے جائيں گی” غازان کی بات سن کر وہ ہولے سے مسکرائ۔

“بہت شکريہ بس ابھی تو آغاز ہے۔ اس پذيرائ اور حوصلہ افزائ کا شکريہ۔ اس کا مطلب ہے ميرے آرٹيکلز ميگزين ميں شامل ہوجائيں گے؟” اسکی بات پر شيشے کے سامنے کھڑے ہوکر ايک ہاتھ سے بالوں ميں برش کرتے غازان کا ہاتھ لمحہ بھر کو تھما۔

“ميری اتنی تعريف کے بعد بھی کوئ شک کی گنجائش ہے” دوستانہ انداز ميں کہا۔

“نہيں مطلب۔۔” اسکی بات پر وہ خجل سی ہوئ۔

“پھر بات ہوگی انشاءاللہ” غازان اسکی شرمندگی محسوس کرکے الوداعی کلمات پڑھ کر فون بند کرکے اپنی باقی تياری کرنے لگا۔

______________

کچھ ہی دن بعد غازان کی کال آئ۔

“اسلام عليکم” ابيشہ نے فون ريسيو کرتے ہی سلام کيا۔ رات ميں بيٹھی وہ اپنی اسائنمنٹ پر کام کررہی تھی۔ ورشہ بھی پاس بيٹھی کام کررہی تھی۔

“وعليکم سلام کيسی ہيں” غازان کا مسکراتا لہجہ ابيشہ کو بے حد بھلا لگتا تھا۔ جتنا اس کے بارے ميں سنا تھا کہ وہ مغرور ہے کسی کو خاطر ميں نہيں لاتا ابيشہ کو کبھی ايسا محسوس نہيں ہوا تھا۔

“الحمداللہ ٹھيک۔ آپ بتائيں” اس نے بھی رواداری ميں اسکا حال پوچھا۔

“اس وقت ڈسٹرب کرنے کے لئيے معذرت اصل ميں کل ہمارے ميگزين کے ايڈيٹر آپ سے ملنا چاہتے ہيں تو بس اسی وجہ سے ميں نے آپکو کال کی۔حالانکہ انہوں نے مجھ سے آپکا کانٹيکٹ نمبر مانگا تھا مگر مجھے آپ سے پوچھے بنا دينا مناسب نہيں لگا۔ تو انہوں نے کہا کہ کل اگر آپ آفس آکر ان سے مل ليں۔ آپ سوچ کر ٹائم بتا ديں ميں بھی اس وقت وہيں موجود ہوں گا” غازان کی بات پر وہ جو پہلے گھبرائ تھی۔ اسکے وہاں ہونے کا سن کر قدرے مطمئن ہوا۔ کتنا کئيرنگ بندہ تھا۔

“اوکے ميں کل صبح ميں آپکو ٹيکسٹ کردوں گی” بالآخر کچھ توقف کے بعد اس نے کہا۔

“ٹھيک ہے تھينکس، اللہ حافظ” سہولت سے اسے الوداع کہتے اس نے فون بند کرديا۔

جبکہ وہ موبائل بند کرکے کچھ سوچنے ميں مگن تھی جب ورشہ نے اسکی محويت توڑی۔

“کيا ہوا کيا سوچ رہی ہو” ورشہ کے پوچھنے پر اس نے بس يہی بتايا کہ اس نے اپنے آرٹيکلز ميگزين ميں دئيے ہيں

“ارے يہ تو گريٹ نيوز ہے سمجھو تمہاری پروفيشنل لائف کا آغاز ہوگيا ہے” ورشہ خوشی سے بولی۔

“ابھی کہاں ابھی تو بہت لمبا سفر طے کرنا ہے” ابيشہ ٹھنڈی سانس کھينچ کر بولی۔

_______________________

اگلے دن پہلی کلاس لينے کے بعد اس نے غازان کو گيارہ بجے اسٹوڈنٹس فيڈريشن آفس جانے کا کہا۔

گيارہ بجے کے قريب جيسے ہی وہ آفس ميں داخل ہوئ۔ سامنے ايک ٹيبل کے پاس کھڑے غازان کو ديکھ کر چہرے پر اطمينان بکھرا۔

وہ جو وہاں آنے سے پہلے گھبراہٹ کا شکار تھی۔ اس وقت جيسے اسکا شائبہ تک نہ تھا۔

“اسلام عليکم” اسے اندر آتے ديکھ کر وہ جو ٹيبل کے ساتھ ٹيک لگاۓ کھڑا اپنے دوست علی سے باتيں کرنے ميں مصروف تھا۔ ابيشہ پر سلامتی بھيجتا ہوا سيدھا کھڑا ہوا۔

“وعليکم سلام” وہ سنجيدگی سے اسے جواب ديتی دروازے کے قريب ہی کھڑی ہوئ۔

علی نے بہت غور سے غازان کو ديکھا۔

“کيسی ہيں آپ يہ علی ہے ميرا بيسٹ فرينڈ اور يہاں کا ايک فعال رکن” غازان نے ابيشہ کا علی سے تعرف کروايا۔ اب کی بار علی بھی اپنی سيٹ چھوڑ کر تعظيماّّ کھڑا ہوتا ابيشہ کو سلام کرنے لگا۔

“اور علی يہ ابيشہ ہيں جن کے آرٹيکلز کچھ دن پہلے ہم نے ميگزين کے نۓ شمارے کے لئيے سليکٹ کئيے تھے۔” غازان نے اسکا مکمل تعارف کروايا۔

“اوہ اچھا کيسی ہيں آپ سس آج جو سر نے آپکو بلوايا تھا۔” علی ياد کرتے ہوۓ بولا۔

“جی اسی لئيے آئ ہوں” ابيشہ نے بھی ہولے سے مسکرا کر جواب ديا”

آئيں پھر” غازان اسے ايک جانب چلنے کا کہہ کر آگے آگے چلنے لگا۔ راہداری سے گزر کے وہ لوگ ايک کمرے کے سامنے پہنچے۔ جو يقيناّ وہاں کے ايڈيٹر کا آفس تھا۔

غازان نے آہستہ سے دروازے پر ناک کيا۔ اندر سے اجازت ملتے ہی وہ داخل ہوا ساتھ ہی ابيشہ کو بھی اندر آنے کا اشارہ کيا۔

“اسلام عليکم سر يہ ابيشہ ہيں۔” وہ اسکا تعارف کروانے لگا۔

“ارے آؤ بيٹا” ادھيڑ عمر سے سر آفتاب نہايت محبت سے بولے۔

“بيٹھو غازان” انہوں نے انہيں اپنی ٹيبل کے سامنے پڑی کرسيوں پر بيٹھنے کا کہا۔

“کيسی ہو بيٹا۔بھئ کيا غضب کا لکھتی ہو ميں تو بہت امپريس ہوا تمہارے آرٹيکلز پڑھ کر۔ کافی تيکھی باتيں مگر اتنے سہل انداز ميں کی ہيں کہ يقين جانو پڑھتے ساتھ ہی اوکے کرديا” وہ بے دريغ ابيشہ کی تعريف کرتے ہوۓ بولے۔

“بہت شکريہ سر بس ايک بے ضرر سی کوشش کی تھی” وہ کسر نفسی سے بولی۔

“اگر کوشش اتنی جان ليوا ہے تو باقی تو اللہ حافظ ہے” انہوں نے خوشگوار اندازميں کہا۔

وہ دونوں ہنس پڑے۔

“بھئ تم نے انہیں کيسے ڈسکور کيا” اب انکا رخ غازان کی جانب تھا

“انہوں۔۔۔ميں نے نہيں ايکچولی انہوں نے مجھے ڈسکور کيا۔سر شاہد نے انہيں ميرے بارے ميں تفصيل سے بتايا تھا تو بس پھر انہوں نے مجھے ڈھونڈ نکالا” غازان نے جس انداز ميں ابيشہ اور اپنی کسی ملاقات کا حوالہ دئيے بنا بات سنبھالی وہ ابيشہ کو اطمينان دلا گئ۔ وہ بندہ واقعی عورت کی عزت سے واقف تھا۔ ابيشہ کو يقين ہو چلا تھا۔

“بہرحال ميں اميد کرتا ہوں کہ آپ ہماری ميگزين کے لئيے آگے بھی يہ کوششيں جاری رکھوگی کيونکہ يہ صرف يونيورسٹی ميں ہی نہيں اور بھی بہت سی جگہوں پر پڑھا جاتا ہے” انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کيا۔

“ضرور سر میرے لئیے يہ اعزاز کی بات ہوگی ويسے بھی ميرا پروفيشن ہی آگے جاکر يہی ہوگا۔ اچھا ہے کہ ميری تحرير ميں ابھی سے نکھار آجاۓ” اس نے اثبات ميں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔

“بالکل بس آپکی تحرير پڑھنے کے بعد بہت دل کيا کہ اس اچھی بچی سے ملاقات ہو تو آپکو زحمت دی” انہوں نے اسے وہاں بلانے کا مقصد بتايا۔

“شکريہ سر” وہ سر جھکاتے ہوۓ بولی۔

اس سے پہلے کہ وہ اس سے چاۓ پانی کا پوچھتے وہ سہولت سے انکار کرگئ۔

“ايکچولی ابھی پندرہ منٹ بعد ميری کلاس ہے نہ ہوتی تو ضرور آپکے ساتھ ايک کپ چاۓ پيتی” رسانيت سے منع کرکے ان سے اجازت لے کر وہ دونوں باہر آۓ۔

“کانگريجوليشن” غازان نے اسکے ساتھ چلتے ہوے کہا۔

اسکی سواليہ نظريں اسکے وجيہہ چہرے پر اٹھيں۔

“ميرا خيال ہے يہ آپکا کاميابی کی طرف پہلا قدم ہے” غازان کے کہنے پر وہ مسکرائ۔غازان اس سے پہلے ہی نظر پھير چکا تھا۔ جانتا تھا اسکی مسکراہٹ ديکھی تو وہيں جکڑا جاۓ گا۔

“بہت شکريہ۔ اور اب نجانے اور کتنی مرتبہ آپکا شکريہ مزيد ادا کروں گی۔ کيونکہ اب ہر مرتبہ آرٹيکل دينے کے لئيے آپکو ہی تنگ کروں گی”

“ہزاروں بار” يہ بات غازان نے صرف دل ميں کہی۔

“ميرا خيال ہے اتنی ملاقاتوں کے بعد اب ہم اتنے اجنبی نہيں رہے۔ لہذا يہ شکريے والی فارميلٹی بھی اب نہيں ہونی چاہئيے” نظريں جھکاۓ جھکاۓ اس نے کہا۔

“کوشش کروں گی” وہ دونوں علی کے پاس آچکے تھے۔

“اب ميں چلتی ہوں” کہتے ساتھ ہی انہيں خداحافظ کہتے وہ دروازے کی جانب بڑھی۔

“معاملہ کيا ہے” اسکے جاتے ہی علی نے غازان کی جانب رخ کيا۔

وہ چونکا۔

“کيا مطلب؟” سواليہ انداز ميں پوچھا۔

“غازان سکندر کسی لڑکی سے اتنے ميٹھے انداز ميں نہ صرف بات کررہے ہيں بلکہ اسے ديکھتے ہی اپنی آنکھوں کی چمک کو بھی روک نہيں پارہے” علی کے شرارتی انداز پر بمشکل اس نے اپنی درآنے والی مسکراہٹ چھپائ۔

“بکواس نہيں کرو” علی نے اپنی کرسی کا رخ اسکی جانب کيا۔ جو اپنے ٹيبل کے پاس رکھی کرسی پر بيٹھا کچھ فائلز چیک کرکے مصروف نظر آنے کی کوشش کررہا تھا۔

“ميری جان يہ بکواس نہيں۔ معاملہ کچھ اور ہے اتنی آسانی سے تو تو بتاۓ گا نہيں ليکن ميں بھی تيرا پيچھا چھوڑنے والوں ميں سے نہيں” علی کی بات پر بھی اس نے سر نہيں اٹھايا۔

__________________

رات ميں وہ اپنے کمرے ميں بيٹھا کام کرنے ميں مصروف تھا کہ رومان دروازہ ناک کرکے اندر آيا۔

“يہ ميں کيا سن رہا ہوں” اسکی بات پر غازان نے سر اٹھا کر حيرت سے اسے ديکھا۔

“کيا؟”

“يہی کے ميرا بھائ کسی کے عشق ميں گرفتار ہے وہ بھی اپنی يونی کی کسی بچی کے۔ مگر مجھے افسوس ہوا کہ تو نے مجھے بتانا بھی گوارا نہيں کيا” رومان کی زبان رکنے کا نام نہيں لے رہی تھی۔

اسکی بات کا مفہوم سمجھتے ہوۓ غازان کا دل کيا کاش علی اسکے سامنے ہوتا تو اسکا گلہ دبانے ميں وہ ايک لمحے کی بھی تاخير نہ کرتا۔

“يہ سب بکواس علی نے کی ہے” جانتا تو وہ تھا پھر بھی اس نے تصديق چاہی۔

“اس مرتبہ علی مجھ سے جيت گيا۔ اس نے ميری ہونے والی بھابھی مجھ سے پہلے ديکھ لی” رومان کا غير سنجيدہ انداز غازان کا پارہ ہائ کر رہا تھا۔

“بکواس نہيں کرو ايسی کوئ بات نہيں ہے يہ صرف علی کی بکواس ہے۔ اس نے صرف آرٹيکلز دينے کی بات کی تھی ميں نے اسکی مدد کی اور۔۔۔”

“اور پھر دل ہار ديا” رومان نے اسکی بات اچک لی۔

“تم اب مار کھاؤگے ميرے سے ايسا کچھ بھی نہيں ہے” اسے دھمکا کر وہ واپس اپنی نظريں ليپ ٹاپ کی اسکرين پر جماتا ہوا زور و شور سے نفی کرنے لگا۔

“قسم کھا” وہ اسکے مقابل بیڈ پر بيٹھتے ہوۓ بولا۔

“دماغ خراب ہوگيا ہے۔ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ميں قسم نہيں کھاتا” رومان کو گھورا۔

“چل بيٹا ديکھ ليں گے کب تک چھپے گا” اسکے مسلسل انکار سے رومان مايوس ہوتا اٹھ گيا۔

رومان کے چلے جانے کے بعد بھی کتنی ہی دير وہ کام کرنے کے قابل نہيں رہا تھا۔ وہ تو سات پردوں ميں اپنی محبت کو چھپانا چاہ رہا تھا يہ تشہير کيسے ہورہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *