Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01
جما دینے والی سردی میں جھیل کنارے بیٹھی وہ لڑکی کسی اور ہی دنیا کی باسی لگ رہی تھی سنہرے لمحے گھنگھرالے لمبے بال جو ہوا سے اوڑ رہے تھے پیروں کو چھوٹی لمبی سیاہ رہگ کی فروک پہنے اجنبی نظروں سے اطراف میں دیکھتی رو دینے والی ہو رہی تھی۔۔
دور سے ہی لوگوں کو دیکھتی وہ ان سے مدد مانگنے کا سوچ رہی تھی جب کسی لڑکی کو خود کو دیکھتا پا کر گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔۔
“ماما دیکھیں وہ کون ہے۔۔۔لڑکی نے جلدی سے قریب ہی کھڑی اپنی ماں سے کہا جس کی آواز اسے بھی سنائی دی سب نے جیسے ہی اس طرف دیکھا وہ ڈر گئی۔۔
“واہ کیا یہ پری ہے؟ انہی میں سے کس نے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔
“شاید۔۔ساتھ کھڑے دوسرے لڑکے سے نامحسوس طریقے سے اپنے موبائل کا کیمرے اون کر کے اس کی جانب کیا ۔۔
“یہ سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں خود سے بڑبڑاتی وہ تیزی سے وہاں سے بھاگتی ہوئی سڑک کنارے جانے لگی لڑکے نے جلدی سے تصویر لی۔۔ لیکن اتنا فاصلہ ہونے کی وجہ سے ٹھیک نہیں آئی جلد بازی میں وہ زوم کرنا بھول گیا.
سب نے گھور کر اسے دیکھا جس کی پرجوش آواز نے اسے بھگا دیا تھا۔۔
________
چہرے پے ٹھنڈا ٹھار پانی پڑتے ہی جھٹکے سے اٹھ کر اس نے جھجھری لے کر سامنے کھڑے ریحان کو دیکھا جو پانی پھینک کر اب سکون سے کھڑا اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔۔
تالیہ نے ہونٹ بھنج کر چادر کو خود پر اچھی طرح لپیٹ کر کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا
“یہ کیا بدتمیزی ہے جاہل انسان۔۔۔
“اوہ تم مجھے جاہل کہ رہی ہو حسینہ۔۔۔ ریحان اسکے گیلے چہرے کو نظروں کی گرفت میں لیتا چڑانے والے انداز میں بولا۔۔
اس سے قبل تالیہ اسے کوئی سخت بات کہتی آمنہ کو اندر آتے دیکھ کر ضبط کرتی روک گئی۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو ریحان۔۔۔آمنہ نے گھورتے ہوۓ سختی سے ریحان کو کھڑا دیکھ کر پوچھا
“میں تو اسے جگانے آیا تھا امی اسے بولا رہی ہیں۔۔ ریحان نے معصوم بننے کی ادکاری کرتے ہوۓ اسے بتایا۔۔
آمنہ نے ہنکار بھرتے ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا۔۔
“آجاتی ہے وہ جاؤ تم۔۔۔
ریحان سر ہلاتا تیزی سے باہر نکل گیا۔۔۔
“دروازہ لاک کر کے کیوں نہیں سوتی ہو تم ہاں۔۔۔آمنہ نے گھورتے ہوۓ اسے جھڑکا۔۔
“ہا! “مجھے کیا پتہ تھا وہ جاہل یوں میرے کمرے میں گھس جائے گا اُوپر سے اسکی جرّت دیکھو مجھ پر پانی پھنک دیا اتنا پیارا خواب دیکھ رہی تھی جھیل کنارے میں کھڑی تھی بال کھولے حسین سی فراک پہنے ہائے لوگ مجھے پری سمجھ رہے تھے۔۔تالیہ نے ٹھنڈی سانس بھرتے کھوئے کھوئے انداز سے اسے بتایا۔۔
“ہاہاہا۔۔!! “تم اور تمہارے یہ خواب ہاہاہا!! آمنہ زور سے ہنستی اسکے قریب بیٹھی تالیہ نے ناپسندگی سے اسے دیکھا
“اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے ہنہ تم دیکھنا ایک دن میں اسی طرح کے مہنگے کپڑے پہنا کروں گی۔۔ تالیہ نے بُرا مانتے ہوۓ اپنے بھورے فراک کو دیکھا جس کے نیچے چست لیگن پہنا ہوا تھا۔۔ آمنہ منہ پہ ہاتھ رکھتی ایکدم سنجیدہ ہوئی۔۔
“ان شاءلله اب خوابوں کی دنیا سے باہر نکلو اور اٹھ کر جاؤ میم کے آفس میں حاضری لگاو ورنہ کہیں یہ نہ ہو غصّے میں تمہے یہاں سے نکال باہر کریں
“ہنہ وہ ایسا کر کے تو دکھائیں میں کیس کردوں گی ان پر کے اپنے بیٹے کو روز اپنے ساتھ یہاں لاتی ہیں اور اور۔۔۔تالیہ جل کر بولتی اٹک گئی جب کے آمنہ افسوس سے سر نفی میں ہلاتی باہر نکل گئی۔۔
“میں کر سکتی ہوں ایسا صرف ایک بار میرے پاس ڈھیر سارے پیسے آجائیں۔۔تالیہ خود سے بڑبڑا کر اٹھ کر باتھروم چلی گئی۔۔
_______
تیز رفتار میں ریڈ سپورٹ کار اپنی منزل کی جانب گامز تھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی لڑکی لانگ سکرٹ کے ساتھ ٹاپ پہنے گنگنانے کے ساتھ سر کو ہلکے ہلکے ہلا رہی تھی جب کے ساتھ بیٹھا دوسرا وجود بیزاری سے سر سیٹ پر گرائے بیٹھا تھا سرخ سفید چہرہ دھوپ سے تمتما رہا تھا۔۔۔
“سارا نے ایک نظر اسے دیکھ کر دوبارہ سڑک پر نظریں مرکوز کی۔۔
“ولید پلیز اپنا موڈ ٹھیک کرو یار میں نہیں چاہتی تم میرے ساتھ لکتے منہ سے آج کا دن گزارو۔. سارا نے نزاکت سے بالوں کو جھٹک کر کہا۔
“ولید نے ایک نظر اسے دیکھا پھر واپس آنکھیں موند لیں۔۔
“میں کچھ کہ رہی ہوں تمہے۔۔
“سن لیا۔۔
“یہ کیسا سنّنا ہوا ایک تو میری سمجھ میں نہیں آرہا تم پاکستان واپس جا ہی کیوں رہے ہو مجھے تو ڈر ہے تمھارے پیرنٹس کہیں کسی فضول سی لڑکی سے تمہاری شادی نا کروادیں ہنہہ میں بتا رہی ہوں مسٹر والید ہم دونوں کی اینگیجمٹ ہوچکی ہے بے شک تمھارے پیرنٹس یہاں موجود نہیں تھے اور۔۔۔
“اوہ مائے گاًڈ!! سارا تم کیا بے کار کی بحث شروع کر رہی ہو صرف دو ہفتے کے لئے جا رہا ہوں میں بہن کی شادی کے لئے سب جانتے ہیں ہماری اینگیجمنٹ کے بارے میں تمہے کیا لگتا ہے میں نے چھپ کر یہ سب کیا ہے تم خود بھی ایک ہفتے بعد آجاؤ گی۔۔۔۔ولید نے جھنجھلا کر اسکی بات کاٹ کر کہا جو چڑ کر بنا روکے بولے جا رہی تھی ولید نے دوبارہ سر جھٹک کر آنکھوں موند لیں جب کے سارا چپ ہوگئی۔۔
“وہ۔
“پلیز سارا ہم یہ بات بعد میں ڈسکس کر سکتے ہیں۔۔ولید نے ایکدم اسے کچھ بھی بولنے سے روک دیا سارا ہنکار بھر کر رہ گئی۔۔۔۔ ولید کو زیادہ بولنا پسند نہیں تھا اس وقت تو بلکل نہیں جب وہ پریشان ہو۔
________
“آپ نے بلایا میڈم ۔۔۔تالیہ نے اندر جھانک کر معصومیت سے پوچھا
“وقت دیکھا ہے ؟ موٹی سی عینک کو ناک پے ٹکائے چشمے کے اُوپر سے ہی گھور کر دیکھا
“جی وہ۔۔۔۔تالیہ اندر آتی اٹکتی ہوئی نظروں کا زاویہ دیوار گھیر گھڑی پر مرکوز کرتی آنکھوں کی پتلیاں چھوٹی کر کے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“شائستہ میڈیم نے تیز نظروں سے اسے گھورتے ہوئے گلا کھنکھارا
“چشمہ کہاں ہے تمہارا لڑکی۔۔
“ہاں اچھا تبھی میں سوچوں مجھے نظر سہی سے کیوں نہیں آرہا۔۔۔ایک منٹ میڈیم میں ابھی کمرہے سے چشمہ لے کر آتی ہوں۔۔۔تالیہ نے سر پے چپت مار کے ایسے کہا جیسے واقعی وہ اپنے نظر کا چشمہ بھول گئی ہو.
شائستہ بیگم جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھیں وہ جو دروازہ کی طرف فرار ہونے پر خوشی سے بڑھنے لگی تھی روک کر بُرا سا منہ بنانے لگی۔۔۔
“جھوٹ بھی بولنا شروع کر دیا ہے تم نے اب لڑکی تمہاری فراک کی جیب سے چشمہ باہر نکل رہا ہے۔۔
شائستہ میڈم نے چبا چبا کر اسے کہا تالیہ نے تیزی سے جیب کی طرح دیکھا
“اوپس پکڑی گئی اب یہ جلاّد میڈم پھر مجھے زیادہ کام دے گی پر میں بھی تالیہ ہوں
خود سے بڑبڑاتی وہ مسکرائی جب شائستہ میڈم کی بات سنتے ہی کرنٹ کھا کر رہ گئی
________
“یا اللّه مجھے اس جلاّد میڈم سے محفوظ رکھیں پلیز۔۔مانا مجھے پانچ سال کی عمر سے سمبھالا ہے پناہ دی لیکن پیار ہونہہ سوچ کر ہی خود کا مذاق اُڑانے کا دل کرتا ہے ہا! اُوپر سے میری یہ سمجھ میں نہیں آتا جب اپنے ہی بچے کو اپنی زندگی سے بھاڑ میں بھیجنا ہوتا ہے تو پیدا کرنے سے پہلے سوچ کیوں نہیں لیتے۔۔
کوریڈور کے فرش پر پُوچا لگاتی تالیہ دل کی بھڑاس اپنی سہیلی آمنہ سے کرتی چڑچڑی ہو رہی تھی جب کے آمنہ ہاتھ میں ڈسٹنگ کا کپڑا پکڑے خاموشی سے کھڑی مسکرائے جا رہی تھی۔۔
“تالیہ میری پیاری سہیلی ہر عمل اگر سوچ سمجھ کے کیا جاتا تو یتیم خانے نہیں بنتے نہ عدالتیں ہوتیں اور نا ہی فساد ہوتے چونکہ یہ سب زندگی کی اذیت و دردناک حقیقتاً اسی دنیا کا نظام ہے جو صدیوں سے چلتا آرہا ہے اس لئے میری مانو تو ان بیکار باتوں کو سوچ کر خود کو ذہنی مریضہ مت بناؤ کیوں کے جو ہو چُکا ہے اسے نہ تو تم بدل سکتی ہو نہ ہی وقت.۔۔۔آمنہ ٹھہر ٹھہر کر اپنی بات مکمّل کرتی آگے بڑھ گئی جب کے تالیہ اسی طرح بیٹھی اُسے جاتا دیکھتی رہی پھر زور سے سر جھٹکتی “ہونہہ” کرتی اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔
__________
کراچی ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی ولید ایک جگہ روک کر متلاشی نظروں سے اطراف میں دیکھ رہا تھا جب کوئی تیزی سے اسکے سامنے آیا۔۔۔
“السلام علیکم صاحب۔۔۔ ڈرائیور نے سلام کرتے ہی اُسکا سوٹ کیس لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔۔
ولید جواب دے کر اُس کے ہاتھ کو نظر انداز کر گیا تھا
“گاڑی کہاں ہے ؟
“جی وہ سامنے۔۔آپ یہ سامان مجھے دے دیں۔۔ ڈرائیور نے اسے بتاتے ساتھ دوبارہ ہاتھ اسکے سامنے بڑھائے۔۔
“بہت شکریہ میں اپنے کام خود کرنے کا عادی ہوں۔۔۔ولید سنجیدگی سے اسے کہتا آگے بڑھ گیا ۔۔۔
____________
گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی جب ولید کی سپاٹ آواز پے ڈرائیور نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
“جی صاحب؟
“گھر جانے سے پہلے میں آفس جانا چاہوں گا تم جانتے ہو اس وقت پاپا آفس میں ہونگے۔۔۔ولید نے اب کے تفصیلاً نرمی سے جواب دیا۔۔
“اوکے سر جیسا آپ کہیں۔ ڈرائیور نے چہرے کے تاثرات نارمل کرتے ہوئے سر اثباب میں ہلایا۔۔
ولید دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا جب اُسکا موبائل بجا چونک کے موبائل اٹھایا جہاں “سارا کالنگ ” نام جگمگا رہا تھا ایکدم ولید کے ہونٹوں پر تبسم نمودار ہوا۔۔
_____________
“السلام علیکم تشریف رکھیے۔۔ شائستہ میڈم شیریں لہجے میں سامنے کھڑی موٹی عورت کو دیکھ کر بولی۔۔
تالیہ جو کپڑوں کی ٹوکری پکڑے فرح کو دینے جا رہی تھی شائستہ میڈم کی آواز پر روک کر جلدی سے چُھپتی میڈم کے ساتھ کھڑی ایک عورت اور دو آدمیوں کو دیکھنے لگی۔۔
“یہ کون ہیں شکل سے تو کُھلے سانڈ لگ رہے ہیں اوپس اللّه مجھے معاف کریں پر انہیں دیکھ کر ایسا ہی محسوس ہوا۔۔خود سے بڑبڑاتی تالیہ چاروں طرف دیکھ کر جلدی سے بھاگی۔۔۔ دروازے سے کان لگا کر سُننے کی کوشش کی لیکن سب بےسُد کچھ سوچتی دروازے کی ناب کو دانتوں تلے زبان دبا کر آہستہ سے گُھما کر ہلکا سا وا کیا۔۔۔
“کون سی چاہیے یہاں ہر عمر کی بچی اور لڑکی ہے ویسے تو یہ میرا رول ہے کے میں بڑی لڑکی نہیں دیتی کیوں کے آگے جا کر خدا نا خاستہ کسی غلط کام پر لگا دیا تو میرا تو سوچتے ہی دم نکلنے لگتا ہے۔۔شائستہ میڈم ہنوز اُسی لہجے میں بات کرتی ان کی جانب متوجہ تھیں جب کے دروازے کے باہر کھڑی تالیہ ناسمجھی سے اُنہیں دیکھنے لگی۔
“کیا یہ کسی سولہ سترہ سال کی بچی ایڈوپٹ کرنے آئے ہیں ؟
“بجا فرمایا میڈم جی آج کل تو حالات بھی اسی طرح کے ہوگئے ہیں مجھے بس بیس اکیس سال کی ایک لڑکی چاہیے اور شائستہ میڈم سننے میں آیا ہے آپ یہ کام اپنے ہی اس بڑے سے بنگلے میں کرتی آرہی ہیں اور جوان لڑکیوں کو کام دھندھوں میں لگا کر عیش سے زندگی گزار رہی ہیں۔۔۔ آدمی نے ہلکی آواز میں آگے ہوکر کہا شائستہ میڈم ایک دم گھبرا گئیں۔
“یہ کیا بکواس کر رہے ہیں آپ ؟ شائستہ میڈم اپنے لہجے کو مضبوط کرتیں اس آدمی کو گھورنے لگی جب پیچھے کھڑ دوسرا آدمی قہقہ لگا کر آگے بڑھا۔۔
“شائستہ ڈارلنگ ہمیں معلوم ہے تم نے چند مجبور لڑکیوں کو اپنے باپ کا مال سمجھ رکھا ہے ۔۔اب ہماری بات دیہان سے سنو ایک لڑکی دو اور اس راز کو راز رہنے دو ورنہ۔۔۔
آدمی ورنہ پے زور دیتا پیچھے ہوکر سیدھا کھڑا ہوگیا شائستہ میڈم کی پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔
____________
“آمنہ چلو میرے ساتھ جلدی۔۔۔تالیہ کمرے میں آتے ہی پھولی سانسوں کے درمیان کہتی اسے گھسیٹنے لگی۔
“اوفو!! “تالیہ کی بچی سانس تو لے لو کون سی آفت آگئی ہے۔۔۔
“سب بتاتی ہوں بلکہ نہیں دکھاتی ہوں خاموشی سے چلو میرے ساتھ۔۔
“نہیں پہلے مجھے بتاؤ ایسی بھی کیا قیامت آگئی ہے۔۔آمنہ نے ہاتھ چھڑوا کر ضدی لہجے میں استفسار کیا تالیہ اُسے گھورتی سب بتاتی چلی گئی جس کا چہرہ سب سُن کر اچانک سپاٹ ہو چکا تھا۔۔
“یاد ہے تالیہ جب میں تیرا سال اور تم بارہ سال کی تھی آ نہیں تمہے کیسے یاد ہوگا چلو میں ہی بتا دیتی ہوں کیوں کے مجھے لگتا ہے یہ وقت بہترین ہے تمھارے لئے۔۔آمنہ اُداسی سے کہتی اُسے دیکھنے لگی
“آمنہ تم تم جانتی ہو؟ تالیہ ہچکچائی ایکدم کسی تکلیف کا احساس بڑھا۔۔
“ہم جہاں ہیں وہ ایک گھر ہے بڑا گھر جہاں لاوارث لڑکیاں اپنی زندگی گزار رہی ہیں ہنسی خوشی کیوں کے انکی میڈم ایک اچھی نیک عورت ہے لیکن جو آنکھوں کے سامنے نظر آتا ہے ضروری نہیں وہی سچ ہو۔۔۔آمنہ اسے دونوں کندھوں سے تھام کر آہستہ سے بتانے لگی جو چپ کھڑی یک ٹک اُسی پے نظریں مرکوز کیے ہوئے تھی۔۔
_______
گاڑی سے اُتر کر ولید داخلی دروازے سے اندر بڑھا ریسیپشن پے کھڑی لڑکی کو اپنا تعارف کروایا۔۔
“سر میں ابھی باس کو انفارم کرتی ہوں ۔۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے آپ مجھے بتا دیں ان کا آفس کس طرف ہے۔۔۔وہی سنجیدہ لہجہ
“سر سب سے آخر میں ان کا آفس ہے۔۔۔لڑکی اسکے انداز سے خائف ہوتی پیشہ وارنہ مسکراہٹ سے بتاتی سامنے کھڑے لمبے چوڑے پُر کشش وجیہہ مغرور آدمی کو جاتا دیکھتی رہ گئی۔۔۔
______
“جیسا کے میں نے تم سب بچیوں سے کہا تھا کے مس روشنی یہاں ایک بچی کو ایڈوپٹ کرنے آئی ہیں اس لئے میں چاہتی ہوں سب کا آپس میں ایک بار تعارف کروا دیا جائے۔۔
شائستہ میڈم سامنے کھڑی ساتھ آٹھ لڑکیوں کو دیکھ کر بتانے لگیں جو پندرہ سے پچیس تک کی عمر کے درمیان تھیں۔۔
آمنہ نے ساتھ کھڑی تالیہ کا ہاتھ سختی سے تھاما جس کا چہرہ غصّہ ضبط کرنے کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا۔۔
“مجھے یہ بچی پسند آئی ہے۔۔۔عورت مسکراتی ہوئی تیز نظروں سے سب کو سر تا پیر دیکھنے کے بعد تالیہ کے مقابل آئی۔۔
“ہاہاہا یہ میرے گھر کی سب سے شرارتی بچی ہے۔۔شائستہ بیگم ہنستے ہوۓ بتانے لگی تھیں جب کے دونوں مقابل کھڑی ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
“یہ تو اور بھی اچھی بات ہے ہمیں شرارتی بچیاں پسند ہیں۔۔۔پیچھے کھڑا آدمی آنکھوں میں حوس لیے تالیہ کو دیکھ کر بولتا مسکرایا۔۔
“مجھے نہیں جانا کسی کے ساتھ سمجھیں آپ۔۔۔۔تالیہ نے چبا کر سخت نظروں سے شائستہ میڈم کو گھورا۔۔۔
“یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا تالیہ۔۔۔
“مجھے طریقے سکھانے کو کوشش مت کیجئے گا سب جانتی ہوں میں کہیں یہ نہ ہو کے میں وہ سب کہنے پر مجبور ہوجاؤں جو آپ یقیناً سننا گوارا نہیں کریں گی اس لئے بہتر ہے ان لوگوں کو یہاں سے چلتا کریں۔۔
چبھتی نظروں سے گھورتی تالیہ کہ کر رکی نہیں تھی۔۔
__________
ٹھک ٹھک ٹھک !!
“یس۔۔۔ٹیبل کے پیچھے کرسی پر بیٹھے آدمی نے مصروف سے لہجے میں اندر آنے کی اجازت دی۔۔
“السلام علیکم پاپا آپ جانتے ہیں میں پاکستان آتے ہی سب سے پہلے آپ سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔ناراضگی سے پُر لہجہ حماد خان کی سماعتوں میں پڑا تو شفقت بھری مسکراہٹ انکے ہونٹوں پے رقصاں ہوگئی
“وعلیکم اسلام۔۔۔آخر میرا بیٹا آ ہی گیا۔۔۔حماد خان خود اٹھ کر اس سے پرتاک ملے۔۔۔
“آنا ہی تھا آخر آپ کی بیٹی کی شادی جو ہے۔۔ولید کا لہجہ ایکدم تلخ ہوا۔۔
“ہا!! مجھے پرواہ نہیں تم جس بھی وجہ سے آئے بس میرے لئے یہی کافی ہے کے تم ابھی میرے سامنے ہو۔۔۔حماد خان نے گہری سانس لیتے ولید کا کندھا تھپتھپایا۔۔
پاپا میرے ساتھ گھر چلیں۔۔۔
“دس منٹ انتظار کر سکتے ہو میں ایک کام نبٹا لوں پھر چلتے ہیں۔۔۔
“دس کیا آپ آرام سے اپنا کام مکمّل کریں میں یہیں ہوں۔۔۔ولید نے مسکرا کر اپنے باپ کو دیکھا۔۔۔
کتنا وقت گزر گیا باپ کو اس طرح قریب سے دیکھے۔۔
“اوکے بیٹا۔۔۔
_________
تالیہ اپنے کمرے میں آتے ہی بیڈ پربیٹھ کر رونے لگی جب ٹک کی آواز پر تیزی سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔۔۔
“یہ دروازہ کس نے بند کیا.۔۔تالیہ دروازے کے ہینڈل کو چیک کرتی دروازہ پیٹنے لگی.
“تم سب جاؤ بچیوں شاید وہ یہاں سے جانا نہیں چاہ رہی ہوگی تبھی اول فول بولتی رہی۔۔
شائستہ میڈم غصّہ ضبط کرتیں لڑکیوں سے بول رہی تھیں سب انکی بات سن کر سر ہلاتئیں کمروں کی طرف بڑھ گئیں آمنہ بھی تیزی سے اپنے اور تالیہ کے مشترکہ کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔
“دروازہ کھولو مجھے کیوں بند کیا ہے۔۔۔۔کھولو پلیز۔۔۔اس سے قبل تالیہ دوبارہ چیختی ایکدم دروازہ کھولتے کوئی اندر آیا۔۔۔
“”آمنہ دروازہ۔۔۔
“ملازمہ کر کے گئی ہے میڈم کا حکم تھا ان سب باتوں کو چھوڑو چلو میرے ساتھ۔۔۔آمنہ تیز تیز بولتی تالیہ کا ہاتھ پکڑ کے بالکنی کی طرف بڑھی۔۔
“کہاں لے کر جا رہی ہو آمنہ
“تم یہاں سے ابھی اسی وقت چلی جاؤ ورنہ وہ لوگ زبردستی کر سکتے ہیں
تالیہ آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھنے لگی جو ساتھ نیچے اترنے کا اسے سارا منصوبہ بتا رہی تھی۔۔
__________
میں ایسے نہیں بھاگ سکتی ہمیں کوئی اور حل نکالنا چاہیے۔۔ آمنہ تم میرے ساتھ چلو ہم پولیس سٹیشن جاتے ہیں انکے خلاف رپورٹ کروائیں گے دیکھنا سارے مسلئے خود ختم ہوجائیں گے۔۔۔۔تالیہ اسکے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام کر کہ رہی تھی۔۔
“نہیں تالیہ یہ سب آسان نہیں ہے شائستہ میڈم کے پاس بہت پیسہ ہے ہم پھس سکتی ہیں پلیز تم بھاگ جاؤ یہاں سے ابھی وقت ہے ورنہ اگر یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو نہ تو میں کچھ کرسکوں گی نہ ہی تم۔۔آمنہ نے ہاتھ چھوڑ کے جھنجھلا کر اسے کہا تالیہ افسوس سے اُسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
“مجھے بہت افسوس ہوا تمہاری سوچ جان کر آمنہ تم جیسی ہی لڑکیاں ہیں جنہیں زبردستی کیچڑ میں کھڑا کرو تو وہ واپس پلٹنے کے بجائے اُسی کیچڑ میں پھسلتی چلی جاتی ہیں اور جانتی ہو وہ اتنا خوف کو خود پے حاوی کرلیتی ہیں کے اُنہیں لگتا ہے اُنکے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے ایسا کے وہ اپنا بچاؤ کر سکیں اور یہی سوچ قدموں کو معذور کرتی چلی جاتی ہے لیکن تالیہ پھسلنے والوں میں سے نہیں قدموں کو کنارے پر ہی مضبوطی سے جما کر پلٹ جانے والوں میں سے ہے۔۔خیر میں تمہاری ہمیشہ احسان مند ریوں گی اپنا خیال رکھنا۔۔۔ تالیہ سختی سے کہتی ریلیگ کی دوسری طرف اُترتی نیچے رکھی سیڑھی سے اُترنے لگی چونکہ دُوپہر کا وقت تھا یر طرح سنناٹا تھا۔۔۔
آمنہ شرمندگی سے کھڑی اُسے جاتا دیکھتی رہی۔۔۔
“بھاگ گئی ؟ ایکدم کمرے میں شائستہ میڈم کی آواز گونجی۔
آمنہ جھٹکے سے پلٹی۔۔
“جی لیکن (آمنہ لیکن پے روکتی قدم قدم چلتی انکے مقابل کھڑی ہوئی) آپ ہی سودے بازی کر رہی تھیں پھر کیوں خاموشی سے اسے یہاں سے نکالنے کا منصوبہ بنایا
“ہا!! جانتی تھی میں تمہارے دماغ کو یہی سوال ستا رہا ہوگا لیکن شائستہ محمود باغی لڑکیوں پے وقت برباد نہیں کرتی اور ہاں رہی بات اُس کی کے وہ میرے خلاف جائے اس کا انتظام میں کر چکی ہوں۔۔۔ بہت مال لگایا ہے اب سود سمیت نہیں دے گی تو انجام اُسے بھوگتنا ہوگا میری جان۔۔۔ شائستہ میڈم اُسکی تھوڑی کو پکڑ کے شیطانیت سے کہتیں کمرے سے نکل گئیں جب کے آمنہ کے کانپ کر رہ گئی۔۔
_________
“مالکن صاحب آگئے۔۔۔ملازمہ نے ٹیبل پے ٹرے رکھ کے اُسے اطلاع دی۔۔۔
سُمیرا بیگم کا بالوں میں چلتا ہاتھ ایکدم رُوکا۔۔
“ٹھیک ہے جاؤ تم۔
“جی۔۔۔ملازمہ جواب دیتی جانے لگی جب دروازے کے قریب پہنچ کر سُمیرا بیگم کی آواز پر رک کر پلٹی۔۔
“حرا سے کہو ولید آگیا ہے ہمم۔۔۔بالوں میں برش پھیرتی مُسکرا کر حکم دیتیں اسے جانے کا اشارہ کیا۔
“بہتر مالکن۔۔۔ملازمہ سر ہلاتی حرا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی.۔۔
__________
جاری ہے۔۔
