Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02
سلور ٹویوٹا فارچیونر خوبصورت سے بنگلے کے گیٹ سے اندر آتی پتھریلی روش پر رکی۔۔
“ولید۔۔۔
حماد خان نے آہستہ سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ولید جیسے ہوش میں آیا۔۔۔۔
“بہت کچھ بدل گیا یہاں پاپا۔۔۔افسردگی سے کہتے ولید نے سر جھٹکا آنکھوں میں چمکتی نمی کو چُھپاتا گاڑی سے نیچے اُترا گیا
“لیکن میں نہیں بدلہ نہ ہی میری محبت بیٹا۔۔حماد خان اسکی پشت کو دیکھ کر خود سے بڑبڑئے۔۔۔ حماد خان ایک دراز قد وجیہہ آدمی تھا چوبیس سال کی عمر میں شادی ہوجانے کی وجہ سے حماد خان زیادہ ایجڈ نہیں لگتا تھا۔۔
ولید چلتے ہوئے ایکدم روک گیا
“کیا بات ہے روک کیوں گئے ولید ؟
“نہیں کچھ نہیں چلیں۔۔ولید سر جھٹکتا اُنکے ساتھ چلنے لگا۔۔
حال میں قدم رکھتے ہی نظر سامنے لمبی سیڑیوں کے پاس کھڑی سُمیرا بیگم پر پڑی..
“السلام علیکم ممی۔۔۔
“ارے ولید وعلیکم اسلام مجھے تو لگا تھا تم اپنی بہن کی شادی کے لئے بھی نہیں آؤگے۔۔۔سُمیرہ بیگم مسکرا کر گال پے ہاتھ رکھ کر بولیں انکے انداز میں کوئی خوشی نہیں تھی۔۔
“آپ ہمیشہ میرے لئے غلط اندازے لگاتی آرہی ہیں ممی۔ چہرے پے تلخ مسکراہٹ سے کہتا وہ اپنے کی طرف دیکھنے لگا۔۔
“تم فریش ہوجاؤ ورنہ تمہاری بہنوں نے تمہاری جان نہیں چھوڑنی۔۔
“اوکے پاپا۔۔۔
“ہاں جاؤ تمہارا کمرہ اوپر دائیں۔۔۔
“ممی مجھے اپنا کمرہ یاد ہے میں کچھ بھولا نہیں۔۔ ولید نے اچانک انکی بات بات کاٹتے مسکرا کر بولتا سیڑیوں کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
“پردیس نے اسے زیادہ ہی کڑوا کر دیا ہے۔۔
“ہونہہ نہیں سُمیرا اُسے اپنوں کی بے رخی نے ایسا کیا ہے۔۔ حماد خان نفی میں گردن ہلاتے اپنے کمرے کی طرف چل دیے۔۔۔
________
“ولید بھائی میں نے آپ کو بہت بہت مس کیا محھے لگا تھا کے آپ نہیں آئِیں گے کیونکہ آپ ممی سے ناراض ہوکر گئے تھے۔۔۔
“حرا بیوقوفوں کی سردارنی تم ہمیشہ الٹا ہی بولنا ولید بھائی کوئی ناراض نہیں ہیں انفیکٹ ممی نے خود کال کر کے ولید بھائی کو پاکستان بُلایا ہے سمجھی اب ہٹو مجھے بھی ملنے دو میں کچھ دن کی مہمان ہوں اس گھر میں۔۔۔حنا نے گھورتے ہوۓ اسے ٹوکا جب کے ولید سامنے کھڑی اپنی ماں کو دیکھے گیا جو اسکے باپ کے بازو کو تھام کر مسکرا رہی تھیں۔۔
_________
“تیز تیز قدم اٹھاتی تالیہ ایک دو بار پلٹ کر پیچھے بھی دیکھ رہی تھی یہ خوف بھی تھا اگر کسی نے اسے پکڑ لیا تو کیا حشر کریں گے یہی سوچ اُسکے رونگٹے کھڑے کر رہی تھی.۔۔ سردی کے موسم میں بھی اسے پسینہ آرہا تھا بہت مشکل سے خود پے قابو پاتی وہ اس خاموش علاقے سے جلد از جلد دور چلی جانا چاہتی تھی.
____________
“ولید بھائی سارا بھابھی کیسی ہیں ہم تو اُنکا بھی انتظار کر رہے تھے اور آپ انہیں ساتھ ہی نہیں لائے
حرا نے چائے کا کپ ٹیبل سے اٹھا کر ایکدم اس سے پوچھا۔۔
ولید نے چائے کا گھونٹ لے کر مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
“ڈونٹ وری وہ کہیں نہیں جانے والی۔۔۔ایک ہفتے بعد اپنی موم اور دادا کے ساتھ آئے گی۔۔سنجیدگی سے جواب دیتے وہ دوبارہ چاِئے کی طرف متوجہ ہوا۔۔
“ایک ہفتے بعد کیوں ولید تمہے بتایا تھا آج رات کو مایوں ہے حنا کی۔۔سُمیرا بیگم نے پیشانی پے سلوٹیں لاکر استفسار کیا
سب خاموشی سے ماں اور بیٹے کو دیکھ رہے تھے وہ دونوں کم ہی ایک دوسرے سے بات کرتے تھے۔۔
“جانتا ہوں وہ صرف شادی اور ولیمہ اٹنڈ کرنے آرہی ہے ویسے بھی اُسے یہ سب پسند نہیں ہے۔۔
“واٹ ربش کیا مطلب ہے اس بعد کا ولید خان تم بھول رہے ہو کے اب وہ اس گھر کی بہو بننے جا رہی ہے یہ چونچلے بازیاں وہ اپنے ملک میں ہی چھوڑ کر آئے کیوں کے اب تم واپس نہیں جاؤ گے سمجھے۔۔ سُمیرا بیگم اچانک غصّے سے کپ کو ٹیبل پر پٹخنے والے انداز میں رکھ کر بولیں
حنا اور حرا نے گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھا پھر خود ہی اپنی جگہ سے اٹھ کر چلی گئیں۔
“سُمیرا میں نے تمہے کہا تھا ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے۔۔حماد خان نے سختی سے کہتے انہیں دیکھا جو ولید کو ہی دیکھ رہی تھیں۔۔
“کب ؟ یہ”بعد” کب آتا حماد جب یہ ٹکٹس کروا کے جا رہا ہوتا تب ہم اس سے پوچھتے۔۔۔ہنہ اسے سمجھنا چاہیے یہ گھر کا بڑا بیٹا ہے اسے اپنی زمہ داریوں کا پتہ ہونا چاہیے ناں کے یہ کے وہاں جا کر اپنی الگ دنیا بسا لے جس میں گنتی کے چند دوست اور ایک عدد منگیتر ہو. ۔۔
“انّف ممی۔۔۔ ان سب چیزوں کی زمہ دار آپ ہیں جو کچھ ہو چکا اور جو ہو رہا ہے ان سب کی زمیدار صرف اور صرف آپ ہیں پھر یہ سب دکھاوا کس لئے۔۔۔ولید سرد لہجے میں جواب دیتا کرسی پیچھے کرتا اٹھ کر چلا گیا
حماد صاحب نے دکھ سے اپنے بیٹے کو جاتے دیکھا۔۔
“تم نے اچھا نہیں کیا میں خود کرلیتا اس سے بات لیکن تم جان بوجھ کر یہ موضوع زیرِ بحث لائی ہو کیوں کے وہ تمہاری بات کبھی نہیں مانتا اور اس چیز کی بھی تم خود زمہ دار ہو اس لیے اسے الزام دینا بند کرو ۔حماد صاحب غصّے سے بولتے اٹھ کر چلے گئے جب کے سُمیرا بیگم کپ کے کنارے پے انگلی پھرتیں کندھے اُچکا کر مسکرا دیں۔۔۔
__________
اندھیرا بڑھ رہا ہے اب میں کہاں جاؤں۔۔ناخن چباتی وہ اردگرد دیکھ رہی تھی کراچی کا یہ پوش علاقہ جہاں چھوٹے بڑے بنگلے قطار میں بنے تھے اسے انہیں دیکھتے ہی خوف آرہا تھا جانے کوئی کہاں سے نکل کر اسے دبوچ کر واپس لے جائے۔۔ تالیہ ڈیڑھ گھنٹے مسلسل چل چل کر اب تھک چکی تھی حلانکہ وہ اب بہت دور آ گئی تھی لیکن اسے اپنی میڈم پر بھروسہ نہیں تھا۔۔
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی جب قدموں کی آواز پر گھبرا گئی۔۔۔
“ٹائمس اپ ڈارلنگ اب میں بھی تھک گیا ہوں۔۔۔کان کے قریب مردانہ آواز میں کہے گئے جملے اسکے سر پر بم کی طرح پھٹے۔۔
اس سے قبل تالیہ بھاگنے کی کوشش کرتی کمر پے کوئی نوکیلی چیز چبھی۔۔
“آہ! !!
“شش!! ہلنا مت کہیں یہ اندر گھس گیا تو تمہاری سانسیں چھیں لے گا اب جیسا میں کہتا ہوں ویسا کرو سمجھی
“آ ٹھ ٹھیک ہے.۔۔۔تالیہ خود کو پرسکون کرتی آرام سے بولی. “گڈ گرل بس اسی طرح میری بات مانتی جاؤ میں تمہے چھوڑ دوں گا اب خاموشی سے میرے ساتھ اس وین تک چلو۔۔آدمی نے چاقو ہٹا کر ہاتھ اسکی کمر پے رکھ کر چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔
___________
دونوں خاموشی سے سڑک کے کنارے کھڑے آتی جاتی گاڑیوں کے گزرنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔
“بابر سن ایسا کر وین ہمارے قریب اکر روک میں ایسے سڑک پار نہیں کر سکتا سمجھ۔۔۔ہاں جانتا ہوں میرا باپ نہ بن اس عورت نے کون سا دیکھنا ہے بس کچھ دن اپنے ساتھ رکھیں گے.۔۔ہاہاہا چل اب آجا جلدی۔۔۔تالیہ اسکی باتوں سے سن کھڑی رہ گئی یہ کیا ہونے جا رہا تھا وہ عورت ؟ کیا وہ اسکی میڈم کی بات کر رہے تھے۔۔
“نہیں تالیہ ایک دلدل سے نکل کر غلاظت کا ڈھیر نہیں بنے گی نہیں۔۔۔ خود سے سوچتی وہ چوکنی ہوگئی۔۔
“ہم کھڑے کیوں ہیں۔۔۔تالیہ نے اسکا دھیان بٹانا چاہا۔۔ آدمی اسے دیکھ کر مسکرایا۔۔
“وین یہیں آرہی ہے اتنی بھی کیا بے تابی۔۔آنکھ دبا کر بولتا وہ اُسے زہر سے بھی زیادہ زہر لگا تھا
“مجھے پیاس لگ رہی ہے۔۔
“ہائے مجھے بھی بہت پیاس لگ رہی ہے۔۔۔آدمی اسے سر تا پیر دیکھ کر بیہودہ انداز میں بولا۔۔۔
“نہیں مجھے پانی چاہیے کیا تم تمھارے پاس ہے؟
“وین آنے دو پانی کیا میں تمہے اچھا سا کھانا کھلواؤں گا۔۔۔
__________
“ٹھک ٹھک ٹھک!! دوازہ کی آواز پر ولید نے کھڑکی سے باہر آسمان پر نظر مرکوز کیے ہی اندر آنے کی اجازت دی۔۔
“چھوٹے صاحب! !
“ہمم سن رہا ہوں۔۔۔
“یہ مالکن نے بھجوایا ہے رات کی تقریب کے لیے اور تاکید بھی کی ہے کے آپ یہی پہنے۔۔
ولید نے پلٹ کر ملازمہ کے ہاتھ میں ہیگ ہوا سفید کاٹن کے شلوار قمیض کے ساتھ شال دیکھ کر ہلکے سے مسکرایا
“ہمم رکھ دو اور جاؤ۔۔ولید اسے کہتا دوبارہ کھڑکی کی جانب رخ پھیر لیا۔۔۔۔
__________
وین کے قریب آنے سے قبل ہی تالیہ نے ساتھ کھڑے آدمی کو دیکھا۔۔
“سنو۔۔۔
“کیا ہے۔۔۔آدمی نے جیسے ہی اسکی طرف چہرہ کیا تالیہ نے پوری قوت سے اُسکی ناک پے پنچ مارا۔۔۔ آدمی اس طرح کی ہمّت کی بلکل توقع نہیں کر رہا تھا تبھی جھک کر اپنی ناک پکڑ کر لڑکھڑایا۔۔
تالیہ نے ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر تیزی سے دوڑ لگادی اتنے میں وین قریب آکر رکی۔۔۔
“لڑکی کہاں گئی۔۔۔
“ابے سالے کہاں مر گیا تھا سامنے سے آنے میں اتنی دیر کردی۔۔۔ ناک سے بہتے خون کو صاف کرتا وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں اپنے ساتھی پر چیخا۔۔
“کٹ ہی اتنی دور تھا اس میں میری کیا غلطی ہے بھائی۔۔۔
“اچھا چل پکڑ اسے سالی نے اتنی زور سے میری ناک پے مارا ہاتھ لگے زمین میں زندہ دفن کرونگا۔۔ آدمی کھولتا ہوا بول کر وین میں بیٹھ کر گلی کی طرف چل دیا۔۔۔
“وین کو دور جاتے دیکھتی تالیہ سکون بھارا سانس لیتی گیٹ سے باہر جھانکنے لگی۔۔
“میڈم آپ کون ہیں ؟ گارڈ جو کب سے اس لڑکی کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہا تھا جو مہمانوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی لیکن وہیں کھڑی ہوگئی
“جی وہ میں میری دوست کا گھر ہے یہ۔۔۔تالیہ نے گڑبڑا کر اسے جواب دیا جو اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے اُسے گھور رہا تھا۔
“کون سی دوست نام بتائیں۔۔۔
“وہ۔۔۔تالیہ ابھی سوچ رہی تھی جب کوئی لڑکی خود ان کے قریب آئی یہ اتفاق ہی تھا کے حرا مہمانوں سے ملنے کے لئے لان کی طرف جا رہی تھی جب نظر ان پر پڑی تھی
“سوری کیا ہم پہلے مل چکے ہیں ؟ آنکھوں کو چھوٹا کرتے وہ تالیہ سے پوچھنے لگی۔۔۔گارڈ خود پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔
تالیہ اُسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی اچانک اسے یاد آیا کے وہ اس سے کہاں ملی تھی۔۔۔
“آ ہم شاید کسی فنکشن میں ملی ہیں۔۔۔تالیہ نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔۔
“ارے ہاں یقیناً میں وہاں اپنی ممی کے ساتھ آئی تھی ہم وہاں گیسٹ کے طور پر انوائٹڈ تھے بٹ سوری میں تمہارا نام بھول گئی۔۔حرا نے مسکراتے ہوۓ اسے دیکھا۔۔
“تالیہ میرا نام تالیہ ہے۔۔تالیہ اب بھی حیرت زدہ تھی کیا دنیا سچ میں اتنی چھوٹی ہے کے ایک مہینے پہلے اسکول فنکشن میں ملنے والی لڑکی آج یہاں ملے گی۔۔۔
“اچھا مس تالیہ تم پہلی کلاس کی ٹیچر تھی رائٹ؟ کیا جاب چھوڑ دی تھی تم نے؟ میں ایک بار دوبارہ آئی تھی لیکن تم ملی نہیں۔۔۔
“ہاں وہ بس مجبوری تھی۔۔تالیہ اب سکون سے کھڑی اس سے باتوں میں مشغول ہوگئی تھی
_________
ڈریسنگ کے سامنا کھڑا وہ اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کر رہا تھا وائیٹ شلوار قمیض اس پے خوب جچ رہا تھا۔۔۔
“ولید ۔۔۔عثمان کی آواز پے اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
“پہچانا نہیں کیا ؟ عثمان کا سارا جوش اسکے تاثرات دیکھ کر رفع ہوا
“نہیں۔۔۔
“ہیں کیا تم نے مجھے نہیں پہچانا یار میں تمہاری خالہ کا بیٹا ہمم اب بھی نہیں پہچانا۔۔۔ولید نے اسکی بات سن کر اسے دیکھا۔۔
“ہمم پہچانا۔۔۔۔حُمیرا آنٹی کیسی ہیں ؟ سنجیدگی سے بولتا وہ دوبارہ رخ موڑتا بال سیٹ کرنے لگا۔۔
“وہ ٹھیک ہیں ۔۔ویسے ناراضگی خالہ سے ہے اور روٹھ تم سب سے گئے ہو ایسا کیوں؟ عثمان کی سنجیدہ آواز اسکے کانوں میں پڑی۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے عثمان مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے میری نیٹ پر ہوتی رہتی تھی سب سے بات اگر ایسا کچھ ہوتا تو میں گھر والوں سے رابطے میں نہیں رہتا۔۔۔
“ہم اوکے۔۔۔میں چلتا ہوں۔۔۔ عثمان سر ہلا کر کمرے سے نکلنے لگا۔۔
“عثمان روکو ساتھ چلتے ہیں۔۔ولید نے مسکرا کر اسے کہا وہ واقعی روڈ ہوگیا تھا۔۔
عثمان نے “اوکے” کہ کر کندھے اُچکائے۔۔
___________
“ممی یہ میری دوست ہے تالیہ۔۔۔ حرا اسے سُمیرا بیگم سے ملوانے اندر لائی تھی۔۔
“السلام علیکم آنٹی۔۔
“وعلیکم اسلام حرا تمہاری دوست کو تم نے اپنی مہندی پر انوائٹ کیا ہے ؟
سُمیرا بیگم نے سر تا پیر تالیہ کے حلیے کو دیکھ کر استفسار کیا۔۔
“نہیں وہ ممی یہ اچانک آئی ہے۔۔حرا کنفیوسڈ ہوکر جواب دیتی تالیہ کو دیکھنے لگی۔۔
“اچانک آنے کا یہ کون سا وقت ہے تمہاری دوستیں ہمیشہ دوپہر یا شام کو آتی ہیں کیا تم نے اسے نہیں بتایا کے یہ وقت تنہا لڑکی کو کسی کے گھر آنا لڑکی کو زیب نہیں دیتا۔۔سُمیرا بیگم نے سخت لہجے میں اپنی بیٹی کو گھورتے ہوۓ کہا
“سوری ممی وہ۔۔۔
“اوکے اسٹاپ اب سوری کی ضرورت نہیں ہے جاؤ اسے اپنے روم میں لے جاؤ۔۔۔سُمیرا بیگم ہاتھ جُھلا کر بولتیں آگے بڑھ گئیں
تالیہ کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔۔اتنی بے عزتی وہ کیسے برداشت کر گئی۔۔
“سوری تالیہ ممی کا موڈ آج کل ایسا ہی ہے ایکیچولی حنا باجی کی شادی ہے تو اس لئے اپ سیٹ ہیں۔۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔ تالیہ نے زبردستی چہرے پے مسکراہٹ لاکر کہا ورنہ دل چاہا اسے ہی سنا کر دل کی بھڑاس نکال لے۔۔
“چلو میں تمہے اپنا کمرہ دکھاتی ہوں۔۔۔۔حرا اُسے ساتھ سیڑیوں کی جانب بڑھی جب کسی کی آواز پر پالٹی۔۔
“آپ کو مالکن بولا رہی ہیں انہوں نے کہا ہے فوراً آئیں۔۔۔
“اچھا چلو۔۔۔تالیہ تم جب تک اوپر جاؤ میں آتی ہوں۔۔۔
“اوکے۔۔۔تالیہ مسکرا کر سیڑیاں عبور کرتی اطراف میں دیکھنے لگی۔۔ایکدم کچھ سوچتی وہ ایک کمرے کی طرح بڑھ گئی۔۔۔
___________
مہندی کی تقریب لان میں جاری تھی۔۔۔حماد صاحب ولید کو سب سے ملوا رہے تھے۔۔ولید سب سے مسکرا کر مل رہا تھا
جب اسکے موبائل پر کال آنے لگی۔۔
ہیلو ولید کیسے ہو ؟ سارا کی چہکتی ہوئی آواز سنتے ہی وہ مسکرایا
“میں تو ٹھیک ہوں کیا بات ہے بہت خوش لگ رہی ہو؟ ولید بات کرتے لاؤنج میں آیا۔۔
“خوشی کی بات تو ہے گیس کرو کیا بات ہو سکتی ہیں۔
“مجھے کیا پتہ تمہارا موڈ بن موسم برسات کی طرح ہے۔۔ولید نے کندھے اُچکائے۔۔
“اوکے فائن۔۔ میں خود بتا دیتی ہوں کچھ دیر پہلے سُمیرا آنٹی کی کال آئی تھی مام کو وہ کہ رہی تھیں کے ہمارے پاکستان آتے ہی وہ ہماری شادی کرنا چاہتی ہے۔۔ سارا چہک کر اسے بتا رہی تھی۔۔
“اچھا آنٹی نے کیا جواب دیا ؟ ولید نے مسکراتے ہوۓ پوچھا جانتا تھا سُمیرا بیگم جان کر یہ سب کر رہی ہیں۔۔
“مام نے کیا کہنا ہے وہ تو پہلے ہی رازی تھیں۔۔۔۔ تمہیں خوشی نہیں ہوئی سن کر؟
“نہیں مجھے بہت خوشی ہوئی آ۔۔اچھا سارا میں بعد میں کال کرتا ہوں۔۔اوکے بائے۔۔ولید نے بات ختم کر کے کال ڈسکنیکٹ کردی دوسری طرح سارا کندھے اُچکا کر مسکرا دی۔۔
___________
ولید جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوا سامنے کھڑی عجیب و غریب مخلوق کو دیکھ کر آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگا۔۔
“تالیہ جو اپنے بالوں کا جوڑا بنا رہی تھی آہٹ پر چونک کر پلٹی لیکن سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر گھبرا کر ڈریسنگ روم کی طرف جانے کے لئے قدم بڑھائے
“روکو کون ہو تم ؟ ولید نے تیز آواز میں سختی سے اس سے پوچھا اپنے کپڑوں میں کھڑی انجان لڑکی کو دیکھ کر اسکا گلا دبانے کی خواہش کو بڑی مشکل سے دبا کر پوچھنے لگا
“میں وہ۔۔۔۔۔آپ کو دیکھ نہیں رہا ایک پیاری سی لڑکی کھڑی ہے۔۔۔تالیہ نے گڑبڑا کر ہچکچاتے ہوئے ایک قدم پیچھے لیتی اُسے دیکھنے لگی اگر وہ ان حالات میں نہ ملا ہوتا تو ایک دو محبت اس سے خود با خود ہو ہی جاتی لیکن نہ تو یہ وقت ٹھیک تھا نہ ہی موقع۔۔
“تو مس پیاری لڑکی آپ مجھے یہ بتانے کی زحمت کریں گی کے آپ اس وقت میرے کمرے میں وہ بھی میرے ہی کپڑوں میں بوری بند بارود کیوں بنی ہوئی ہیں۔۔ولید نے آنکھوں کی پتلیاں چھوٹی کرتے ہوۓ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہر بات پے زور دے کر پوچھا۔۔
تالیہ نے سر جھکا کر شرٹ کے ساتھ پہنے پاجامے کو دیکھا جسے کاٹ کر ساتھ بیلٹ سے کس کر اپنے ناپ کا کیا گیا تھا
“یہ آپ کے ہیں اففف جانتے ہیں کتنی مشکل سے اسے اپنے سائز کا کیا ہے کتننے ہٹتے کٹٹے ہیں آپ ماشاءالله لیکن خیر کوئی نہیں تالیہ کو سب چٹکیوں میں کرنا آتا ہے۔۔۔
تالیہ باقاعدہ چٹکی بجا کر اسے کہ کر فرار ہونے کے لئے دروازے کی طرف بڑھنے لگی
جب کے ولید ضبط سے ہونٹ بھنجے اسکے قدموں کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
“خبردار اگر بھاگنے کی کوشش کی تو وہیں کھڑی رہو جہاں ہو۔۔ولید نے اسے گھورتے ہوۓ وارن کیا
“ہاں تو میری ٹانگیں ہیں میں کہیں بھی جاؤں۔۔۔تالیہ نے بولتے ساتھ ایک قدم پیچھے لیا۔۔
“گڈ اب بتاؤ تم یہاں کیا کر رہی ہو اور میرے کپڑے پہننے کی ہمّت کیسے ہوئی تمہاری
“کیا ؟ “آپ کو اپنے کپڑوں کی پڑی ہے ہنہہ کنجوس۔۔
“ہاں ہوں میں کنجوس پھر اُتارو میرے کپڑے۔۔تالیہ کا کنجوس کہنا اسے دوبارہ غصّہ دلا گیا تبھی وہ سوچے سمجھے بغیر کہتا اسکے قریب آنے لگا ۔۔
“آ آپ یہ کیا کہ رہے ہیں شرم نہیں آتی۔۔۔ تالیہ نے دونوں ہات اپنے گرد لپیٹ کر صدمے سے اسے دیکھا۔۔
اس سے قبل وہ جواب دیتا حرا کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی بھی حالت ولید جیسی ہی ہوگئی۔۔
جاری ہے۔۔۔
