Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode (Watching)
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
“جاناں بہت ہوگیا بہانہ اب شرافت سے ان دو شیطانوں کو سلاؤ ورنہ میں تمہے یونہی اٹھا کر لے جاؤں گا۔۔۔باتھروم کے دروازے سے اندر جھانکتے ولید نے بڑے اسٹائل سے اُسے دھمکایا تھا جب کے اذان اور ریان دونوں چاکلیٹ لگی انگلیوں کو منہ میں چوستے پٹر پٹر باپ کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
“میں کہیں نہیں جا رہی ابھی۔۔۔۔۔ آپ خود چہل قدمی کرنے چلے جائیں میرے شہزادوں کا ابھی سونے کا ارادہ نہیں لگ رہا۔۔۔ہے ناں میری جان۔۔۔۔تالیہ نے جواب دے کر آخر میں لاڈ سے دونوں کو دیکھ کر کہتے ہی پیار کیا۔۔
“اچھا صلا مل رہا ہے۔۔۔میں آدھے گھنٹے میں واپس آتا ہوں جب تک یہ سوتے نظر آئیں۔ ۔
“ولید آپ کیسے کہ رہے ہیں انہِیں ابھی سمجھ تھوڑی آرہا ہے معصوموں کو۔۔۔۔تالیہ خفگی سے بولتی اذان کے ہاتھ دھلوانے لگی جب کے ولید جواب دئے بنا کمرے سے چلا گیا۔۔
______________
“ممی آپ ابھی تک سوئی نہِیں۔۔۔۔۔۔ولید لان کی کرسی پر بیٹھیں سُمیرا بیگم کو دیکھ کر بولا۔۔۔اچانک وہ وقت ذہن میں آیا جب ولید کی تلخ باتوں نے انہیں ہسپتال پہنچا دیا تھا۔۔زور سے سر کو جھٹکتا وہ مسکرا کر انکے قریب گیا تھا۔۔
“تم بھی تو ابھی تک جاگ رہے ہو۔۔۔
“میں کیا آپ کے دونوں لاڈلے پوتے بھی ابھی تک جاگ رہے ہیں۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔چلو کوئی بات نہیں سو جاییں گے. ۔۔۔۔
“آپ کو نہیں لگتا تالیہ ہر وقت دونوں کو ساتھ لگائے رکھتی ہے۔۔۔ولید نے منہ بنا کر سُمیرا بیگم کو بتایا جو اسکی بات پر زور سے ہنس دی تھیں۔۔
“ہاہاہا چل پگلے یہ تو ماں باپ دونوں کی ذمہ داری ہوتی ہے تم تھکے ہارے آتے ہو اسلئے کچھ نہیں کہتی۔۔مگر تمہیں بھی اپنے بیٹوں کے لئے وقت نکالنا چاہیے کام اپنی جگہ اور فیملی اپنی جگہ ہوتی ہے۔۔
“وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ کو اسے بھی سمجھانا چاہیے تھوڑا وقت اپنے معصوم شوہر کو بھی دے دے اب دیکھیں میں نے کہا کے آؤ زرا تازی ہوا میں گھوم کر آتے ہیں لیکن نہیں۔۔ولید دوسری کرسی پر بیٹھ کر ان سے باتیں کرنے لگا۔۔۔ خاموش فضا میں دونوں ماں بیٹے کی ہلکی ہلکی باتوں کی آواز گونج رہی تھی۔۔اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑے حماد خان دونوں کو ساتھ دیکھ کر آسودگی سے مسکرا رہے تھے۔۔۔
“ہانیہ کبھی کبھی کچھ فیصلے ہمیں وقت گزرنے کے ساتھ بہترین لگتے ہیں اور کبھی موت کی آغوش میں جانے تک ہم ان فیصلوں کو سمجھ نہیں پاتے اور اللہ سے ڈھیروں شکوے کرنے لگتے ہیں لیکن میں اور میری اولاد خوش قسمت ٹھہرے۔۔۔جاتے جاتے تم نے وہ بہترین فیصلہ محھے دیا جس کو سمجھنے میں میں نے ایک عمر لگا دی میرے نصیب میں محبت مل کر جدا ہوئی تو عشق نے دستک دی۔۔۔ دیر سے ہی سہی۔۔۔۔۔۔حماد خان دور بیٹھیں سُمیرا کو دیکھتے بڑبڑائے۔۔۔
_____________
“ولید چلیں ناں پلیز۔۔۔۔۔
“میں نہیں جا رہا تم ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ۔۔۔ولید خفگی سے بول کر دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ۔۔
“اففف اب میں اکیلے جاتی اچھی لگوں گی چلیں ناں پلیز پکّا ایک ہی سوٹ لینا ہے میں اپنی شاپنگ نہیں کرنے جا رہی.۔۔۔تالیہ نے معصومیت سے بولتے سوتے ہوئے ریان کے سر پر آہستہ سے پیار کیا.۔۔۔
ولید نے دیکھتے ہی لیپ ٹاپ بند کر کے ٹیبل پر رکھا۔۔
“یہاں آنا ذرا.
“کیوں. ۔۔
“کیا مطلب ہے میں بلا رہا ہوں نہ اور یہ کیا کہ رہی ہو تم میں نے کبھی تمہیں شاپنگ سے منا کیا ہے اپنے شوہر کو کنجوس سمجھنا بند کردو ورنہ سچ میں کنجوس بن کر دکھاؤں گا۔۔۔ولید نے اچھا خاصا اسے جھرک دیا جو حیران ہوکر اسے دیکھ رہی تھی.
“میں نے کب کہا کنجوس میں تو صرف اس لئے کہ رہی تھی کیوں کہ آپ جا نہیں رہے ہیں جانتے ہیں ناں موسیٰ کا عقیقہ ہے۔۔ہنہ ہر وقت جلے کباب بنے رہا کریں۔۔۔تالیہ خفگی سے کہ کے روٹھ کر جانے لگی۔۔
“اچھا اچھا بیوی مذاق کر رہا ہوں یار۔۔۔۔ چلتے ہیں ابھی۔۔۔ولید نے اٹھ کر اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لے کر سر پر پیار کیا۔۔
“چلیں پھر۔۔۔۔تالیہ ولید کے حصار میں ہی اسکی طرف پلٹ کر بولی۔۔
جب کے ولید نے مسکرا کر گھیرا تنگ کر دیا
______________
زندگی اپنی تیز رفتار میں چلتی جا رہی تھی ایسے میں خان ہاؤس کے مکین بھی اپنی زندگیوں میں خوش و مطمئن تھے.۔۔۔۔۔۔
ولید اور تالیہ کی خوبصورت سے فیملی میں ننھی پری کی آمد نے انہیں مکمّل کر دیا تھا۔۔۔جنّت جو ماں باپ دادا دادی کی آنکھوں کا تارہ تھی وہیں اپنے بھائیوں کی جان تھی۔۔۔
دوسری طرف حنا اور اسکا شوہر ریحان جو کچھ عرصے کے لئے اسلام آباد شفٹ ہوگئے تھے اب دوبارہ واپس آرہے تھے۔۔
جب کے حرا اور عثمان جن کا بڑا بیٹا علی اور چھوٹی بیٹی حمنہ تھی ان کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔۔۔۔۔
اذان ریان کے ساتھ علی کی اچھی دوستی تھی دوسری طرح جنّت اور حمنہ بیسٹ فرینڈ تھیں دونوں جب بھی ملتیں ساتھ ہی پائی جاتیں۔۔۔ریان سے بھی حمنہ کی دوستی تھی جو کے نہیں تھی تو صرف اذان سے نہیں تھی اذان کو ڈرپوک اور چھوٹی چھوٹی بات پر رونے والی لڑکیاں پسند نہیں تھیں نہ تو وہ اسے اپنی دوستی کے قابل سمجھتا تھا۔۔۔
حمنہ ان سب کزنز سے قد اور عمر میں چھوٹی تھی یہی وجہ تھی کے اذان اور ریان کے ساتھ موسیٰ بھی اسے چوہیا کہ کر چڑھاتے تھے۔۔۔۔۔
_____________
کچھ سال بعد۔۔۔۔
“السلام علیکم۔۔۔۔۔علی اذان اور ریان کے مشترکا کمرے میں داخل ہوتا زور سے بولا۔۔علی کے پیچھے ہی حمنہ موسیٰ کے ساتھ مناہل بھی داخل ہو رہی تھی اذان مناہل کو دیکھتے ہی مسکرایا۔۔۔مناہل اذان اور ریان سے دو مہینے ہی بڑی تھی۔۔
دراز قد نازک سی مناہل اذان کو بہت اچھی لگتی تھی۔۔
“وعلیکم اسلام۔۔۔ارے واہ حنا پھوپھو آگئیں۔۔۔۔ریان مناہل اور موسیٰ کو دیکھ کر جلدی سے اٹھا.
“سب تمہاری طرح لیٹ لطیف نہیں ہیں۔۔۔حمنہ نے اپنی دھیمی آواز میں ریان کو چڑھایا۔۔۔
حمنہ کو دیکھتے ہی اذان کی پیشانی پر بل پڑے۔۔۔
“چھوٹی چوہیا تمہاری بڑی زبان ہے اذان قینچی پکڑنا۔۔۔ریان نے تپانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھا جو چوہیا کہے جانے پر پیر پٹخ کر کمرے سے نکل گئی تھی۔۔۔
“بہت غلط بات ہے ریان بیچاری کو تنگ مت کیا کرو.۔ مناہل اسے بولتی اذان کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
_____________
“سب لان میں بیٹھے شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے حنا کے آجانے سے ایک بار پھر گھر میں رونق لگ گئی تھی۔۔
“تالیہ بھابھی کبھی گھر آئِیں۔۔۔حنا نے مسکرا کر تالیہ سے کہا۔۔
“ہاں کیوں نہیں اب تو تم لوگ پاس ہی ہو آنا جانا لگا ہی رہے گا۔۔۔تالیہ نے مسکرا کر حنا کو جواب دیا۔۔۔۔حرا جو خاموشی سے سن رہی تھی نیچلا لب کاٹنے لگی۔۔۔۔جب سے عثمان کے مالی حالات خراب ہونے کی وجہ سے ریحان سے مدد مانگی تھی تب ریحان نے اپنی مجبوریوں کا بول کر منا کر دیا تھا جب سے ہی حرا اپنی بہن اور بھابھی کے سامنے خود کو چھوٹا محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔۔
___________
“ماما۔۔۔ماما۔۔۔۔کہاں ہیں آپ۔۔۔۔انیس سالہ ریان شرارتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے زور و شور سے تالیہ کو پُکارتا لاؤنج سے ڈرائنگ روم پھر ڈرائنگ روم سے کچن کی طرف بھاگا۔۔۔۔
“یا اللہ خیر کون سا طوفان آگیا ہے ریان جو گھر کو سر پر اٹھا رکھا ہے آہستہ بولو دادی ابھی سوئی ہیں۔۔۔ تالیہ سُمیرا بیگم کے کمرے سے نکلتی نیچی آواز میں سختی سے ڈانٹتی اسکی طرف بڑھنے لگی جو تالیہ کو دیکھتے ہی تیزی سے اسکے قریب بھاگا تھا۔۔
“ماما جلدی چلیں چھوٹی چُوہیا اور اذان کی لڑائی ہو رہی ہے۔۔۔
“کیا ؟؟؟۔۔۔اور تم بدتمیز خوش ہو رہے ہو شرم نہیں آتی روکنے کے بجائے مجھے آکر چہک کر بتا رہے ہو آ لینے دو تمھارے پاپا کو آج تمہاری کلاس پکّی ہے۔۔ ۔۔۔تالیہ گھبرا کر اسکا کان کھینچتی تیز تیز قدم اٹھاتی لان کی طرف جانے لگی جہاں اذان اور حمنہ ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہے تھے جب کے مناہل موسیٰ اذان کو پکڑے کھڑے تھے جب کے دوسری طرف علی اور جنّت نے حمنہ کو زبردستی پکڑا ہوا تھا جو لڑنے کے ساتھ روتی جا رہی تھی لیکن مقابل شخص سخت تاثرات کے ساتھ جواب دینے کے ساتھ اسے مارنے آگے بڑھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
“اذان کیا ہوگیا ہے۔۔۔
“ماما اسے کہیں مجھ سے سوری کرے ابھی اور اسی وقت۔۔۔
“نہیں کرونگی سوری۔۔کیوں۔۔۔کیوں۔۔۔کروں میں سوری۔۔۔حمنہ نے روتے ساتھ جواب دیا اذان نے خونخار نظروں سے اسے دیکھا اس سے قبل لڑائی طویل ہوتی حرا ان کی طرف آنے لگی۔۔۔
“کیا ہوا۔۔
“کچھ نہیں بس کھیلنے میں لڑائی ہوجاتی ہے۔۔۔تالیہ نے بات سمبھالنی چاہی کیوں کے ولید عثمان اور ریحان کے ساتھ گاڑی سے اتر کر انہی کی طرف آرہے تھے۔۔
“کوئی نہیں ماما ہم کھیل نہیں رہے تھے ہم سب باتیں کر رہے تھے ریان نے مذاق کیا تھا آگے سے اُسے اس بدتمیز لڑکی نے کتا بولا۔۔ جاہل چوہیا۔۔۔ازان پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولا۔۔۔
“اس۔۔۔”تڑاخ!! اس سے قبل حمنہ کچھ کہتی حرا نے کھینچ کر اسکے پھولے پھولے نرم گالوں پر تھپڑ رسید کر دیا۔۔۔
“حرا۔۔۔۔یہ کیا کر رہی ہو۔۔ولید حیران ہوتا تیزی سے بولا۔۔
“ولید بھائی پلیز یہ دن با دن بدتمیز ہوتی جا رہی ہے اسے جتنی جلدی ہو اوقات سمجھ جانی چاہیے۔۔۔حرا سختی سے ہونٹ دبا کر روتی حمنہ کو پکڑ کر اندر کی طرف بڑھنے لگی جب کے ولید اور تالیہ ناسمجھی سے اسے جاتا دیکھنے لگے۔۔۔
علی باپ کو دیکھ کر خاموشی سے وہاں سے غائب ہوا جب کے عثمان اپنی جگہ بلکل چپ کھڑا تھا۔۔۔
_____________
“ولید۔۔۔تالیہ پیچھے سے اکر اسکی پشت سے لگی جو بالکنی میں کھڑا سیگریٹ کے کش لے رہا تھا۔۔۔
“کیا بات ہے آج بڑا پیار آرہا ہے۔۔۔ولید نے انگلیوں میں دبائی سگریٹ کو اچھالا۔۔۔
“مجھے تو ہر وقت ہی آتا ہے۔۔۔
“جھوٹی۔۔۔۔۔ولید مسکرا کر بڑبڑایا۔۔
“میں سن چکی ہوں جاناں۔۔۔تالیہ نے شوخ لہجے میں کہا۔۔
“اچھا تو پھر بتاؤ۔۔ولید نے پلٹ کر جھک کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔
“آئی لو یو۔۔۔تالیہ نے کہ کر شرماتے ہوۓ اسکے سسینے پے۔ سر رکھا۔۔۔آج بھی تالیہ محبت کا اظہار کرتے ہوۓ شرما جاتی تھی۔ ۔
“ہاہاہا۔۔۔۔آئی لو یو ٹو مسسز ولید۔۔۔ ولید ہنس کے بولتا اسکے سر پی لب چکا تھا۔۔۔
ختم شد!!
