Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09

“بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔ تالیہ نے اسٹیج پر آکر حنا کی طرف جھک کر آہستہ سے کہا۔۔۔حنا شرماتی ہوئی دھیرے سے “شکریہ” کہ کر دوبارہ سر جھکا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
“آجائیں ولید بھائی اور سارا بھابھی فیملی فوٹو کے لئے۔۔ حرا کی شرارت بھری آواز تالیہ کے کانوں میں پڑی تو پلٹ کے گھور کر اُسے دیکھا۔۔
“ہنہہ بھابھی کی بچی۔۔ اور مسٹر کو دیکھو کیسے مسکرا رہے ہیں خیر کوئی نہیں ایک بار لگ پتہ چل جائے بھابھی کی نند کو پھر پوچھوں گی دونوں بھائی بہن کو۔۔۔جل کر سوچتی وہ اسٹیج سے نیچے جانے لگی جب کسی نے اس کی کلائی کو ایکدم پکڑا تالیہ تو تھرا کر رہ گئی۔۔
نظروں کو ترچھا کر کے پکرنے والے کو دیکھتے ہی جل بھون گئی۔
“آپ کہاں جا رہی ہیں مجھ سے تو ملی ہی نہیں۔۔۔عثمان نے مسکرا کر تالیہ کو متوجہ ہوتے ہی پوچھا۔۔
“تمہاری ہمّت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی ہاں ؟ تالیہ نے سلگ کر سختی سے ہلکی آواز میں کہا جس نے جھٹ اُسکی کلائی چھوڑی تھی
“اوہ سوری وہ۔۔
“جی جی وہ آپ کی عادت ہے اب بندہ اپنی عادتیں اتنی جلدی کیسے بدل سکتا ہے لیکن اپنی یہ عادتیں کسی اور پر جا کر ٹرائی کریں کیا پتہ آپ کی یہ کوششیں کبھی نہ کبھی رنگ لے آئیں۔۔ تالیہ اسے کھری کھری سُنا کر اسٹیج سے اُتر گئی جب کے عثمان اپنی بے عزتی پر شرمندگی سے اردگرد دیکھنا مصنوعی مسکراتا جانے لگا جب ولید کی آواز پر “ارے یار” کر کے اسکی طرح متوجہ ہوا۔۔
“کیا کہ رہی تھی تمہے ؟ ولید نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا۔۔
“کچھ بھی نہیں بس یونہی کے میری ڈریسنگ بہت کمال لگ رہی ہے اب اتنی تعریفیں وہ بھی لڑکی کر رہی تھی تو سننا ہی تھا ورنہ برا ماں جاتی۔۔عثمان نے سچ بتانے سے بہتر جھوٹی کہانی گڑھی جس پے ولید کو ذرا بھی یقین نہیں آیا۔۔۔
“ہمم یہ تو بہت اچھی بات ہے چلو اب اگر پھینک چُکے ہو تو۔۔ولید سنجیدگی سے کہتا پلٹ گیا جب کے عثمان منہ بنا کر رہ گیا۔۔
___________
ساڑے گیارہ بجے تک رخصتی کا شور بلند ہوا۔۔۔ ایسے میں تالیہ سب سے الگ تھلک کھڑی سب کو جاتا دیکھنے لگی ایکدم اسے اپنا گزرا وقت یاد آیا تو آنکھیں موند کر سوچتی چلی گئی۔
“سنو نہ یار آج تو قسم سے اتنا حسین خواب دیکھا کے بس کیا بتاؤں۔۔۔۔تالیہ نے آمنہ کے دونوں ہاتھ تھام کر چمکتی آنکھوں سے پُرجوش لہجے میں کہا۔۔
“تو مت بتاؤ ویسے بھی تم اور تمھارے خواب فضول ہوتے ہیں اور یاد رکھو تم کوئی شہزادی ملکہ یا کوئی جادوگرنی نہیں ہو کے آنکھ کُھلتے ہی سب حقیقت ہوجائے حقیقت کی دنیا ایسی نہیں ہے جیسے تمھارے یہ عجیب و غریب خواب ہوتے ہیں۔۔آمنہ روز روز کے اُسکے خوابوں سے چڑ چکی تھی۔۔ تالیہ نے منہ پھولا کر چہرہ دوسری طرف گھوما لیا۔۔۔
“ہر کوئی اچھے بُرے خواب دیکھتا ہے لیکن صرف میرے ہی کیوں عجیب و غریب ہوۓ بھلا۔۔۔ خواب تو خواب ہوتے ہیں جن میں میں خود کو بے تحاشا خوش دیکھتی ہوں آمنہ یہ خواب ہی تو ہوتے ہیں جو ہمیں حوصلہ دیتے ہیں کے ہمّت نہ ہارو آج اچھا ہے کل بُرا ہوگا لکین بُرے کے بعد صرف بُرا نہیں بہترین ہوگا اور تم دیکھنا سب اچھا ہوگا۔۔ایک خوبصورت سا گھر ہوگا قیدخانہ نہیں جہاں دو وقت یا کبھی ذرا سی غلطی پر ایک وقت کا کھانا بند ہوجاتا ہے جہاں جیب خرچی کے لئے نوکری کرنی پڑتی ہے جہاں روز ڈانٹ پڑھتی ہے کے تم ہنس کیوں رہی ہو میں ان سب جھمیلوں سے دور چلے جانا چاہتی ہوں جہاں کوئی سچّے دل سے میرا ہو صرف میرا اپنا۔۔۔تالیہ افسردگی سے اُسے بتا رہی تھی جس کی آنکھوں میں اُسکی باتوں سے نمی آگئی تھی۔۔۔
آمنہ کچھ بھی کہے بنا اٹھ کر اُسکے پاس سے چلی گئی جب کے تالیہ اُسکی پشت دیکھ کر ہونٹ بھنجتی سر جُھکا گئی شاید آمنہ سہی تھی کوئی اپنا نہیں تھا۔۔۔
سارا حال خالی تھا جب کے تالیہ اسی طرح انکھیں موندے کھڑی تھی بند آنکھوں سے آنسوں بہہ کر تھوڑی تک آرہے تھے۔۔
ولید اُسے نہ پا کر دوبارہ اندر آیا تھا جب اسے تنہا کھڑا دیکھ کر اسکے نزدیک گیا۔۔۔
کتنے ہی پل وہ اُسے دیکھتا رہا پھر ہاتھ بڑھا کر آنسوں پوچھنے لگا۔۔تالیہ ہاتھ لگنے سے ہوش میں آکر کرنٹ کھا کے پیچھے ہٹی۔۔۔۔
“کھڑی کھڑی کیوں سو رہی ہو ؟
“میں۔۔۔میں سو نہیں رہی تھی۔۔تالیہ گالوں کو بیدردی سے رگڑتی نظریں جھکا کر بولی۔۔۔
“پھر کوئی جادو کر رہی تھی۔۔ولید نے آگے بڑھ کر رازداری سے پوچھا۔۔تالیہ اس کی بات پے نظریں اٹھا کر گھور کر دیکھتی بنا جواب دئے پاس سے گزر گئی
‘آہ!! ایک تو یہ لڑکی جب دیکھو بھاگ جاتی ہے۔۔۔ولید بڑبڑا کے سر جھٹک گیا.۔۔
___________
تالیہ گھر آتے ہی کپڑے بدل کر سونے کے لیے لیٹ گئی تھی لیکن نیند آج شاید اسے نہیں آنے والی تھی۔۔۔کل کیا ہوگا یہی سوال اُسے ڈرا رہا تھا۔۔۔جانے حقیقت پتہ چلتے ہی اُسکے ساتھ کیا ہوگا۔
“اففف!۔۔”کیا ہوگیا ہے مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا مجھے تو ولید کی بات نہیں ماننی چاہیے تھی کیا ہوا اگر میں انکی کاغذی بیوی بن گئی ہوں لیکن حقیقت تو یہی ہے کے میں اب انکی اصلی خالص بیوی ہوں..یا اللہ اس وقت میرا دماغ گھانس چرنے کیوں چلا گیا تھا۔۔ خود کو کوستی وہ ڈوپٹہ لیتی پیروں میں چپلیں پہن کر باہر نکل کے گھر کی طرف بڑھنے لگی تبھی اُسے لان کی کرسیوں پر بیٹھے سارا حرا عثمان اور ولید دیکھے۔۔۔ تالیہ کا دیکھتے ہی دل جل کے خاک ہوگیا۔۔۔
سارا کسی بات پر ہنستی ہوئی ولید کا ہاتھ پکڑ کر کچھ کہ رہی تھی جب ولید کی نظر دور کھڑی تالیہ پر پڑی دونوں کی نظریں ملیں تو تالیہ ناک چڑھا کر زور سے زمین پر پیر مارتی واپس پلٹ گئی۔۔
___________
“بے حیا بے شرم کہیں کے ذرا شرم نہیں ہے کھلے سانڈ کی طرح اُس سارا کو ہاتھ پکڑوا رہے تھے چھوڑوں گی نہیں۔۔ بڑبڑا کر بولتی وہ ٹھٹھک گئی۔۔
“میں کیوں اتنا سوچ رہی ہوں جو مرضی کریں میں نے کون سا زندگی بھر ساتھ رہنا ہے ہنہہ کرتے نہ اُسی سارا سے یوں نکاح تو پتہ چلتا کتنی اچھی ہے مجھے کیسے گھورتی ہے جیسے کچا چبا جائے گی لیکن مجھے کیا بھاڑ میں جائیں سب۔۔۔جل کر بآواز بلند بڑبڑا کر دھپ سے لیٹ کر لحاف کو سر تک اوڑھ کر آنکھیں موند گئی۔۔۔
_________
بالکونی میں کھڑا وہ سگریٹ کے کش لیتا سوچوں میں گُم تھا۔۔۔ جب کمرے میں دستک ہوئی ولید دستک کو ان سُنا کرتا اسی طرح سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتا رہا۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ سارا جو دروازے کھٹکھاتے ہوۓ اب بیزار ہونے لگی تھی اپنی پشت پے سُمیرا بیگم کی آواز پر بُری طرح چونک کر پلٹی۔۔
“میں ولید سے بات کرنے آئی تھی۔۔۔
“اچھی لڑکیوں کا یہ رنگ ڈھنگ نہیں ہوتا کے وہ رات کے اس پہر کسی مرد کے کمرے کی دہلیز پار کریں۔۔سُمیرا بیگم کی بات پر سارا کی پسشانی پر بل پڑے۔
“لگتا ہے آپ کو اپنے بیٹے پر بھروسہ نہیں۔۔۔ رہا میرا تو میں لندن میں بہت بار ولید سے اکیلے میں مل چُکی ہوں۔
“یقیناً ملی ہوگی لیکن یہ میرا گھر ہے رہا بھروسہ تو یہاں مرد اور عورت کی بات ہے نہ کے ایک بیٹے کی۔۔۔تم نے سُنا نہیں ہے تنہا مرد اور عورت کے بیچ تیسرا شیطان ہمیشہ حاوی ہونے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے۔۔
سُمیرا بیگم تمسخرانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے اُسے دیکھ رہی تھیں جس نے گہرے گلے کا شب خوابی کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا کے اُسے دیکھتے ہی بندا بہک سکتا تھا۔۔
“کل میری ولید سے شادی ہے آنٹی مجھے اس متعلق کچھ بات کرنی تھی۔۔سارا اُن کے بگڑے تیور دیکھ کر دھیمی پڑی
“شادی ہے اہھی ہوئی نہیں ہے جاؤ جا کر سوجاؤ کل کر لینا جو بھی بات کرنی ہو۔۔۔سُمیرا بیگم نے کہتے ساتھ اُسے جانے کا ارادہ کیا جو ضبط سے سر ہلاتی آگے بڑھ گئی لیکن ایک بار پلٹ کر کھا جانے والی نظروں سے گھورنا نہیں بھولی تھی۔۔۔
____________
اگلے دن صبح تالیہ کی آنکھ کُھلی تو کافی دیر چت لیٹی چھت کو گھورتی رہی۔۔۔۔پھر اٹھ کر باتھروم چلی گئی۔۔۔
دوسری طرح ولید جاگینگ سے آتے ہی بنا کسی کو دیکھے اپنے کمرے میں چلا گیا
سارا جو اُسے آواز دینے والی تھی وہیں روک گئی.۔۔۔پندرہ منٹ بعد ولید سیاہ شلوار قمیض پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کرنے کے بعد کلائی پے بڑے ڈائل والی گھڑی باندھ رہا تھا جب دستک دے کر سارا اندر داخل ہوئی.
“رات کو کہاں تھے ؟
“بیوقوفوں والا سوال کیوں کر رہی ہو؟ ولید گھڑی باندھ کر وقت دیکھتا مسکرا کر بولا۔۔
سارا نے آنکھیں گھومائیں۔۔
“میں کتنی دیر تمھارے کمرے کے باہر کھڑی رہی کوئی ایسا کرتا ہے۔۔۔۔سارا خفگی سے بولتی اُسکے گلے میں بازو ڈالنے لگی جسے ولید نے جھٹکے سے پیچھے کیا۔۔
“ڈونٹ ٹچ می سارا ورنہ ممکن ہے میری بیوی تمہارے یہ خوبصورت بال نوچ ڈالے۔۔۔ ولید مسکرا کر کہتا اُسکی طرف جُھکا۔۔۔”وہ کیا ہے نہ میری بیوی کو پسند نہیں ہے کوئی مجھے ہاتھ بھی لگائے” بات مکمل کرتا اب وہ آرام سے سینے پر بازو باندھ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔جب کے سارا سن ہوتے دماغ کے ساتھ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“یہ کیا بکواس ہے۔۔۔۔سارا اہکدم چلائی۔۔
“ششش!! آہستہ کیوں میرے کانوں کی دشمن بن رہی ہو۔۔۔ولید نے اداکاری کرتے اپنے ہونٹوں پے انگلی رکھی۔۔
غصّے سے سارا کی سانس تیز ہونے لگی۔۔
“ولید اگر یہ مذاق۔۔۔
“نہیں نہیں نہیں مس سارا یہ کوئی مذاق نہیں ہے اور میں جنہیں جانتا نہیں ان لوگوں سے میں مذاق نہیں کرتا جیسے تم کرتی ہو سب کے ساتھ “مذاق” نہیں بلکہ تم تو دھوکہ دیتی ہو۔۔۔دوسرے کے جذباتوں سے کھیلنے میں تم لطف اندوز ہوتی ہے۔۔۔پر جانتی ہو مجھے کس چیز میں لطف آتا ہے۔۔۔ولید نے چہرے کے نزدیک جا کر پوچھا جو سانس روکے ولید کو دیکھ اور سن رہی تھی۔۔
“دھوکے باز لوگوں کے کرتوت دیکھنے میں.۔۔ولید کہ کر اسکے بازو کو سختی سے جاکڑ کر نیچے لے جانے لگا۔۔سارا جیسے ہوش میں آئی۔
“چھوڑو مجھے بے وفا دھوکے باز انسان کتنے چالاک نکلے ہو تم تبھی تم اپنے گھر سے دور دوسرے ملک میں رہ رہے تھے۔۔۔سارا چیخ چیخ کر اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔
______________
“ٹھک ٹھک ٹھک!! لگاتار دروازے پے ہوتی دستک پر تالیہ کا دل ڈوب کے اُبھرا۔ اسی وقت کا تو اُسے ڈر رات کو سکون سے سونے نہیں دے رہا تھا۔۔
“آ آرہی ہوں۔۔۔تالیہ حمّت متمجہ کرتی کہتے ہوۓ دروازے کی طرف بڑھی۔۔
“بی بی جی غضب ہو گیا جلدی چلیں ملکن بہت غصّے میں ہیں چلیں۔۔۔کومل گھبرا کر روانی سے بولتی اُسکا بازو تھام کر لے جانے لگی جو ہونق بنی اُسکے ساتھ کھینچتی چلی جا رہی تھی ہوش تو تب آیا جب لاؤنج میں قدم رکھتے ہی کوئی چیل کی طرح اس پر جھپٹنے لگا اس سے قبل سارا تالیہ کے بال اپنی مٹھی میں لیتی ولید تیزی سے تالیہ کے سامنے دیوار بن گیا۔۔۔
تالیہ نے جلدی سے ولید کا کرتا مضبوطی سے مٹھی میں دبوچا۔۔
“اپنی حد میں رہو سارا میری بیوی کو چھونے کی کوشش مت کرنا۔۔۔
“ولید یہ کیا کہ رہے ہو؟ تم نے اس لڑکی سے شادی کرلی جسکے نہ باپ کا معلوم ہے نہ ماں کا۔۔۔سب بے یقینی سے کھڑے ولید کے پیچھے چھپی تالیہ کو دیکھنے لگے جس کا بس نہیں چل رہا تھا کے سب کی نظروں کے سامنے سے غائب ہوجائے۔۔ یہ بھی شکر تھا کے سُمیرا بیگم لیٹ نائٹ کو ہی اپنے گھر چلی گِئیں تھیں۔۔
“مجھے پرواہ نہیں۔۔۔ تالیہ اور میں نے شادی کرلی ہے اب وہ میری بیوی ہے بس اتنا جاننا آپ سب کے لئے کافی ہے۔۔۔ولید نے سپاٹ لہجے میں کہا تالیہ جو اُسی کے ساتھ چپکی کھڑی تھی ولید کی بات پر نم آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
“یہی تو ہم جاننا چاہتے ہیں تم تو سارا کو پسند کرتے ہو پھر اچانک یہ سب کیوں کیا ؟ حماد خان نے ناسمجھی سے اپنے بیٹے کو دیکھا سب کی نسبت حماد خان پرسکون تھے۔۔۔
“سارا کسی اور لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے بس میری وجہ سے قربانی جیسا عظیم قدم اٹھا رہی تھی تبھی میں نے قدموں کو وہیں روک لیا ورنہ بیچاری میرے ساتھ خوش رہنے کا دکھاوا کرتے کرتے تھک جاتی۔۔کیوں ٹھیک کہاں نہ ؟ ولید نے ہر لفظ چبا کر ادا کیا سارا اور اسکے والدین ایک لمحے کے لئے گڑبڑا گئے۔۔
“یہ کون سی کہانی سُنا رہے ہو ولید ؟ سارا ولید کیا کہ رہا ہے؟ سُمیرا بیگم نے سخت ناگواری سے استفسار کیا۔۔
جب کے سارا کا سب طنطنہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“کیا ہوا چپ کیوں ہو بتاؤ سب کو کے تم ایک نمبر کی فراڈ ہو چند کاغذوں کے لئے دوسروں کے دلوں سے کھیل کر پیٹھ پے وار کر کے رفو چکّر ہوجانا پیشہ ہے تمہارا۔۔۔۔
“بسس !! ولید خان بہت بول چکے تم اور بہت سن لیا ہم نے ہاں نہیں کرتی میں تم سے محبت سمجھے میں اصیل سے محبت کرتی ہوں اُسی سے شادی کروں گی رکھو اپنی یہ دولت سمبھال کر بلکہ نہیں یہ دولت بھی تھارے کسی کام نہیں آئے گی کیوں کے تمھارے اردگرد صرف دشمن ہیں میری بات ذہین نشین کرلو یہ لڑکی بھی تمہاری نہیں ہے سمجھے۔۔۔۔چلیں مام ڈیڈ ہم اب یہاں ایک لمحہ نہیں روکیں گے۔۔۔روانی سے چلا کر بولتی وہ جانے کا کہنے لگی ولید ضبط سے ہونٹ بھنجے کھڑا اسکی ساری بکواس سنتا رہا۔۔
_________
“ممی حنا کی کال آرہی ہے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔
“کہ دو مصروف ہوں۔۔۔۔حرا کو جواب دے کر وہ صوفے پر ہی سر پکڑ کر بیٹھی رہیں.
جب کے سارا اپنے والدین کے ساتھ جا چکی تھی۔۔ولید چاہتا تو کیس کروا سکتا تھا لیکن وہ ان سب جھمیلوں میں نہیں پڑھنا چاہتا تھا۔۔
ولید تالیہ کو اپنے کمرے میں بھیج کر اسٹڈی روم میں حماد خان کے سامنے سر جھکا کر بیٹھا تھا۔۔۔
جو ٹانگ پے ٹانگ رکھے آرام دہ انداز میں بیٹھے غور سے اسے دیکھ رہے تھے.۔۔
“پاپا سارا کی حقیقت مجھے انگیجمنٹ کے بعد معلوم ہوئی۔۔ اس رات وہ نائٹ کلب میں اُسی لڑکے کے ساتھ تھی جس سے وہ شادی کرنا چاہتی ہے میں نے اُسکے بارے میں سب پتہ لگوایا لیکن سب جاننے کے باوجود میں خاموش رہا میں اسے موقع دینا چاہتا تھا لیکن میں غلط تھا۔۔ولید کہ کر خاموش ہوگیا۔۔
“ولید جو ہوگیا اسے نہ تو تم بدل سکتے ہو نہ ہی ہم۔۔۔ تم بے اسے موقع دیا میں ہوتا تو شاید یہ بھی نہیں دیتا بیٹا۔۔ حماد خان افسردگی سے اپنے بیٹے کو دیکھ کر بولے وہ جانتے تھے ولید نے اس لڑکی سے محبت کی تھی کتنا خوش تھا وہ سارا سے انگیجمنٹ کر کے جسے سارا کی حقیقت نے توڑ دیا تھا محبت میں دھوکہ وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔
“پاپا چھوڑیں اس موضوع کو میں اب اس کا ذکر نہیں کرنا چاہتا پلیز۔۔
“ٹھیک ہے پھر ہم اپنی بہو کے بارے میں بات کر لیتے ہیں تم جانتے ہو وہ کون ہے کہاں سے آئی ہے ؟
حماد خان نے مسکرا کر تالیہ کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔۔
“وہ اچھی لڑکی ہے لیکن بولتی بہت ہے ۔
“بس اتنا ہی جانتے ہو ؟ حماد خان نے دلچسپی سے بیٹے کو دیکھا۔۔
“وہ جہاں بچپن سے رہتی آرہی ہے میں دیکھ کر آیا ہوں اتفاق سے اسکی سہیلی سے بھی بات ہوئی وہ لوگ اُسے کسی کو دے رہے تھے۔۔ولید اتنا بتا کر کندھے اچکا کر سیدھا بیٹھ گیا حماد خان کتنے ہی لمحے اپنے بیٹے کو تکتے رہے۔۔اس سے قبل وہ کچھ کہتے شور شرابے کی آواز پر حماد خان نے کرسی پے سر گرا دیا۔۔
“جاؤ سمبھالو اب اپنی ماں سے۔۔۔۔اچھا پھنسے ہو۔۔حماد خان لطیف سا طنز کرتے مسکرائے ولید تیزی سے باہر نکلا۔۔
لاؤنج میں قدم رکھتے ہی سامنے کا منظر دیکھ کر وہ چیخ پڑا۔
“چھوڑو اسے۔۔۔بھاری روعب دار آواز پر بینش جو سُمیرا بیگم کے حکم پے تالیہ کو گھسیٹ کر گھر سے نکال رہی تھی ڈر کر چھوڑتی پیچھے ہٹی۔
“تالیہ روتی ہوئی تیزی سے ولید کے قریب جاکر بازو کو جکڑ کر کھڑی ہوگئی۔۔
“بینش پکڑو اسے ورنہ بلاؤ گارڈ کو پھنک کر آئے اس مکار لڑکی کو میرے گھر سے۔۔۔ میرے بیٹے پے کیا جادو کیا ہے کے سب سے چھپ کر شادی کرلی یہ بھی نہیں پتہ کی بھی ہے یا۔۔۔۔
“بس ممی بہت بول چکی ہیں آپ میں ہرگز اجازت نہیں دونگا کے کوئی بھی میری بیوی کے ساتھ یہ سُلوک کرے اور آپ فکر مت کیجئے نکاح اور گواہ پاپا کو بتا چکا ہوں مجھے اور کسی کو صفائی پیش نہیں کرنی۔۔۔ولید ضبط سے بولتا تالیہ کو اپنے حصار میں لے چُکا تھا تالیہ تو شرم سے سرخ ولید کا بازو اپنے کندھے پر شدّت سے محسوس کر رہی تھی۔۔
“ولید بھائی آپ۔۔۔حرا کچھ کہتی اس سے قبل ولید ہاتھ سے خاموش کرواتا جانے لگا۔۔۔پھر روک کر پلٹا سُمیرا بیگم ابھی تک دونوں کو ساتھ دیکھتی کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔
“ممی اگلی بار تالیہ کو نکالنے کی کوشش کی تو میں بھی یہاں سے چلا جاؤں گا ولید کہ کر روکا نہیں جب کے سُمیرا بیگم ایکدم ڈھیلی پڑیں۔۔۔
_________
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *