Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06
اگلے دن تالیہ تیار ہوکر انٹرویو کے لئے گھر سے نکلی سر پے اچھی طرح حجاب لیا ہوا تھا ۔۔۔ گلی سے نکل کر بس
اسٹاپ تک پہنچی چونکہ بس اسٹاپ زیادہ دور نہیں تھا یا شاید اسے لگ رہا تھا۔۔
ابھی پانچ منٹ ہی گزرے ہونگے جب اسے لگا کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
تالیہ نے ہلکا سا سر جھکا کر نظروں سے اطراف کا جائزہ لینا شروع کیا لیکن وہاں کوئی نظر نہیں آیا جو اسے دیکھ رہا تھا اسی گھبراہٹ میں بس آگئی۔۔تالیہ بنا وقت ضایع کیے اُس میں سوار ہوگئی.۔۔۔
_________
“بھائی۔۔۔۔ بھائی۔۔۔ بھائی.۔۔۔
“ابے آرام سے سانس تو لے لے پہلے۔۔۔
“ارے اسے چھوڑو خبر سنو.۔۔لڑکا جس کا نام کاشف تھا اسکے قریب آکر بولا۔۔
“اب بک بھی۔۔۔آدمی نے سگریٹ کا لمبا کش لگاتے چڑ کر کہا آج کل ویسے ہی اسکا موڈ خراب تھا تالیہ کا اُسکے ہاتھ سے نکل جانا یاد آتا تو نئے سرے سے غصّہ آنے لگتا۔
“بھائی خبر ہی ایسی ہے تم سُنتے ہی اُچھل پڑوگے۔۔
“اب اگر تو نے بات بتانے کے بجائے اپنی زبان سے کچھ اور پھوٹا نہ تو تیری کھوپڑی کھول دوں گا۔۔
آدمی کے غرانے پر لڑکا سیدھا ہوا۔۔
“بھائی وہ ابھی اس لڑکی کو دیکھا بس اسٹاپ پر کھڑی تھی۔۔کاشف کی بات سنتے ہی وہ بجی کی سی تیزی سے کھڑا ہوتا بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“کیا تو سچ بول رہا ہے ؟
“بھائی آپ کی قسم
“سالی اس کا مطلب وہیں کہیں چھپی ہوئی تھی اور تو گھامڑ دیکھا اسے وہ کس گھر سے نکلی تھی ؟ اس آدمی نے آنکھوں میں چمک لئے اس سے پوچھا جو اس سوال پر گڑبڑا گیا تھا۔۔
“بھائی وہ۔۔۔وہ تو میں نے جب دیکھا تب بس کے انتظار میں بیٹھی تھی لیکن کیا کمال۔۔چٹاخ!!! کاشف کی زبان اس آدمی کے تھپڑ سے وہیں دب گئی
“کمینے آدمی تو وہاں اسے پکڑنے کے بجائے مجھے یہ بتا رہا ہے کے وہ کیسی لگ رہی تھی۔۔۔
“بھائی میں۔۔۔
اس سے قبل وہ پھر کچھ کہتا آدمی نے آگے سے اسکے سر کے بال پکڑ کر کھنچے۔۔
“مجھے وہ ہر قیمت پر چاہیے ابھی واپس جا کر انتظار کر وہ اگر وہیں کہیں سے نکلی ہے تو دوبار آئے گی۔اب نکل یہاں سے۔۔زور سے دھکّا دیتا وہ چلا گیا۔۔
____________
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو تم دونوں؟ ولید جو بالوں کو جیل سے سیٹ کر رہا تھا ساتھ اپنی دونوں بہنوں کی نظریں بھی خود پے محسوس کر رہا تھا جو کافی دیر سے اسے اسی طرح دیکھ رہی تھیں۔۔۔
“آ کچھ نہیں لیکن آج ولید بھائی کوئی خاص مہمان آرہا ہے گھر پے۔۔حنا نے آنکھیں مٹکا کر شرارت سے پوچھا ولید اسکی بات سن کر مسکرایا۔۔
“ہاں تمہاری ہونے والی بھابھی جو آرہی ہیں۔۔ولید نے بھی شرارت سے اسے جواب دیا تو تینوں بھائی بہن زور سے ہنس دیے۔
کچھ دیر بعد ولید اپنے والدین کے ساتھ ائیرپورٹ کے لئے روانہ ہوگیا جب کے حرا حنا کی وجہ سے گھر پر ہی رک گئی تھی۔
____________
“کومل ادھر آؤ۔۔انیکسی میں تالیہ کو نا پاکر حرا نے دوسری ملازمہ کو پکارا جو یہاں کی صفائی وغیرہ کرتی تھی۔۔
“جی بی بی جی۔۔
“تالیہ بی بی کہاں ہیں ؟
“وہ تو جی سویرے ہی کہیں جا رہی تھیں۔۔کومل نے بتیسی نکل کر بتایا۔۔
“کہاں گئی ہیں ؟
“کام پر گئی ہیں جی کہ رہی تھیں دعا کرنا۔
“اوہ ٹھیک ہے۔۔حرا سمجھ کر کہتی چلی گئی۔
_____________
آج کا دن اسکے لئے بہت اچھا تھا۔۔۔اسے یقین تھا اسے یہ جاب ضرور ملے گی۔۔۔خوشی سے جگمگاتے چہرے کے ساتھ وہ گھر کی طرف روانہ تھی۔۔
تالیہ بس سے اُتر کر آگے بڑھنے لگی جب وہی احساس اسے دوبارہ ہوا.
اس سے قبل وہ پیچھے موڑتی کوئی تیزی سے اسکے سامنے آیا.
“السلام علیکم بھابھی جی. ۔۔۔کاشف نے کمینگی سے اسے دیکھتے ہاتھ ماتھے تک لے جا کر سلام کیا تالیہ کی آنکھیں خوف سے پھٹ گئی وہ کیسے بھول گئی تھی انہیں۔
“ارے کیا ہوا ڈریں مت بس ساتھ چلیں بھائی آپ کے لئے بہت بے چین ہوگئے ہیں ہر وقت نشہ کرتے رہتے ہیں۔۔کاشف خباثت سے مسکراتے ہوۓ اسے بتا رہا تھا جو اردگرد لوگوں کو دیکھ رہی تھی سب اُسے عجیب نظروں سے اس اوباش لڑکے کے ساتھ دیکھ رہے تھے لیکن پھر بھی لڑکے کے حلیے کو دیکھنے کے بجائے وہ اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔
“دماغ خراب ہے تمہارا میں کوئی بھابھی نہیں ہوں سمجھے اپنا راستہ ناپو ورنہ ابھی چیخ کر سب کو جما کر لونگی۔۔۔
“ہاہاہا۔۔!! ارے بھا۔۔اچھا سہی ہے لیکن وہ کیا ہے نہ ہمارے بھائی کو اب آپ ہی چاہیے ہو اس حساب سے۔۔۔۔چلیں لیکن اگر اعتراض ہے تو کوئی بات نہیں ہم بھی راہوں میں کھڑے ہیں۔
تالیہ کی بات پر بے ہنگم قہقہہ لگاتا وہ اسکی طرف جھک کر بولا۔۔تالیہ تیزی سے پیچھے ہٹی
“چلو میرے ساتھ۔۔کاشف نے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تالیہ نے اتنی ہی تیزی سے جھٹکے سے ہاتھ چھڑوایا
“آ میں خود چل لونگی۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔بتیسی کی نمائش کرتا وہ موبائل پر کال سننتے ساتھ چلنے لگا تالیہ اردگرد دیکھتی اسکے پیچھے چلنے لگی جو اپنی وین کی طرف بڑھ رہا تھا تالیہ ٹھٹھکی وہ اکیلا تھا۔۔۔
پلٹ کر اطراف میں دیکھنے لگی اکا دکّا لوگ تھے کوئی بھی انکی طرف متوجہ ناں تھا۔۔
تالیہ نے اپنے حجاب کی صیفتی پن نکل کر کھلی ہوئی پن اسکے بازو میں پوری قوت سے گھوسا دی کاشف جو کال ڈسکنیکٹ کر کے اسکی طرف پلٹنے لگا تھا بلبلا کر رہ گیا۔۔
“آہ میں مر گیا۔۔۔پن کو بازو سے نکالنے کے بجائے وہ دیکھ کر صرف چیخیں مار رہا تھا تالیہ نے ہاتھ میں پکڑا پرس اسکے منہ پر مارا جس سے وہ نیچے زمین پر بیٹھ کر چیخنے لگا۔۔
“ڈرپوک آدمی اسے غنڈا کس نے بنایا۔۔ تالیہ سوچتی ہوں مسکراہٹ دباتی تیزی سے دوسری سمت بھاگی وہ اسکے سامنے گھر جانے کی غلطی نہیں کر سکتی تھی۔۔
_____________
مغرب کا وقت ہوچکا تھا تالیہ تھکی ہاری بیرونی گیٹ سے اندر داخل ہوتی انیکسی کی طرف بڑھ گئی۔۔
ابھی دروازہ بند کر کے پر سکون سانس ہی لی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی
“افف اب یہ کون آگیا
تالیہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔
“اندر آسکتا ہوں۔۔۔ولید کی سپاٹ آواز سنتے ہی وہ گڑبڑا کر سائیڈ پر ہوئی ولید خاموشی سے چلتا اندر داخل ہوا۔۔
“کہاں سے آرہی ہو؟ تالیہ جھٹکے سے اسکی طرف پلٹی ولید کا آنا اور یہ سوال کرنا اسے قطعی ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
تالیہ کو خاموش کھڑا دیکھ کر ولید قدم قدم چلتا اسکے مقابل آیا۔۔
“آخری بار سمجھا رہا ہوں تمہیں میری بات یہاں (انگلی اپنی کنپٹی پر رکھ کر دستک دی) بیٹھا لو مجھے اپنی بات بار بار دوہرانا پسند نہیں ہے۔۔۔کہاں سے آرہی ہو ؟ دھیمی مگر سخت آواز میں پوچھتا وہ اسکے قریب جھکا۔۔
تالیہ کے حلق میں کانٹے چھبنے لگے۔۔۔کیا اس نے تالیہ کو اس لڑکے کے ساتھ دیکھ لیا تھا۔۔ لبوں پر زبان پھیرتی وہ ایک قدم پیچھے ہوئی۔
“وہ میں ا اپنی جاب کے لئے گئی تھی کیوں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ تالیہ ہمّت متمجہ کرتی بول کر اردگرد دیکھنے لگی۔۔
ولید گہری نظروں سے اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔۔
“پھر وہ آدمی کون تھا جو تمہارا ہاتھ پکڑ کر کھڑا تھا مس تالیہ
چونک کر تالیہ نے اسے دیکھا جس کے چہرے پے کوئی تاثر نہیں تھا۔۔
“کون؟ کون سا آدمی میں۔۔۔تالیہ بُری طرح ڈرگئی تھی اگر اُسے سچ بتایا اور یقینن کرنے کے بجائے کہیں وہ گھر سے ہی اُسے نکال دے۔۔
“جھوٹ بولنے کی کوشش مت کرو میں نے دیکھا تھا تمہیں۔۔ تمہیں تو میرا شکر مند ہونا چاہیے کے ابھی تک کسی کو نہیں بتایا۔۔نظریں اسی پے مرکوز کیے وہ اس سے پوچھ رہا تھا تالیہ کادل چاہا اسکا سر پھاڑ دے
اس سے قبل وہ جواب دیتی کسی کے قدموں کی آواز قریب آنے لگی ولید اور تالیہ دونوں نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھا
“آپ کو کسی نے یہاں دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہوگا آپ ایسا کریں کمرے میں جاکر کہیں بھی جا کر چھپ جائی۔۔
تالیہ نے گھبراکر بازو سے پکڑ کر اسے کمرے میں جانے کو کہا۔۔
ولید بنا کچھ کہے کمرے میں چلا گیا۔۔
تالیہ نے لمبی سانس لی۔۔۔
“ٹھک ٹھک ٹھک!!
“آرہی ہوں۔۔تالیہ نے کہتے ہی دروازے کھولا
“بی بی جی آپ کو مالکن نے بلایا ہے۔۔۔
“ٹھیک ہے میں ابھی آتی ہوں جاؤ..تالیہ نے گھور کر بینش کو جواب دیا اور زور سے دروازہ اُسکے منہ پر بندکر کے لاک لگایا۔
“ہائے ربا لگتا ہے بی بی جی دکھی ہیں چھوٹے صاحب کی وجہ سے ۔۔بینش خود سے اخذ کرتی پلٹ گئی۔۔
________
جاری ہے۔۔۔
