Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Usay Panay Ki Chah (Episode 10)

Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas

“تم۔۔تم کيا جانتی ہو اور تمہيں يہ کہاں سے ملے” کچھ دير کی خاموشی کے بعد نتاشا نے ہچکچاتے ہوۓ ابيشہ سے پوچھا۔ مسلسل نظريں چرا رہی تھی۔

“ميں تمہيں سب کچھ بتاؤں گی۔ اور وہ سب سنوں گی بھی جو اس رات وہاں لائبريری ميں ہوا۔ مگر صرف ايک سوال کا جواب دے دو پھر جو کہوگی بتاؤں گی” ابيشہ کی بات پر اس نے لمحے بھر کو ابيشہ کو دیکھا۔

“پوچھو” سوکھے ہونٹوں پر زبان پھير کر وہ بدقت بولی۔

“تمہيں برباد کرنے والا کون تھا اور تمہيں بچانے والا کون تھا؟” ابيشہ نے ٹھہر ٹھہر کر ايک ايک لفط پر زور ديتے ہوۓ پوچھا۔

“آہستہ بولو” وہ خوف سے دروازے کی جانب ديکھتے ہوۓ کپکپاتی آواز ميں بولی۔

“مجھے نہيں پتہ تم کيا کہہ رہی ہو” اپنی آواز کو مضبوط بناتے وہ ہر حقيقت سے مکر رہی تھی۔

“ٹھيک ہے پھر ميں يہ دونوں چيزيں بمعہ تمہاری اس ويڈيو کے جس ميں تمہيں نے يہ پہن رکھی ہيں تمہارے منگيتر کو دے ديتی ہوں۔ تاکہ وہی تم سے کچھ پوچھے۔” ابيشہ نے دوپٹہ اور بريسليٹ اٹھاتے لاپرواہ انداز ميں بھی اتنی کڑی دھمکی دی جسے سن کر ہی نتاشا کانپ گئ۔

“ميں ميں بتاتی ہوں۔”ابيشہ کے بازو کو اپنے دونوں ہاتھوں ميں تھامتے وہ التجائيہ لہجے ميں بولی۔

“رس۔۔۔رستم نے اس دن مجھے۔۔۔۔ اور غازان نے آکر مجھے بچايا تھا۔” ابيشہ نے گہری سانس خارج کرتے آنکھيں بند کيں۔ ايسے لگا اندر باہر ہر وہ زخم جو غازان کی تذليل کے سبب اسکی روح پر لگا تھا اس پر کسی نے پھاۓ رکھ دئيے ہوں۔

آنکھيں کھول کر وہ پيچھے کو ہوکر بيٹھی۔ نتاشا کے ہاتھ اپنے ہاتھ ميں لئيے۔

“يہ سب کيوں اور کس لئے رستم نے کيا” ابيشہ نے اپنے سوالوں کا سلسلہ شروع کيا۔

“تم ايسا کرو ميرے کمرے ميں ہی چلو يہاں کوئ بھی گزرتا ہوا ہماری بات سن سکتا ہے اور ميری فيملی ميں اس بات کی بھنک بھی ابھی تک کسی کو نہيں پڑی۔ پليز” اس نے يکدم کھڑے ہوتے ابيشہ کو اپنے ہمراہ آنے کا اشارہ کيا۔

نتاشا کے کمرے ميں آتے ہی پہلے اس نے کمرہ لاک کيا کہ کہيں کوئ اچانک بھی يہاں نہ آ جاۓ۔

