Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13

Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13

“حماد میں آپ کو آخری بار کہ رہی ہوں اس لڑکی سے ولید کو دور کردیں اس سے پہلے وہ ولید کو کنگال کردے آپ نہیں سمجھتے ایسی لڑکیاں صرف دولت کے پیچھے ہوتی ہیں جو امیر لڑکوں کو جھوٹی محبت کے جال میں پھنسا کر لوٹ کر بھاگ جاتی ہیں۔۔۔. سُمیرا بیگم ولیمے کی تقریب کا سن کر حماد خان کے آفس میں داخل ہوتے ہی شروع ہوچکی تھیں۔۔جب کے حماد خان سکون سے بیٹھے رہے۔۔۔
“بہت بول چکی ہیں آپ۔۔۔ولید جو حماد خان کے سامنے بیٹھا فائل دیکھ رہا تھا سب سن کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔۔سُمیرا بیگم غصّے میں دیکھ ہی نا سکیں کے ولید بھی وہیں تھا۔۔۔
“ہنہ ابھی تو میں نے کچھ کہا ہی نہیں ہے ولید تم ابھی بچے ہو یہ سب نہیں سمجھ سکتے۔۔سُمیرا بیگم ہنکار بھرتیں اُسکے مقابل آئیں۔۔
“سہی کہ رہی ہیں آپ میں نہیں سمجھتا میں آپ کو بھی نہیں سمجھ سکا میرا باپ بھی نادان تھا اور میری بھولی ماں وہ بھی نادان تھی سب کو اپنی طرح سمجھ کر اس نے نادانی کی لیکن میں ولید خان ہوں جس کی بیوی تالیہ ولید خان جو ہانیہ خان کی طرح نادان نہیں ہے یاد رکھیے گا۔۔۔ولید آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہتا آفس سے نکل گیا جب کے سُمیرا بیگم سُن کھڑی رہ گئیں۔۔۔
________
“یہ کیسا ہے۔۔۔۔تالیہ نے پرپل رنگ کی خوبصورت سی میکسی حرا کو دکھاتے ہوۓ استفسار کیا۔۔
“بہت خوبصورت ہے دیکھیں ولید بھائی۔۔۔حرا نے اُسے بھی متوجہ کیا۔۔۔
“ہمم اچھی ہے۔۔۔ولید مصروف سے انداز میں کہتا موبائل کان سے لگتا ان سے فاصلے پر چلا گیا تالیہ کا دل ایکدم ہر چیز سے اچاٹ ہوا۔۔
“یہ لے لیتے ہیں پھر جیولری بھی لینی ہے۔۔حرا خوشی سے چہکتی تالیہ کے ہاتھ سے مکیسی لیتی کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔جب کے تالیہ کھڑی ولید کو مسکراتے ہوۓ کسی سے باتوں میں مصروف دیکھتی رہی۔۔
“پتہ نہیں کون ہے جو اتنا مسکرایا جا رہا ہے.۔۔۔جل کر سوچتی وہ حرا کی طرف بڑھ گئی۔۔
_________
آٹھ بجے تک تینوں شاپنگ کر کے گھر لوٹے تالیہ ہنوز ولید کے رویے کی وجہ سے ولید سے ناراض ہوگئی تھی وہ الگ بات کے ولید کو اس کا علم ہی نہیں تھا
“تالیہ کمرے میں آتے ہی شاپنگ بیگز سے چیزیں نکال کر وارڈروب میں رکھ رہی تھی جب ولید کمرے میں داخل ہوا۔۔
“کیا بات ہے چہرے پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟ ولید اسکی طرف بڑھتا ہلکے پھلکے انداز میں بولا تالیہ بنا جواب دیے اپنے کام میں لگی رہی.۔۔
“تالیہ۔۔۔
“آپ کو کیا فکر ہے بارہ بجیں یا تیرا آپ لگے رہیں اپنے موبائل پر بزی۔۔۔تالیہ نے جل کر کہتے منہ پھولِایا۔۔۔
“اوہ شکریہ موبائل سے یاد آیا مجھے ضروری کال کرنی ہے۔۔ ولید نے مسکراہٹ دبا کہتے موبائل نکالا اس سے قبل ولید بالکنی کی طرف بڑھتا تالیہ نے بیگ بیڈ پر زور سے پٹخ کر ولید کے ہاتھ سے موبائل جھپٹ کر ڈریسنگ روم کی طرف بھاگی
“تالیہ میرا موبائل واپس کرو۔۔۔
“نہیں ملے گا۔۔۔اس فساد کو آگ لگا دونگی جانے کس سے مسکرا مسکرا کر باتیں کی جا رہی تھیں۔۔۔تالیہ اسے جواب دیتی اندر داخل ہوئی اس سے قبل تالیہ لاک لگاتی ولید لمبے لمبے ڈاگ بھرتا اندر جا کر لاک لگا چکا تھا۔۔
“یہ لاک کیوں لگایا ہے.۔۔۔تالیہ نے موبائل والا ہاتھ کمر کے پیچھے چھپا کر دھڑکتے دل کے ساتھ اسے دیکھا جو شرٹ کے آستیں کہنیوں تک چڑھا رہا تھا۔۔۔
“تم بھی تو یہی کرنے والی تھی بیوی۔۔ ولید گہری نظروں۔ سے اسے دیکھتا قریب جانے لگا جو الٹے قدم پیچھے جاتی دیوار سے جا لگی تھی۔۔
“میرا موبائل۔۔۔۔ولید نے ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کرتے سرگوشی کی جب کے تالیہ سانس روکے کھڑی اسے دیکھتی رہی۔۔
ولید اسکی انکھوں میں دیکھتا اسکے ہاتھ سے موبائل لے کر اسکی حالت پے محظوظ ہوتا چلا گیا جب کے تالیہ ہنوز اسی طرح کھڑی رہ گئی۔۔
_____________
ماضی۔۔
“کشف یہ کیا کہ رہی ہو سُمیرا بیٹی کی حالت کے بارے میں تم نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا کیا ہمیں اتنا غیر سمجھا ہے۔۔ دلاور خان ملے جلے تاثرات کے ساتھ اپنی بہن کو دیکھ کر بولے جو سر جھکا کر بیٹھی زاروقطار رو رہی تھیں۔.
حماد خان اور ہانیہ کو بھی سن کر جھٹکا لگا۔۔۔
“میں کیسے بتاتی دلاور بھائی کے میری بیٹی کو دوہرے پڑتے ہیں آپ تو جانتے ہیں لڑکی ذات ہے ایسے میں کوئی رشتہ بھی نہیں دے گا۔۔ کشف بیگم روٹی ہوئیں بولیں۔۔۔
“پھوپھو سمبھالیں خود کو سب ٹھیک ہوجائے گا آپ فکر مت کریں۔۔ہانیہ دکھ سے آگے بڑھ کر انہیں حوصلہ دینے لگیں۔۔
______
“کیوں آئی ہو یہاں میرا مذاق اُڑانے چلی جاؤ یہاں سے مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کے تم ہر طرح سے پرفیکٹ ہو۔۔۔ سب سے بڑی بات تم حماد خان کے دل میں بستی ہو اور میں ایک عام سی شکل و صورت کی لڑکی جسے کبھی کسی نے سمجھا ہی نہیں۔۔نہ ہی حماد نے سمجھا۔۔۔چلی جاؤ پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔۔سُمیرا ہانیہ کو اپنے کمرے میں دیکھتے ہی غصّے سے چیختی کہ کر قالین پر بیٹھتی روتی چلی گئی۔۔
“یہ دل کے معاملے ہیں سُمیرا اس میں کسی کا بس نہیں ہے یہ ہمیں بےبس کردیتا ہے۔۔۔ہانیہ کی آنکھوں سے لڑیوں کی صورت میں آنسوں بہہ رہے تھے۔۔
ہانیہ کی بات سن کر سُمیرا نے بھیگا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“میں بےبس ہوں ہانیہ میں بہت بے بس ہوں میرا دل مر رہا ہے میں تمہے برا بھلا نہیں کہنا چاہتی لیکن میں مر رہی ہوں میں ختم ہو رہی ہوں یہ محبت مجھے ختم کر رہی ہے میری مدد کرو مجھے اس اذیت سے نکالو پلیز ہانیہ۔۔۔۔اگر یہ نہیں کر سکتی تو چلی جاؤ اپنے شوہر کو لے کر تاکہ اسکے دور جانے سے میں ایک ہی بار مر جاؤں۔۔۔ ہاتھوں کو جوڑتی ہانیہ کو دل گداز کرگئی جو پہلے ہی کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔
________
“میں تمہیں جان سے مار کر خود کو بھی ختم کرلوں گا ہانیہ۔۔۔ حماد خان اپنی محبوب بیوی کی بات سنتے ہی آگ بگولہ ہوگئے تھے۔۔۔
“مار ڈالیں لیکن آپ کو میری بات ماننی ہوگی۔۔۔۔ہانیہ ضدی لہجے میں بولتیں حماد کو حیران کر گئیں۔۔۔
“کبھی نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا سنا تم نے اور اپنا سامان پیک کرو ہم آج ہی لندن جائیں گے۔۔
“حماد آپ کو میری قسم میں آپ سے کچھ نہیں مانگوں گی. پلیز میری بات مان لیں۔۔ہانیہ کی بات پر ایک تلخ مسکراہٹ انکے چہرے پر نمودار ہوئی۔۔۔
“اور کیا مانگو گی میری زندگی مانگ رہی ہو عمر بھر کے لیے۔۔۔حما۔د خان کہ کر کمرے سے نکل گئے ولید جو باتھروم کے دروازے کے پاس خاموشی سے کھڑا سب سن رہا تھا باپ کے پیچھے بھاگا۔۔۔۔
___________
ہانیہ کی ضد کے آگے حماد خان نے ہتھیار ڈال دیے تھے وہ اس سے خفا ہوگئے تھے جس نے دوسروں کی خاطر اپنے ہنستے ہستے گھر کو توڑ دیا تھا.۔۔۔۔
دلاور خان نے اپنی بہن کی محبت میں آکر سُمیرا اور حماد کا سادگی سے نکاح کروا دیا تھا جب کے سُمیرا کو یقین نہیں آرہا تھا کے آج وہ اپنی محبت کے نام سے جڑ گئی تھِیں۔۔۔ دوسری طرف حماد خان نکاح ہوتے ہی گھر سے چلے گئے تھے۔۔
“ماما پاپا اب ہم سے دور ہوجائیں گے۔۔۔ولید نے مہمان عورتوں کی باتیں سن کر کمرے میں آکر ہانیہ سے پوچھا جو کھڑکی کے پاس ضبط کیے کھڑی تھیں۔۔۔آج وہ اپنے شوہر کو کسی دوسری عورت کے ساتھ بانٹ چکی تھیں
“نہیں ولید پاپا کبھی ہمیں نہیں چھوڑیں گے اور نا ہی آپ اپنے پاپا کو کبھی مت چھوڑنا وعدہ کرو ہمیشہ اپنے پاپا کے ساتھ رہو گے۔۔ہانیہ نے آنسوں اندر اتار کر ولید کے ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔
“وعدہ ماما میں کبھی پاپا کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
_________
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *