Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14
سُمیرا ہبوز نکاح کے جوڑے میں بیڈ پر بیٹھی حماد کا انتظار کر رہی تھیں ہاتھوں میں گجرے پہنے آنے والے وقت کا سوچ کر پریشان بھی تھیں۔۔
ہانیہ کی جگہ وہ ہوتی تو یقینن یہ نہیں کر پاتیں احساس کے بھاری بوجھ تلے وہ خود کو دبتا محسوس کر رہی تھیں.
حماد کا انتظار طویل ہوتا گیا یہاں تک کے فجر کی اذان کا وقت ہوگیا۔
سُمیرا جو بیڈ سے ٹیک لگا کر خود کو زبردستی جگائے ہوئے تھیں اٹھ کر وضو کرنے چلی گییں.
_________
اگلے دن سُمیرا جسے ہی جاگیں کمرے میں حماد کو دیکھ کر جلدی سے اٹھ کر انکی طرف بڑھیں جو مجبوراً ہانیہ کے کہنے پر آئے تھے۔۔
“آپ آگئے سوری میں سوگئی تھی۔۔
“یہ تمہاری زندگی ہے جو مرضی کرو لیکن میرے سامنے یہ اداکاری مت کرنا میں ہانیہ نہیں ہوں کے تمہاری باتوں میں آجاؤں گا۔۔۔ حماد غصّے سے کہتے کمرے سے نکل گئے جب کے سُمیرا ضبط سے بند دروازے کو دیکھتی رہ گئیں.
__________
وقت گزرتا گیا حماد کا رویہ ہنوز پہلے دن جیسے ہی تھا۔۔۔سُمیرا خاموشی سے انکے طنز کو سہتی رہتیں کے یہ خود انکا اپنا فیصلہ تھا.۔۔۔
ہانیہ اور سُمیرا کے درمیان سب سہی چل رہا تھا ہانیہ کے دن قریب آرہے تھے ایسے ہیں سُمیرا اسکا خیال رکھنے لگیں تھیں۔۔۔ ہانیہ کے کہنے پر وہ سُمیرا کو ممی کہنے لگا تھا۔۔۔
ایک دن سوتے میں ہانیہ کو درد اٹھا حماد جلدی سے انہیں ہاسپیٹل لے کر بھاگے۔۔۔۔ جب کے سُمیرا ولید کے ساتھ گھر پر ہی روک گئی تھیں۔۔۔۔
_________
ڈاکٹر میری ہانیہ۔۔۔حماد تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر ڈاکٹر کے قریب گئے۔۔۔
“مبارک ہو دو جڑواں بچیاں ہوئی ہیں۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ نے ہلکی سی مسکراہٹ سے انہیں خوش خبری سنائی.۔۔
فریحہ بیگم نے خوشی سے ساتھ کھڑے دلاور خان کو دیکھا۔۔
“ہانیہ ٹھیک ہے؟ حماد خوشی سے کانپتی آواز میں پوچھنے لگے۔۔
“سوری۔۔۔ہم نے پہلے ہی انہیں بتا دیا تھا کے وہ کمزور ہیں جس کی وحہ سے بہت سی پیچدگیاں آسکتی ہیں لیکن وہ نہیں مانی تھیں۔۔۔ڈاکٹر افسوس کرتیں آگے بڑھ گئیں جب کے حماد کی ساری زندگی زلزلوں کی زد میں آگئی۔۔۔
_____________
“تالیہ حرا کے ساتھ پارلر جانے کے لئے پورچ تک آئی جہاں پہلے ہی ولید ٹیک لگا کر کھڑا موبائل پر بات کر رہا تھا۔۔۔ دونوں کو قریب آتا دیکھ کر موبائل کان سے ہٹا کر پنٹ کی جیب میں ڈالا۔۔
“چلو بیٹھو.۔۔۔
تالیہ منہ بنا کر اسے دیکھتی ابھی بیٹھنے ہی لگی تھی جب سُمیرا بیگم کی آواز پر چونک کر انکی طرف متوجہ ہوئی.۔۔
“ولید مجھے بھی پارلر جانا ہے میں بھی چلوں۔۔۔سُمیرا بیگم کی بات پر تینوں نے بے یقینی سے انہیں دیکھا۔۔۔
“کیا واقعی میں نے جو سنا وہی آپ نے بھی سنا۔۔۔تالیہ جو منہ بنا رہی تھی سب بھلا کر ولید کے قریب سرگوشی کرنے لگی.
“تھوڑا پاس آنا کیا پوچھ رہی ہو۔۔ولید نے شرارت سے تالیہ کو دیکھا جو اسکے نزدیک جھکی ہوئی تھی ولید کی بات پر گھورکر پیچھے ہوئی.
“زیادہ فری مت ہوں۔۔تالیہ نے منہ بنایا۔۔
“اوکے۔۔ ولید سُمیرا بیگم کو کندھے اچکا کر بیٹھنے کا اشارہ
کرتا ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔۔
_________
حماد خان ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ٹائی باندھ رہے تھے جب کے ولید تالیہ کو پارلر سے لیتا سیدھا بنقیوٹ پہنچ رہا تھا۔۔۔
اس سے قبل حماد کمرے سے نکلتے سُمیرا بیگم کو دیکھ کر وہیں روک گئے جو ویلوٹ کی سیاہ ساڑی پہنے دروازے کے پاس تیار کھڑی انہیں دیکھ رہی تھیں آج بھی انکا دل حماد کو دیکھ کر پہلے کی طرح ہی بے بس ہوجاتا تھا کے محبت نے انہیں زندگی بھر خوار ہی کیا تھا۔۔
“میں بچوں کے ساتھ ہی چلی گئی تھی۔۔۔
“تالیہ اچھی بچی ہے۔۔۔حماد نے رخ ڈریسنگ کی طرف کرتے اُنکی بات ان سنی کردی۔۔
“میں ڈرتی ہوں آپ کے لئے اپنے بیٹے کے لیے۔۔۔سُمیرا بیگم کی بات پر ایک تلخ مسکراہٹ نے اُنکے لَبوں کو چھوا۔۔
“تم جیسی عورت کبھی کسی سے نہیں ڈر سکتی اس لئے بہتر اسی میں ہے اسکی ماں بننے کی کوشش مت کرو اگر تمہاری جگہ ہانیہ ہوتی تو خوش ہوتی۔۔حماد تلخی سے کہتے کوٹ اٹھا کر پاس سے گزر گئے۔۔۔
___________
دلہن کے روپ میں تالیہ کو دیکھ کر ولید لمحے بھر کے لئے اسے دیکھتا چلا گیا جو شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ اسکے قریب آرہی تھی۔۔
“چلیں ولید بھائی۔۔۔حرا کی آواز پر چونک کر اس نے تالیہ کے ساتھ پچھلا دروازہ کھولتی حرا کو دیکھا۔۔
“ہاں چلو۔۔۔پہلے ہی دیر ہوگئی ہے۔۔ولید نے کہتے ہوۓ ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی۔۔
آٹھ بجے تک وہ لوگ بنقیوٹ پہنچ چکے تھے۔۔۔
دونوں ساتھ چلتے پرفیکٹ لگ رہے تھے۔۔۔تالیہ کے دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی اسٹیج پر پہنچ کر تالیہ اور ولید ساتھ بیٹھے تالیہ نے چور نظروں سے ولید کو دیکھا جو سامنے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔
“کاش آپ مجھ سے شادی محبت سے کرتے۔۔۔تالیہ سوچ کر رہ گئی۔۔۔
ولید جانتا تھا وہ اسے ہی دیکھ رہی ہے اور کیا سوچ رہی ہے وہ بھی جانتا تھا کے ساتھ چلتی تالیہ کو چھوڑ دینے کا خیال اس کے دل کو پسند نہیں آیا تھا۔۔
جاری ہے۔۔۔