“بيٹھو” اپنے بيڈ پر ابيشہ کو بيٹھنے کا اشارہ کيا۔

خود بھی اس کے سامنے سر جھکا کر بيٹھ گئ۔

“رستم جيسے اوباش جنہيں حرام کی کمائياں منہ کو لگی ہوں وہ کبھی بھی يہ نہيں ديکھتے کہ وہ جو کام کرنے چلے ہيں وہ کسی کے خاندان کو کس حد تک گزند پہنچا سکتا ہے۔ نہ جانے ايک وقت ميں کتنے اقئیر وہ چلاتا ہے۔ اور سب کو ايک جيسا سمجھتا ہے۔ اور اگر کہيں کوئ لڑکی اسے اس کے مزاج کے مطابق نہ ملے تو پھر غلط طريقے سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ميرے ساتھ بھی ايسا ہی ہوا۔ غلطی سے ميں ڈيڈی کے ساتھ ايک منسٹر کے بيٹے کی شادی ميں چلی گئ وہيں يہ گھٹيا شخص بھی آيا ہوا تھا۔ اس نے مجھے ديکھا اور پاگل ہی ہوگيا۔ اسی دن اس نے کھانے کے ٹائم پر مجھ سے بات چيت کرنے کی کوشش کی مگر مجھے پہلے سے اس کی شہرت کا پتہ تھا لہذا ميں نے اس سے کڑے انداز ميں بات کی تاکہ وہ خود ہی انسلٹ سمجھ کر ميرا پيچھا چھوڑ دے۔ مگر وہ تو جيسے اور بھی پيچھے پڑ گيا۔ نجانے کيسے اس نے ميرے بارے ميں ساری انفارميشن لی اور پھر مجھے يونيورسٹی ميں تنگ کرنے لگا۔ ميں نے اچھا خاصا ڈراوا ديا۔ ڈيڈی کا بتايا۔ اپنے فيانسی تک کا بتايا مگر وہ تو جيسے بالکل ہی ڈھيٹ بن گيا۔ کسی چيز کا کوئ اثر نہيں ہوا۔ بس يہی کہتا کہ ايک مرتبہ مجھ سے اکيلے ميں مل لو۔

ميں نہيں جانتی اس رات کيسے وہ لائبريری کھلی تھی۔ شايد اس نے غازان کو لائبريرين کو لائبريری کھلی رکھنے کا کہتے سن ليا تھا۔

ميں اس شام لائبريری کے ساتھ والی کلاس ميں اپنا کيمرہ اور بيگ رکھا تھا ميرے ساتھ ميری اور فرينڈز کی بھی وہيں چيزيں تھيں۔ ہم نے سوچا يہاں رکھ ديتے ہيں واپسی پر لے ليں گے اب پورے فنکشن ميں کہاں اٹھائ اٹھائ پھريں گے۔ بس وہيں سے ميری زندگی کی وہ سياہ رات شروع ہوئ۔

اس خبيث انسان نے مجھے اوپر جاتے ديکھ ليا اور ميرے پيچھے آگيا۔

ميں اپنے دھيان ميں تھی مجھے اس کے دبے پاؤں آنے کا پتہ نہيں چلا۔ اور نيچے اتنا شور تھا کہ کسی کو آواز تک نہيں گئ۔

وہ مجھے گھسيٹتا ہوا لائبريری لے گيا اور پھر اس سے پہلے کے وہ مجھ پر حاوی ہوتا غازان آگۓ۔ اور مجھے وہاں سے بھاگ جانے کو کہا۔

ابيشہ ميں اتنی بہادر نہيں کہ خود کے ساتھ ہونے والے ايسے سانحہ کو خندہ پيشانی سے قبول کروں۔ ميں عام لڑکی ہوں جسے معاشرے کی باتوں کا بے حد خوف ہے ميں يہ سب منظر عام پر نہيں لا سکتی تھی اسی لئے چھپ گئ۔” وہ روتے ہوۓ سب کچھ بتاگئ۔

“تو کيا تم ايسے ہی بزدلوں کی طرح زندگی گزاردوگی۔ ابھی بھی تم اس فيز سے نہيں نکليں تو سوچو آج نہيں تو کل تمہاری شادی ہوگی تو کيا تب بھی تم ايسے ہی رہو گی۔ کيا تمہارے منگيتر کو شک نہيں ہوگا۔ تم اسی لئے ابھی تک خود کو سنبھال نہيں پا رہيں کيونکہ تم بزدلوں کی طرح يوں منہ چھپا کر بيٹھ گئ ہو۔ کيونکہ تم نے سزاوار کو سزا دلوانے کے لئے کچھ نہيں کيا۔ کيونکہ ايک بے گناہ شخص کو گناہگار بنانے کا قصور تمہارے سر ہے۔ اور جب تک تم خود آگے بڑھ کر رستم کا اصل چہرہ دنيا کے سامنے نہيں لاؤ گی تم کبھی نارمل زندگی نہيں گزار سکتيں۔ يہ ناگ ہمشيہ تمہارے سر پر منڈلاۓ گا کہ کہيں تمہارے منگيتر کو کچھ پتہ نہ چل جاۓ۔ اور اس طرح تم کبھی پرسکون زندگی نہيں گزار سکتيں۔” ابيشہ کے آ‏ئينہ دکھانے پر وہ نظريں چرا کر رہ گئ۔

“تمہارے خيال ميں ہمارا معاشرہ اور لوگ اتنے کھلے دل کے ہيں کہ وہ مجھے پھر قبول کريں گے۔ حالانکہ ميرے دامن پر کوئ داغ نہيں لگ سکا۔ مگر پھر بھی ميرے منظر عام پر آتے ہي نجانے کون کون کيا کيا بولے ميں کس کس کو اپنے پاک دامن ہونے کا ثبوت دوں گی۔ کس کس کو يہ بتاؤں گی کہ رستم کو اس رات غازان نے اپنے ارادوں ميں کامياب نہيں ہونے ديا اور کيا ارسل (منگيتر)مجھے قبول کرلے گا” وہ خود کلامی کے سے انداز ميں اپنا ہر خدشہ ابيشہ پر ظاہر کررہی تھی۔

“نتاشا مجھے لوگوں کا تو نہيں پتہ ليکن اگر تمہارے گھر والوں کو تم پر اعتماد ہے اور تمہارا منگيتر تم سے سچی محبت کرتا ہے تو پھر انہيں اس بات سے کوئ غرض نہيں ہونی چاہئيے کہ دنيا کيا کہتی ہے انہيں تمہارے کہے پر يقين کرنا چاہئيے۔ اور کچھ رشتوں ميں تو کبھی کبھی وضاحت کی ضرورت بھی نہيں ہوتی آپ کسی پر اعتماد کرتے ہيں تو اس کے بن کہے آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ يہ شخص جھوٹا نہيں ہے۔ بس ميں تمہيں اتنا ہی کہوں گی۔ کہ تمہاری خاموشی کہيں کسی بے قصور کے لئے عمر بھر کی سزا نہ بن جاۓ اور جو سزاوار ہے وہ تمہاری اس خاموشی اور لا تعلقی کے سبب نجانے اور کتنی نتاشا کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا جاۓ۔

تم جانتی ہو تمہاری اس چپ کے سبب وہ شخص جس نے تمہيں اس درندے سے بچا کر نيکی کی۔ پچھلے کتنے ماہ سےاپنی اس نيکی کاخميازہ بھگت رہا ہے۔ جسے اس کے گھر والوں نے اکيلا کرديا ہے۔ دريار غير ميں نجانے کہاں کہاں کی خاک چھانتا پھر رہا ہے۔

اپنوں کی نظروں ميں معتوب ٹھہرا ہے۔ اپنے گھر اور حتی کے اپنے ملک سے بھی دور جاچکا ہے۔ اس کا کيا قصور تھا۔

اور نتاشا ياد رکھنا ان سب کے پيچھے قصوروار تم بھی ہوگی۔ اللہ نے ظلم کو روکنے کے تين درجے بتاۓ ہيں۔ ہاتھ۔ زبان اور پھر دل ميں برا جاننا۔ تم باقی دو نہ کرو مگر زبان سے اسکے خلاف گواہی دے کر اللہ کے سامنے تو معتبر بن جاؤ۔

يہاں اگر نہيں تو وہاں اس دنيا ميں اللہ جب تم سے پوچھے گا کہ ايک بے قصور تمہاری خاموشی کی بھينٹ چڑھ گيا اور ايک ظالم تمہاری خاموشی کے سبب ظلم وستم کرتا رہا۔ تب بتاؤ نتاشا تم اللہ کو کيا جواب دے پاؤ گی۔ يا تب بھی خاموش رہو گی۔ مگر وہاں خاموش نہيں چلے گی۔ يا سزا يا جزا تو پھر جزا والوں ميں کيوں نہ اپنا شمار کرواؤ۔” ابيشہ کا ايک ايک لفظ اسے سوچوں کے گرداب ميں لے جارہا تھا۔

کيا کرے کيا نہ کرے کی کشمکش بڑھتی جارہی تھی۔

اسے خاموش ديکھ کر ابيشہ نے ايک گہرا سانس کھينچا۔

پھر اپنے بيگ سے کچھ نکال کر اسکی جانب بڑھايا۔

“يہ ميرا نمبر ہے جب بھی تم يہ سمجھو کے دل کا بوجھ بڑھ گيا ہے اور اسے اتارنے کا خيال ہو تو مجھے کال کردينا ميں تمہارے فون کا انتظار کروں گی” نتاشا کے وہ پرچہ تھام لينے پر ابيشہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئ۔

“اور ہاں اگر ارسل کو تم سے سچی محبت ہے تو نہ صرف وہ تمہاری سنے گا بلکہ تمہارا ساتھ بھی دے گا۔ محبت مشکل ميں آپکو کبھی اکيلا نہيں چھوڑتی۔خداحافظ” کہتے اس نے قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔ ساتھ ہی رومان کو آنے کا ميسج بھی کرديا۔

_______________________

تين ماہ بعد

روزانہ کی طرح آج پھر وہ اپنا موبائل صبح سے اب تک نجانے کتنی مرتبہ چيک کرچکی تھی۔ شام کے ساۓ گہرے پڑ رہے تھے۔ جلدی جلدی کام سميٹ کر اس نے گھر جانے کا ارادہ باندھا۔

فائلز بيگ ميں ڈال ہی رہی تھی کہ يکدم موبائل کی آواز گونجی ہاتھ بڑھا کر فون اٹھايا۔کوئ انجان نمبر تھا پھر بھی اسے اٹھانا اسکی مجبوری تھا۔

“اسلام عليکم” اپنے مخصوص انداز ميں سلام کيا۔

“وعليکم سلام۔ ابيشہ بات کررہی ہو” دوسری جانب کوئ لڑکی تھی۔ ابيشہ کا دل اچانک بے حد زور سے دھڑکا۔

“جی۔۔۔آپ؟” دل مسلسل ايک ہی نام کا ودر کرنے لگا۔

“نتاشا۔۔۔ ابھی اور اسی وقت تم سے ملنا چاہتی ہوں جگہ کا انتخاب تم خود کرلو” مسکراتے لہجے ميں اپنا تعارف کرواتے جو کچھ اس نے کہا۔ پچھلے تين ماہ سے ابيشہ اس کے انتظار ميں تھی۔

ايک ريسٹورينٹ کا نام بتاتے ابيشہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ تيزی سے باقی کی بھی چيزيں سميٹيں۔ موبائل اٹھايا۔ آفس سے باہر آکر کيب لی۔ ڈرائيور کو اسی ريسٹورينٹ کا نام بتايا جس کا نام کچھ دیر پہلے نتاشا کو بتايا تھا۔

ايک ايک لمحہ انتظار کرنا مشکل لگ رہا تھا۔ بيس منٹ بعد وہ دونوں ريسٹورينٹ ميں ايک دوسرے کے آمنے سامنے تھيں۔

“کيسی ہو” نتاشا نے نرم مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ پوچھا۔

“بہت لمبا انتظار کروايا” ابيشہ نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب ديا۔

“ہاں يہ سب آسان نہيں تھا۔ تمہارے جانے کے بعد تمہارا ايک ايک لفظ بہت دن مجھے تازيانے کی طرح لگا۔ پھر اللہ سے بے حد دعا مانگی اور نجانے کيسے مگر اس نے مجھے حوصلہ ديا۔

ميں شروع سے ہی پاپا کے زيادہ قريب رہی ہوں۔ تو بس سوچا کہ سب سے پہلے انہيں اس راز ميں شريک کروں۔ انجام کی ميں نے پرواہ کرنی ہی چھوڑ دی۔

پاپا نے بہت تحمل سے سب سنا مگر پھر بہت سے دن انہيں جيسے چپ لگ گئ۔

اور مجھے لگا ميں نے غلطی کردی۔ کچھ دن يوں ہی رہا اور پھر ايک دن پاپا نے ارسل کو گھر بلايا۔ وہ دونوں اسٹڈی ميں چلے گۓ اور تھوڑی دیر بعد مجھے بھی وہيں بلوايا۔

ڈيڈی نے وہ سب مجھے ارسل کے سامنے دہرانے کو کہا۔اف ابيشہ مجھے لگا آج ميرے رشتے کا يا تو آر ہوگا يا پار۔

ميں نے ہمت کرکے ارسل کو سب بتا ديا۔ تم نے سہی کہا تھا ابيشہ اگر اسے مجھ سے ہے تو وہ ميرا ساتھ دے گا” لب بھينچ کر آنکھوں ميں امڈنے والے آنسو بڑی مشکل سے نتاشا نے پيچھے دھکيلے۔

اس کی خاموشی پر ابيشہ کو لگا اسکے دل کی دھڑکن بھی رک گئ ہو۔

“اور اسے مجھ سے محبت ہے۔ اس نے مجھ پر کوئ الزام عائد نہيں کيا۔ وہ ميرے بار بار يہ کہنے پر بھی غصہ ہوا کہ ميرا دامن صاف ہے۔ ابيشہ ميں واقعی بے وقوف تھی جو لوگوں کی باتوں سے خوفزدہ ہوگئ۔

مجھے سب سے پہلے اپنے قريبی لوگوں کو اعتماد ميں لينا چاہئیے تھا۔ کاش ميں پہلے ايسا کرليتی تو اتنے پريشان کن دن نہ گزارتی۔

بہرحال يہ بہت سارے دن ميں نے اسی لئے لگاۓ کہ سب فيملی کو اس ميں انوالو کيا ہے۔ اور اب ميں ميڈيا۔ اخبار ہر جگہ اپنا بيان دينے کو تيار ہوں۔ جب جہاں تم کہو۔ مجھے کسی رستم کا خوف نہيں۔ بخدا کوئ خوف نہيں” ابيشہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے اس نے اپنی بات کا يقين دلايا۔

“بہت بہت شکريہ نتاشا تم سوچ نہيں سکتی تم نے مجھے کتنی بڑی خوشی دی ہے۔ سمجھو کسی بے گناہ کو بچا کر نجانے تم نے کتنی نيکياں اپنی قسمت ميں لکھوالی ہيں۔” ابيشہ نے دوستانہ لہجے ميں کہا۔

“ايک دو دن تک میں تمہارا بيان لوں گی۔ اس سے پہلے مجھے اپنے باس سے يہ بيان چھپوانے کے لئے اجازت لينی ہے۔ ميں ہر ثبوت لے کر پھر رستم کو ميڈيا پر ہائ لائٹ کروں گی اور ساتھ ہی ساتھ اس کے خلاف کيس کروں گی۔ تمہاری اور ايک اور لڑکی کی جانب سے جو اسکی ہوس کا نشانہ بنی تھی۔” ابيشہ نے اپنا لا‏ئحہ عمل ترتيب ديا۔

“ضرور۔ جب تم کہو”

__________________

“کيسی گزری رات جيٹ ليک کچھ کم ہوا” غازان ابھی ناشتے کی ٹيبل پر آکر ہی بيٹھا تھا کہ ساتھ بيٹھے رومان نے اسکی سوجی آنکھيں ديکھ کر سوال کيا۔

“ہاں يار بس کافی ليٹ نيند آئ اور جلدی آنکھ کھل گئ۔ ليکن بہتر ہے اب” چہرے پہ ہاتھ پھيرتے ہوۓ شفق کے ہاتھ سے جوس کا گلاس تھاما۔

“چلو ميں پھر آفس سے آجاؤں تو مارکيٹ چليں گے” رومان انڈے کا آخری پيس منہ ميں ڈال کر اپنا بيگ تھامے باہر کی جانب تيز قدموں سے بڑھا۔

“بھائ دوپہر کے کھانے ميں کيا اسپيشل بنائيں آپکے لئے؟” فروا (رومان کی بيوی) ناشتے کے برتن اٹھاتے ہوۓ بے تکلفانہ انداز ميں بولی۔

“بھابھی کچھ بھی بنا ديں ميں کبھی بھی کھانے کے معاملے ميں چوزی نہيں رہا۔ جو بھی پکے کھا ليتا ہوں” ہادی (رومان کے بيٹے)سے باتيں کرتے ہوۓ رک کر غازان نے جواب ديا۔

“منا کل آرہی ہے۔ جب سے تمہارے آنے کا سنا ہے بس بےچين ہوئ ہے کہ کسی طرح يہاں پہنچ جاۓ” شفق نے محبت سے اسے ديکھتے ہوۓ کہا۔

کل سے اب تک ان کی نظر ہی نہيں ہٹ رہی تھی غازان پر سے۔ انہيں يقين ہی نہيں آرہا تھا کہ وہ يوں ان کے سامنے بيٹھا ہے۔ باتيں کررہا ہے۔ چل پھر رہا ہے۔ خواب سا لگ رہا تھا۔

“اس چھوٹو کا نام کس نے رکھا تھا بہت پيارا نام ہے”ماں کی بات پر ہلکی سی مسکراہٹ ديتے اس نے سوال کيا۔

“ابيشہ نے” فروا روانی ميں بول گئ۔ پھر يکدم شفق کو ديکھ کر لب بھينچے۔

غازان اسکی بات پر کچھ لمحوں کے لئے ساکن ہوگيا۔ يہ نام۔۔يہ نام تو اسکے لئے زندگی کی واحد کرن تھا۔

“اسکی فرينڈ ہے اميشہ اس نے رکھا تھا” سفق نے فوراّّ بات سنبھالی۔

“بھابھی نے ابيشہ نہيں کہا” وہ حيرت سے ماں کو ديکھ کر بولا۔

“نہيں بھائ اميشہ بولا تھا” فروا نے اسکی تصحيح کی۔

“کيوں ابيشہ کون ہے؟” جان بوجھ کر اس نے سوال کيا۔

“نہيں کوئ نہيں۔۔۔مجھے شايد سننے ميں غلطی ہوئ ہے۔” نظريں چراتے اس نے جواب ديا۔ پھر يکدم اٹھ کر سيڑھيوں کی جانب بڑھا۔

“فروا” شفق نے فہمائشی نظروں سے فروا کو ديکھا۔

“سوری ممی” وہ نادم ہوئ۔

“ااٹس اوکے” انہوں نے مسکراتے ہوۓ اسے شرمندگی سے بچايا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *