Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16
ولید باتھروم سے نکلتا گیلے بالوں کو تولیے سے پوچھتا ڈریسنگ کی طرف بڑھنے لگا جب نظر تالیہ پر پڑی بے ساختہ اُمنڈ آنے والی مسکراہٹ کو بڑی مشکل سے اس نے لب دبا کر روکا تھا۔۔۔
“یہ کیا ہو رہا ہے؟ والید مسکراہٹ ضبط کرتا روعب سے بولا
ولید کی آواز پر تالیہ نے جلدی سے ہاتھ اپنے پیچھے چھپایا۔۔
“ک کیا ہو رہا ہے کچھ بھی تو نہیں میں تو آپ کے نکلنے کا انتظار کر رہی تھی زندگی میں پہلی بار دلہن جو بنی ہوں ہائے کتنی خواہش تھی میری مجھے تو لگتا تھا میری کبھی شادی ہی نہیں ہوگی گڑبڑا کر روانی سے الٹا سیدھا بولتی چلی گئی جب کے ولید پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھتا چلا گیا۔۔
“اچھا میں آتی ہوں۔۔۔تالیہ میسنی مسکراہٹ سے بولتی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی جب کے ولید اسکے غائب ہوتے ہی چھت پھاڑ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔.۔۔
“محترمہ ولید کے موبائل میں سیلفی لیتے جو پکڑی گئیں تھی
___________
“مالکن آپ کو کچھ چاہیے۔۔۔ بینش لان میں کرسی پر بیٹھیں سُمیرا بیگم کو دیکھ کر پوچھنے لگی جو کرسی کی پشت سے سر ٹکائے چاند کو دیکھ رہی تھیں۔۔
“نہیں تم جاؤ۔۔۔
“جی ٹھیک ہے شب خیر!! ملازمہ سر ہلا کر سرونٹ کوٹر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
“آپ ابھی تک سوئی نہیں۔۔۔ولید کی آواز پر سُمیرا بیگم چونک کر پلٹیں سامنے ہی ولید سینے پے بازو لپیٹے انہیں ہی دیکھ رہا تھا جب کے تالیہ جو ولید کو کمرے میں نہ پاکر نیچے آئی تھیں لان کی طرف بڑھتا دیکھ دبے قدموں اُسکے پیچھے جانے لگی لیکن لان میں ماں بیٹا دونوں کو دیکھ کر کچھ فاصلے پر ہی روک گئی۔۔
“تم بھی تو ابھی تک جاگ رہے ہو۔۔۔سُمیرا بیگم ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں۔۔
“آپ کو میری کیا فکر میں کب سوتا ہوں کب اٹھتا ہوں آپ کو تو صرف دولت کی فکر ہونی چاہیے۔۔۔ولید نے تلخی سے کہا۔۔۔
“سچ کہا مجھے واقعی اس دولت کا لالچ ہے کیوں کے یہ میرے شوہر کا ہے اس پے میرا بھی حق ہے۔۔۔
“میں انکا بیٹا ہوں آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے آپ کیا سمجھتی ہیں میں جانتا نہیں آپ کیوں مجھے یہاں رہنے نہیں دیتیں کے کہیں پاپا ساری ذمہ داری مجھے ناں دے دیں سارا سے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں تھا کیوں کے آپ اچھی طرح جانتی تھیں وہ نہ تو خود یہاں رہے گی نہ مجھے یہاں رہنے دے گی۔۔
تالیہ نے چونک کر ولید کی پشت کو دیکھا۔۔
“ہاں سہی کہا وہ تمہیں ساتھ لے جاتی لیکن میرا دل گواہ ہے میں تمہیں محبت کی اذیت سے دور رکھنا چاہتی تھی صرف اس لئے تمہارے اس فیصلے پر خاموش رہی۔۔۔
“جھوٹ آپ صرف اپنے لیے سب کر رہی تھیں ورنہ تالیہ کو اُسی دن بہو قبول کرلیتیں جب آپ کو پتہ چلا تھا لیکن نہیں آپ کا رویہ اسکے ساتھ کبھی اچھا نہیں رہا۔۔۔ولید نفی میں سر ہلاتا بولنے لگا۔۔
“ہاں نہیں تھا میرا رویہ سہی میں کیسے قبول کرلیتی اسے بہو جس نے تم سے تمہاری محبت چھین لی سارا کی اصلیت بھی اسی نے تمہیں بتائی ہوگی میں جانتی ہوں۔۔
“آپ نے بھی تو یہی کچھ کیا تھا۔۔۔
“ہاں میرا گناہ تھا اس دل نے مجھے بے مول کر دیا جس کی اتنی بڑی سزا عرصہ پہلے ہی مل گئی تھی کے میں کبھی ماں نہیں بن سکی میرا پہلا بچہ میرے اندر ہی مر گیا۔۔
“جی آپ ہی تو سب کچھ جانتی ہیں دوسرا ناسمجھ ہے یہ سب آپ کا قصور تھا آپ کیوں ہماری زندگی میں آگئیں تھیں کیوں۔۔۔۔ولید کی آواز تیز ہوئی تھی تالیہ نے گھبرا کر سُمیرا بیگم کی طرف دیکھا تھا جو اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئیں تھیں۔۔۔
“آواز نیچی رکھو ولید تم بھول رہے ہو میں ماں ہوں تمہاری۔۔
“نہیں ہیں آپ میری ماں آپ صرف میرے باپ کی دوسری بیوی ہیں جس نے میری ماں کو اپنی جھوٹی باتوں سے پھنسایا تھا۔۔
“خبردار ولید میری محبت کو جھوٹ مت کہو تم نہیں سمجھ سکتے ناں ہی تمہارا باپ میری محبت کو سمجھا۔۔۔ سُمیرا بیگم تڑپ کر چند قدم آگے بڑھیں۔۔
“اگر آپ سچ میں محبت کرتی ہوتیں تو کبھی میرے ماں باپ کے درمیان نہ آتیں لیکن آپ خودغرض ہیں جسے صرف خود سے غرض رہا ہے پہلے میرے باپ کو چھینا اسکے بعد میری ماں کے جانے کے بعد میری بہنوں کو مجھ سے دور کرتی رہیں۔۔
“نہیں ولید تم غلط۔۔۔سُمیرا بیگم کہتے کہتے ایکدم سفید پڑھنے لگیں جب کے ساکت نظریں ولید کے پیچھے دیکھ رہی تھیں۔۔
تالیہ نے انکی نظروں کے تعاقب میں اپنے پیچھے دیکھا جہاں حرا اور جنا بلکل ساکت کھڑی تھیں۔۔
سُمیرا بیگم لڑکھڑائیں تھِیں۔۔۔اتنے سالوں سے جو حقیقت اپنی بچیایوں سے چھپاتیں آرہیں تھیں وہ یوں عمر کے اس حصّے میں پتہ چلے گا کبھی تصور نہیں کیا تھا۔۔۔
“ممی۔ولید زور سے چیخا جب کے بند آنکھوں سے سُمیرا بیگم نے حماد کو دروازے کی طرف سے بھاگتے ہوئے اپنی طرف آتے دیکھا ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نے انکے لبوں کو چھوا حماد کا ان کے لیے پریشان ہونا دل پے پھوار بن کے برسا تھا۔۔۔
“سانسوں کی طرح میں تیری نس نس میں رہوں گی،
کھو کر تو مجھے خود بھی عذابوں میں رہے گا”
____________
ماضی۔۔۔
جہاں حنا اور حنا اپنے ماں باپ کو دیکھ کر خوش تھے وہیں ولید کو اپنے باپ کے ساتھ سُمیرا بیگم کا انکے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنا ناگوار گزرا تھا۔۔
ولید جو ایک ہفتے کی چھٹی پر پاکستان آیا تھا چند دن رہ کر واپس جانے کی ضد کرنے لگا۔۔۔
“کیا ہو ولید تم تو اپنے پاپا کے پاس کتنے خوش ہوکر گئے ہو پھر واپس آنے کی کیوں رٹ لگا رکھی ہے۔۔۔فریحہ بیگم نے لاڈ سے اپنے پوتے سے پوچھا۔۔۔
“دادو آپ نے کہا تھا ممی اچھی نہی ہیں وہ پاپا کو ہم سے الگ کردیں گی اور اب وہ انکے ساتھ ایک ہی روم میں رہتی ہیں وہ پاپا کو ہمارے خلاف کر دیں گی. ولید کی بات پر فریحہ بیگم کے ماتھے پر بل پڑے۔۔
“تو میری جان واپس آنے کی ضد چھوڑو.۔۔۔تم چاہتے ہو وہ ہر چیز پے قبضہ کر لے
“نہیں دادو میں پاپا کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ولید نے جلدی سے کہا۔۔
“شاباش میری جان اگر اپنے پاپا کے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو جیسا میں کہتی ہوں ویسا کرتے جاؤ۔۔۔ فریحہ بیگم نے مسکرا کر کہا جب کے ولید جھٹ مان گیا۔۔
“اب دیکھنا سُمیرا ولید کو کیسے تمھارے خلاف استعمال کرتی ہوں ہمارے ہنستے بستے گھر کو جس طرح تم نے توڑ دیا ہے اسی طرح تمہارا دل کبھی سکون نہیں پا سکے گا۔۔۔کال ڈسکنیکٹ کرتی وہ نحوست سے بڑبڑائیں۔۔۔
فریحہ بیگم کی باتوں میں آکر ولید سُمیرا بیگم سے بدتمیزی کرنے لگا۔۔
سُمیرا خاموشی سے سب برداشت کرتی رہیں لیکن ایک دن حماد نے خود ولید کو سُمیرا بیگم سے بدکلام کرتے دیکھ لیا۔۔۔
“تم واپس جا رہے ہو۔۔۔حماد خان کے اس فیصلے نے ولید کے دل میں سُمیرا بیگم کے لئے غصّہ بھر دیا تھا باقی کی کسر فریحہ بیگم نے پوری کر دی تھی۔۔۔
____________
“ہسپتال کے کوریڈور میں ہلکی پھلکی چہل پہل تھی ایسے میں سب اپنی اپنی سوچوں میں گُم تھے۔۔۔
“ولید آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔تالیہ نے بھرائی ہوئی آواز آہستہ سے کہا جس نے ضبط سے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔
“میں یہ نہیں چاہتا تھا۔۔۔
“آپ کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے اور کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔تالیہ نے خفگی سے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔۔
“تمھارے ساتھ وہ شروع سے ٹھیک نہیں رہیں پھر بھی تم انکے لئے رو رہی ہو۔۔. ولید نے ہاتھ بڑھا کر انگوٹھے سے اسکے گال پے بہتے آنسوں صاف کرتے ہوۓ پوچھا۔۔
“آپ کیا چاہتے ہیں انکے رویے کی وجہ سے میں انھیں اس حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔۔۔ جانتی ہوں یہ اپکا ذاتی معملہ ہے لیکن میں خود کو یہ کہنے سے کبھی نہیں روکوں گی کے جو بھی آنٹی نے کیا غلط نہیں تھا جب آپ کی ماں کو اعتراض نہیں تھا پھر آپ کون ہوتے ہیں یہ سب کرنے والے۔۔۔
“میری مآں کو بیوقوف بنایا تھا۔۔تم کچھ نہیں جانتی میری دادو نے مجھے سب بتایا تھا۔۔ولید نے گھور کر اُسے دیکھا۔۔
“شادی شدہ عورت بیوقوف نہیں ہوتی ولید خودغرض آنٹی نہیں آپ کی ماں تھی جنہیں اپنی زندگی کا بھروسہ نہیں تھا جس نے اپنے پیچھے اپنی اولاد کے لئے آنٹی کو چنا۔۔۔تالیہ نے چھبتے لہجے میں کہا
“تالیہ اپنی اوقات میں رہو۔۔۔ولید کا ہاتھ بے ساختہ اٹھا تھا جسے بمشکل راستے میں اُس نے روکا تالیہ پھٹی آنکھوں سے ولید کے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔۔۔کچھ بہت زور سے ٹوٹا تھا۔۔۔ولید نے ہاتھ کی مٹھی بنا کر پہلو میں گرایا..
“میں اپنی اوقات جانتی ہوں۔۔۔تالیہ کہتے ہی وہاں سے جانے لگی۔۔۔
“تالیہ۔۔۔ولید نے روکنا چاہا لیکن تالیہ چلی گئی۔۔
“شٹ!!
“بیوی کو ناراض کردیا ولید۔۔حماد خان کی نڈھال سی آواز پر والید چونک کر پلٹا۔۔۔۔
“وہ میری ماں کے لئے غلط بول رہی تھی میری ماں ٹھیک تھیں ممی کی وجہ سے وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں کتنی تکلیف ہوتی ہوگی انہیں ممی کو دیکھ کر۔۔
“نہیں ولید ہانیہ کو ڈاکٹرز نے منا کر دیا تھا لیکن اسے یہ قبول نہیں تھا وہ جانتی تھی سب اس نے خود سوچ سسا کر کیا تالیہ بیٹی سہی کہ رہی ہے کوئی عورت اتنی بیوقوف نہیں ہوتی کے اپنی شوہر کے لئے دوسری عورت پر ترس کھائے۔۔
“پاپا دادو۔۔
“امی کو کچھ نہیں پتہ تھا ولید وہ جب پھوپھو کو پسند نہیں کرتیں تھیں تو انکی بیٹی کو کیسے قبول کر لیتیں جب میں نے خود سُمیرا کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا تھا۔۔ حماد خان چڑ کر کہتے وہیں بینچ پر بیٹھ گئے جب کے ولید ساکت کھڑا اپنے باپ کے پریشان چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔۔
___________
ولید پریشانی سے چلتا ہسپتال کے لان کی طرف آگیا اس وقت وہ صرف اکیلا رہنا چاہتا تھا۔۔۔
جب کوئی اسکے ساتھ بینچ پر آکر بیٹھا ولید نے چونک کر سر گھمایا تالیہ خاموشی سے بیٹھی آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔۔ولید کھسک کر دونوں کے درمیان فاصلے کو کم کرتا اسکے نزدیک ہوا۔۔۔
“میں جا سکتی تھی پھر خیال آیا کہاں جاؤں گی آپ کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں میرا۔۔ جب کے آپ کے پاس ہر رشتہ ہے ماں ہے باپ ہے بہنیں ہیں جب کے میرے پاس صرف آپ ہیں میں کسی لڑکی کے لئے اپنے شوہر کو نہیں چھوڑ سکتی اور اگر مجھے پتہ چلے کے زندگی میری سانسوں کی ڈور اپنی بے رحم گرفت میں لے کر کھنچنے والی ہے تب آپ آزاد ہوجائیں گے میں تب بھی کسی لڑکی کو آپ کے ساتھ باندھ کر نہیں مروں گی کیوں کے یہ آپ کی خود کی مرضی ہوگی آپ زندگی میں دوبارہ کیسے چنتے ہیں یہ سب آپ کی مرضی ہوگی۔۔۔تالیہ سامنے دیکھتی کہے جا رہی تھی ولید نے بازو اسکے کندھے پر پھیلا کر اسے اور نزدیک کیا۔۔تالیہ نے چونک کر اُسے دیکھ پھر خود ہی اسکے کندھے پر سر رکھ دیا۔۔
“مجھے معاف کر دینا تلخ حقیقتیں واقعی بے رحم ہوتی ہیں۔۔۔ولید نے نادم ہوتے اسکی پیشانی پے لب رکھے تالیہ نے مسکرا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔
___________
“ڈاکٹر ممی کیسی ہیں ؟ حنا جو دروازے کے قریب ہی کھڑی تھی ڈاکٹر کو باہر آتے دیکھ کر جلدی سے بولی۔۔
ڈاکٹر نے ایک نظر سب کے پریشان چہروں کو دیکھا۔ ۔۔
“ماینر ہارٹ اٹیک۔۔۔ لیکن گھبرانے کی بات نہیں اب وہ ٹھیک ہیں پر خیال رہے کوئی ایسی ویسی بات انکے سامنے نہ ہو جس سے انکی صحت خراب ہو۔۔ ڈاکٹر کی بات سنتے ہی سب کو جھٹکا لگا۔۔
“ہم مل سکتے ہیں۔۔۔حرا نے بھیگی آواز میں پوچھا۔
“َپیشنٹ کو ابھی روم میں شفٹ کرلیں اسکے بعد مل سکتے ہیں۔۔۔ڈاکٹر کہ کر آگے بڑھ گیا جب کے حماد چھوٹے چھوٹے قدم چلتے دروازے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔۔
جاری ہے
