Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas

"اسلام عليکم ميرا ايک پيارا سا بھائ کينيڈا ميں کہيں کھوگيا ہے کيا آپ اسکا اتا پتہ جانتے ہيں" رومان کی شرارتی آواز پر وہ اپنی مسکراہٹ نہيں روک سکا۔
"جی غلطی سے ميں ہی آپکا وہ گمشدہ بھائ ہوں" مسکراتے ہوۓ اس نے رومان کو يقين دہانی کروائ۔
"نہ کريں يار۔۔۔۔کيا سچ ميں" جان بوجھ کر روہانسی لہجہ اپنايا گيا تھا۔
"بکواس نہ کرو اب" غازان اسکے ڈرامے پر ہنس پڑا۔
"ہا ۓ شکر تم نے فون پر تو اپنے بھائ کو پہچان ليا ويسے مجھے يقين ہے ميری شکل تم بھول چکے ہوگے" رومان کی بات پر ‎ اسکا دل کيا کاش وہ سامنے ہوتا تو ايک مکا تو اب تک وہ اسکی پيٹھ پر جڑ چکا ہوتا۔
"تمہارا يہ ڈرامہ کتنی دير مزيد چلے گا" کوفت زدہ لہجے ميں وہ بولا۔
"بيٹا يہ ڈرامہ تب تک چلے گا جب تک تو آۓ گا نہيں۔ اب تو ہميشہ کی طرح اپنے کاموں کی ايک لمبی فہرست گنواۓ گا ايسے جيسے پاکستان ميں تو ہم سب فارغ بيٹھے ہوتے ہيں" غازان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس نے غازان کا جواب بھی بول ديا۔
"بہرحال جو بھی تمہارے کام ہيں انہيں فوراّ سے پہلے ترک کرکے ٹکٹ بک کرواؤ اور آجاؤ کيونکہ ايسے موقع بار بار نہيں آتے" رومان نے اسپنس طاری کيا۔
"کيا مطلب؟" غازان نے الجھ کر سوال کيا۔
"يونيورسٹی ری يونين فنکشن منعقد ہورہا ہے اور تم جيسے دس سال پرانے پيسوں کو خاص طور سے دعوت دی گئ ہے" رومان کی بات پر ايک خوشگوار سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر بکھری۔
"رئيلی" اس نے حيرت اور خوشی سے پوچھا۔
"بالکل۔ پھر بتاؤ کب تک تمہارا بوسيدہ کمرہ صاف کروائيں" رومان پھر سے اسے تنگ کرنے سے باز نہيں آيا۔
"بک بک نہ کر ميں جانتا ہوں ممی روز ميرا روم صاف کرواتی ہيں" وہ اسکی بات جھٹلا کر وثوق سے بولا۔
"اور پھر بھی تم انہيں اس اذيت ميں مبتلا رکھے ہوۓ جو وہ تمہاری جدائ ميں تمہارے بند کمرے ميں جاکر تمہاری ايک ايک چیز کو چھو کر محسوس کرتی ہيں" رومان کی بات نے اسے چپ لگادی۔
"منا کيسی ہے" اسکے بات پلٹنے پر رومان کے لبوں پر پھيکی سی مسکراہٹ آکر گم ہوگئ۔
"وہ روز تمہيں کوستی ہے، کہتی ہے کہ لوگوں کی شادياں سجا سجا کر لگتا ہے ميرے تمام آئيڈياز ختم ہوجائيں گے مگر وہ دن کبھی نہيں آۓگا کہ ميں اپنے بھائ کی شادی کا ايونٹ آرگنائز کروں" وہ پھر سے مسکرايا جانتا تھا منا نے يہی کہا ہوگا۔
ہر چيٹ اور ميسج پر وہ اس سے نجانے کتنی ہی مرتبہ شادی سے متعلق پوچھتی مگر وہ بھی کيا کرے۔ وہ نہيں جانتا تھا کہ وہ سراب کے پيچھے دوڑ رہا ہے يا نہيں۔ يا پھر قسمت اسے کبھی اسکے سامنے لا کھڑا کرے گی۔ وہ يہ بھی نہيں جانتا تھا۔
مگر جب بھی ممی يا کوئ اور اس سے بات کرتا تھا نجانے کيوں وہ ہر مرتبہ دو تين سال اور کا ٹائم مانگتا تھا۔
قسمت ايک ايسی انديکھی راہ ہے جس کے بارے ميں ہم جتنے مرضی قياس لگا ليں، پيروں فقيروں سے رجوع کرليں مگر پھر بھی يہ نہيں جانتے کہ اگلے لمحے ميں ہمارے ساتھ کيا ہونے والا ہے۔
غازان بھی لاعلم تھا مگر پھر بھی اسے اميد تھی کہ شايد کبھی کسی راہ پر وہ اسے مل ہی جاۓ۔ اور وہ واقعی نہيں جانتا تھا کبھی کبھی ہم جس سے جگہ سے دور بھاگ رہے ہوتے ہيں اللہ نے ہماری قسمت کا فيصلہ اسی جگہ لکھا ہوتا ہے
چاہے وہ فيصلہ ہماری موت کا ہو يا کسی کے عمر بھر مل جانے کا ۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *