Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Last updated: 24 June 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh

بیٹھو۔۔۔کمرے میں آکر ولید نے گُم سُم کھڑی تالیہ سے کہا۔۔
"نہیں آپ کی ممی پھر آجائیں گی ۔۔تالیہ نے بکھرے بالوں کو ہاتھ سے چہرے سے پیچھے کرتے ہوۓ روندھی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔
"نہیں آئیں گی۔۔۔
"اگر آپ کی غیر موجودگی میں آگئیں پھر۔۔۔تالیہ نے آنکھوں میں آنسوں لئے اسکی طرف دیکھ کر اپنا خدشہ ظاہر کیا
"جب میں کہ رہا ہوں کچھ نہیں ہوگا تو ایک بات تمھارے اس چھوٹے سے دماغ میں کیوں نہیں گھستی۔۔۔ولید نے بار بار ایک ہی بات پے تپ کر اسے گھورا۔۔۔
"نہیں کرتے شادی کر لیتے اپنی اسی چہیتی سے۔۔
"اوہ گاڈ تم تو بیویوں کی طرح طعنہ دے رہی ہو۔۔ولید گھور کر بولتا بستر پے بیٹھ گیا۔۔۔
بیویوں کی طرف کیا میں بیوی ہی ہوں۔۔تالیہ نے اسکی بات پر ناگواری سے کہا۔۔
"تم شاید بھول رہی ہو ہماری شادی کچھ عرصے کے لئے ہے تم نے خود ایگریمنٹ کو پڑھ کے مجھ سے نکاح کیا ہے۔۔ اور تمہاری وہ شرطیں بھول گئی ہو یہ سب تمہاری اپنی مرضی تھی۔۔۔ولید بے سر اٹھا کر سنجیدی سے اسے سب یاد دلایا جسے شاید تالیہ کچھ پل کے لئے فراموش کر چکی تھی۔۔۔
حلق میں آنسوؤں کا گولہ سا اٹکا۔۔کچھ بھی بولے بنا ضبط سے سر کو ہلاتی تالیہ باتھروم میں گھس گئی۔۔۔
________
چونکہ رات کو حنا کا ولیمہ تھا ساتھ ہی ولید کا نکاح ہونا تھا یہی سوچ کر سُمیرا بیگم غصّے سے کھول رہی تھیں کے ایک نیا تماشا بنے گا لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گے.۔۔
یہی وجہ تھی ایک بار پھر گھر میں سُمیرا بیگم کے چیخنے کی آواز گھونج رہی تھی۔۔۔
"کیوں ہنگامہ کر رہی ہو ایسی بھی کون سی قیامت آگئی ہے۔۔حماد خان نے گھور کر انہیں کہا۔
"یہ قیامت سے کم بھی نہیں ہے اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اسے خیال نہیں آیا کے اسکے نکاح کا ہر کسی کو علم ہے۔۔۔
"ممی نکاح کون سا سب کے سامنے ہونا تھا کمرے میں ہی ہونا ہے ایک کام کریں تالیہ بھابھی کو گھونگھٹ کروا دیں۔۔۔حرا نے مشورہ دیا سُمیرا بیگم نے سلگ کر اپنی بیوقوف بیٹی کو دیکھا جسے کسی بات کی پرواہ ہی نہیں تھی.۔۔
ّولید نے مسکرا کر اپنی بہن کو دیکھا۔۔۔
"آئیڈیا برا نہیں ہے.۔۔۔ایسا کر لیتے ہیں۔۔ حماد خان مسکراہٹ دبا کر بولے۔۔۔
"ٹھیک ہے پھر آپ سب چلیں میں آتا ہوں اپنی مسسز کو لے کر۔۔۔ولید نے مسکرا کر کہا سُمیرا بیگم نے نفرت سے اسے دیکھا جو چڑانے والی مُسکراہٹ کے ساتھ کہ کے چلا گیا۔۔
حماد خان اور حرا دونوں باہر نکل گئے جب کے سُمیرا بیگم ابھی تک وہیں کھڑی غصّے سے کھول رہی تھیں۔۔۔
_________
ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی.۔۔۔ولید کے نکاح کے وقت کچھ نے نام تو کسی نے اسکے گھونگھٹ پے چہ مہگیاں شروع ہوئیں سُمیرا بیگم ڈر رہی تھیں کے کوئی بھی ان سے محفل میں براہ راست پوچھ نہ لیں۔۔۔
"حرا سارا بھابھی۔۔۔کھانے کے وقت حرا حنا کے ساتھ آکر بیٹھی جب حنا نے ہلکی آواز میں اس سے استفسار کیا وہ بہت دیر سے ضبط کیے بیٹھی تھی جب اس سے کسی نے اکر پوچھا کے آپ کی بھابھی کا نام تالیہ ہے میں نے تو دوسرا سنا تھا حنا شکر کر رہی تھی کے سارا کا نام اسے یاد نہیں آیا تھا۔۔۔
"حنا ولید بھائی نے پہلے ہی تالیہ بھابھی سے چھپ کر نکاح کر لیا تھا۔۔۔۔۔
"کیا؟ حنا کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں جب کے حرا سب کچھ اسے بتاتی چلی گئی۔۔
____________

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *