Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05
“شام کا وقت تھا تالیہ تنہا بیٹھیے بیٹھے اب اُکتا چکی تھی کھچھ دیر تازہ ہوا کھانے کے لیے وہ نکل کر لان کی طرف آکے چہل قدمی کرنے لگی۔۔
“حرا کی بچی کیسی بے وفا نکلی یہ نہیں کے محترمہ خود آجائے پر نہیں وہ تو امیر ماں باپ کی امیر زادی جو ہیں وہ مجھ سے خود کیوں ملنے آئے گی۔۔۔
تالیہ چلتی ہوئی بڑبڑاِئے جا رہی تھی جب قدموں کی آواز پر پلٹ کر گھر کے بڑے لکڑی کے دروازے کی طرف دیکھا۔۔
ولید کان سے موبائل لگائے کسی سے مسکرا کر باتیں کرتا اسی کی طرف آرہا تھا تالیہ جہاں تھی وہیں کھڑی رہ گئی۔۔
“سارا مجھے یاد ہے۔۔۔ ولید کی بات اسکے کانوں میں پڑی تو آنکھیں گُھما کر دوبارہ چلنے لگی۔
ولید اسی طرح باتیں کرتا لان میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا جب کے تالیہ کنکھیوں سے بار بار اُسے بھی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“ایسی کون سی باتیں ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔۔
“اوکے بائے سارا۔۔ولید نے کہتے ساتھ ہی کال ڈسکنیکٹ کرتے کچھ فاصلے پے کھڑی تالیہ کو دیکھا جو خود سے باتوں میں مصروف تھی۔۔
“پاگل لڑکی۔۔۔ ولید اچھنبے سے کہتا قریب گیا۔
“کس سے باتیں کر رہی ہو؟ ولید کی آواز اپنے اتنے قریب سے سن کر تالیہ اُچھل پڑی۔۔
“آپ؟ وہ کچھ کہ رہے تھے؟
“کچھ نہیں۔۔۔ولید اسکی بات پر گھور کر جانے لگا اسے ایک ہی بات بار بار دوہرانا پسند نہیں تھا۔
“کیا مطلب کچھ نہیں آپ مجھے کچھ کہ رہے تھے۔۔۔تالیہ چڑ کر پوری طرح اسکی طرف گھومی۔۔
“تم اگر ہوائی مخلّقوں سے باتوں میں مصروف نہ ہوتی تو یقیناً میری بات سمجھ آجاتی لیکن خیر۔۔ولید نے کندھے اُچکائے۔۔
“ہیں کیا مطلب ہے اس بات کا آپ کو میں جادوگرنی لگتی ہوں جو جادو سے دوسری مخلّوقوں سے باتیں کر سکتی ہے۔۔
“میں نے ایسا کب کہا؟
“چھوٹے صاحب۔۔۔ . اس سے قبل دونوں کے بیچ لایعنی بحث طویل ہوجاتی ملازمہ(بینش) کی آواز پر ولید نے موڑ کر اسے دیکھا جو ادب سے ہاتھ باندھ کر کھڑی تھی۔۔
“کیا بات ہے ؟
“چھوٹے صاحب آپ کو بڑے صاحب بلا رہے ہیں۔۔۔بینش نے ایک نظر ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھ کر اسے بتایا۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ولید کہ کر ایک نظر اس پر ڈالتا سر نفی میں ہلاتا آگے بڑھ گیا۔۔
“بی بی جی مالکن کو پسند نہیں ہے اس طرح باہر کے لوگوں کا اس طرح گھومنا۔۔
“میں یہاں رہتی ہوں۔۔تالیہ نے اسکی بات سن کر گھور کر کہا۔۔
“جی بلکل پر آپ یہاں نہیں انیکسی میں رہتی ہیں میں تو بس آپ کو مالکن کی وجہ سے سمجھا رہی ہوں انہیں یہ سب پسند نہیں ہے اور اگر آپ کو چھوٹے صاحب کے ساتھ دیکھ لیتیں تو ایک ہنگامہ ہوجاتا۔۔ تیز طرار سی بینش راز داری سے اس کے ساتھ ہمدردی کرنے کی کوشش کر رہی تھی تالیہ اسکی باتیں سن کر تلملا ہی گئی۔۔
“کیا مطلب ہے ہاں میں انکے بیٹے کو کھا نہیں رہی تھی سمجھی ہنہ ملازمہ ہو وہی رہو۔۔جسے دیکھو ماں بننے کی کوشش کر رہا یے جیسے تالیہ کوئی فالتو شہ ہو۔۔
اسے جواب دیتی وہ بڑبڑا کر انیکسی کی طرف بڑھ گئی۔۔
“واہ رے بینش یہاں تو بھلائی کا زمانہ ہی نہیں رہا۔۔آنکھیں مٹکاتی وہ اسکی پشت کو دیکھ کر مسکرائی۔۔
__________
“حرا کہاں جا رہی ہو تم ؟
“وہ میں تالیہ کے پاس جا رہی ہوں صبح سے ایک بار بھی نہیں ملی اس سے اُوپر سے ممی نے بھی بیچاری کو کتنی باتیں سنا دیں تھیں۔۔حنا کو جواب دیتی وہ جلدی سے لاؤنج عبور کرگئی۔
________
“میں اپنی ممی کی طرف سے معافی مانگتی ہوں تالیہ مجھے نہیں معلوم تھا وہ لہٰذ نہیں کریں گی۔۔ حرا نے نچلا لب کاٹتے ہوئے شرمندگی سے کہا جو سینے پر ہاتھ باندھے دوسری طرف دیکھ رہی تھی۔
“تم مجھے بتا سکتی تھی اپنی ممی کے متعلق تو شاید میں ایسے نہیں آتی خیر چھوڑو تم صبح سے اب آئی ہو۔۔۔ تالیہ بولتے ساتھ ناراضگی سے پوچھنے لگی۔۔
“شاپنگ سے ابھی لوٹے ہیں ولید بھائی کے آنے کی خوشی میں ہم نے باہر ہی ڈنر کیا تھا۔۔
حرا نے مسکرا کر اُسے بتایا تالیہ سر ہلا کر رہ گئی کیا کہتی اسے وہ تھی کون انکی کے وہ اُسے بھی ساتھ لے جاتے۔۔۔
“تم نے کھانا کھایا تالیہ؟ حرا کو اچانک خیال آیا.
“ہاں کچھ دیر پہلے ہی ملازمہ دے کر گئی ہے۔۔تالیہ نے بروقت مسکرا کر جواب دیا۔۔وہ یہ نہیں کہ سکی کے کھانے کے ساتھ اسے پیغام بھی بھیجا گیا تھا کے جاب لگ جائے تو راشن وغیرہ کا ِانتظام کر لینا تمہے رہنے کی جگہ دے دی یہی غنمت جانو۔۔۔۔تالیہ نے بمشکل یہ باتیں سن کر سر ہلایا تھا۔۔
“کیا سوچنے لگ گئی ؟ حرا کی آواز پر جیسے وہ ہوش میں آئی۔۔
“ہاں کچھ بھی نہیں بس مجھے نیند آرہی ہے میرا خیال ہے اب تمہے بھی جانا چاہیے۔. تالیہ نے مسکرا کر اسے کہا
“ہاں سہی ہے پھر میں چلتی ہوں گڈ نائیٹ۔۔۔
“گڈ نائیٹ۔۔
________
ناشتے کی ٹیبل پر گھر کے افراد بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب حماد خان نے سُمیرہ بیگم کو مخاطب کیا۔۔
“شادی میں چار دن رہ گئے ہیں کچھ رہ گیا ہے تو ابھی سب نبٹاؤ میں نہیں چاہتا بعد میں ہنگامہ ہو۔۔۔
حماد خان نے کہ کر اپنے بیٹے کو دیکھا جو سر جھکائے ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔
“ولید۔۔۔
“جی پاپا۔۔۔۔ولید نے ہاتھ روک کر نظر اٹھائی۔۔
“تم بھی اپنی شاپنگ۔۔۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے میں خود کرونگی بس یہ ساتھ چل لے اگر اعتراض نہ ہو تو۔۔۔حماد خان کی بات مکمّل ہونے سے قبل ہی سُمیرا بیگم بول کر دوبارہ ناشتہ کرنے لگیں
“ولید نے ہونٹ بھنج کر اپنے باپ کی طرف دیکھا
“اس میں کچھ غلط بھی نہیں ہے ایک کام کرتے ہیں میں جلدی آجاؤں گا پھر سب ساتھ چلیں گے کیا کہتے ہو ولید۔۔
“جیسے آپ کی مرضی۔۔
“یس یہ تو اور اچھا رہے گا۔۔۔حرا نے پرجوش انداز میں سب کی طرف دیکھا۔
“حنا تم گھر پر رہو گی پارلر سے کچھ لڑکیاں بلوائی ہیں۔۔۔سُمیرا بیگم دونوں کو اٹھاتا دیکھتی سنجیدگی بولیں۔
“او ہاں میں کیسے بھول گئی۔۔آہ!! “چلیں میں آپ لوگوں کے ساتھ ڈنر پر جاؤں گی اور آپ سب جائیں گے وعدہ؟ حنا افسوردگی سے سوچتی یکدم آگے کو ہوتی پرجوش ہوئی۔۔
“ہاہاہا!!۔۔۔۔”ٹھیک ہے میری پیاری بیٹی۔۔حماد صاحب نے ہنس کر جواب دیا جس پر سب مسکرا دیا.
____________
“بینش ٹھہرو۔۔سُمیرا بیگم کی آواز پر وہ جو دوبارہ سے تالیہ کی جاسوسی کے لئے باہر جا رہی تھی روک گئی۔۔
“جی مالکن ؟
“میں کب سے دیکھ رہی ہوں تمہیں کل سے کچھ زیادہ ہی چکّر لگ رہے ہیں یا بہانے بہانے سے شوہر سے گپے ہانگنے جاتی ہو۔۔۔۔روعب دار آواز میں ڈانٹتیں اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔۔
“ناں مالکن میں نے کبھی ایسا نہیں کیا مالکن میں تو جی رات کو ہی جاتی ہوں وہ تو مالکن کل جو آپ نے نئی کرائے دار رکھی تھی نہ جی اس پر نظر رکھی ہے آپ تو اتنی اچھی ہیں لیکن کون کیسا ہے توبہ توبہ آج کل تو معلوم ہی نہیں چلتا اس لئے میں خود اسے دیکھ رہی ہوں جی۔۔معصوم بننے کی اداکاری کرتی وہ انکے سامنے جھک کر آنکھیں مٹکانے لگی۔۔
“ہمم کیا تمہے کچھ خبر ملی ہے اسکے متعلق ؟ ایک تو میری بیٹی کو ہر کوئی اپنی طرح معصوم لگتا ہے خیر ابھی میں ہوں یہ سب دیکھنے کے لیے۔۔۔۔۔اچھا سنو اس لڑکی پر نظر رکھو ہر تین دن بعد تم مجھے رپورٹ دو گی سمجھ گئی ؟ سُمیرا بیگم سوچتی ہوئیں اسے حکم دیکر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔ بینش آنکھوں میں چمک لئے لآُنج عبورکر گئی۔۔۔
___________
“گھر کے سبھی افراد پورج میں کھڑے تھے جب تالیہ کو دیکھ کر حماد خان نے سُمیرا بیگم کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا۔۔
“یہ لڑکی حرا کی دوست ہے رہنے کے لئے جگہ نہیں تھی اسلئے کرائے پر رکھ لیا۔۔
سُمیرا بیگم کی بات پر ولید نے بھی اسے دیکھا جو سر پر ڈوپٹہ لیے انکی طرف آرہی تھی۔۔
“کیا مطلب ہے سُمیرا تم کسی بھی انجان لڑکی کو یونہی رکھ لو گی مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔ ہلکی آواز میں سختی سے وہ اپنی بیگم کو ڈانٹنے لگے جب کے تالیہ سنتے ہی وہیں روک گئی۔۔
“ہم اس بارے میں آکر بات کرتے ہیں حماد۔۔
“ممی پاپا پلیز وہ سن لے گی وہ اچھی لڑکی ہے۔۔حرا بیچارگی سے بولتی تالیہ کی طرف گئی جو وہیں کھڑی تھی۔۔
“اؤ تالیہ تمہے پاپا سے ملواؤں۔۔
“نا نہیں اسکی کوئی خاص ضرورت نہیں میں تو بس یونہی آگئی تھی۔۔۔تالیہ مسکرا کر اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی۔۔
“اوہ چھوڑو بھی ابھی چلو۔۔۔حرا نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھام کر کھنچا.۔۔
“السلام علیکم۔۔۔
“وعلیکم اسلام۔۔حماد خان جواب دے کر سب کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگے۔۔
“کیا نام ہے تمہارا؟
“جی تالیہ۔۔تالیہ نے آہستگی سے اپنا نام بتایا جب کے ولید جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا دلچسپی سے اسکے گھبرائے ہوۓ روپ کو دیکھ رہا تھا جو اسکے سامنے شیرنی بن رہی تھی لیکن اسکے باپ کے سامنے بھیگی بلّی بنی کھڑی جواب دے رہی تھی۔۔
ولید نے دیکھا اسکا باپ مسکرا کر اسے کچھ کہتے ڈرائیونگ سیٹ پر اکر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
__________
تالیہ پریشانی کے عالم میں انیکسی کے قریب ہی چہل قدمی کر رہی تھی۔۔۔کل اسے ایک پرائیویٹ اسکول میں انٹرویو کے لئے جانا تھا۔۔یہی سب سوچتی وہ بیرونی گیٹ کی طرف بڑھنے لگی جب کسی سے ٹکرائی۔.
“اوہ آئی ایم سو سوری میں.۔۔۔تالیہ کسی کے ٹکرانے پر جسے ہڑبڑا گئی۔۔
ولید جو ابھی جاگنگ کر کے لوٹا تھا تالیہ کو دیکھ کر حیران ہونے سے زیادہ اسکے معذرت کرنے پر حیران ہوا۔۔
“سیرسلی تم مجھے سوری کر رہی ہو یقین نہیں آرہا۔۔ولید جیسے بول کر خود بھی حیران ہوا ہو۔
“تالیہ نے اب اُسے دیکھا
“کیوں کے میں آپ کی طرح نہیں ہوں۔۔
“اوکے۔۔۔اب ہٹو سامنے سے۔۔ولید کو اسکے طنز کا ذرا فرق ناں پڑا۔۔۔
“کیوں ہٹوں آپ سامنے آئے ہیں میں تو اپنے راستے چل رہی تھی.۔۔تالیہ کی بات پر ولید نے گہری سانس لی
“تم کبھی ایک دفع کی بات نہیں سمجھتی ہو؟
“۔نہیں.۔۔
“چھوٹے صاحب۔۔بینش کی آواز پر ولید جواب دیتے دیتے روکا۔۔
“کیا بات ہے؟
“وہ مالکن کہ رہی تھیں چھوٹے صاحب آجائیں تو میرے کمرے میں بھیج دینا.۔۔بینش ہاتھ باندھ کر ادب دے کہتی کنکھیوں سے تالیہ کو دیکھنے لگی۔۔
“ٹھیک ہے جاؤ۔۔۔میں آتا ہوں۔۔ولید بول کر تالیہ کے قریب سے گزر گیا۔
“تم کیوں کھڑی ہو جاؤ اپنے صاحب کے پیچھے ہنہ۔۔تالیہ چڑتی ہوئی تیز تیز چلتی انیکسی کی طرف بڑھ گئی۔۔
“واہ رے سویرے سویرے محبوب کا دیدار۔۔۔۔
__________
جاری ہے
