Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas NovelR50582 Usay Panay Ki Chah (Episode 17)
Rate this Novel
Usay Panay Ki Chah (Episode 17)
Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas
وہ سر پکڑے بيٹھی تھی۔ کيا وہ نہيں جانتا کہ يہ سب ميں نے کس کے لئے کيا تھا۔ کيا رومان انجان تھا کہ ميرا اور غازان کا ايک خاموش تعلق بندھ گيا تھا۔
بے شک انہوں نے کوئ عہدوپيمان نہيں باندھے تھے۔ مگر کچھ رشتوں ميں کچھ کہنے کی ضرورت نہيں ہوتی۔
وہ بے شک اسکے انتظار ميں نہيں تھی۔ مگر وہ اس سے محبت کرتی تھی۔
ابھی جب ری يونين نائٹ ميں غازان سے ملی تب آخر ميں رومان کی کتنی کلاس لی تھی کہ اس نے ہوا تک نہ لگنے دی۔
تو کيا وہ تب بھی ابيشہ کی غازان کے لئے فيلنگز ديکھ کرکچھ نہ جان سکا تھا۔
ايک رات پہلے اسے فون کرکے اس کا ڈريس کلر پوچھا اور اگلے دن غازان سے ملنے پر اسے فون کا مقصد سمجھ آيا۔
کيونکہ دونوں کی کلرز کی ميچنگ تھی۔
“اف يہ سب کيا تھا پھر رومان” وہ ہاتھوں پر سر گراۓ الجھتی جارہی تھی۔
جب اس نے يہ کيس ليا تب بھی رومان نے کتنی مرتبہ اس سے پوچھا تم يہ سب کيا صرف انسانيت کے لئے کررہی ہو۔
تو کيا ان لمحوں ميں اس کے نظريں چرانے کا مفہوم وہ سمجھ نہيں سکا۔
سب کيا سوچيں گے۔ وہ تو نجانے کيا ٹھانے بيٹھا تھا۔ مگر ابيشہ نے بھی سوچ ليا تھا اب وہ تب ہی اس سے رابطہ کرے گی جب وہ اپنے رويے کی معافی مانگے گا۔نہيں تو بھاڑ ميں جاۓ ايسا تعلق۔
کچھ سوچ کر اس نے يہی سب ميسج ميں لکھ کر رومان کے نمبر پر سينڈ کرديا۔
مگر دوسری جانب خاموشی تھی گہری جامد خاموشی۔
وہ زندگی ميں کبھی اتنا پريشان نہيں ہوئ تھی جتنا اس وقت تھی۔
دماغ لگ رہا تھا پھٹ جاۓ گا سوچ سوچ کر کہ کب اس نے کوئ ايسی بات کی جس سے رومان نے غلط مطلب نکالا۔
“زندہ نہيں چھوڑوں گی تمہيں” دل ميں اس سے مخاطب ہوتی لائٹس بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی۔ مگر نيند تو لگتا تھا روٹھ گئ ہے۔
______________________
اگلے دن بھی صبح الجھی ہوئ آفس پہنچی۔ اپنے کمرے ميں داخل ہی ہوئ تھی کہ سامنے ٹيبل پر رکھا بکے ديکھ کر چونکی۔ ہاتھ بڑھا کر اسکا جائزہ ليا کہيں کوئ کارڈ نہيں تھا جس سے پتہ چلتا کہ کون دے کر گيا ہے۔
آفس بواۓ کو فورا بلايا۔
“جی ميڈم” وہ مودب بنا اسکی ٹيبل کے سامنے کھڑا تھا۔
کرسی پر بيٹھی وہ کينہ توز نظروں سے بکے کو ديکھ رہی تھی۔
“يہ بکے کون دے کر گيا ہے” پھولوں سے نظر ہٹا کر آفس بواۓ کو ديکھا۔
“ميڈم پتہ نہيں صبح صبح کوئ صاحب دے گۓ تھے۔” وہ انجان بن کر بولا۔
“رومان تھا کيا؟” اس نے شک بھری نگاہوں سے اسے ديکھا۔
کيونکہ رومان اکثر و بيشتر اسکے آفس آتا جاتا تھا۔ سب سٹاف اس سے اچھی طرح واقف تھا۔
رات والی حرکت کے بعد ان پھولوں کو ديکھتے سب سے پہلا خيال اسی کا آيا۔
“نہيں جی رومان بھائ کو تو ميں جانتا ہوں۔ کوئ اور صاحب تھے” اس نے دانت نکال کر جواب ديا۔
“اچھا اتنا ہنسا مت کرو۔ يہ پھول اٹھاؤ اور باہر کہيں پھينک دو” وہ پہلے ہی غصے ميں بھری بيٹھی تھی اس وقت يہ پھول اور بھی زہر لگ رہے تھے۔
وہ خاموشی سے بکے لئے اسکے آفس سے باہر چلا گيا۔
لمبا سانس کھينچ کر اپنے حواس بحال کئے۔ سسٹم آن کرکے ضروری ميلز چيک کرنے لگی کہ پہلی ميل ديکھ کر حيران رہ گئ۔
دس سال بعد اسی ميل ايڈريس سے اسے سلام دعا اور بيسٹ وشز فار يور ويڈنگ کے ڈھيروں ميسجز آۓ ہوۓ تھے جو اسکی جاب کے اسٹارٹ ميں اسکی يونيورسٹی کے حوالے سے کيا کرتا يا کرتی تھی۔
ابيشہ اب تک انجان تھی۔ اور شادی کی مبارکباد۔۔ يہ کون ہوسکتا ہے۔ وہ سوچ ميں پڑ گئ۔
اب کی بار بھی شک رومان پر گيا۔
“ضائع ہوجاۓ گا يہ بندہ ميرے ہاتھوں” سر جھٹک کر خود کو کام ميں مصروف کيا۔
دوپہر ہوچکی تھی مگر کام ميں مصروف ہوکر اسے کچھ ہوش نہ رہا تھا۔
دو بجے کے قريب ورشہ کی کال آئ۔
“ہاں ورشہ کيا بات ہے”
“يار کچھ گيسٹس آ رہے ہيں تم جلدی آسکتی ہو آج۔” ورشہ کی بات پر وہ منہ کے زاويے بنانے لگی۔
“يار امی کو کہو بس کرديں۔ ميں تنگ پڑ گئ ہوں۔ جب شادی ہونی ہوگی ہوجاۓ گی۔ گولی ماريں ان رشتہ لے کر آنے والوں کو” وہ بے زار لہجے ميں بولی۔
“يار امی کہہ رہی ہيں کہ آخری مرتبہ ہے۔ پھر کوئ نہيں آۓ گا” ورشہ کے اصرار کرنے پر وہ بادل نخواستہ مان گئ۔
“اچھا امی کو منع کردينا کہ رومان کو فون کرکے اس رشتے کے بارے ميں کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہيں ہے۔ ہم خود بھی لڑکے کی جانچ پڑتال کرسکتے ہيں” وہ اسے خبردار کرنے لگی۔
“کيوں کيا ہوا؟” ورشہ نے حيرت سے سوال کيا۔
“کچھ نہيں۔ بس جتنا کہا ہے اتنا کرو” وہ چڑ کر بولی۔
“اوکے تم گھر تو آجاؤ۔ گھنٹے تک وہ لوگ آتے ہی ہوں گے۔” ورشہ نے ايک اور اطلاع دی۔
“اچھا بھئ” اس نے جان چھڑانے والے انداز ميں کہا۔ فون بند کرکے باس کو کال ملائ۔ اپنے جلدی جانے کا بتا کر يہ بھی بتاديا کہ آج کا کام تقريبا ختم کرچکی ہے۔
انہوں نے مطمئن ہو کر ابيشہ کو چھٹی کی اجازت دے دی۔
تيزی سے اپنی چيزيں اکٹھی کرکے اٹھتی باہر کی جانب لپکی۔
ابھی آفس سے زيادہ دور نہيں گئ تھی کہ گاڑی بند ہوگئ۔ بار بار کوشش کرکے چلانے پر بھی نہيں چلی۔
سڑک پر ٹريفک رواں دواں تھی۔
کس کو مدد کے لئے بلاۓ کسے نہيں۔ اسی ادھيڑ بن ميں گاڑی سے اتر کر بونٹ اٹھا کر خود خرابی چيک کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔
کچھ سمجھ ہی نہيں آرہا تھا۔
“کس مصيبت ميں زندگی پھنس گئ” رہ رہ کر نجانے کس کس بات اور کس کس شخص پر غصہ آرہا تھا۔
“ايکسکيوزمی ميم مے آئ ہيلپ يو” خود سے الجھتے زيادہ دير نہيں ہوئ تھی کہ پشت سے آنے والی آواز پر وہ ٹھٹھک گئ۔ گردن موڑی وہ وہی تھا غازان سکندر۔
“اوہ آپ ہيں” وہ خوشگوار حيرت سے اسے ديکھ کر ہولے سے ہنسا۔
“اسلام عليکم کيسے ہيں آپ” کچھ دير پہلے والی الجھن اس وقت نجانے کہاں جاسوئ تھی۔
وہ سامنے تھا تو کچھ اور ياد نہ تھا۔
“وعليکم سلام آپ کيسی ہيں۔ کيا ايشو ہے آپ ہٹيں ميں ديکھتا ہوں” وہاں سے گزرتے کسی کو بونٹ پر جھکے ديکھ کر وہ بس يوں ہی اسکی مدد کو آگے بڑھا تھا۔
وہم و گمان ميں بھی نہ تھا کہ جس کی مدد کرنے چلا ہے وہ ابيشہ ہے۔
گاڑی پارک کرے اسکی جانب آيا تھا۔
“تھينکس” وہ شکريہ کہتی ايک جانب ہوگئ۔ وہ خاموشی سے جھکا باری باری ہر چيز چيک کررہا تھا۔
“کچھ ميجر پرابلم ہے مکينک کو دکھانا پڑے گا” بونٹ کو بند کرکے وہ اسکی جانب متوجہ ہوا جس کے چہرے پر اسکی بات سن کر واضح پريشانی در آئ تھی۔
“کہاں جارہی ہيں آپ؟” اسکے صبيح چہرے سے نظر ہٹ نہيں رہی تھی۔ جو ادھر ادھر ديکھتی کچھ سوچ رہی تھی۔
“گھر ہی جارہی تھی” اس نے ہوا سے چہرے پر آنے والی لٹوں کو ايک ہاتھ سے پيچھے کرتے ہوۓ کہا۔
“تو چليں ميں آپکو ڈراپ کرديتا ہوں آپ گاڑی کو اچھی طرح لاک کرديں۔ رومان کو کہہ کر کوئ مکينک ابھی يہاں بلاليتے ہيں۔ آپکی گاڑی ٹھيک کرکے وہ چھوڑجاۓ گا” اس نے جلدی سے تجويز پيش کی ساتھ ہی رومان کا نمبر بھی ملانے لگا۔
مگر رومان کا نام سن کر وہ جز بز ہوئ۔
“نہيں اسے کال مت کريں” بے اختيار اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر اسے متوجہ کيا جو کان فون سے لگاۓ دوسری جانب کال اٹھالينے کا منتظر تھا۔
آنکھوں ميں حيرت سموۓ ابيشہ کے ہاتھ کو ديکھا۔ جو اس نے تيزی سے پيچھے کيا اور اپنی بے اختياری پر جی بھر کر شرمندہ ہوئ۔
دل ميں خود کو کوسا۔
اسکے چہرے پر پھيلی خفت ديکھ کر غازان نے اپنی مسکراہٹ دبائ۔
“ايکچولی مجھے تو اب يہاں کی ورکشاپس کے نمبر تک نہيں پتہ تو اسی لئے رومان کو کال کرنے کا سوچا۔ چليں علی کو کال کرليتا ہوں” کچھ سوچ کر اس نے علی کا نمبر ملايا۔
اب کی بار ابيشہ نے اسے روکنے کی غلطی نہيں کی۔
علی کو جگہ کا بتا کر اور ابيشہ کی گاڑی کا نمبر بتا کر اس نے کال بند کی۔ اتنی دير ميں ابيشہ نے اپنا بيگ اور فائلز نکال کر گاڑی کو لاک کيا۔
“چليں بس دس منٹ ميں مکينک آجاۓ گا” وہ ابيشہ کو ہاتھ سے گاڑی کی جانب آنے کا اشارہ کرتے آگے بڑھا۔
وہ خاموشی سے اسکے پيچھے چل پڑی۔
غازان نے اسکی جانب کا دروازہ کھولا اسکے بيٹھتے ساتھ ہی بند کرکے گھوم کر ڈرائيونگ سيٹ کی جانب آيا۔ دروازہ کھول کرگاڑی سٹارٹ کی دروازہ بند کرکے گاڑی ابيشہ کے گھر جانے والے راستے پر ڈالی۔
“آپ کو خوامخواہ زحمت ہوئ” وہ فارمل انداز ميں بولی۔
“ميرا خيال ہے دس سال پہلے ہم ايک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتے تھے۔ اتنا تو تعلق ہمارا بنتا ہے کہ دس سال بعداس قسم کے پرتکلف جملوں کا تبادلہ نہ کيا جاۓ” غازان کی بات پر ايک خاموش نگاہ اس پر ڈال کر وہ گاڑی سے باہر ديکھنے لگی۔
کچھ دير غازان بھی خاموشی سے ڈرائيو کرتا رہا۔
“پريشان ہيں؟” غازان نے ايک بار پھر نظر بھر کر ساتھ بيٹھی ابيشہ کو ديکھتے سوال کيا۔
“اف کيا تھا يہ شخص اتنے سالوں کے بعد بھی اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔ اسکے لئے ويسے ہی پريشان تھا وہی فکروں سے بھرا لہجہ۔ ابيشہ کی آنکھوں ميں يکدم بہت سا پانی سمٹنے لگا۔
نفی ميں سر ہلا کر جواب ديا۔
آنسوؤں کا گولا گلے ميں پھندا بن کر پھنس چکا تھا۔
“ميرے ساتھ آنے پر پريشان ہيں؟” اب کی بار ابيشہ آنسوؤں کو روکتے روکتے بھی ہولے سے ہنس پڑی۔
“آپ کوئ غنڈے بدمعاش ہيں جو آپکے ساتھ جانے پر پريشانی ہو؟” سوال پہ کئے جانے سوال پر وہ بھی ہنس پڑا۔
“کسی زمانے ميں يہی سمجھا جاتا تھا مجھے” مسکراہٹ دباۓ جواب ديا۔
“اور اسی زمانے نے اپنی حماقت پر پھر افسوس بھی کيا” ايک خفگی بھری نگاہ اس پر ڈال کر وہ ناراض لہجے ميں بولی۔
“اچھا آپ بھی جانتی ہيں” وہ ايسے انجان بنا جيسے ابيشہ کی اپنے لئے کئے جانے والی جدوجہد سے انجان ہو۔
“ہاں مجھے بھی کہيں سے معلوم ہوا تھا کہ آپ بے قصور تھے” اس نے بھی ايسے پوز کيا جيسے واقعی اس کا اس سارے قصے ميں کوئ ہاتھ نہيں تھا۔
“کيا آپ يہاں ہمشيہ کے لئے آۓ ہيں؟” کچھ دير خاموش رہنے کے بعد اب کی بار ابيشہ نے سوال کيا۔
“ابھی کچھ کہہ نہيں سکتا۔ قسمت جو کرے گی مجھے وہ منظور ہوگا” غازان نے سنجيدگی سے جواب ديا۔
اسکی بات پر وہ بس ہمم کرکے رہ گئ۔
دل کيا اسے رومان کے ارادوں کے بارے ميں خبردار کرے مگر پھر سوچا کيا پتہ اس نے صرف مذاق کيا ہو۔ ايسے ہی دونوں بھائيوں ميں اسکی وجہ سے ٹھن نہ جاۓ۔لہذا خاموش ہی رہی۔
کچھ ہی دير ميں اس کا گھر آچکا تھا۔
وہ اترنے ہی لگی کہ غازان کی پکار پر رک گئ۔
“کبھی کبھی قسمت ہمارے لئے سب سے بہترين فيصلہ کرنے ميں تھوڑی سی دير لگاتی ہے۔ ہم انتظار کے لمحوں کا الزام اپنے اردگرد کے لوگوں کے رويوں پر لگاتے ہيں۔ حالانکہ ہمارے اپنے ہمارے لئے اتنی ہی بہتری کے خواہش مند ہوتے ہيں جتنے کہ ہم خود۔ اور اگر قسمت دير سے آپکے لئے خوشياں لاۓ تو انہيں قبول کرنے ميں دير نہ لگائيں” غازان کی بات کا مقصد وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
“کيا مطلب؟” الجھن بھری آنکھيں غازان کی جانب اٹھيں۔
“ہوسکتا ہے آج قسمت آپکے لئے وہ بہترين فيصلہ کرے اور بہت سی خوشياں آپکی منتظر ہوں۔ انہيں تھامنے ميں دير نہ کرنا” دلکش مسکراہٹ چہرے کا طواف کررہی تھی۔
“اللہ حافظ” اسکے اترتے ساتھ ہی وہ گاڑی آگے بڑھا لے گيا۔ وہ الجھی الجھی سی گھر کے گيٹ کی جانب بڑھی۔
_________________
گھر آکر کھانا کھاتے وہ کپڑے بدلنے کے لئے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔ ورشہ اور سميعہ کچن ميں مصروف تھيں۔
ابھی وہ کپڑے بدل کر کمر سيدھی کرنے کی غرض سے بيڈ پر ليٹی ہی تھی کہ ورشہ آندھی طوفان کی طرح اندر داخل ہوئ۔
“کيا ہوگيا ہے” ابيشہ نے ناگواری سے اسے ديکھا۔
“شفق آنٹی، منا، فروا اور رومان آۓ ہيں” وہ پھولے سانسوں سميت بولی۔
ابيشہ کرنٹ کھا کر اٹھی۔
“کيا” چيخ نما آواز اسکے حلق سے نکلی۔
“کيا کرنے آۓ ہيں” وہ خوفزدہ نظروں سے اسے ديکھتے ہوۓ بولی۔
“تمہارا رشتہ لے کر۔۔۔اف آپی ميں اتنی خوش ہوں” پہلی بات سن کر اسے اتنا جھٹکا نہيں لگا جتنا دوسری بات سن کر لگا۔
“پاگل ہو تم يہ خوش ہونے کی بات ہے” وہ غصے سے بولی۔ اسے ورشہ کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
“پليز اب تم کوئ مصيبت مت کھڑی کرنا” اسکی بات پر ابيشہ نے گھور کر بہن کو ديکھا۔
اس سے پہلے کہ ورشہ کے چودہ طبق روشن کرتی
سميعہ دروازہ کھول کر خوشی سے جھلملاتا چہرہ لئے داخل ہوئيں۔
“ابيشہ اللہ نے ميری سن لی” اسکی جانب بڑھتے وہ خوشی سے بھرپور لہجے ميں بوليں۔
“پاگل ہوگۓ ہيں سب۔۔۔يہ ۔۔۔يہ خوش ہونے کی بات ہے۔ ميرے لئے یہ مرنے کا مقام ہے کہ ايسے شخص کے ساتھ ميری شادی ہو جو۔۔۔۔ميرے خدا يہ شخص کتنا پاگل ہے اپنی بيوی کو بھی ساتھ لے آيا اور آنٹی اور منا کسی نے اسے نہيں روکا۔
ميرا دل کررہا ہے اسکا گلہ دبا دوں۔۔ہٹيں پيچھے آپ دونوں۔۔ دماغ درست کرکے آتی ہوں ميں اس رومان کا سمجھا کيا ہوا ہے اس نے تماشا بنا رہے ہے مجھے۔ آج زندہ نہيں بچے گا ميرے ہاتھوں” مٹھياں بھينچتی، جوتی پاؤں ميں پہنے وہ غصے سے ان دونوں کو پيچھے ہٹاتی دروازے کی جانب بڑھی۔
پيچھے سے سميعہ ہائيں ہائيں کرتی رہ گئ۔ مگر وہ تو آتش فشاں بنی دھم دھم کرتی ڈرائنگ روم ميں پہنچ چکی تھی۔
“ارے ميری بھابھی آئ ہے۔” منا اسے اندر آتا ديکھ کر چہک کر آگے بڑھی۔
شفق، فروا اور رومان بھی کھڑے ہوچکے تھے۔
منا کے بعد شفق نے اسے اپنے ساتھ لگايا۔ جبکہ اسکی خونخوار نظريں رومان کے چہرے پر تھيں جو شرارتی مسکراہٹ لئے اسے ہی ديکھ رہا تھا۔
“ميری بچی ميں ميں تمہيں بتا نہيں سکتی ميں کتنی خوش ہوں۔ غازان نے پہلی مرتبہ مجھ سے کوئ خواہش کی اور وہ بھی تم سے شادی کی۔ ميری تو نجانے کب سے يہ خواہش تھی” شفق کی بات پر اسکی نظريں اب کی بار شفق کی جانب اٹھيں جن ميں حيرت ہی حيرت تھی۔ وہ دنگ رہ گئ۔۔
يہ کيا سنا تھا اس نے
