Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03

“تالیہ تم ولید بھائی کے کمرے میں کیا کر رہی ہو اور یہ کپڑے او مائے گاڈ! تالیہ یہ کیا حرکت کی ہے یار۔۔۔
حرا بوکھلا کر اسکے نزدیک آکر صدمے سے سہی سے غصّہ بھی نہیں کر پا رہی تھی۔۔
“وہ میرے کپڑوں پر پانی گر گیا تھا تم تو جانتی ہو آج کل کراچی کا موسم کیسا طوفانی ہو رہا ہے اس لئے مجھے جو سمجھ آیا میں نے وہ کر دیا ویسے بھی آمنہ کہتی تھی ہمیں کبھی کبھی دل کی بات بھی ماننی چاہیے ورنہ یہ بیمار ہو جاتا ہے۔۔۔
تالیہ معصومیت سے آنکھوں پٹ پٹا کر بولتی حرا کا بازو پکڑ کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔
“ہا! شکر ہے محبت کا صرف سوچا ورنہ یہ تو توبہ توبہ بےشرم کہیں کے پلیز تالیہ اب اس شخص کی طرف مت دیکھنا۔۔۔
تالیہ خود سے سوچتی فیصلہ کر چکی تھی پھر اسے دیکھا جو اپنے بھائی کو صفائیاں پیش کرتی روہانسی ہو گئی تھی۔۔
“اپنی دوست کو تمیز سکھاؤ کسی کے کمرے میں منہ اٹھا کر نہیں آیا جاتا نہ ہی اس طرح کسی کے بنا پوچھے کپڑے پہنتے ہیں۔۔۔ولید نے سامنے کھڑی لڑکی کو گھورتے ہوئے چبا چبا کر کہا۔۔۔۔
“جی جی ولید بھائی آیئندہ ایسا نہیں ہوگا اور تم اب چلو اتنی بے عزتی بہت ہے ورنہ ہاضمہ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔۔۔حرا اُسے کہتی ولید کے قریب سے گزرنے لگی جب جاتے جاتے بھی تالیہ کہنے سے باز نہ آئی
“فکر مت کریں آپ کو میں لا دوں گی آپ کی یہ پھٹیچر سی پینٹ۔۔۔
“تالیہ تم۔۔
“ایک منٹ حرا۔۔ولید نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔۔
تالیہ اسی طرح کھڑی گردن اٹھا کر اسے گھور رہی تھی۔۔
“میری بہن کی دوست ہو اس لئے لہٰذ کر رہا ہوں تمہارا سمجھی ورنہ اتنی جرّت میں نے اپنی منگیتر کو بھی نہیں دی کے وہ مجھ سے اس طرح زبان درازی کرے اور تم کیا مجھے میرے کپڑے واپس کرو گی جانتی بھی ہو انکی قیمت ؟ سرد لہجے میں بولتا ولید اسکے نزدیک جھکا
حرا کا بس نہیں چل رہا تھا تالیہ کو اپنے بھائی کے سامنے سے غائب کردے اگر کوئی اور آگیا تو تماشا لگ جائے گا۔۔۔
اس سے قبل تالیہ کچھ کہنے کی ہمّت کر پاتی ولید لمبے لمبے ڈاگ بھرتا کمرے سے ہی نکل گیا۔
“اف حرا تمھارے بھائی تو قریب سے بھی کلر ہیں۔۔تالیہ دل پے ہاتھ رکھتی لمبی سانس لے کر بولی
“ہا ہا ہا! مجھے بلکل ہنسی نہیں آئی اور مجھے نہیں پتہ تھا تم اس طرح کسی سے بھی اس قدر جلدی متاثر ہوجاتی ہو۔۔۔
“ہاں تو اس میں کیا ہے میں کون سا فلرٹ کر رہی تھی میں تو بس تمہے بتا رہی ہوں۔۔۔۔ تالیہ منہ بنا کر کہتی اسکے ساتھ چلنے لگی
“ہاہاہا!۔نائیس جوک ویل تمہاری اطلاع کے لئے بتاتی چلوں میرے بھائی کی دو ہفتے بعد شادی ہے اور ہماری سارا بھابھی کچھ دن میں پاکستان لینڈ کرنے والی ہیں اور تم انہیں دیکھو گی تو دیکھتی چلی جاؤ گی کیا لگتی ہیں وہ انگریز پوری۔۔۔حرا اپنے کمرے کی طرف بڑھتی اپنی بھابھی کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر رہی تھی۔۔جب کے تالیہ جل بھون گئی۔۔
“ہمم نائیس گولڈن بال ہیں کس پارلر سے کروائے ہونگے۔۔۔تالیہ مسکرا کر معصومیت سے پوچھنے لگی
حرا بولتے بولتے رُک گئی۔۔
“مجھے نہیں پتہ کبھی پوچھا نہیں خیر چلو میں تمہے اپنا کوئی سوٹ دیتی ہوں۔۔حرا کندھے اُچکا کر بولتی الماری کھول کر کھڑی ہوگئی۔۔
“حرا مجھے تم سے پہلے بہت ضروری بات کرنی ہے۔تالیہ ایکدم سنجیدگی سے اصل مدّے پے آئی جو بہت ضروری تھا۔۔
“ہاں کہو نہ۔۔۔۔۔
____________
“تھینک یو ولید۔۔۔۔ولید جو ایک طرف کھڑا جوس پینے کے ساتھ اسٹیج پر ہوتی فوٹوشوٹ دیکھ رہا تھا سُمیرا بیگم کی آواز پر چونک گیا۔۔۔
“کس لئے ؟
“میری بات ماننے کے لئے اور مجھے اُمید ہے میری دوسری باتوں پر بھی تم غور کرو گے۔۔۔ سُمیرا بیگم مسکرا کر اسکے گال کو پیار سے چھوتے ہوِئے بولیں۔۔
“اور اگر آپ کی بہو ہی نہ روکنا چاہے پھر؟ پھر کیا کریں گی؟
“تو تم کس لئے ہو ولید تم اُس سے اپنی کوئی بات نہیں منوانا جانتے یا صرف وہ تم سے اپنی باتیں منوانا جانتی ہے؟ سُمیرا بیگم نے اُسکے جواب پے ناگواری سے پوچھا۔۔
“بعد میں دیکھا جائے گا ممی یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔۔اور ہاں آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کے میں آپ کی نظروں سے دور رہتا ہوں پھر یہ اچانک مجھے واپس اپنی نظروں کے سامنے رکھنے کا کیا مقصد ہے آپ کا؟
اس سے قبل بحث طویل ہوتی حرا اور تالیہ اُن کی طرف آتی دیکھیں۔۔ ولید نے ڈارک گرین شلوار قمیض میں تالیہ کو دیکھ کر چڑ کر سر جھٹکا۔۔
“چورنی کہیں کی۔۔۔
“ممی۔۔ حرا کی آواز پر سُمیرا بیگم اسکی طرف متوجہ ہوئیں جب کے ولید وہاں سے آگے بڑھ گیا۔۔۔
_________
“اچھی طرح سوچ کر فیصلہ کرلو تم اس وقت مجبور اور بے سہارا ہو اس لئے اس سے بہترین پیش کش نہیں ملے گی۔۔۔
“لان کے تنہا گوشے میں تینوں کھڑی تھیں جب کے اسٹیج پر سب کی فوٹوشوت ابھی تک جاری تھی۔۔
“ممی ابھی تالیہ کو جاب ملنے میں وقت لگ جائے گا اور ویسے بھی انیکسی بند ہی ہوتی ہے۔۔۔
“حرا تم اپنی بہن کے پاس جاؤ وہ خود کر لے گی بات۔۔۔تالیہ کی طرفداری میں بولنا انہیں ایک آنکھ نہیں بھایا اگر وہ خود اس دن والی ملاقات بھول چکی ہوتیں تو ابھی تک تالیہ انکے گھر میں نہ نظر آتی۔
“لیکن ممی۔۔
“حرا تمہاری ممی ٹھیک کہ رہی ہیں میں بات کرلوں گی اس وقت تمہے اپنی بہن کے ساتھ ہونا چاہیے۔۔تالیہ نے اچانک اسے ٹوکا۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔حرا منہ لٹکا کر اسٹیج کی طرح بڑھ گئی۔۔۔
“آنٹی میں آپ کو کرایا دے دوں گی بس مجھے ایک مہینہ دے دیں پلیز۔۔۔تالیہ نے بے بسی بھری امید سے انہیں دیکھا۔۔
“ٹھیک ہے اور ہاں شادی والا گھر ہے ہوسکے تو کاموں میں ہاتھ بٹانے آجایا کرنا۔۔
“جی کوئی مسلئہ نہیں ہے۔۔۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔تالیہ خوشی سے بولتی مسکرانے لگی اسکے لئے یہی بہت تھا۔۔۔
“ہمم چابی میں بھجواتی ہوں۔۔ سُمیرا بیگم خوشی سے دمکتے چہرے کو دیکھ کر کندھے اُچکا کر چلی گئیں تالیہ نے ایکدم بھنگرے کے انداز میں ہاتھ اٹھا کر ناچنا شروع کیا دوسری طرف رخ کرتے ہی ولید کو خود کو گھورتے پا کر جلدی سے ہاتھوں کو نیچے کرتی گھبرا کر دوبارہ پلٹ گئی۔۔
“اُفف میرا ذاتی ڈانس دیکھ لیا کنجوس نے جانے کیا سوچ رہے ہوں گے اب۔ تالیہ ناخن چباتی پریشان ہوگئی جب کے دوسری طرف ولید اسکے پلٹتے ہی مسکرا کر سر جھٹک چُکا تھا
___________
دیر رات تک مہندی کی پُر رونق تقریب جاری رہی تالیہ حرا کے ساتھ حنا سے مل کر اسٹیج کے قریب ہی کھڑی ہوگئی تھی جب عثمان اسے دیکھ کر کنکھارا۔۔
“کیا ہم پہلے کبھی مل چکے ہیں۔۔ تالیہ کے متوجہ ہوتے ہی عثمان نے کالر ٹھیک کرتے ہوۓ سٹائل سے پوچھا۔۔۔
“جی نہیں۔۔۔تالیہ رکھائی سے کہ کر رخ دوسری طرف کرلیا
“مطلب ہم سچ میں کبھی نہیں ملے؟
“جی مسٹر ہم کبھی نہیں ملے اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔۔تالیہ نے ناک چڑھا کر کہتے دور کھڑے ولید کو دیکھا جو مسکرا کر کسی لڑکی سے باتیں کر رہا تھا۔۔
“کیا یار یہاں تو سب ہی خار کھائے بیٹھے ہیں۔۔
“ہیلو مسٹر میں کوئی آپ کی یار وار نہیں ہوں اس لئے زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کریں ورنہ ابھی آنٹی سے آپ کی شکایت لگا دوں گی۔۔۔عثمان کے بڑبڑانے پر تالیہ تلملا کر اُسے گھورنے لگی
“ولید کبھی گھر آؤ ہمیں بھی کبھی وقت دو۔۔۔فائزہ نے ہنس کر اُسے کہا۔۔فائزہ عثمان کی بہن تھی جس کی دو مہینے قبل ہی شادی ہوئی تھی۔
“جی ضرور۔۔۔ولید جان چھڑانے والے انداز میں بولا اسے کبھی اپنی خالہ کے گھر جانے کی خواہش نہیں رہی تھی۔۔۔۔
“یہ عثمان کس لڑکی کے ساتھ کھڑا ہے ؟
ولید نے فائزہ کی نظروں کے تعاقب میں دائیں طرف دیکھا جہاں عثمان کے ساتھ تالیہ کھڑی عثمان کو گھور رہی تھی
“پتہ نہیں۔۔۔ولید کندھے اُچکا کر قدم دونوں کی جانب بڑھا چکا تھا
“سوری سوری ایکچیولی میری عادت ہے میں دوستوں کو یار کہ دیتا ہوں اس میں غصّہ کرنے والی کوئی بات نہیں۔۔عثمان دونوں ہاتھوں کو کھڑا کرتا جلدی سے بولا۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو عثمان؟ اس سے قبل تالیہ اسکے جیل سے جمائے گئے بالوں کا بیڑا غرق کردیتی ولید کی آواز پر دونوں اُس کی طرف دیکھنے لگے۔
“ارے ولید وہ۔۔
“یہ مسٹر مجھے یاد دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کے کسی طرح میں انہیں پہچان جاؤں کے ہم پہلے بھی ملے ہیں یا نہیں لیکن میں آخری دفع کہ رہی ہوں نہیں کبھی بھی نہیں مسٹر لڑکیوں سے بات کرنے کا یہ بہت ہی بھونڈا طریقہ ہے سمجھے آپ۔۔۔
تالیہ اسکی بات کاٹتی کھری کھری سنا کا تن فن کرتی آگے بڑھ گئی۔۔
“میں آتا ہوں۔۔عثمان کان کی لو مسلتا تیزی سے بھاگا جب ولید ابھی تک اسی طرح کھڑا تھا۔۔
“اففف کتنا بولتی ہے۔۔ولید لمبی سانس لے کر سر کو نفی میں ہلاتا حماد خان کی جانب بڑھ گیا۔۔
________
میڈم یہ چابی۔۔ملازمہ نے تالیہ کو چابی لاکر دی۔۔
“اپنی مالکن کو شکریہ کہنا۔۔۔تالیہ مسکرا کر بولتی انیکسی کی جانب بڑھ گئی۔۔
انکسی اندر داخل ہوتے ہی اسے لگا جیسے وہ اب محفوظ ہو چکی ہے رہنے کے لئے چھت ملی ہے۔۔۔
دروازہ لاک کرتی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
________
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *