Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08

شیشے کے سامنے کھڑی تالیہ انکھوں میں کاجل لگا رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔ زور سے “آرہی ہوں” کہتی دوپٹہ اڑھتی کمرے سے نکلی۔۔۔
“آپ۔۔۔حیرت سے اپنے سامنے کھڑے ولید کو دیکھ کر اتنا ہی بول پائی جو شلوار قمیض پے واسکٹ پہنے بہت خوبرو لگ رہا تھا بقول تالیہ کہ اگر وہ دہشتناک نہ ہوتا تو محبت ہو ہی جاتی۔۔۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے؟ سنجیدگی سے کہتا وہ اسے ایک طرف ہونے کا اشارہ کرنے لگا۔۔اس سے قبل تالیہ الٹا جواب دیتی ولید کو سنجیدہ دیکھ کر بولنے کا ارادہ ترک کرتی ایک طرف ہوگئی.۔
ولید نے اندر داخل ہوتے ہی دروازے کو لاک لگایا تالیہ ٹھٹھک گئی۔
“یہ یہ دروازہ کیوں بند کیا ہے۔۔۔تالیہ نے گھبرا کر پوچھا جو جواب دیے بنا اسکے مقابل آیا۔۔
“کون ہو تم؟ کہاں سے آئی ہو ؟ ولید کا سرد لہجہ تالیہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی
“یہ کیسا سوال ہے؟
“دیکھو لڑکی مجھے سچ سچ بتاؤ۔۔ولید اسکی آنکھوں میں جھانک کر سختی سے بولا
“سچ بتاؤں یا جھوٹ ؟ تالیہ نے شرارت سے ایک قدم آگے بڑھا کر پوچھا ولید نے ہونٹ بھنج لیے۔۔
“آہ!! آپ یقین نہیں کریں گے تالیہ لمبی سانس لے کر بولتی سنجیدہ ہوئی۔۔پھر آنکھوں کو چھوٹی کرتے اسے غور سے دیکھنے لگی۔۔
“آپ کو کیا کرنا ہے جان کر ؟ اگر آپ کو لگتا ہے میں کوئی فراڈ ہوں تو آپ غلط ہیں اور محھے یقین ہے آپ نے میرے متعلق حرا سے پوچھ لیا ہوگا کے میں کہاں رہتی آرہی ہوں۔ تالیہ چڑ کر کہتی منہ بنانے لگی۔۔
ولید خاموش کھڑا اسے دیکھنے لگا پھر سر ہلاتا دروازے سے پشت لگاتا دونوں ہاتھ سینے پے باندھ کر اسے دیکھنے لگا تالیہ قد میں اس سے چھوٹی تھی۔۔
تالیہ ہنوز منہ بنا کر کھڑی تھی جب ولید کی بات پر تالیہ کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئیں۔۔۔۔منہ کھولے کتنے ہی لمحے وہ اسے دیکھے گٙئی جو دلچسپی سے اُسکی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا۔
“آپ ہوش میں ہیں۔۔۔بمشکل خود کو سمبھالتی وہ بولنے کے قابل ہوئی۔۔
“ایسی بھی کون سی انہونی بات کردی ہے تمہے ایک محفوظ چھت کی ضرورت ہے اور وہ پیسوں کے بنا ممکن نہیں ہے سوچ لو ولید نے آٙئی برو اُچکا کر اسے دیکھا۔۔
“میں پیسے۔۔
“ایک منٹ دس ہزار میری ماں کو دے دو گی اسکے بعد تم کیا کرو گی ؟ تم اچھی طرح جانتی ہو انسان کی بہت سی ضرورتیں ہوتی ہیں اور خالی جیب وہ ممکن نہیں ہے۔۔۔ولید اسے حقیقت بتا رہا تھا جو باخوبی جانتی تھی کے بنا پیسے کے وہ کچھ بھی نہیں کرسکتی یہاں تک کے وہ ایک وقت کی روٹی کے لئے بھی انکے سہارے آجائے گی سُمیرا بیگم اتنی بھی عظیم عورت نہیں ہیں کے وہ اسے عزت سے رہنے دے گی جس نے کل ہی اسے مفت خور ہونے کا طعنہ دے دیا تھا۔۔
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا آپ ایسا کیوں چاہتے ہیں میں نے سُنا تھا آپ کی شادی پسند کی ہے پھر یہ سب کس لئے کہیں آپ میرے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے۔۔تالیہ کو یقین نہیں آرہا تھا وہ اب بھی مشکوک نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔۔
تالیہ کی بات پر ولید گہری سانس لے کر اسکے قریب آکر روکا۔۔
“تمہارا اور میرا کیا مذاق مس تالیہ دوسری بات ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ہوسکتا ہے وہ نظر کا دھوکہ ہو۔۔۔۔
“آپ کے گھر والے میری جان لے لیں گے۔۔تالیہ نے ہتھیار ڈالتے بیچارگی سے کہا
“ڈونٹ وری میں سب سمبھال لونگا۔۔ولید نے جسے اسے یقین دلایا۔۔
“ٹھیک ہے لیکن میری بھی کچھ شرطیں ہیں۔۔تالیہ نے کچھ سوچ کر کہا۔۔
“کہنا شروع کرو۔۔۔ولید بیزا ہوکر بولتا سینے پے بازو لپیٹ کر اسے دیکھنے لگا جو پہلی دفع کھل کے مسکرائی تھی۔۔
____________
“سارا میں کیا سن رہی ہوں تم سے ایک مرد سمبھالا نہیں جا رہا اب تم یہاں اسکے گھر والوں کی خدمت کرو گی اور ہمارا کیا ہاں جانتی ہو نہ ہم قرضوں میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔۔
سارا کی ماں کمرے میں داخل ہوتے ہی غصّے میں اسے بولیں جو گہرے گلے کی سیاہ میکسی پہنے شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔
“ریلیکس مام میں ولید سے کہ چکی ہوں اگر میں یہاں ایڈجسٹ ناں ہوسیکی تو واپس چلیں گے۔۔
“ہنہہ یہ اتنا آسان نہیں ہے سارا بی بی اسکی ماں بہت تیز عورت ہے وہ کبھی نہیں چاہے گی کے سونے کی چڑیا اسکی قید سے واپس اڑھ جائے۔۔سارا کی بات انہیں ایک آنکھ نہیں بھائی
“مام آپ اتنی ٹینشن مت لیں ویسے بھی شادی کے بعد اسکا سب میرا ہی ہوجائے گا پھر میں اصیل سے شادی کرلوں گی ڈیڈ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔سارا نے چمکتی آنکھوں سے خود کو دیکھ کر کہا۔۔
“اتنا آسان نہیں ہے جب تک وہ مرے گا نہیں تب تک تو بلکل نہیں پہلے والے کو جال میں نہیں پھنسا سکی تھی اور اب اس کی باتوں میں آرہی ہے۔۔۔سارا کی ماں نے منہ بنا کر اُسے یاد دلایا۔۔۔سارا کی پیشانی پر بل پڑے۔۔
“بہت بول چکی ہیں آپ میں نے جب کہ دیا ہے کے میں سب سمبھال لونگی تو کیوں دماغ خراب کر رہی ہیں خود کی عیاشیوں کی وجہ سے ہم اس حال میں پہچے ہیں ورنہ پاکستان کے کسی چھوٹے سے علاقے میں پڑی ہوتے۔۔۔
“ہائے اللّه کتنی ہولناک باتیں کر رہی ہوں۔۔۔ کرو جو کرنا ہے لیکن تمھارے باپ کے پاس جانے کے لیے رقم کی ضرورت ہے ولید سے لو کسی طرح ہاتھ جھلا کر کہتیں وہ کمرے سے نکل گییں جب کے سارا ناک چڑھا کر بالوں کا جوڑا بنانے لگی۔۔۔
___________
نو بجے تک سب بنقیوٹ پہچ گئے تھے۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں حنا اور ریحان کا نکاح ہورہا تھا ولید اسٹیج پر ہی تھا۔۔۔جب کے تالیہ ٹیبل پر بیٹھی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“سنو۔۔۔سُمیرا بیگم کی آواز پر وہ ہڑبڑا کر کھڑی ہوئی جو اسے گھور رہی تھیں۔۔
“برائیڈل روم میں میری شال رکھی ہوگی وہ لے آؤ۔۔سُمیرا بیگم حکم دیتیں واپس چلی گئیں.
“برائیڈل روم کے صوفے پر تہہ شدہ شال اٹھا کر وہ جیسے ہی پلٹی ولیدکودیکھ کر ایک پل کے لئے حیران ہوئی۔
“آپ نے ڈرا دیا۔۔۔۔تالیہ نے سینے پر ایک ہاتھ رکھ کے سانس کھینچی۔۔
“تمہے ابھی میرے ساتھ چلنا ہوگا۔۔۔ ولید اسکی بات نظر انداز کر کے بولا۔۔
“ابھی ؟ لیکن کہاں؟
“دس منٹ تک مجھے پارکنگ لاٹ میں ملو۔۔۔ولید دوبارہ اسکی بات نظر اندر کرتا حکم صادر کرتا کمرے سے نکل گیا تالیہ نے دانت پیسے۔۔
“ہنہہ کھڑوس تالیہ سوچ لے ابھی بھی وقت ہے۔۔تالیہ بڑبڑا کر کمرے سے نکل گئی۔۔۔
___________
“ہم کہاں جارہے ہیں؟ تالیہ نے گردن موڑ کر اُس سے پوچھا جو پرسکون سا گاڑی چلا رہا تھا۔۔
“گھر۔۔۔ایک لفظی جواب دے کر اس نے رفتار بڑھائی
“وہاں آپ کی امی کی چہیتی ہوگی۔۔۔
“نہیں ہوگی میں پہلے ہی سب انتظام کر چکا ہوں۔۔۔ولید نے ٹرن لیتے ہوئے بتایا تالیہ نے پرسکون سانس لے کر سیٹ کی پشت پے سر رکھا۔۔۔
“ایک بات اور۔۔۔تالیہ کو اچانک خیال آیا تو چونک کر اس کی طرف رخ کیا.
“کیا؟ ولید نے سولیہ انداز میں اسے دیکھا۔۔
“گواہ کہاں سے لائیں گے؟ تالیہ نے الجھ کر پوچھا۔۔
“میرے دوست ہیں جن سے میں ہمیشہ رابطے میں رہا ہوں۔۔
“اوہ۔۔۔۔تالیہ نے سرہلایا۔۔
________
حرا تمھارا بھائی کہاں ہے کب سے نظر نہیں آیا۔۔۔سارا نے اردگرد دیکھ کر پوچھا۔۔
“پتہ نہیں میں نے بھی کب سے نہیں دیکھا۔۔۔حرا جو سیلفی لینے میں مصروف تھی سارا کے پوچھنے پر کندھے اُچکائے۔۔
“اوکے تھنکس میں دیکھتی ہوں۔۔سارا۔ سر تا پیر تمسخرانہ مسکراہٹ سے دیکھ کر آگے بڑھ گئی۔۔
__________
آدھے گھنٹے تک ولید واپس آچکا تھا سارا اسے دیکھتے ہی تیزی سے اسکے قریب آئی۔۔۔
“ولید کہاں رہ گئے تھے۔۔۔سارا نے لاڈ سے کہ کر ولید کو کہنی سے پکڑا تالیہ جو ان سے فاصلے پر کھڑی تھی ناگواری سے سارا کو گھورتی جانے لگی جب ولید کے چہرے پر نظر پڑی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا مسکرا کر آنکھ دباتا وہ سارا کی طرف متوجہ ہوگیا تھا تالیہ “ہونہہ”کرتے پیر پٹخ کر چلی گئی۔۔۔
_________
“ولید کہاں غائب ہو؟ ان سے ملو یہ ہمارے بزنس پارٹنر سیف احمد۔۔حماد خان اس کا تعارف کروانے لگے۔۔
“آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔۔ولید نے مصافہ کرتے ہوۓ مسکر کر کہا۔۔
دور کھڑی سُمیرا بیگم کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ در آئی۔۔۔
“میں آپ کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہونے دوں گی حماد یہ سب میرا ہے۔۔۔غصّے سے سوچتی وہ اپنی بیٹی اور داماد کی طرف بڑھ گئیں۔۔
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *