Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07

“تالیہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی ولید کو اسٹڈی ٹیبل کی کرسی پے بیٹھا دیکھ کر ماتھا پیٹ کر رہ گئی۔۔
“آپ کو میں نے کہا تھا چپ جائیں اور آپ ہیں کھلے سانڈ۔۔مم مطلب اس طرح بیٹھے ہیں اگر آپ کی وہ باڈی گارڈ ملازمہ اندر آجاتی تو جانتے ہیں آپ کی ممی مجھے دھکّے مار کر گھر سے بے دخل کردیتیں۔۔تالیہ روانی سے بولتی ولید کی گھوری پر بات پلٹ گئی۔۔
ولید پوری بات سن کر کرسی سے کھڑا ہوتا قدم قدم چلتا اسکے مقابل آیا۔۔
“تمہے لگتا ہے ایسا سب ہوجاتا ؟
“جی بلکل ہوجاتا۔۔۔کیوں کیا نہیں ہوتا ؟ پہلے ہی اپنی ممی کو میرا یہاں رہنا پسند نہیں آیا پتہ نہیں کیسے محھے کرائے پر رہنے کے لئے جگہ دے دی۔۔۔تالیہ سُمیرہ بیگم کی باتیں یاد کرتی خفگی سے اسے بتانے لگی جو دلچسپی سے اسکی باتیں سن رہا تھا۔۔۔
“یہی تو میری سمجھ میں نہیں آرہا میری پیاری ممی نے کیسے کسی پر اتنا عظیم احسان کیا ہے لیکن ایک بات سمجھ لو مس تالیہ یہ میرا گھر ہے اور میں فراڈیوں کو چھوڑتا نہیں ہوں یہ یاد رکھنا۔۔۔۔
ولید سنجیدگی سے اسے دھمکاتا کمرے سے نکلنے لگا جب کے تالیہ منہ کھولے ولید کو دیکھنے لگی جو اُسے فراڈ سمجھ رہا تھا اس سے قبل ولید کمرے سے نکلتا تالیہ تیزی سے آگے بڑھتی اسکے سامنے کھڑی ہوئی ولید بروقت ایک دو قدم پیچھے ہٹا۔۔
“آپ مجھے فراڈ سمجھ رہے ہیں میں کس اینگل سے آپ کو فراڈ نظر آرہی ہوں۔۔
“وہ فراڈ نہیں ہوتا جس کا کوئی بھی اینگل فراڈ دیکھے۔۔ولید نے دوبدو جواب دیا تالیہ کے گال غصّے سے سرخ ہوگئے۔۔
“آپ سے اچھی آپ کی ممی ہیں کم از کم انہوں نے مجھے فراڈ تو نہیں سمجھا ہنہہ
“بلکل۔۔۔لیکن ذرا سوچو ابھی اگر میں نے جا کر بتا دیا تم مشکوک ہو تو وہی اچھی ممی تمہے گھر سے نکلنے کی بجائے جیل کروا دیں گی۔۔ولید اسے زچ کرنے لگا جو جیل کا سنتے ہی پریشان ہوگئی تھی۔۔
“دیکھیں آپ جو سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے وہ مجھے تنگ کر رہا تھا میں سچ۔۔۔اس سے قبل تالیہ اپنی بات مکمّل کرتی ولید کے موبائل پے کال آنے لگی۔۔
ولید کال ریسیو کرتا کمرے سے نکل گیا تالیہ کا دل کیا کوئی چیز اسکے سر پر دے مارے۔۔
“اففف تالیہ تم تو محبت کرنے چلی تھی لیکن یہاں تو یہ کتنے خطرناک دہشتناک انسان نکلے اگر سچ میں بتا دیا تو آنٹی تو میرے خون کی پیاسی ہوجائیں گیں اب میں کیا کروں کیسے یقین دلاؤں۔۔۔دانتوں تلے انگلی دباتی وہ کمرے میں چکّر کاٹنے لگی تھی۔۔۔
________
“کہاں تھے ولید؟ سارا ولید کو اتے دیکھ کر جلدی سے پوچھنے لگی۔۔
“کچھ کام تھا اور تم نے گھر دیکھا؟ ولید نے مسکرا کر اس سے استفسارکیا
“ہاں بہت خوبصورت ہے اور تمہاری بہنیں بھی بہت پیاری ہیں دونوں ابھی میرے پاس سے ہی گئی ہیں۔۔
“اور ممی؟
“سچ کہوں تو مجھے لگتا ہے وہ اتنی خوش نہیں ہیں میرے یہاں آنے سے۔۔۔ سارا نے منہ بنا کر جواب دیا۔
“تمہیں ایسا کیوں لگا؟ کچھ کہا ہے انہوں نے؟ ولید یکدم سنجیدگی سے استفسار کرنے لگا سارا نے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔
“لہجے اور رویے یہ ایسی زبان ہے جو کچھ نہ بول کر بھی بہت کچھ باور کروا دیتی ہیں میں اتنی نادان نہیں ہوں۔۔۔ سارا کہ کے اسکے نزدیک آئی پھر ایک ہاتھ اسکے گال پر رکھا۔۔
“ولید دیکھو میں صرف تمہاری وجہ سے یہاں آئی ہوں ہم شادی کے بعد واپس چلیں گے یہ میرا لائف سٹائل نہیں ہے تم سمجھ رہے ہو ناں میں نے مام سے کہ دیا ہے ہم شادی کے اگلے دن لندن چلے جائیں گے۔۔۔اوکے ناں بے بی؟ سارا نرم لہجے میں اپنی بات مکمّل کرتی ولید کو دیکھنے لگی جو بنا کسی تاثر کے سارا کو دیکھ رہا تھا۔۔
“تم چپ کیوں ہو ؟ سارا نے اسے خاموش دیکھ کر دوسرا ہاتھ اُسکے یاتھ پر رکھا۔۔
“دیکھو سارا ممی چاہتی ہیں ہم مطلب تم اور میں اب یہیں رہیں۔۔
“اور تم کیا چاہتے ہو ؟ سارا کا لہجہ یَکدم بدلہ۔۔
“میں اپنے والدین سے بہت عرصہ دور رہا ہوں سارا پہلے پڑھائی پھر ناراضگی کی وجہ سے لیکن اب میں خود دور نہیں جانا چاہتا۔۔ولید نے بیچارگی سے اسے بتایا سارا یکدم اس سے پیچھے ہٹی۔۔
“تم ایسا نہیں کر سکتے ولید خان میں تمھارے ملک رہنے نہیں آئی ہوں ناں ہی یہاں شادی کے بعد نوکرانی بننے کا شوق ہے محھے۔۔ سارا نے جل کر اسے کہا
“اچھی بکواس ہے یہ نوکرانی کی بات کہاں سے آگئی ؟ اور یہ اپنا ملک کیا ہے کیا تم بھول رہی ہو تم بھی اسی ملک سے گئی ہو۔۔
“پندرہ سال میرے اسی ملک میں گزرے ہیں ولید میں کبھی اپنا ملک نہیں چھوڑ سکتی۔۔
“پھر مجھ سے امید مت رکھنا۔۔ولید بے سپاٹ انداز میں اسے جواب دیا جو غصّے سے سرخ ہوگئی تھی۔۔
“یہ کسی محبت ہے تمہاری ہاں جواب دو مجھے۔۔۔سارا زور سے چلائی
“میرے پاس بھی یہی سوال ہے۔۔جب تمہے اس کا جواب مل جائے تو ضرور بتانا۔۔ولید کہ کر جانے لگا جب سارا نے گھبرا کر خود کو سمبھالا
“ولید پلیز سوری آئی لو یو میں سمجھ سکتی ہوں لیکن تم بھی تو سمجھو میں یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکوں گی۔۔
“تم اگر یہی سوچ کر آئی ہو تو تم کبھی یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو پاؤ گی۔۔اور اگر تم میرے خاندان کی وجہ سے ایسا کہ رہی ہو تو مت بھولو تمھارے کتنے ہی رشتے دار پاکستان میں ہیں۔۔ولید سختی سے کہتا رخ پھیر گیا۔
سارا چند لمحے اسکی پشت کو گھورتی رہی پھر گہری سانس کھینچتی آگے بڑھ کر ولید کی پشت سے سر ٹیکا لیا۔۔
“اوکے فائن جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہوگا لیکن اگر میں ایڈجسٹ نہ ہوسکتی تو تم میرے ساتھ لندن چلو گے ..منظور
“میں پھر یہی کہوں گا یہ سب تم پر ہے۔۔ولید کہ کر روکا نہیں جب کے سارا نے زور سے پیر پٹخہ
____________
تالیہ نے کچھ ہی دنوں میں اسکول جانا شروع کر دیا تھا گھر سے نکلتے ہی وہ نقاب کرلیتی اب کی باروہ اس اوباش شخص کے ہاتھ نہیں لگنا چاہتی ۔۔۔
ولید سے اُس دن کے بعد سے کوئی بات نہیں ہوئی نہ ہی آمنہ سامنا ہوا تھا۔
دوسری طرف سارا نے ولید کو منا لیا تھا وہ اس کی ناراضگی فلحال افورٹ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
گھر میں خالہ اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ رہنے آگئی تھیں جس کی وجہ سے گھر میں رونق لگ گئی تھی۔۔
___________
تالیہ تیز تیز قدم اٹھاتی گنگناتے ہوئے ہاتھ میں ٹرے پکڑے کچن کی طرف بڑھ رہی تھی کل شادی تھی دلہن کو مہندی لگ رہی تھی جب کے سب ڈھولک لئے رونق لگائے ہوئے تھے تالیہ کو تبھی سُمیرا بیگم نے بلایا تھا جو آج پہلی دفع پورے گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔۔
تالیہ جو کچن کی طرف جا رہی تھی اچانک کسی کے تیزی سے گزرنے سے ٹکرائی چھناکے کی آواز کے ساتھ شیشے کے گلاس چکنے فرش پے گر کے چکنا چور ہوگے لاؤنج میں بیٹھے مہمانوں سے پلٹ کر اسے دیکھا جو گھبرا کر جلدی سے ٹوٹی ہوئی کرچیوں کو اٹھانا شروع کر چکی تھی۔۔۔
ولید تیزی سے اسکے سامنے دوزانوں بیٹھا جھٹکے سے اسکی دونوں کلائیوں کو پکڑ کر جھٹکا دیا۔۔۔
“لڑکی تمہارا دماغ خراب ہے اپنے ہاتھ زخمی کر رہی ہو۔۔ ولید نے اسکی ہتھیلیوں کو دیکھ کر سختی سے ڈانٹا۔۔
تالیہ نے شرمندگی سے نچلا لب کاٹا۔۔۔۔
“اندھی ہو تم لڑکی۔سُمیرا بیگم ہلکی آواز میں غرائیں تالیہ نے تیزی سے ولید سے ہاتھ چھڑوائے جس نے اپنی گرفت ڈھیلی کر دی تھی۔۔
“آئیم سو سوری آنٹی۔۔
“کیا سوری ہاں ۔۔
“ممی ریلیکس اسکی غلطی نہیں ہے ۔۔ولید نے سُمیرا بیگم کی بات کاٹی سُمیرا بیگم کے ساتھ سارا نے بھی حیرت سے ولید کو دیکھا۔۔
“جس کی بھی غلطی ہے ہاتھ میں اسکے تھا اب کھڑی کیوں ہو صاف کرو۔۔ایک تو مفت میں رہ رہی ہے اوپر سے نقصان کر دیا جاہل۔۔۔۔سُمیرا بیگم بڑبڑا کر سارا کو لیے چلی گئیں جس نے ایک بار ہلٹ کر چھبتی نظروں سے تالیہ کو دیکھا تھا۔۔۔
“تم ادھر آؤ۔۔ولید نے ایک طرف تماشائی بنی کھڑی بینش کو آواز دی جو ناچاہتے ہوۓ بھی چلتی ہوئی سر جھکا کر کھڑی ہوگئی۔۔
“جی چھوٹے صاحب۔۔
“یہ سب صاف کرو۔۔۔ولید حکم صادر کرتا تالیہ کے قریب آیا۔۔
“پر چھوٹے صاحب ملکن تو انہیں کہ کر گئی ہیں جی۔۔بینش منمنائی۔۔
“تمہیں ایک بات کی سمجھ نہیں آتی یا نوکری سے فارغ ہونا چاہتی ہو۔۔ ولید نے سختی سے کہ کر اُسے گھورا جو جلدی سے نفی میں سر ہلاتی بھاگی۔۔۔
ولید نے جیسے ہی کچھ کہنا چاہا تالیہ نے تیزی سے بھاگنے والے انداز میں انیکسی کی جانب دوڑ لگادی۔۔
“ممی کس مٹی کی بنی ہیں آپ۔۔افسوس سے سر جھٹکتا وہ اُسے جاتے دیکھتا رہ گیا
__________
تالیہ کافی دیر بستر پر اوندھے منہ لیٹی رہی ہتھیلی پر ہلکا ہلکا خون اب جم چکا تھا۔۔
سرخ ہوتی ناک سے سانس کھینچتی آنسوں صاف کرنے لگی۔۔۔
“ایک بار تنخواہ مل جائے منہ پر ماروں گی۔۔مجبور ہوں تو ذلیل کرتی رہیں گی۔۔اس کی آنکھوں میں آنسوں پھر بھرنے لگے۔۔
“ٹھک ٹھک ٹھک!!
“میں نہیں آرہی جاؤ یہاں سے۔۔ تالیہ اٹھ کر کمرے سے نکل کر دروازے کے قریب پہنچ کر پھاڑ کھانے والے لہجے میں چیخی۔۔۔
“دروازہ کھولو۔۔۔ولید کی سخت آواز پر تالیہ لب کاٹنے لگی پھر آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔۔
ولید کو افسوس ہوا اسے دیکھ کر جس کی آنکھوں میں اس کی ماں کی وجہ سے آنسوں تھے۔۔
“ہٹو گی سامنے سے۔۔
“نہیں آپ جائیں یہاں سے۔۔۔تالیہ نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہ کر دروازہ بند کرنا چاہا جسے ولید نے ہاتھ رکھ کر روکا۔
“تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے یہ اوٹ پٹانگ حرکتِں میرے سامنے مت کیا کرو۔۔
“آپ ہوتے کون ہیں مجھ پر حکم چلانے والے بلکہ نہیں آپ کیا آپ کے سب گھر والے مجھ پر ہی حکم چلا سکتے ہیں میں مفت میں جو رہ رہی ہوں لیکن فکر مت کریں میری تنخواہ آنے دیں پھر بتاتی ہوں۔۔
“اچھا کیا بتاؤ گی اور بتانا پسند کرو گی کتنی “تنخواہ” ملنے والی ہے۔۔۔ولید نے مسکراہٹ دبا کر تنخواہ پر زور دیا اُسے حیرت نہیں تھی کے وہ مسکرا کر اس لڑکی سے بات کر رہا تھا۔۔
“پورے دس ہزار۔۔۔سن لیا اب جائیں۔۔۔اترا کر کہتی وہ اُسے جانے کا بولی
ولید کا قہقہ بے ساختہ تھا تالیہ تیوری چڑھا کر اسے قہقہ لگتے دیکھتی رہی پھر خود بھی آہستہ سے مسکرا کر نظریں جھکا گئی۔۔ اس ڈر سے کہیں دہشتناک سے محبت ہی ناں ہوجائے
“دس ہزار ہایایا!! تمہے لگتا ہے جہاں تم رہ رہی ہو وہاں کا کرایا دس ہزار ہوسکتا ہے؟ ولید نے بمشکل قہقہ کا گلا گھونٹ کر پوچھا
“جی۔۔تالیہ نے گردن اکڑا کر اسے جواب دیا۔۔
“ہاہاہا۔۔۔دس ہزار میں تمہے ایک اتنا بڑا ایک کمرہ نہ ملے اور محترمہ تم اس کا کرایا ہزار دو گی۔۔۔ولید بات ختم کر کے پھر ہنسا۔۔
“ہنہہ فضول۔ تالیہ چڑ کر بڑبڑاتی دروازہ بند کرتی کمرے کی طرف بڑھ گئی اُس کی بلا سے ولید کو بُرا لگے یا اچھا۔ ۔
تالیہ کے دروازہ بند کرتے ہی وہ پُر سوچ اندا میں دروازے کو دیکھتا رہاا پھر پلٹ گیا۔۔
______________
“اگلے دن صبح سے ہی گھر میں افرا تفری کا عالَم تھا۔۔حنا حرا سارا اور خالہ زاد کے ساتھ بارہ بجے ہی پارلر جا چُکی تھی۔۔
تالیہ کو دوبارہ سُمیرا بیگم نے ہاتھ بٹانے کے لیے بولوا لیا تھا جو مجبوراً آ تو گئی تھی لیکن سارے وقت چُپ ہی رہی۔۔۔ایسے میں ولید اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑا کسی سے باتوں میں مصروف تھا جب دروازہ کھٹکھٹاتے ہی سُمیرا بیگم نے دھیرے سے دروازہ وا کیا۔۔۔
ولید نے جلدی سے الوداعی کلمات کہتے ہوۓ رابطہ منقطع کیا ساتھ ہی سر کے اشارے سے اُنہیں اندر آنے کا کہا جو ڈارک نیلے رنگ کی ساڑی زیب تن کیے میک اپ سے لدے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرے اُس کے نزدیک آئیں۔۔۔
“تم تیار نہیں ہوئے؟
“ہونے ہی جا رہا تھا بس بات کرنے روک گیا۔۔ولید کندھے اُچکا کر انہیں دیکھنے لگ۔۔۔۔
ٹھیک ہے جاؤ۔۔۔
“آپ کچھ بات کرنے کے لئے آئی ہی۔۔ولید کچھ سوچ کر انکی طرف متوجہ ہوا۔۔
“دراصل ولید میں چاہتی ہوں تمہارا نکاح کل حنا کے ولیمے کے ساتھ ہی ہوجائے۔۔سُمیرا بیگم کو لگا اسے سن کر خوشی ہوگی یا پھر حیرت سے وہ ان سے خوشی کا اظہار کرے گا پر یہاں تو سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا انہیں ہی دیکھتا کندھےاچکا گیا
“جیسے آپ کی مرضی ممی۔۔ولید کہ کر ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔۔
_________
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *