Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12

ماضی

دلاور خان اور رباط خان دو بھائی تھے جب کے ایک بہن کشف خان جو طلاق کے بعد اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ بھائیوں کے ساتھ ہی رہائش پذیر ہوگئی تھیں
دلاور خان اور فریحہ خان کی پسند کی شادی تھی جن کے دو بچے تھے بیٹا حماد خان جب کے ان سے دو سال چھوٹی حوریہ خان۔۔
رباط خان اور رافیہ خان کی شادی انکی فیملی کی مرضی سے ہوئی۔۔۔شادی کے پانچ سال بعد اُنکے ہاں ہانیہ خان کی پیدائش نے آکر انکے ویران آنگن کو مکمّل کر دیا تھا جس کا وہ جتنا شکر کرتے کم تھا وہیں کشف خان جو فطرتاً چالاک عورت تھیں بھائی کو بیٹے کے لئے دوسری شادی کا مشورہ دیتی جس پر رباط خان نے غصّے سے انہیں جھاڑ پلائی۔۔جس کے فوراً بعد ہی وہ اُوپر والی منزل (دلاوار خان کے پورشن) پر شفٹ ہوگئیں۔۔۔کشف خان کی دو ہی بیٹیاں تھی حُمیرا خان جو حماد خان سے ایک سال چھوٹی تھیں جب کے سُمیرا خان دو سال۔۔۔
__________
ہانیہ خان۔۔۔۔ دراز قد۔۔سرخ و سفید۔۔۔پُرکشش نین نقش کی حامل اٹھارہ سال کی لڑکی تھیں جس کے لمبے گھنے اخروٹی رنگ کے بال اسکے حسن میں چار چند لگاتے تھے اپنے ماں باپ کی اکلوتی اور لاڈلی اولاد جس پے خاندان کے سب لوگوں کو بچپن سے ہی پیار آتا تھا وجہ اُنکے چہرے کی معصومیت تھی۔۔ہانیہ خان کو معصوم ہونے کے ساتھ اگر بیوقوف بھی کہا جائے تو اس میں کچھ غلط نہیں ہوگا۔۔۔
__________
“السلام علیکم چچی جان۔۔
“وعلیکم اسلام حماد بیٹا لگتا ہے آفس میں آج بہت کام تھا. رافیہ بیگم نے مسکرا کر مردانہ وجاہت سے بھرپور حماد خان کو دیکھا جو تھکاوٹ کے باوجود ایک نظر ہانیہ کو دیکھنے آئے تھے محبت کا جذبہ جب سے دل کو چھوا ہانیہ خان پورے حق سے اُنکے دل پر نقش کرتی چلی گئیں لیکن وہ دشمنِِِ جاں آج کچن میں تھی ہی نہیں۔۔
“میں نے سوچا آپ سے ملتا جاؤں۔۔۔چاچو نہیں آئے ابھی تک ہمارے ساتھ ہی نکلے تھے۔۔
“آنے والے ہونگے ہانیہ نے ضرور کسی نئی چیز کی فرمائش کی ہوگی۔۔فریحہ بیگم مصروف سے انداز میں کہ کر مسکرانے لگیں جب کے حماد خان کا دل ہانیہ کو دیکھنے کے لئے مچلنے لگا۔۔۔
“چچی جان ہانیہ ہے کہاں؟
“کمرے میں ہے گلاس پینٹنگ کرنے کا نیا شوق چڑھا ہے محترمہ کو.۔۔۔فریحہ بیگم محبت سے بولیں۔۔
حماد خان مسکرا کر “دیکھتا ہوں” کہتے کمرے کی طرف بڑھ گئے.
________
“ٹھک ٹھک ٹھک!! میں اندر آسکتا ہوں۔۔۔ حماد خان نے ماتھے پر بل ڈالے بالوں کا جوڑا بنائے بیٹھی ہانیہ کو محبت سے دیکھ کر اجازت لی۔۔۔جو حماد خان کی بھاری مگر دھیمی آواز سن کر ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھیں۔۔۔
“حماد بھائی آپ نے ڈرا دیا۔۔ اف میری تو جان نکل جاتی۔۔۔ایک ہاتھ کو سینے پے رکھے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی
“ایسے کیسے نکل جاتی جان ہانیہ خان اس پر صرف تمہارا حق نہیں ہے۔۔۔حماد خان کی بات پر اُس نے کچھ گھبرا کر اپنے سے پانچ سال بڑے حماد خان کو دیکھا جو آنکھیں میں چمک لئے اُسے یی دیکھ رہے تھے۔۔
“آپ لگتا ہے آفس سے آئے ہیں۔۔ہانیہ نے گھبرا کر بات بدلی
“ہاں۔۔۔اس سے قبل وہ اپنی بات جاری رکھتے سُمیرا کی چہکتی ہوئی آواز پر پلٹے۔۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں حماد۔۔سُمیرا چست شلوار قمیض پہنے حماد خان کے نزدیک اکر بازو پے ہاتھ رکھ کر بولیں۔۔جہاں حماد خان کو اُسکا یوں آنا اور چھونا اچھا نہیں لگا وہیں ہانیہ کے چہرے پر بھی ناگواری پھیلی تھی۔۔
“کیوں یہاں آنے پر پابندی ہے۔۔نامحسوس طریقے سے سُمیرا سے دور ہوتے وہ ہانیہ کی طرف بڑھے جنہوں نے انکے قریب آنے سے نظریں جھکا لی تھیں۔۔۔
“میں کون ہوتی ہوں آپ پر پابندی لگانے والی حماد لیکن اس طرح کسی لڑکی کے کمرے میں آنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔۔سُمیرا نے چھبتی نظروں سے ہانیہ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
“سوچ سمجھ کر بولا کرو سُمیرا۔۔حماد خان سخت لہجے میں کہتے ایک نظر ہانیہ پر ڈالتے کمرے سے نکل گئے۔۔ اب اُنہیں اپنے ماں باپ سے بات کر لینی چاہیے تھی۔۔۔یہی سوچتے وہ اپنے پورشن کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
“تم حماد خان پر ڈورے ڈالنا بند کردو ہانیہ دلاور خان ورنہ میرے اندر پکتا لاوا سب تباہ کر دے گا۔۔۔سُمیرا دھمکی دیتی تن فن کرتی کمرے سے نکل گئی جب کے ہانیہ جو ابھی تک حماد خان کی قربت کے حصار میں تھیں سُمیرا کی باتیں جیسے سنی ہی نہ ہو۔۔۔ جانے کیوں حماد خان دل کو اتنے اچھے کیوں لگتے تھے۔۔۔
___________
“یہ نہیں ہو سکتا امی حماد خاں صرف میرا ہے آپ بات کریں تایا ابّو سے ورنہ میں ہانیہ کی جان لے لونگی۔۔۔جب سے سُمیرا کو معلوم ہوا تھا کے حماد خان اور ہانیہ کا اسی ہفتے نکاح اور رخصتی ہے وہ اندر ہی اندر سلگ رہی تھیں انکے لئے یہ سب قبول کرنا مشکل ہورہا تھا۔۔۔
جب کے کشف بیگم اور حُمیرا اسے سمجھا چکی تھیں کے یہ حماد کی خواہش ہے وہ جلد سے جلد ہانیہ کو اپنی دسترس میں لینا چاہتے ہیں۔۔
“بکواس بند کرو سُمیرا تم چاہتی ہو میرا بھائی مجھے یہاں سے بے دخل کردے۔۔۔
“یہ آپ کا بھی گھر ہے سمجھیں آپ مجھے حماد چاہیے آپ جو مرضی کریں۔۔۔سُمیرا چیخ کر بدتمیزی سے کہتیں کمرے سے نکل گئیں جب کے کشف بیگم سوچ میں پڑھ گئیں۔
___________
حماد خان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے انکی محبت انہیں اتنی آسانی سے مل جائے گی۔۔۔ دوسری طرف ہانیہ شرماٙتی گھبراتی حماد خان سے چھپتی پھر رہی تھیں۔
“ہانیہ۔۔۔۔وہ جو کچن میں کھڑی ابٹن کا کٹورا ہاتھ میں تھامے مسکرا رہی تھیں بُری طرح گھبرا گئیں اس سے قبل کٹورا ہاتھ سے چھوٹتا حماد نے آگے بڑھ کر انکے دونوں ہاتھوں پے مضبوطی سے جما لئے ہانیہ کی دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔۔ شرم سے سرخ چہرہ کپکپاتے ہاتھ حماد خان کا دل دھڑکا گیا۔۔
“تم خوش ہو۔۔۔حماد خان نے چاہت سے انکے جُھکے سر کو دیکھا جنہوں نے بمشکل سر کو ہاں میں جمبش دی۔۔
حماد خان اس اقرار پر جیسے سر شار ہوگئے تھےجبکے باہر کھڑی سُمیرا انتقام کی آگ میں جلنے لگ گئی تھیں.
_______
سُمیرا پر پاگل پن کے دوہرے پڑنے لگے جس میں کہیں بار وہ کشف بیگم سے بھی قابو میں نہیں آتی تھیں۔۔ کشف اور حُمیرا دونوں اسکی حالت سے سب کو انجان رکھے ہوۓ تھیں جو ہانیہ اور حماد کو ساتھ دیکھ کر آپے سے باہر ہوجاتی تھیں۔۔
حماد خان اور ہانیہ شادی کے بعد ہنی مون کے لئے لندن چلے گئے تھے۔۔۔
دونوں اپنی محبت کو پاکر بے انتہا خوش تھے۔۔۔ایک مہینے کے بعد جب وہ لوگ واپس آئے تب ان لوگوں کو پتہ چلا کے ہانیہ پریگننٹ ہیں۔۔۔حماد خان کی خوشی سے آنکھوں میں آنسوں آگئے انکی دنیا مکمّل ہوگئی تھی۔
__________
جہاں ولید کی پیدائیش پر سب خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اُسی رات انکی زندگیوں میں قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔
ہانیہ کے والدین جو ہسپتال اپنے نواسے کو دیکھنے آرہے تھے راستے میں ہی بریک نا لگنے کی وجہ سے ٹرک سے جا ٹکرائے دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے۔۔دلاور خان چھوٹے بھائی کو کھو کر جیسے ٹوٹ کر رہ گئے حماد خان خود ہر وقت ہانیہ کو بہلانے کے لئے ایک بار پھر لندن چلے گئے تھے۔ ۔۔
______
وقت گزرتا گیا ولید اب چار سال کا ہوگیا تھا دوسرے بچوں کی نسبت وہ کم گو تھا ہر چیز کو جلد ہی سمجھ لیتا تھا۔۔
اسی دوران حوریہ کا رشتہ دلاور خان نے اپنے دوست کے بیٹے سے کردیا۔۔۔حُمیرا خان یونیورسٹی میں اپنے دوست سے محبت کرنے لگیں تھیں۔ دوسری طرف وہ لڑکا بھی انہیں پسند کرتا تھا یہی وجہ تھی کے وہ اب رخصت ہوکر چلی گئی تھیں جس کے بعد کشف بیگم خود کو تنہا محسوس کرنے لگی تھیں سُمیرا کی اب بھی وہی حالت تھی کبھی کبھی کشف بیگم کو لگتا وہ سب اداکاری کرتی ہے۔۔
ولید اب پانچ سال کا ہوگیا تھا جب حماد خان اور ہانیہ کو ایک بار پھر ماں باپ بننے کی نوعیت سنائی گئی۔۔۔ ایک بار پھر خوشی کی لہر دلوں پے پھوار بن کے برسی تھیں
ولید اپنے ماں باپ کا لاڈلا تھا۔۔ حماد خان کی طرح وہ بھی ہانیہ سے عشق کرتا تھا کہیں بار اس نے سُمیرا کو اپنی ماں سے بدکلامی کرتے سُن چکا تھا یہی وجہ تھی وہ سُیمرا کو پسند نہیں کرتا تھا۔۔
________
ماما میں پاپا کو بتاؤں گا آنٹی آپ سے بدتمیزی کرتی ہیں۔۔ولید نے چھوٹی سی ناک سکیڑ کر اپنی ماں سے کہا جو اُسے دیکھ کر مسکرائی تھیں
“نہیں ولید بُری بات اس طرح شکایتیں لگانے سے دلوں میں نفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔۔۔ آپ چاہتے ہو آپ کے پاپا کسی سے لڑائی کریں۔۔ولید جو اپنی ماں کی بات بہت غور سے سن رہا تھا زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔۔
“کیا باتیں ہو رہی ہیں ماں بیٹے میں۔۔۔حماد خان کی مسکراتی آواز پر دونوں چونک گئے جو مسکرا کر قریب آکر ولید کے ماتھے پر پیار کرتے ہانیہ کے ساتھ ہی بیٹھ کر محبت سے ہانیہ کا ہاتھ تھام کر انہیں دیکھنے لگے۔
“کھانا کھایا۔۔۔
“نہیں آپ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ہانیہ نے مُسکرا کر اپنے محبوب شوہر کو دیکھا جو اُنکے جواب پر خفگی سے گھور رہے تھے۔۔۔
“پاپا میں نے بھی نہیں کھایا۔۔۔ ولید نے بھی جلدی سے اپنا بتاِیا۔۔
“بہت غلط بات ہے ہانیہ اب اٹھو جلدی سے بہت بھوک لگی ہے۔۔حماد خان کہ کر باتھروم کی طرف بڑھ گئے جب کے ہانیہ مُسکرا کر ولید کا ہاتھ تھام کر کمرے سے نکل گئی ۔۔
____________
“ولید چھوڑیں میرا ہاتھ مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔۔۔تالیہ ناراضگی سے اسے پرے کرتی کمرے سے نکلنے لگی ولید کی صبح والی حرکت سے وہ اس سے اب گھبرانے لگی تھی۔۔
“ڈیم اٹ! میں سوری کر تو چکا ہوں ۔۔۔ولید نے اسے جھٹکے سے اپنی طرف کھنچ کر آنکھوں میں جھانک کر کہا۔۔۔
مجھے آپ آپ۔۔۔تالیہ گڑبڑا کر کچھ کہ نہیں پا رہی تھی ساری ہمّت تو جب ہوا ہوئی جب ولید نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر بلکل نزدیک کر لیا۔۔۔
“جانتی ہو بہت تنگ کرنے لگی ہو تم مجھے۔۔۔۔ولید سرگوشی میں کہتا ہاتھ کے انگوٹھے سے اسکے گال کو سہلانے لگا۔۔۔تالیہ کو لگا وہ تھوڑی دیر ایسے ہی رہی تو اپنا دل ہار جائے گی۔۔۔
ولید اسکے گھبرائے شرمائے چہرے کو دیکھتا محظوظ ہو رہا تھا۔۔۔
اس سے قبل ولید آج اپنا حق وصول کرتا کوئی گستاخی کرتا دروازہ بج اٹھا۔۔۔ولید کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی تالیہ اس سے دور ہوتی تیز چلتی دھڑکن کو قابو میں کرتی لڑکھڑا کر دروازے کی طرف بھاگی۔۔ولید کو ہنسی آنے لگی جسے ہونٹ بھنج کر اُس بے بامشکل روکا. ۔۔۔
___________
جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *