Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Usay Panay Ki Chah (Episode 15)

Usay Panay Ki Chah by Ana Ilyas

آنکھ کھلنے پر اس نے خود کو کسی اجنبی کمرے ميں پايا۔

تيزی سے چکراتے سر کو تھامے وہ اٹھ کر بيٹھی۔ قيمتی فرنيچر اردگرد موجود تھا۔ وہ اس لمحے بيڈ پر بيٹھی تھی۔ کمرے ميں موجود چيزوں سے ايسا معلوم نہيں ہورہا تھا کہ يہ کمرہ کسی کے زير استعمال نہ ہو۔

کچھ دير پہلے کے منظر نگاہوں ميں گھومنے پر يہ ياد آگيا کہ اسے کسی نے اغوا کيا ہے۔

“تو کيا رومان کا شک درست تھا” حواس بيدار ہوتے ہی اسے رومان کا رستم کے بارے ميں سوچا جانے والا شک ياد آيا۔

“تو کيا واقعی ميں اسکے ہاتھ لگ گئ” تيزی سے بيڈ سے اٹھی تو سامنے ہی اپنا بيگ بيڈ کی پائنتی کی جانب رکھے ہوۓ صوفے پر پڑا نظر آيا۔

وہ فورا اسکی جانب لپکی۔ بيگ کو کھول کر جائزہ ليا تو موبائل اس ميں موجود تھا۔

شکر کا سانس ليا۔

رومان نے جو ٹريکر کل رات اسکے موبائل ميں آن کيا تھا يقينا اسکی مددسے اسے ابيشہ کو ڈھونڈنے ميں مشکل نہيں ہوگی۔

اب تک تو وہ جان گيا ہوگا کہ ابيشہ کو کسی نے کڈنيپ کيا ہے کيونکہ وہ ٹريکر اس نے اپنے موبائل کے ساتھ کنيکٹ ہی اسی لئے کيا تھا کہ اگر ابيشہ کسی مشکل ميں گرفتار ہو تو اس ٹريکر کی مدد سے وہ جان جاۓ کہ کون اسے کہاں لے کر جارہا ہے۔

اب ابيشہ پرسکون تھی۔

اردگرد جائزہ ليا۔ کمرے ميں کھڑکی موجود تھی مگر وہ مقفل تھی۔

ابيشہ نے جالی کا جائزہ ليا۔ کھڑکھيوں کی جالی اس طرز پر بنی تھی کہ اگر شيشے کو توڑ ديا جاتا تو جالی کو بآسانی ايک جانب کرکے نيچے موجود برآمدے کی چھت پر چھلانگ لگائ جاسکتی تھی اور وہاں سے نيچے جانے ميں کوئ مسئلہ نہ تھا۔

ابيشہ نے اچھے سے جائزہ لے کر کھڑکی کے پردے برابر کئے۔

دروازہ کی جانب گئ۔ حالانکہ اسے چيک کرنے کا کوئ فائدہ نہيں تھا۔

ظاہر ہے جس نے اغوا کيا تھا وہ دروازہ کھلا تو رکھے گا نہيں۔

موبائل اپنے پاس ہونے کا وہ فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔

رومان کو ميسج کرکے بتانے کا سوچتی وہ بيگ کی جانب لپکی پھر کچھ سوچ کرموبائل ہاتھ ميں لئے پہلے کمرے ميں سوئچ بورڈ ڈھونڈا۔

لائٹ بند کرکے موبائل آن کيا۔ موبائل کا کيمرہ کھولا يہ اطمينان کرنے کے لئے کہ کہيں کوئ خفيہ کيمرہ کمرے ميں نسب تو نہيں جو اسے ديکھ رہا ہو۔

مگر جب موبائل چاروں جانب گھمانے کے بعد بھی کوئ سرخ رنگ کا دھبہ اس پر نظر نہيں آيا۔

تب اسے اطيمنان ہوگيا کہ کمرے ميں کہيں کوئ خفيہ کميرہ نہيں ہے۔

مگر ہوسکتا تھا کہ کوئ خفيہ مائيکروفون لگايا گيا ہو۔

لہذا اس نے رومان کو ميسج کرنا مناسب سمجھا۔

تيزی سے اسے ساری سچويشن بتا‏‏ئ۔

سيکنڈو ميں اس کا جوابی ميسج آگيا۔

“تم فکر مت کرو مجھے پتہ چل چکا ہے کہ تم کہا ہو اور يہ جگہ ابرار کا فارم ہاؤس ہی ہے۔ يہ رستم نے ہی کروايا ہے۔ ميں اس وقت نتاشا کے ابو کے پاس موجود ہوں اور ہم کچھ دیر ميں ہی ريڈ کا پلين کر رہے ہيں”

رومان کا ميسج ملتے ہی اطمينان کی لہر اسکے رگ و پے ميں سرائيت کرگئ۔

شکر کا سانس ليتی وہ موبائل کو اپنی جينز کی پاکٹ ميں احتياط سے رکھ کرکونے ميں موجود ايک صوفے پر بيٹھ گئ۔

_________________

ابيشہ سے بات کرتے کرتے ہی رومان کو معلوم ہوگيا کہ ابيشہ کو کوئ غلط سمت لے کر جارہا ہے۔

اسکے مسلسل کال کرنے پر بھی جب ابيشہ نے فون ريسيو نہيں کيا تب اسے يقين ہوگيا کہ اسے اغوا کرليا گيا ہے۔

تيزی سے وہ ٹريکر پر اسکی گاڑی کو ايک بالکل انجان راستے پر بھاگتے ديکھ کر اپنے آفس سے نکلا۔

سب سے پہلے اس نے فريد صاحب کو فون کرکے يہ اطلاع دی اور انہيں نتاشا کے گھر پہنچنے کا کہا۔

ان سے بات کرنے کے بعد اس نے نتاشا کو کال کرکے صورتحال بتائ۔ اس نے فورا سے پہلے اسے اپنے گھر آنے کا ہی کہا۔

“ميں آپکی طرف ہی آرہا ہوں۔ انکل گھر پر ہی ہيں” رومان نے اسکے والد کے گھر پر ہونے کا اطيمنان کيا۔

“جی پاپا گھر پر ہيں۔ آپ پہنچيں” فون بند کرکے رومان نے سکندر صاحب کو فون کيا۔

مگر وہ فون نہيں اٹھا رہے تھے آخر اسے گھر کے نمبر پر فون کرنا پڑا۔

“ہيلو جی بيٹا” شفق کی ميٹھی سی آواز فون سے ابھری۔

“ممی ڈيڈی گھر پر ہيں” اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔

“ہاں کيوں خيريت۔ کچھ پريشان لگ رہے ہو” ماں تھی نا اولاد کی آواز کے اتار چڑھاؤ سے ہی سمجھ گئيں کہ وہ پريشان ہے۔

“نہيں ممی خيريت نہيں ہے۔ ابيشہ کو رستم نے اغوا کرواليا ہے” وہ پريشانی ميں انہيں بتا گيا۔

“ميرے خدا۔۔۔۔” وہ تو گنگ رہ گئيں۔

“يہ کيا ہوگيا۔ ميری بچی” غازان کے حوالے سے وہ انہيں بے حد عزيز تھی۔

رومان کو ايسا لگا انکے لہجے ميں ابيشہ کے لئے ويسے ہی درد اٹھا ہے جيسے ان تينوں کے لئے اٹھتا ہے۔

“ممی پليز آپ دعا کريں۔ اور ڈيڈی کو بتا ديں۔ بلکہ ان سے کہيں کہ نتاشا کے گھر آجائيں۔ مجھے انکی اس لمحے بہت ضرورت ہے” ٹوٹا لہجہ شفق کے دل کو چير گيا۔

“ميں بھيجتی ہوں انہيں” شفق نے يقين دلا کر فون بند کيا۔ اور واقعی کچھ دير بعد سکندر بھی پريشان حال نتاشا کے گھر موجود تھے۔

“ميں نے پوليس فورس کو الرٹ کرديا ہے۔ بس ابھی کچھ دير ميں وہ مطلوبہ جگہ کے لئے نکل رہے ہيں۔ ميں آن ڈيوٹی تو اب نہيں ہوں۔ ہاں مگر ميں پھر بھی ميں اس فورس کے ساتھ جاؤں گا۔نہ صرف ميں بلکہ کچھ اور فوج کے جوان بھی۔ تاکہ اس خبيث انسان کے بھاگنے کی کوئ راہ نہ بچے۔” کرنل اسد غصے سے جبڑے بھينچ گۓ۔

“سر کيا ميں آپکے ساتھ چل سکتا ہوں” رومان نے ان سے درخواست کی۔

“ديکھو بيٹا۔۔”

“اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ سمجھاتے اسکی التجا انہيں مجبور کرگئ۔

“پليز سر۔۔سمجھيں ميرے گھر کی عزت کا معاملہ ہے۔ “

وہ جذبابی لہجے ميں بولا۔

“وہ مجھے بھی بيٹيوں سے بڑھ کر ميں بھی اس پر آنچ نہيں آنے دينا چاہتا۔ اوکے مگر ہم ايک مخصوص علاقے سے آگے نہيں جاسکتے ميں اور تم وہيں رکيں گے” انکی بات پر اس نے اثبات ميں سر ہلايا۔

“بہت شکريہ جناب آپکی مدد کا” فريد صاحب آبديدہ ہوۓ۔ جو بھی تھا وہ جتنے مرضی بہادر صحيح مگر اس وقت انکی بيٹی ايک درندے کے پاس تھی۔

پھر بھی انہيں يقين تھا اللہ اسکی حفاظت کرے گا۔

اور يہ دعا سبھی کے دل ميں تھی۔

_________________________

اسے وہاں بيٹھے دو گھنٹے گزر چکے تھے مگر ابھی تک کوئ نہيں آيا تھا۔

وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ اسے اغوا کرنے کا مقصد کيا تھا۔ کيا اسے اغوا کرکے رستم اپنے باپ کو چھڑوانا چاہتا تھا وہ باپ جو پچھلے ايک سال سے اسکے کئے کی سزا جيل ميں بھگت رہا تھا۔

وہ سوچوں ميں ڈوبی بيٹھی تھی جب دروازے کے قريب ہلچل ہوئ۔

وہ الرٹ ہو کر بيٹھی تھی۔

دروازہ کھلا اور ايک شخص ٹرے ميں کھانے کی کچھ اشياء لئے اندر داخل ہوا۔

ابيشہ کو اطمينان سے صوفے پر بيٹھے ديکھ کر وہ چونکا۔

پھر خاموشی سے ٹرے اسکے سامنے موجود ٹيبل پر رکھ کر مڑنے لگا کہ ابيشہ نے پکارا۔

“سنو۔۔۔کيا تم نے مجھے اغوا کيا ہے؟” اس نے جان بوجھ کر سوال کيا۔

“ہماری کيا مجال۔ وہ تو سر جی کے حکم پر آپ يہاں موجود ہيں” وہ نظريں جھکاۓ بولا۔

شکل سے کوئ غنڈا ٹائپ نہيں لگ رہا تھا۔

“سر جی کون؟” اس نے پھر سوال کيا۔

“کچھ دير ميں وہ آکر آپکو خود بتاديں گے کہ وہ کون؟” وہ جتنا بيچارا سا لگ رہا تھا اتنا تھا نہيں۔

اسکے بعد ابيشہ نے کوئ سوال نہيں کيا۔

وہ بھی خاموشی سے چلا گيا۔ مگر ابيشہ نے کھانے کی ايک بھی چيز کی ہاتھ نہيں لگايا۔

وہ بظاہر خود کو مضبوط ثابت کررہی تھی مگر وہ حقيقتا اندر سے تھوڑا سا خوفزدہ بھی تھی۔

اور وہی ہوا کچھ دير بھی نہيں گزری بھی کہ رستم اسکے کمرے ميں آموجود ہوا۔

“زہے نصيب۔۔۔۔آپ ہمارے غريب خانے ميں آئيں” اسکے گھٹيا انداز تکلم پر ابيشہ نے دل ميں ہزاروں مرتبہ اس پر لعنت بھيجی۔

“تصحيح کرلو خود چل کر نہيں آئ دھوکے سے لائ گئ ہوں” وہ جو سامنے صوفے پر بيٹھا کش لگاتا دھويں کے پار تنے اعصاب والی ابيشہ کا جائزہ لينے ميں مصروف تھا۔

ابيشہ کے پھنکارنے پر ہنستا چلا گيا۔

“ہممم۔۔ پاگل” ابيشہ اسکی بے ڈھنگی ہنسی سن کر بڑبڑائ۔

“واہ کيا چنگاری ہے بھئ تمہارے لہجے ميں ۔ اسی جی داری کو تو ديکھنے کے لئے يہ سب پاپڑ بيلے۔ اباجی نے تو ناک ميں دم کررکھا تھا کہ تم پر ہاتھ نہيں ڈالنا شکر اندر گۓ۔ ميری تو جان چھٹی پابنديوں سے ۔ اب اس آگ کو نزديک سے ديکھ کر اصل مزہ آيا ہے۔ اب تو ان شعلوں کو چھونے کی خواہش کچھ اور بڑھ گئ ہے۔” اسکی بے باک گفتگو اور گندی نظروں نے ابيشہ کے اندر سنسنی دوڑا دی۔

“تم جيسے ميری آگ کو برداشت نہيں کرپائيں گے۔ يہ آگ بھی بے حد شفاف ہے۔ اپنے جيسی گند ميں لتھڑی آگ ڈھونڈو۔ جسے تمہارے چھونے پر ٹھنڈ پڑے۔ ميرے قريب بھی اللہ تمہيں پھٹکنے نہيں دے گا۔ باقی جس گندگی تک تم پلين کرکے آۓ ہو ياد رکھنا جو کچھ اللہ نے پلين کررکھا ہے وہ اسکے آگے کچھ بھی نہيں۔ اپنی موت کو آواز مت دو۔ بہتری اسی ميں ہے کہ اپنے گناہوں کو مان لو۔ شايد تب اللہ بھی تم پر رحم کھا لے۔

ليکن ياد رکھنا اگر ان ميں اضافہ کرنے کی نيت لئے بيٹھے ہو تو اللہ تمہيں ايسا منہ کے بل گراۓ گا کہ اپنی سوچ اور اپنی نام نہاد طاقت پر تم روگے۔” ابيشہ ايک ايک لفظ چبا کر بولی۔

“ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ لگتا ہے بڑا درد ہے غازان کا۔۔۔۔وہ کمينہ تھا ہی ايسا ہر کوئ اسکے پيچھے پاگل۔” ايش ٹرے ميں راکھ جھاڑتے اس نے ايک ٹانگ کو دوسرے پر جمايا۔

“وہ جو بھی تھا اس وقت اپنی خير مناؤ۔ تمہاری ذرا سی لغزش تمہيں جيل کی سلاخوں سے کبھی نہيں بچا سکتی۔” ابيشہ سخت لہجے ميں گويا ہوئ۔

“تمہيں وعظ و نصيحت کے لئے نہيں اٹھوايا۔ بلکہ تمہارا وہ غرور توڑنے کے لئے اٹھوايا ہے۔ جس کے زعم ميں آکر تم نے رستم جيسے بندے پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی۔

جب تم يہاں سے ميری بھوک مٹا کر زندہ لاش بن کر نکلوں گی تب پوچھوں گا کون سا اللہ۔ کون تمہيں اس ويرانے ميں مجھ سے بچاۓ گا۔ يہاں سب ميرے پالتو ہيں جو تمہاری چيخ و پکار پر کان تک نہيں دھريں گے۔ پھر اللہ کو پکارتی رہنا ميں بھی ديکھوں گا وہ تمہاری مدد کے لئے فرشتے بھيجتا ہے کہ نہيں” اپنی جگہ سے اٹھ کر کمرے ميں موجود روم ريفريجريٹر سے شراب کی بوتل غٹا غٹ پيتے اس نے اپنی لال انگارہ آنکھيں ابيشہ کے چہرے پر جمائيں۔

“يقينا وہی اللہ بچاۓ گا۔ جس نے تم جيسوں کی رسی دراز کی۔ اور وہی اللہ بچاۓ گا جو تم جيسوں کی رسی کو بڑے زور سے کھينچتا ہے ايسے کہ تم جيسے پھڑپھڑاتے ہيں۔ مگر رہائ پھر ان کا نصيب نہيں بنتی۔ وہی اللہ مجھے بچاۓ گا اور فرشتے بھی بھيجے گا۔ ” ابيشہ نے حقارت سے اسکی جانب ديکھا جو قہقہے لگاتا شراب کے گھونٹ بھر رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *