Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15

ولید اور تالیہ کا فوٹو شوٹ اور مووی بن رہی تھی جب کے تالیہ کو اب بھوک لگنا شروع ہوگئی تھی
“ولید۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔ولید نے اسکی طرف ہلکے سے جھک کر مسکراتے ہوۓ پوچھا۔
“مجھے اب بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔بیچارگی سے کہتی وہ ولید کو دیکھ رہی تھی جو اسکے نزیک تھا۔۔۔
“ایک کام کرو۔۔۔۔شرارت سے کہتے اس نے تالیہ کا ہاتھ تھاما۔۔۔
“جلدی کہیں۔۔۔
“تم مجھے کھا جاؤ۔۔ولید آنکھ دبا کر کہتا جلدی سے پیچھے ہوا۔۔تالیہ جو سنجیدگی سے اسے سن رہی تھی گھور کے رہ گئی۔۔۔
“دن با دن آپ بے شرم ہوتے جا رہے ہیں کس طرح کے لوگوں سے دوستی کرلی ہے۔۔۔تالیہ نے اُسکے موبائل کی طرح اشارہ کر کے پوچھا۔
“تمہیں شرم نہیں آرہی اپنے شوہر کو بے شرم کہتے ہوۓ۔۔ولید نے مصنوعی گھورا۔۔
“شوہر صاحب کو آرہی ہے یوں کھلے عام بیوی سے ایسی حرکتیں کرتے ہوئے۔۔
“اپنی بیوی سے ہی کیا جاتا ہے تم کیا چاہتی ہو کسی اور لڑکی سے کروں؟ ولید جل کر کہتا سیدھا بیٹھا۔۔۔
“کسی لڑکی سے کر کے تو دکھائیں میں چھوڑ کے چلی جاؤں گی آپ کو۔۔۔تالیہ بولتے بولتے ہونٹ بھیج گئی۔۔
ولید نے اسکی بات پر سنجیدگی سے اسے دیکھا جس کی انکھوں میں آنسوں چمکنے لگے تھے ۔۔۔
“تم مجھے چھوڑ دو گی۔۔۔ولید کے سوال پر تالیہ اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
“آپ نے بھی تو چھوڑنا ہی ہے۔۔۔تالیہ جواب دیتی اسے لاجواب کرگئی۔۔۔ہاں اس نے خود ہی اُسے چھوڑ دینا تھا پھر یہ سوال کیوں۔۔۔
__________
آگے پیچھے دو گاڑیاں پورج میں آکر روکیں.۔۔۔حنا شادی کے بعد پہلی بار گھر آئی تھی۔۔۔گاڑی سے اتر کر ولید تالیہ کی طرف بڑھا
دونوں ساتھ چلتے اندر بڑھ رہے تھے سُمیرا بیگم چاہ کر بھی ولید کو یہ نا کہ سکیں کے آج انکا بیٹا شہزادہ لگ رہا ہے۔۔۔یہ دیوار انکی خود کی لگائی ہوئی تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ پختہ ہوتی چلی گئی۔۔۔
“ولید بھائی آپ ہماری بھابھی جان کے ساتھ اندر نہیں جا سکتے۔۔۔حنا نے شرارت سے راستہ روک کر کہا۔۔ حرا بھی اسکے ساتھ ہی تھی۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔چلو تالیہ آج ہم دوسرے کمرے میں چلتے ہیں۔۔ولید نے تالیہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔۔حرا نے تیزی سے تالیہ کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کہنچا۔ ۔
“ہرگز نہیں آپ اکیلے ہی جاائیں پھر کنجوس۔۔۔
“بھائی کو کنجوس کہ رہی ہو استغفرالله کیا زمانہ آگیا ہے بھابھی کے آتے ہی بہن بہن نہ رہی۔۔۔
“ولید بھائی جذباتی طریقے سے نہ سوچیں۔۔یہ ہمارا حق ہے چلیں پیسے نکالیں۔۔۔حنا نے ہتھیلی پھیلا کر ولید کو دیکھا۔۔
“بیس روپے چلیں گے دس دس روپے بانٹ لینا۔۔۔
“واٹ ؟ ولید بھائی کنجوس۔۔۔۔۔ حرا صدمے سے چیخی جب کے کنجوس تینوں نے مشترکہ کہا۔
ولید نے حیرت سے تالیہ کی طرف دیکھا جو حیرت سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تم نے کس خوشی میں کنجوس کہا ہے ایک تو وہ میری جیب پے ڈاکا ڈالنے آئی ہیں اور تم انہی کا ساتھ دے رہی ہو۔۔۔
“آپ ہیں ہی کنجوس۔۔۔جب تک پیسے نہیں دیں گے کمرے میں آنے کی کوشش بھی مت کیجئے گا۔۔۔تالیہ اترا کر کہتی کمرے میں جانے لگی ولید نے ہاتھ پکڑ کر اُسے روکا۔۔۔۔
“اتنا بھی کنجوس نہیں ہوں محترمہ۔۔۔ ولید نے کہتے ساتھ دونوں بہنوں کو بیس بیس ہزار دیے۔ ۔
“ولید بھائی پچاس کہے تھے۔۔
“ہاں میری ماؤں کل لے لینا ابھی یہی تھے۔۔ولید نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر حرا سے کہا۔۔۔ ولید کی حرکت پر تینوں کھلکھلا کر ہنس دیں۔۔
____________
ماضی۔۔۔۔
پاپا۔۔۔۔چھ سالہ ولید کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔۔۔پورے کمرے میں اندھیرا تھا صرف کھڑکی سے چھن چھن کر آتی چاند کی روشنی سامنے کھڑے وجود پر پڑھ رہی تھی۔۔۔
“پاپا۔۔۔۔ولید نے باپ کو دیکھ کر بھاگ کر اس سے لپٹ کر سسکی لی۔۔۔کسی کے سامنے ایک آنسوں نہ بہانے والا اپنے باپ سے لپٹ کر ضبط کھو بیٹھا تھا۔۔۔ حماد نے سختی سے آنکھوں کو میچ کر اپنے بیٹے کے کانپتے وجود کو بڑی شدّت سے محسوس کیا تھا۔
“پاپا میں ہوں آپ کے ساتھ۔۔۔ولید نے سر اٹھا کر باپ کو یقین دلایا۔۔
“میں جانتا ہوں میرا بیٹا بہت مضبوط ہے۔۔۔حماد نے آنسوں صاف کرتے دو زانوں بیٹھ کر پیار سے اپنے بیٹے کو دیکھا گال پے آنسوؤں کے نشان سرخ آنکھیں۔۔۔۔
“آپ رو رہے تھے۔۔۔ولید نے غور سے انہیں دیکھ کر استفسار کیا۔۔
“تمہاری ماما کے بنا کیسے رہونگا ولید۔۔حماد دکھی دل سے اس سے سوال کرنے لگے تکلیف اتنی تھی کے دل کو قرار نہیں آرہا تھا۔
“میں ہوں نہ پاپا اب تو میری بہنیں بھی آگئی ہیں۔۔۔ ولید نے معصومیت سے کہ کر حماد کے گالوں پے بہتے آنسوں صاف کیے حماد کا دل کث کے رہ گیا۔۔
حماد نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا جو اپنی ماما کی کچھ دن کہی باتوں کو ذہن میں دوہرا رہا تھا۔۔
“ولید پاپا کو کبھی اکیلے مت چھوڑنا تم سٹرونگ بیٹے ہو میرے۔۔۔۔اپنے پاپا کا خیال رکھنا۔۔اپنی ممی کو پاپا سے الگ مت ہونے دینا وہ دل کے ہاتھوں ماری گئی ہے۔۔۔
ہانیہ کی کہیں باتیں ولید نے ذہن نشین کر لی تھی۔
_________
“آگئی آگئی۔۔۔۔اوہو۔۔ . میری گڑیا بس بس۔۔۔۔چھوٹی سی بچی بیڈ پر لیٹی بھوک سے گلا پھاڑ کر رو رہی تھی جب سمیرا ہاتھ میں فیڈر لئے بھاگتی ہوئیں اس تک آئیں۔۔۔
چھوڑو اُسے یہ تمھارے کام نہیں ہیں۔۔۔۔کشف بیگم نے آتے ہی بیٹی کی گود سے بچی اٹھائی۔۔
“امی بچی واپس دیں۔۔۔سُمیرا نے بے چینی سے اٹھ کر دونوں ہاتھ پھیلائے
“کیوں ؟ اب تم اس شخص کی اولاد پالو گی جو تمھارے ساتھ آج تک رات نہیں گزار سکا۔۔۔
“یہ میرا اور انکا معاملہ ہے اور یہ اولاد حماد کی ہے مجھے دیں اسے یہ بھی میری ہے۔۔۔
“تم پاگل ہوگئی ہو سُمیرا اس شخص کے پیچھے اور بھولو مت یہ حماد کی ہی نہیں ہانیہ کی بھی بیٹیاں ہیں۔۔۔کشف بیگم افسوس کرتی اپنی بیٹی کو دیکھنے لگیں جس کی نظریں گود میں پکڑی حنا پے تھیں۔۔
“آپ مجھے اسے دیں اسے بھوک لگ رہی ہے۔۔۔
“تم انھیں انکے حال پر چھوڑ دو انکے باپ کو قابو کرنے کی کوشش کرو۔۔۔
“زبردست۔۔۔کیا سکھایا جا رہا ہے۔۔۔ حماد کی آواز پر دونوں بری طرح چونکیں حماد جو اپنی بیٹیوں کو لینے آرہے تھے کشف بیگم کی اخری بات سن چکے تھے۔
سُمیرا کا چہرہ سفید پڑھ چُکا تھا۔۔
“ہنہہ!! اس میں غلط بھی کیا ہے ایک بیوی کے حقوق تم خوب پورے کر رہے تھے جب کے دوسری جو تم جیسے انسان کے لئے دیوانی ہوگئی ہے اُس کے ساتھ نکاح کر کے فالتو شہہ کی طرح پھینک کر بھول گئے ہو۔۔کشف بیگم ہنکار بھرتئیں غصّے سے بولیں۔۔
“یہ زندگی اسکی خود کی مرضی ہے۔۔۔میں نے زبردستی ہاتھ پکڑ کر نہیں کہا تھا کے میرے ساتھ نکاح کرلو۔۔۔ رہی میری اولاد میں انہیں خود سمبھال لونگا۔۔۔اور ہاں میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔۔حماد کہ کر دونوں بچیوں کو اٹھا کر کمرے سے نکل گئے جب کے دونوں ماں بیٹی سکتے میں کھڑی کی کھڑی رہ گئیں۔۔
____________
ہانیہ کے انتقال کو ایک مہینہ گزر گیا۔۔۔۔ حماد کی زندگی دھیمی رفتار میں چل رہی تھی ہانیہ کو بھلانا آسان نہیں تھا۔۔ایسے ہی چھوٹی دونوں بچیوں کی ذمہ داری فریحہ بیگم نے سُمیرا کو دے دی تھی حماد نے روکا لیکن فریحہ بیگم نے انہیں جھڑک کر رکھ دیا جس کے بعد وہ خاموش ہوگئے۔۔۔
وقت گزرتا گیا بچے اب بڑے ہوگئے تھے حماد نے ولید کو پڑھنے کے لئے لندن اپنے ماں باپ کے پاس بھجوا دیا تھا جو کشف بیگم کے انتقال کے بعد گھر بیچ کے لندن شفٹ ہوگئے تھے۔۔۔
“کشف بیگم کے جانے کے بعد سُمیرا خود کو بلکل اکیلا محسوس کرنے لگیں تھیں۔۔۔ جب کے حماد نے خود کو کاروبار میں مصروف کرلیا تھا۔۔
____________
کھانے کا وقت تھا سُمیرا حماد کے لئے پریشان ہو رہی تھیں بن موسم کی برسات انہیں بے چین کر رہی تھی جب گاڑی کی آواز سبتے ہی تیزی سے پورج کی طرف بھاگیں۔۔۔
“حماد گاڑی سے اُتر کر پیشانی دباتے دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے سُمیرا رک کر اُنہیں دیکھنے لگیں تیز بارش نے لمحوں میں دونوں کو بھگا دیا تھا۔۔۔
“کہاں رہ گئے تھے۔۔۔ حماد کے قریب آتے ہی انہوں نے نرمی سے پوچھا۔
“جہاں گیا تھا وہیں سے آرہا ہوں۔۔۔بے رخی سے کہتے وہ ساتھ سے گزرنے لگے جب بے ساختہ سُمیرا نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا حماد کے آگے بڑھتے قدم وہیں تھم گئے۔۔
حماد نے حیرت سے گردن موڑ کر اُنہیں دیکھا سمیرا نے کبھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔۔
“میں ڈر جاتی ہو آپ کے لئے مجھے خوف آتا ہے۔۔۔
“ہنہہ تم جیسی عورت کبھی نہیں ڈر سکتی حماد نے تلخی سے جواب دیا اس سے قبل حماد ہاتھ چھڑواتے سُمیرا نے گرفت سخت کرلی۔۔
“ہاتھ چھوڑو۔۔
“آپ کو مجھ سے ہمدردی بھی نہیں ہوتی حماد میں تنہا مر جاؤں گی مجھے آپ کی ضرورت ہے آپ کیوں نہیں سمجھتے۔۔۔سُمیرا بے خوف کہتیں نیچے بیٹھ گئیں حماد پریشانی سے دیکھتے ہونٹ بھنج گئے۔۔
“کیا بچکانہ حرکتیں کر رہی ہو اٹھو یہاں سے۔۔
“نہیں کبھی نہیں حنا اور حرا دونوں کو ممی اور پاپا ساتھ چاہیے حماد میں اپنی بچیوں کو کیا جواب دوں کے انکا باپ میرے قریب کھڑے ہونے سے بیزار ہوتا ہے میں کیسے کہوں میں انکی سوتیلی ماں ہوں میں کیسے کہوں میں انکی ماں نہیں ہوں۔۔۔کاش ہانیہ ہوتی میں اسے کہتی کے اپنے شوہر کے کچھ لمحے مجھے دے دے۔۔۔میری محبت میرا گناہ بن گیا حماد۔۔ہچکیوں کے درمیان کہتیں حماد کا ہاتھ چھوڑتیں دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا گئیں جب کے حماد کتنے ہی لمحے انہیں دیکھتے رہے۔۔۔
__________
دونوں کندھوں پے ہاتھ محسوس کرتے سُمیرا نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر سامنے دیکھا۔۔۔
“چلو۔۔۔حماد نے کہتے ساتھ سُمیرا کے گال پے ہاتھ رکھا جب کے سُمیرا بے یقینی سے حماد کو دیکھے گئیں۔۔
“تمہیں چھوڑ نہیں سکتا کیوں کے ہانیہ نے وعدہ لیا تھا محبت کا پتہ نہیں لیکن تم سے اب نفرت محسوس نہیں ہوتی۔۔حماد کہتے ہی کھڑے ہوئے۔۔۔
“چلو اندر ورنہ بیمار پڑ جاؤ گی۔۔۔حماد نے اُسکے سامنے ہتھیلی پھیلائی سُمیرا جلدی سے ہاتھ تھام کر کھڑی ہوئی۔۔۔
“ہم ساتھ رہ سکتے ہیں کیا اجازت ہے ۔۔۔سُمیرا نے ڈرتے ہوئے روندھی ہوئی آواز میں پوچھا۔۔۔
“اجازت ہے۔۔۔۔حماد کہ کر سُمیرا کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔
“کچھ رشتے ہم خود بناتے ہیں اور کچھ رشتے تقدیر۔۔۔۔چاہے وہ زبردستی کے ہوں”
جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *