Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18

“ممی آپ نے بلایا تھا۔۔ ولید تالیہ کے ساتھ اندر آتے ہوۓ پوچھنے لگا سُمیرا بیگم جو بیڈ پر زیور کے ڈبے اپنے اردگرد رکھے بیٹھیں تھییں مسکرا کر سر ہلا کر قریب بلانے لگیں
“حرا کے لئے زیور خریدے ہیں دیکھو کیسے ہیں.۔۔
“بہت خوبصورت ہیں ممی۔۔۔۔تالیہ نے دیکھتے ہوۓ کھلے دل سے تعریف کی۔۔۔
“کچھ تمھارے لئے بھی لئے ہیں۔۔۔اور یہ سیٹ میرا ہے سوچا تھا ولید کی شادی پر اُسکی دلہن کو دوں گی لیکن حالات ایسے تھے کے ان سب کا خیال ذہن سے نکل گیا.۔۔۔سمیرا بیگم نے کہ کر زیور کا ڈبہ تالیہ کی گود میں رکھا۔۔
“ممی اس کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔
“خاموش رہو جب میں دے رہی ہوں تو رکھ لو پہلے ہی اتنا وقت ریت کی طرف پھسل گیا ہے۔۔
“شکریہ ممی۔۔۔تالیہ انکے جھڑکنے پر مسکرا کر لے چکی تھی۔۔۔
“ولید تمھارے پاپا چاہتے ہیں حرا کی شادی کے بعد ہم دعوت رکھیں جس میں تالیہ جن کے ساتھ رہتی آئی ہے اگر انہیں بلانا۔۔۔۔۔۔
“نہیں ممی میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔آپ جانتی ہیں میں کیوں یہاں رہنے پر مجبور ہوئی تھی۔۔۔ تالیہ نے جلدی سے سُمیرا بیگم کی بات کاٹی۔۔ تالیہ ولید کو پہلے ہی سب بتا چکی تھی جس کے بعد اس غنڈے اور اسکے ساتھی کو پکڑ لیا گیا تھا۔۔۔
“کوئی بات نہیں جیسی تمہاری مرضی۔۔۔۔سُمیرا بیگم مسکرا کر کہتیں زیور کی طرف متوجہ ہوگئی تھیں جب کے ولید دونوں کو چھوڑتا کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔
___________
“حرا کی آج رخصتی تھی۔۔۔۔صبح سے ہی گھر میں افرا تفری کا عالم تھا۔۔۔ ایسے میں تالیہ صبح سے ہی گھن چکّر بنی ہوئی تھی۔۔۔اذان جتنا معصوم تھا ریان اسکے الٹ شرارتی بچہ تھا۔۔۔ دونوں کی شکلیں سیم تھی پر ایک کے گال پے دونوں طرف پڑھتا ہلکا سا ڈمپل دونوں کو الگ بناتا تھا۔۔اذان اور ریان ابھی آٹھ مہینے کے تھے جب کے حنا کی بیٹی ایک سال کی ہوگئی تھی۔۔۔۔
ولید ڈریسنگ کے سامنے تیار کھڑا بال بنا رہا تھا جب تیزی سے تالیہ اذان اور ریان کو اٹھائے اندر داخل ہوئی۔۔۔
“ولید خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا جو دونوں کو تیار کرنے میں مصروف ہو چکی تھی۔۔۔
“ریان چھوڑو بچہ۔۔۔تالیہ چڑچڑی سی ہونے کے باوجود نرمی سے کہتی اسکی مٹھی سی ڈوپٹے کو چھڑوا رہی تھی۔۔۔ ولید اسے دیکھ کر اپنی ہنسی ضبط کیے ہوئے تھا ورنہ کوئی بعید نہیں بیٹوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے والی انکے باپ پر ساری نرمی بھول جاتی۔۔۔
دونوں کو تیار کرتے تالیہ نے ولید کو دیکھا جو ہمیشہ کی طرح خوبرو لگ رہا تھا۔۔۔
“ولید اپنے ان لاڈلوں کو سمبھالیں جب تک میں تیار ہوجاؤں۔۔۔تالیہ اُسے کہتی باتھروم کی طرف بڑھنے لگی جب ولید نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کیا ۔۔
“کچھ وقت مجھے بھی دے دو بیوی۔۔۔ولید آنکھوں میں جھانکتا جھکنے لگا جب تالیہ نے دونوں ہاتھ ااکے سینے پر رکھتے اسے گھورا۔۔۔
“اذان اور ریان دونوں دیکھ رہے ہیں.
“ہیں ؟ کہاں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ ولید نے بول کر بیڈ کی طرف دیکھا ریان نے باپ کے متوجہ ہونے پر کھلکھلا کر اسکی طرف برھننے کی کوشش کی جب کے ولید نے گھور کرتالیہ کو دیکھا۔۔
“بڑا ہی تیز ہے چھوٹا شیطان۔۔۔
“استغفرالله اپنے ہی بیٹے کو شیطان کہ رہے ہیں۔۔۔تالیہ گھور کر دور ہوتی باتھروم کی طرف بڑھ گئی جب کے ولید مسکرا کرآگے بڑھ کر ریان کو اٹھا چکا تھا۔ ۔۔
____________
ارے میرے لاؤڈ سپیکروں خاموش ہوجاؤ۔۔۔۔۔تالیہ بہت ہوگیا تمہارا میک اپ آکر سمبھالو یار۔۔۔۔ولید دونوں کو گود میں اٹھائے چپ کرواتا زور سے دھاڑا
تالیہ جو لائنر لگا رہی تھی ولید کی دھاڑ پر اچھل کر آنکھ میں لائینر مار گئی جب کے ولید کے چیخنے پر دونوں اور زور و شور سے رونا شروع ہوچکے تھے اس سے قبل ولید دونوں کو بیڈ پر لیٹا کر تالیہ کے پاس جاتا سُمیرا بیگم اندر آتیں ولید کو ڈانٹ کر دونوں کو اٹھا کر باہر چلی گئیں۔۔
ولید غصّے سے جیسے ہی پلٹا سامنےکھڑی تالیہ کو دیکھ کر لمحے بھر کے لئے دیکھتا چلا گیا جب کے تالیہ غصّے سے اسے گھور رہی تھی
“بہت اچھی لگ رہی ہو.۔۔۔ولید غصّہ بھولتا اسکے نزدیک جانے لگا
“خبردار۔۔۔ آپ کی وجہ سے ابھی میری آنکھ ضائع ہوجاتی کوئی ایسے چیختا ہے۔۔۔
“کیا ہوا آنکھ کو؟
“یہ دیکھیں اتنی زور سے لائنر کی نب چبھی ہے۔۔تالیہ اسکی فکرمندی سے پوچھنے پر جھٹ روہانسی ہوکر اپنی سرخ پڑتی آنکھ دکھانے لگی جب کے ولید اسے قریب کرتا اسکی پیشانی چومنے لگا۔۔
“ولید۔۔۔
“اچھا اچھا دکھاؤ کیا ہوا.۔ تالیہ کے کہنے پر ولید سیدھا ہوتا آنکھ کا جائزہ لینے جب دروازے نوک ہوا۔۔۔
“کون ہے۔۔۔
“چھوٹے صاحب باہر سب انتظار کر رہے ہیں۔۔۔بینش جھجھک کے بولی۔۔
ٹھیک ہے آرہے ہیں۔۔۔تالیہ کہ کر ولید سے الگ ہوتی دوبارہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
____________
دو مہینے بعد۔۔۔۔
“حرا اور عثمان کی شادی کو دو مہینے ہوگئے تھے۔۔حنا اپنی فیملی کے ساتھ اسلام آباد اپنی نند کے سسرال میں ہونے والی شادی میں شرکت کے لئے ایک ہفتے کے لئے چلی گئی تھی جب کے ولید حماد خان کے ساتھ دوبارہ آفس جانے لگا تھا۔۔۔ تالیہ سارا دن اذان اور ریان کے ساتھ لگی رہتی جب کے سُمیرا بیگم اپنے پوتوں کے لاڈ اٹھاتے نہیں تھکتیں۔۔۔
ولید آفس سے گھر آرہا تھا جب راستے میں حماد خان کی کال آنے لگی۔۔۔
“السلام علیکم جی پاپا۔۔۔۔ولید نے ابھی اتنا ہی کہا تھا جب دوسری طرف کی بات سن کر “شٹ” کہتا سر سیٹ پر گرا چکا تھا۔۔
“یاد۔۔۔تھا پاپا پتہ نہیں کیسے بھول گیا۔۔۔ولید نے بیچارگی سے کہتے گدی دبائی۔۔
“ہاہاہا۔۔۔اب جو بھی ہو بارہ بجنے سے پہلے سب انتظام کرلو ورنہ بھول جانا آج رات تمہیں کوئی گھر میں گھسنے دے گا۔۔
“پاپا ڈرائیں مت ویسے ہی پارٹی کل ہونی ہے اب اتنا بھی بھلکر نہیں ہوں۔۔۔
“جی بلکل بیٹا جی میں باپ ہوں تمہارا سب جانتا ہوں۔۔کیک کا آرڈر میں کر چکا ہوں بس لیتے اؤ۔۔حماد خان شرارت سے کہتے بیکری کا بتانے لگے۔
“پاپا آئی لو یو۔۔۔میں بس آدھے گھنٹے میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔ولید نے کہتے ساتھ کال ڈسکنیکٹ کرتے گاڑی زن سے بھگائی۔۔۔
______________
“السلام علیکم تالیہ بھابھی۔۔۔۔
“وعلیکم اسلام۔۔۔کیسی ہو حرا۔۔ تالیہ اس سے الگ ہوتی مسکرا کر پوچھنے لگی۔۔۔
“میں بلکل ٹھیک ہوں یہ برتھڈے بوائز کدھر ہیں ؟
“دادا دادی کے پاس ہیں۔۔۔تالیہ مسکرا کر جواب دیتی گاڑی کی آواز سنتے ہی پورج کی طرف بڑھی جہاں ولید گاڑی کی پچھلی سیٹ سے بڑا سا کیک نکال کر ملازمہ کو احتیاط سے پکڑوا رہا تھا۔۔
“السلام علیکم مجھے لگا آپ بھول جائیں گے۔۔تالیہ ولید کے بازو میں ہاتھ ڈالتی پیار سے بولی۔۔۔
“وعلیکم اسلام۔۔۔بس دیکھ لو۔۔۔ اتنا پیارا شوہر ہے تمہارا۔۔۔ولید مسکرا کر ڈھٹائی سے بازو اسکے گرد حمائل کرتا چلتے ہوۓ کہنے لگا جو آنکھوں میں محبت سموئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
آج انکے بیٹوں کی پہلی سالگرہ تھی جب کے ولید کام کی وجہ سے کیک لانا بھول گیا تھا۔۔۔
“چلو جاناں اسی خوشی میں مجھے کچھ دو۔۔۔ولید چلتے ہوۓ لاونج میں داخل ہوتا سرگوشی میں بولا۔۔
“کیا چاہیے۔۔۔تالیہ نے اُسے دیکھا۔۔
“آج کی رات تم اور میں۔۔۔
“اور ہمارے پیارے بیٹے۔۔۔ولید کی بات کاٹتے تالیہ اسکی آدھی بات سن کر اذان اور ریان کو دادا دادی کے ساتھ آتا دیکھ کر واری صدقے جاتی حصار توڑ کر دونوں کی طرف بڑھ گئی جب کے ولید منہ کھلے تالیہ کو بیٹوں کو پیار کرتے دیکھتا منہ بنا کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *