Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04
جگہ اور بستر بدل جانے کی وجہ سے تالیہ کی آنکھ جلد ہی کھول گئی ورنہ اس سے کوئی بعید نہیں تھا کے وہ تنہا پڑی دوپہر تک گدھے گھوڑے بیچ کے سوتی رہتی۔۔پانچ منٹ تک وہ اسی طرح چٹ پڑی چھت کو گھورتی رہی۔۔
پانچ منٹ اُسے یہ سمجھنے میں لگا کہ وہ کہاں ہے اور ابھی تک کوئی اسے جگانے نہیں آیا اور اسکے پریوں والے خواب وہ آج جانے کہاں چھپ گئے تھے
“تالیہ کہاں ہو تم ؟۔۔خود سے بولتی وہ اپنی کنپٹی کو دبانے لگی۔۔ کہنیوں کے سہارے سر اٹھا کر اپنے اطراف میں دیکھا تو کل کی ہر بات ہر واقع کسی فلم کی طرح اسکے ذہن میں چلنے لگا کراہ کر وہ بستر پر گر سی گئی۔۔
یہ کیوں ہوا اسکے ساتھ۔۔اور اس سوال کا جواب خود اسکے پاس بھی نہیں تھا۔۔۔
_________
“حرا ولید کو جگاؤ جا کر یہ کیا اتنی دیر تک سوتا رہتا ہے۔۔
“کرسی کھنچ کر بیٹھتیں وہ ناگواری سے بولیں۔۔
“جی میں آتی ہوں۔۔۔
“حرا روکو۔۔ولید کی سپاٹ آواز پر تینوں ماں بیٹیوں نے گردن گھوما کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں سیاہ پاجامہ اور ٹی شرٹ میں ملبوس ماتھے پے گرے بال اور سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ کھڑا وہ اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا غالباً وہ جاگنگ کر کے لاٹا تھا۔
“بیٹھ جاؤ تم واپس۔۔۔سُمیرا بیگم اسے نظر انداز کرتیں حرا سے بول کر ناشتے کی طرف متوجہ ہوگئیں۔۔
جب کے ولید پرواہ ک یے بغیر سیڑیاں چڑھ گیا۔ ۔
__________
“السلام علیکم آنٹی۔۔تالیہ مسکراتی ہوئی لاونج میں آتی وہیں انکے مقابل کھڑی ہوگئی۔۔
“وعلیکم اسلام کیا بات ہے کسی نے بلایا ہے تمہے ؟ سُمیرا بیگم کی بات سنتے ہی تالیہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔
“جی نہیں وہ تو میں۔۔۔
“ایک سیکنڈ تمہے رہنے کی جگہ دی ہے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کے تم اب اس طرح گھومتی پھیرو۔۔تم یہاں پینگ گیسٹ ہو نہ کے مہمان۔۔۔ اور ہاں جب تمہاری ضرورت ہوگی تو میں بلوا لونگی اب تم جا سکتی ہو اور ایک بات ذہین نشین کرتی جاؤ آئیندہ سر پے ڈوپٹہ نظر آئے مجھے۔۔سُمیرا بیگم تفاخر سے کہتیں اس کی اچھی خاصی عزت افزائی کر چکی تھیں تالیہ کے ہلک میں آنسوؤں کا گولہ سا اٹکا اسکی مجبوری نہ ہوتی تو وہ کبھی اتنی باتیں نہ سنتی کاش اسکے پاس پیسے ہوتے تو پہلے ہی ایڈوانس دے کر منہ بند کروا دیتی۔۔
نظروں کا زاویہ بدل کر ساتھ بیٹھی انکی بیٹیوں کو دیکھا ایک کا ڈوپٹہ ایک کندھے پر لاپرواہی سے جھول رہا تھا جب کے دوسری کا دوپٹہ گلے میں رسی بنا ہوا تھا۔۔
حنا اور حرا دونوں خاموشی سے بیٹھی تھیں اپنی ماں کے سامنے کچھ بھی بولنا خود کی شامت لانے کے متعارف تھا۔۔
“ٹھیک ہے آنٹی۔۔۔ زبردستی مسکراتی وہ تیزی سے لاونج سے نکلتی چلی گئی۔۔
باہر آتے ہی اسکے آنسوں بھل بھل بہنے لگے۔۔ اسکی زندگی کی یہ پہلی صبح تھی جس کا آغاز اسکی شرارتوں سے نہیں اسکے آنسوؤں سے ہوئی تھی۔۔۔
_________
“ممی آپ کو اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔ حنا نے ہلکی آواز میں اپنی ماں کو احساس دلانا چاہا
“اب تم مجھے بتاؤ گی مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔۔
“لیکن ممی
“بس بہت ہوا حنا باہر کے لوگوں کے لئے اپنی ماں سے بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی میرے کاموں میں مداخلت کرنے کی سمجھی بہتر ہوگا اپنی شادی کی تیاریوں کی فکر کرو۔۔سمیرا بیگم جھڑک کر بولتیں کچن کی طرف بڑھ گئیں۔۔
_________
“میرے پاس کوئی اور رہنے کی جگہ ہوتی تو بتاتی مس آنٹی صاحبہ کو ہنہ کتنی بے عزتی کی ہے میری وہ بھی اپنی بیٹیوں کے سامنے ۔مجھے کوئی شوق نہیں ہے انکے گھر جانے کا۔۔۔شکر تھا وہاں انکا بیٹا نہیں تھا ورنہ میرا کتنا مذاق بنتا۔۔ گال پر بہتے آنسوؤں کو بار بار صاف کرتی وہ خود کلامی کر رہی تھی جب کسی کی نظروں کی تپش خود پے محسوس کرتی سر اٹھا کر اُوپر دیکھا کھڑکی میں کھڑا وہ کوئی اور نہیں ولید خان تھا جو ہاتھوں کو دائیں بائیں رکھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“ہا! !۔۔”تالیہ مت دیکھ وہ پہلے ہی کسی اور کے ہیں۔۔۔افسردگی سے بڑبڑاتی وہ انیکسی کی طرف جانے لگی ولید اسی طرح کھڑا اُسے جاتے دکھتا رہا۔۔۔
_________
“دلاور۔۔
“جی چھوٹے صاحب۔۔
“ابھی جو لڑکی انیکسی کی طرف گئی ہے وہ کون تھی ؟ ولید تجسس کے ہاتھوں گھر میں کسی سے پوچھنے کے بجائے گارڈ سے پوچھنے آگیا
“چھوٹے صاحب معلوم نہیں بینش کو معلوم ہوگا۔۔
“اچھا ٹھیک ہے بلا کر لاؤ اُسے۔۔۔
گارڈ سر ہلاتا سرونٹ کواٹر بھاگا۔۔
“چھوٹے صاحب آپ نے بلایا۔۔ بینش کی آواز پر وہ جو اس جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں کچھ دیر قبل روئی روئی سی وہ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ولید نے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔
“انیکسی میں کون سا مہمان رہنے آیا ہے ؟
“چھوٹے صاحب مہمان نہیں ہیں کل مالکن نے تقریب میں آئی کسی لڑکی کو کرائے پے دیا ہے۔۔۔
“اوہ !! ٹھیک ہے۔۔۔ولید تعجب سے اپنی ماں کی اس کرم نوازی پے حیران ہوتا گھر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
“اے دلاور چھوٹے صاحب کیوں پوچھ رہے تھے ؟
“معلوم نہیں۔اب جا اندر۔۔دلاور کندھے اُچکا کر کہتا اپنی جگہ پے جاکر کھڑا ہوگیا جب کے بینش جو سُمیرا بیگم کی وفادار تھی مشکوک نظروں سے انیکسی کی طرف دیکھنے لگی۔۔
___________
جاری ہے
