Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11
“پاپا آپ ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ؟ ولید جو لنچ ٹائم پر اپنے باپ کے آفس میں آیا تھا کافی دیر سے حماد خان کی نظریں خود پر محسوس کر رہا تھا
“میں سوچ رہا ہوں تم نے میری بیوی کے ساتھ اپنی معصوم بیوی کو کیسے چھوڑ دیا۔۔۔حماد خان نے شرارت سے اسے دیکھا
“بہو کی اتنی فکر اور آپ کا بیٹا جو صبح سے ہر کام دیکھ رہا ہے اسکا خیال نہیں۔۔۔ولید نے مصنوعی خفگی سے اپنے باپ کو دیکھا۔۔۔
“تمہاری جگہ کوئی نہیں لے سکتا ولید۔۔۔تم میری جان ہو.
“جیسے ماما تھیں۔۔۔ افسردگی سے اپنے باپ کو دیکھ کر وہ اچانک بولا۔۔
حماد خان مسکرا کر رہ گئے۔۔ہانیہ کو وہ کیسے بھول سکتے تھے پہلی اور آخری محبت بھلا کیسے کوئی بھول سکتا ہے۔۔۔
“آپ کو یاد آتی ہیں ماما پاپا ؟ ولید نے افسردگی سے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اسکے سوال پر سرد آہ بھر کر سیٹ پے آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔
“یاد کرنے کے لئے بھولنا شرط ہے ولید۔۔یہی تو محبت کی سب سے بُری عادت ہے جس کی یاداشت اتنی تیز ہے کے زندگی کے آخری لمحے تک تڑپاتی رہتی ہے۔۔۔
اس سے قبل وہ ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ٹیبل پر رکھا انکا موبائل بج پڑا دونوں جیسے اپنی سوچوں سے چونک کر باہر نکلے۔۔
“میں چلتا ہوں پاپا۔۔ولید اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا حماد خان نے بھی مسکر کر کال رسیو کرلی۔۔۔
_________
“السلام عليكم۔۔۔کوٹ کو بازو پر ڈالے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہ کمرے میں داخل ہوا تالیہ جو اوندھی لیٹی ناول میں گم تھی چونک کر سیدھی ہوئی
“وعلیکم اسلام۔۔۔ تالیہ نے اُسے دیکھا جو تھکا ہوا لگ رہا تھا
“میں پانی لاتی ہوں۔۔۔تالیہ کو اچانک خیال آیا۔۔
ولید جو سوفے پر بیٹھ کر جھک کر شوز اُتار رہا تھا جلدی سے بولا
“میں پی کر ہی آیا ہوں۔۔۔
ولید کی بات پر تالیہ کندھے اُچکاتی دوبارہ ناول میں گم ہوگئی۔۔۔
“ولید وارڈروب سے کریم کلر کا شلوار قمیض نکال کر باتھروم چلا گیا۔۔
_____
ولید باتھروم سے نکل کر تولئے سے گیلے بال رگڑتا اپنی ہی دھن میں ڈریسنگ کی طرف بڑھ رہا تھا جب کے تالیہ ہنوز بیٹھی ناول میں گُم مسکراہ رہی تھی جب اچانک تالیہ کے منہ پر گیلا تولیہ زور سے آکر لگا وہ جو کسی سین کو پڑھ کر مسکرا رہی تھی اسکے چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔ہاتھ سے کتاب چھوٹ کر گری جب کے خود وہ آنکھیں پوری کھولے صدمے سے کبھی خالی ہاتھ کو دیکھتی تو کبھی نیچے گری کتاب کو جب کے ولید شیشے کے سامنے کھڑا گنگناتے ہوۓ خود پر پرفیوم لگا رہا تھا۔۔۔
“ولید آپ۔۔۔
“آہستہ بیوی میں یہیں ہوں۔۔۔ صدمے سے چیخ کر اُس نے کچھ کہنا چاہا جب ولید نے اُسکی بات کاٹی۔۔
تالیہ اسکی بات پر غصّے سے تولئے کو اٹھا کر اسکی سائیڈ پر زور سے پٹخ کر کھڑی ہوئی۔۔
“آپ کو تمیز نہیں ہے گیلا تولیہ کوئی اس طرح بنا دیکھے ادھر ادھر پھینکتا ہے۔۔
ولید نے تالیہ کی بات سن کر بیڈ کی طرف دیکھا پھر سکون سے کندھے اُچکائے۔۔
“اٹھا لو یار اس میں لڑنے والی کیا بات ہے۔۔ ولید کندھے اچکا کر مشورہ دیتا موبائل اٹھ کر صوفے پر بیٹھ گیا تالیہ کا دل کیا اسکے سر کے بال خراب کردے جو اتنے اہتمام سے بنائے جارہے تھے.۔۔
“میں تو نہیں اٹھا رہی بلکہ ابھی بتاتی ہوں تالیہ سوچتی ہوئی شیطانی مسکراہٹ لئے ولید کی سائیڈ پر جاکر کھڑی ہوئی.
“بیوی سوچ سمجھ کر کرنا جو کرنے لگی ہو۔۔۔ولید کی آواز پر تالیہ جو تولیہ اٹھا کر باتھروم سے تر کرنے جا رہی تھی الٹے قدموں چلتی بالکنی کی طرف بڑھ گئی۔۔
“ہنہ چالاک۔۔۔
__________
“تم چاہتی ہو میں کھانا پینا چھوڑ دوں؟ کھانے کا وقت تھا جب تالیہ ولید کے ساتھ ہی ڈائننگ ٹیبل تک آئی تھی سُمیرا بیگم اُسے دیکھتے ہی ایک بار پھر غصّے سے گرجی تھیں جس نے جلدی سے ولید کا ہاتھ تھاما لیا تھا۔
“ممی تالیہ میری بیوی ہے۔۔۔
“ہنہ تو سمبھال کر رکھو اپنی بیوی کو میرے سامنے اپنی یہ شکل لے کر نہ آئے یہ میری کچھ نہیں لگتی میں نہیں مانتی اسے اپنی بہو سمجھے تم۔۔
“مت سمجھیں۔۔۔ تالیہ میری بیوی ہے یہ میرا گھر ہے اس لہٰذ سے اب یہ اسکا بھی گھر ہے۔۔بیٹھو تالیہ سرد و سپاٹ لہجے میں اپنی بات مکمّل کرتے اس نے تالیہ کو حکم دیا جو ولید کے انداز سے ڈر کر جلدی سے بیٹھ گئی تھی۔۔
“تم میری انسلٹ کر رہے ہو وہ بھی اس سڑک چھاپ لڑکی کے سامنے۔۔سُمیرا بیگم نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوۓ ولید کو حیرانگی سے دیکھا جو سکون سے تالیہ کے ساتھ بیٹھ گیا تھا جب کے تالیہ نے ناگواری سے سُمیرا بیگم کو دیکھا تھا۔۔
“اس گھر میں عرصہ ہوا سڑک چھاپ لوگ پہلے ہی ڈیرہ ڈالے ہوۓ ہیں۔۔ولید بڑبڑا کر کھانے کی طرف متوجہ ہوا تالیہ نے حیرت سے اسکی بڑبڑاہٹ سنی تھی جب کے سُمیرا بیگم جو اسکی بڑبڑاہٹ نہیں سن سکیں تھیں تن فن کرتیں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔
“ولید بھائی آپ بڑے چالاک ہیں ویسے۔۔۔حرا نے ماں کے جاتے ہی شرارت سے اسے کہا۔۔
“یہ تو سچ کہا۔۔۔تالیہ بڑبڑی ولید نے اسکی بات سن کر آہستہ سے اپنی ٹانگ اسکی ٹانگ پر ماری۔۔۔
“شرم کریں۔۔تالیہ گھبرا کر اسے بولی جو معصوم بنا حرا کی طرف متوجہ تھا۔۔
“پاپا نے کہا ہے دو دن بعد آپ کا ولیمہ ہے اس لئے میں آپ کو پہلے ہی بتا رہی ہوں اچھا خاصا نیگ لونگی ورنہ تالیہ بھابھی میرے ساتھ میرے کمرے میں رہیں گی۔۔حرا نے اپنی طرف سے دونوں پر دھماکہ کیا تھا لیکن ولید کی بات سنتے ہی حرا کے ساتھ تالیہ کا بھی منہ حیرت سے کھل گیا۔۔
“یہ تو زبردست کام ہوجائے گا اس کا مطلب میں اپنے بیڈ پر جیسے مرضی سو سکتا ہوں ورنہ تمہاری بھابھی کا بس نہ چلے محھے بیڈ سے ہی نیچے پھینک دے۔۔۔
“جی نہیں میں بلکل تمیز سے لیٹتی ہوں اور میں کیوں جاؤں حرا کے کمرے میں۔۔ تالیہ چڑ کر کہتی اٹھ کر چلی گئی۔۔
“ولید بھائی آپ کو اسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔
“فکر مت کرو اسے بس موقع چاہیئے ہوتا ہے ولید نے کندھے اُچکائے جب کے حرا ولید کو دیکھ کر رہ گئی کوئی کہ سکتا تھا کے اُن کی شادی کو دو دن ہوۓ ہیں۔۔
_________
کھانے کے بعد ولید لان میں چہل قدمی کے لئے نکل گیا تالیہ جو منہ پھولائے کمرے کی کھڑکی کھولے کھڑی تھی ولید کو لان میں دیکھ کر آگے کو جھک کر دیکھنے لگی۔۔۔
ولید خود پر کسی کی نظریں محسوس کرتا اردگرد نظر دوڑانے لگا جب اچانک کوئی چیز آکر اسکے کندھے پر لگی ولید نے سر اٹھا کر دیکھا جہاں تالیہ اسکے متوجہ ہونے پر ناک سکڑ کر آسمان پر دیکھنے لگی ۔۔ کافی دیر وہ آسمان کو ٹکٹکی باندھے دیکھے گئی جب آواز پر چونکی۔
“یہ کیا حرکت تھی۔۔ولید اسکے پیچھے کھڑا استفسار کر رہا تھا اسے پتہ ہی نہیں چلا ولید کمرے میں کب آیا۔۔
“کون سی حرکت۔۔ولید اسکے انجان بننے پر اسکے ساتھ اکر کھڑا ہوا تالیہ جھجھک گئی۔۔
“میں کھانے کی ٹیبل پر ہوئی بات کا ذکر کر رہا ہوں میرے سامنے تمہاری زبان پٹری سے اتر جاتی ہے جب کے اپنی ساس کو یہ نہیں کہ سکی کے میں بھی اب اس گھر کی فرد ہوں۔۔۔
“آپ مجھے یہ کہنا چاہ رہے ہیں میں آپ کی ماں سے زبان چلاؤں تاکہ بعد میں آپ ہی میری عزت کا جنازہ نکالیں۔۔ تالیہ نے چڑ کر اُسے جواب دیا۔۔
“بدتمیزی اور بات کرنے میں فرق ہوتا ہے میں تمہے بدتمیزی کرنے کو نہیں انہیں اپنی بات منوانے کو کہ رہا ہوں ورنہ روز تمھارے ساتھ یہی ہوتا رہے گا۔۔
“مجھے نہیں سمجھانا میں کون سا زندگی بھر رہنے والی ہوں۔ جانے کیوں اسکی آنکھوں میں آنسوں امنڈ آئے ولید جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ہونٹ بھنج کر بالکنی میں چلا گیا۔۔۔
_________
اگلے دن تالیہ ولید سے پہلے جاگ گئی تالیہ نے دوسری طرف گہری نیند میں سوئے ہوئے ولید کو دیکھا۔۔
“سوتے میں بھی کمبخت اتنے اچھے لگتے ہیں۔۔۔آہ! تالیہ تمہیں لگتا ہے تم ان سے الگ ہو کر رہ سکو گی۔۔۔تالیہ سوچ کر رہ گئی جب دروازہ نوک ہوا۔۔
“بی بی جی آپ کو مالکن بلا رہی ہیں۔۔۔بینش مودب سی کھڑی اسے کہ کر پلٹنے لگی جب تالیہ نے بینش کو روکا۔۔
“کیوں بلا رہی ہیں؟
“معلوم نہیں کچن میں کھڑی ہیں۔۔بینش کندھے اچکا کر پلٹ گئی
“اف اب آنٹی کو کیا ہوگیا۔۔۔ایک انہیں دیکھو کیسے سو رہے ہیں. ۔۔۔تالیہ بڑبڑتی ہوئی ولید کے قریب پہنچی۔۔
“ولید۔۔ولید۔۔۔اٹھیں۔۔
“تنگ مت کرو۔۔ولید نے کروٹ بدل کر کہتے ساتھ تالیہ کی بنائی گئی دیوار سے کشن اٹھا کر اپنے چہرے پر رکھا۔۔
“ولید شرافت سے اٹھ جائیں ورنہ میرا کیا ہوگا۔۔
“اب ہاتھ لگایا بیوی تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔ولید نے نیند سے بوجھل ہوتی آواز میں دھمکی دی۔۔
“میں کچھ نہیں سننے والی اٹھیں۔۔۔تالیہ نے کشن کھنچ کر پھینکا اس سے قبل وہ ولید کو اٹھانے کی پھر سے ناکام کوشش کرتی ولید سیدھے ہوتے ہی اسے پکڑ کر بیڈ پر پٹخ کر اپنے حصار میں لے چکا تھا تالیہ کی سانس اٹک گئی۔۔۔
“سوجاؤ اب۔۔۔ولید اسکے تاثرات دیکھ کر ہنسی ضبط کرتا کہ کر آنکھیں موند گیا جب کے تالیہ کو لگا وہ کبھی حل ہی نہیں سکے گی۔۔۔
___________
جاری ہے۔۔
