Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10
“بیٹھو۔۔۔کمرے میں آکر ولید نے گُم سُم کھڑی تالیہ سے کہا۔۔
“نہیں آپ کی ممی پھر آجائیں گی ۔۔تالیہ نے بکھرے بالوں کو ہاتھ سے چہرے سے پیچھے کرتے ہوۓ روندھی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔
“نہیں آئیں گی۔۔۔
“اگر آپ کی غیر موجودگی میں آگئیں پھر۔۔۔تالیہ نے آنکھوں میں آنسوں لئے اسکی طرف دیکھ کر اپنا خدشہ ظاہر کیا
“جب میں کہ رہا ہوں کچھ نہیں ہوگا تو ایک بات تمھارے اس چھوٹے سے دماغ میں کیوں نہیں گھستی۔۔۔ولید نے بار بار ایک ہی بات پے تپ کر اسے گھورا۔۔۔
“نہیں کرتے شادی کر لیتے اپنی اسی چہیتی سے۔۔
“اوہ گاڈ تم تو بیویوں کی طرح طعنہ دے رہی ہو۔۔ولید گھور کر بولتا بستر پے بیٹھ گیا۔۔۔
بیویوں کی طرف کیا میں بیوی ہی ہوں۔۔تالیہ نے اسکی بات پر ناگواری سے کہا۔۔
“تم شاید بھول رہی ہو ہماری شادی کچھ عرصے کے لئے ہے تم نے خود ایگریمنٹ کو پڑھ کے مجھ سے نکاح کیا ہے۔۔ اور تمہاری وہ شرطیں بھول گئی ہو یہ سب تمہاری اپنی مرضی تھی۔۔۔ولید بے سر اٹھا کر سنجیدی سے اسے سب یاد دلایا جسے شاید تالیہ کچھ پل کے لئے فراموش کر چکی تھی۔۔۔
حلق میں آنسوؤں کا گولہ سا اٹکا۔۔کچھ بھی بولے بنا ضبط سے سر کو ہلاتی تالیہ باتھروم میں گھس گئی۔۔۔
________
چونکہ رات کو حنا کا ولیمہ تھا ساتھ ہی ولید کا نکاح ہونا تھا یہی سوچ کر سُمیرا بیگم غصّے سے کھول رہی تھیں کے ایک نیا تماشا بنے گا لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گے.۔۔
یہی وجہ تھی ایک بار پھر گھر میں سُمیرا بیگم کے چیخنے کی آواز گھونج رہی تھی۔۔۔
“کیوں ہنگامہ کر رہی ہو ایسی بھی کون سی قیامت آگئی ہے۔۔حماد خان نے گھور کر انہیں کہا۔
“یہ قیامت سے کم بھی نہیں ہے اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اسے خیال نہیں آیا کے اسکے نکاح کا ہر کسی کو علم ہے۔۔۔
“ممی نکاح کون سا سب کے سامنے ہونا تھا کمرے میں ہی ہونا ہے ایک کام کریں تالیہ بھابھی کو گھونگھٹ کروا دیں۔۔۔حرا نے مشورہ دیا سُمیرا بیگم نے سلگ کر اپنی بیوقوف بیٹی کو دیکھا جسے کسی بات کی پرواہ ہی نہیں تھی.۔۔
ّولید نے مسکرا کر اپنی بہن کو دیکھا۔۔۔
“آئیڈیا برا نہیں ہے.۔۔۔ایسا کر لیتے ہیں۔۔ حماد خان مسکراہٹ دبا کر بولے۔۔۔
“ٹھیک ہے پھر آپ سب چلیں میں آتا ہوں اپنی مسسز کو لے کر۔۔۔ولید نے مسکرا کر کہا سُمیرا بیگم نے نفرت سے اسے دیکھا جو چڑانے والی مُسکراہٹ کے ساتھ کہ کے چلا گیا۔۔
حماد خان اور حرا دونوں باہر نکل گئے جب کے سُمیرا بیگم ابھی تک وہیں کھڑی غصّے سے کھول رہی تھیں۔۔۔
_________
ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی.۔۔۔ولید کے نکاح کے وقت کچھ نے نام تو کسی نے اسکے گھونگھٹ پے چہ مہگیاں شروع ہوئیں سُمیرا بیگم ڈر رہی تھیں کے کوئی بھی ان سے محفل میں براہ راست پوچھ نہ لیں۔۔۔
“حرا سارا بھابھی۔۔۔کھانے کے وقت حرا حنا کے ساتھ آکر بیٹھی جب حنا نے ہلکی آواز میں اس سے استفسار کیا وہ بہت دیر سے ضبط کیے بیٹھی تھی جب اس سے کسی نے اکر پوچھا کے آپ کی بھابھی کا نام تالیہ ہے میں نے تو دوسرا سنا تھا حنا شکر کر رہی تھی کے سارا کا نام اسے یاد نہیں آیا تھا۔۔۔
“حنا ولید بھائی نے پہلے ہی تالیہ بھابھی سے چھپ کر نکاح کر لیا تھا۔۔۔۔۔
“کیا؟ حنا کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں جب کے حرا سب کچھ اسے بتاتی چلی گئی۔۔
____________
ولیمے کی تقریب رات ساڑے بارہ تک اختتام پزیر ہوئی۔۔۔جتنی دیر وہ لوگ وہاں رہے تالیہ خاموشی سے ولید کے ساتھ ہی رہی تھی۔۔۔ اب بھی سب سے پہلے ولید کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر گھونگھٹ اتار کر پُر سکون سانس لیتی سیٹ کی پشت سے سر ٹیکا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔
ولید کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی پرفیوم کی مخصوص خوشبو اسکے چاروں طرف پھیلی۔۔۔ تالیہ نے آنکھیں کھول کر کنکھیوں سے گاڑی سٹارٹ کرتے ولید کو دیکھا جو سنجیدہ سا بیٹھا تھا۔۔۔
“انکی مسکراہٹ بھی پاکستانی ڈراموں کی طرح ہے طویل ایڈوں کے بعد جیسے ڈرامہ دکھایا جاتا ہے اور جلدی ہی ختم بھی ہوجاتا ہے۔۔۔اپنی سوچ پر وہ خود ہی ہنسنے لگی ولید نے حیرت سے اسے دیکھا جو لبوں پے ہاتھ رکھے ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔
“مجھے یقین ہوگیا ہے تم ضرور دوسری مخلوقوں سے رابطے میں ہو۔۔۔ولید کی بات پر اسکی ہنسی ایکدم رکی۔۔
“ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے مجھے یونہی کوئی بات یاد آگئی۔۔۔تالیہ گھور کر جواب دیتی منہ بنا کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی جب کے ولید بڑبڑاتا سر جھٹک کر رہ گیا۔۔
__________
کمرے میں داخل ہوتے ہی تالیہ ولید کے آنے سے پہلے ہی کپڑے بدلنے چلی گئی۔۔
دوسری طرف ولید جو لاؤنج عبور کرتا سیڑیوں چڑھ والا تھا حماد خان کی آواز پر روک کے پلٹا۔۔۔
“میں چاہتا ہوں کچھ دن تک ایک اچھا سا ریسپشن رکھا جائے تاکہ تالیہ دور پرے رشتے داروں سے بھی مل لے تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔
“ٹھیک ہے پاپا لیکن میں کل سے آفس جوائن کرنا چاہتا ہوں آپ کو کوئی اعتراظ تو نہیں ؟ ولید نے سر ہلا کر اپنے مطلب کی بات کی جسے سنتے ہی حماد خان خوشی سے آگے بڑھ کر اسکے گلے لگ گئے۔۔۔
“یہ سب تمہارا ہی ہے ولید میں تو کب سے انتظار میں تھا کب تم مجھ سے یہ کہو گے۔۔۔ حماد خان اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ بےتحاشا خوش نظر آرہے تھے ولید کو شرمندگی محسوس ہوئی۔۔۔
__________
تالیہ آنکھیں موندے ولید کے بستر پر نیم دراز تھی ولید کمرے میں داخل ہوتے واشروم چلا گیا تالیہ نے ایک آنکھ کھول کر اسے جاتے دیکھا اسکے غائب ہوتے ہی تالیہ بستر پے ہی درمیان میں ہوکر پھیل کر لیٹتی دوبارہ آنکھیں موند گئی۔۔۔اسکا خیال تھا ولید اسے اس طرح لیٹا دیکھ کر خود صوفے یا فرش پے لیٹ جائے گا لیکن وہ غلط تھی ولید باتھروم سے آتے ہی شیشے کے سامنے کھڑا گیلے بالوں میں برش کرنے لگا جب شیشے میں پورے بستر پر قبضہ کیے سونے کا ڈرامہ کرتی اپنی شریکِ حیات پر نظر پڑی۔۔۔
ولید نے برش رکھ کر پلٹ کر بستر کی طرف قدم بڑھائے جھک کر تالیہ کو آواز دی۔۔۔
“تالیہ۔۔۔تالیہ
“اونہوں۔۔۔۔بند آنکھوں کے ساتھ ہی تالیہ نے منہ بنا کر کروٹ لی ولید نے ہونٹ بھنج لئے کیوں کے کروٹ لینے کے باوجود وہ تھوڑا سا ہی جگہ سے کھسکی کی۔۔۔
“ٹھیک ہے مت اٹھو۔۔۔ولید اسکی پشت کو گھورتا اچھل کر بیٹھا تھا تالیہ جو بخوبی اسکی ساری باتیں سن رہی تھی والید کے اس طرح بیٹھنے سے گھبرا کر اٹھ بیٹھی ولید نے مسکرا اسے دیکھا جو جلدی سے اس سے دور ہوئی تھی۔۔۔
“آپ آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں۔۔۔
“سونے کے لئے۔۔۔ولید نے معصومیت سے جواب دیا پھر اسکی سائیڈ دیکھ کر جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“لیکن مجھے اس سائیڈ پر سونا ہے اس لئے اٹھو۔۔۔ولید نے سنجیدگی سے اسے اٹھنے کو کہا۔۔
آپ یہاں لیٹیں گے ؟ تالیہ نے تیز ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اسے دیکھ کر پیر سمیٹے۔۔
“تمہے کیا لگتا ہے میں صوفے پر یا زمین پر لیٹوں؟ ولید نے مسکراہٹ دبا کر اسکے شرم سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر آئی برو اچکائی۔۔
“تو اور کیا وہ دیکھیں وہ بیچارہ کیسے تنہا پڑا ہے جائیں۔۔تالیہ نے جھٹ سر کو اثباب میں ہلا کر صوفے کی تنہائی پر افسوس کیا۔۔
ولید نے اسکی بات پر پلٹ کر صوفے کو دیکھا پھر اُسے۔۔۔
“صوفے کی تنہائی دور کرنے کے چکّر میں پھر تم تنہا ہوجاؤ بیوی۔۔۔ولید کہ کر بیڈ پر بیٹھا۔۔تبھی میں نے فیصلہ کیا ہے تمہاری تنہائی دور کی جائے ولید نے کہتے کی اسکی گود میں سر گرایا تالیہ دھک سے رہ گئی
“آ دیکھیں آپ نے کہا تھا آپ مجھے پریشان نہیں کریں گے۔۔ تالیہ خو پے قابو پاتی ولید کو گھورنے لگی۔۔
“لیکن میں نے یہ کب کہا کے میں تمہے اتنے بڑے بیڈ پر قبضہ کرنے دونگا اب جلدی سے فیصلہ کرو بیڈ شیئر کرنا ہے یا میں تمہاری گود مِیں ہی سو جاؤں۔۔ولید نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا جو اچانک ہی پریشان ہوگئی تھی۔۔۔
“مجھے آپ پے بھروسہ نہیں اگر کچھ۔۔تالیہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے اسے کہے شرم سے سرخ ہوتی وہ بات ادھوری چھوڑ گئی
“ہمم مجھے بھی تم سے خطرہ لاحق ہے میں نے آج تک کسی کے ساتھ بیڈ شیئر نہیں کیا۔۔۔ولید بولتے ساتھ ہی اٹھ بیٹھا تالیہ تیزی سے بستر چھوڑ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
“ناممکن میں نہیں مان سکتی۔۔۔۔
“مت مانو میں نے منوا کر کون سا تم سے ایوارڈ حاصل کرنا ہے۔۔۔ولید کندھے اچکا کر دوسری طرف آیا تالیہ الٹے قدم لیتی اس سے دور ہوئی ولید کو اس بار اس کا یوں دور ہٹنا ناگوار گزرا لیکن چپ رہا۔۔۔
“لائٹ بند کردو مجھے صبح آفس جانا ہے۔۔۔ولید حکم دیکھا لحاف اوڑھ کر لیٹ گیا تالیہ نے غصّے سے جاکر زور سے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا۔۔
“بدتمیز انسان۔۔۔
_________
“ولید کو سوئے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب اپنے قریب نرم سے چیز ہلتی محسوس ہوئی۔۔
ولید نے جیسے ہی کروٹ لیکر آنکھوں کو تھوڑا سا کھول کر دیکھا ولیدکے چہرے پر بے ساختہ امنڈنے والی مسکراہٹ کو سرعت سے ہونٹ دبا کر چھپایا تالیہ منہ پھولائے دونوں کے بیچ روئی کے نرم کوشنز کی دیوار بنا رہی تھی ولید اسکی بچکانہ حرکت دیکھ کر محظوظ ہورہا تھا۔۔۔
“بیوقوف لڑکی۔۔۔
تالیہ اپنے کام سے مطمئن ہوتی لیٹ کر دوسری طرف کروٹ لے کر آنکھیں موند گئی جب کے ولید کتنی ہی دیر اسکی پشت کو دیکھتا رہا۔۔
________
صبح اسکی آنکھ کسی کے ہلانے سے کھلی ولید اس پر جھکا آاسے گھور رہا تھا خود وہ آفس جانے کے لیے تیار تھا۔
“آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ آنکھوں کو مسلتی وہ جمائی روکنے لگی۔۔۔
“سوئمنگ کرنے چلو گی۔۔ولید سنجیدگی سے چڑ کر بولتا صوفے کی طرف بڑھا۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ وری فنی آپ کو بھی مذاق کرنا آتا ہے۔۔۔
“محترمہ میں جا رہا ہوں اٹھ کر نیچے آجاؤ ورنہ اپنی ساس کو خود جواب دینا۔۔۔ ولید اسکی بات نظر انداز کرتا کہ کر اٹھ دروازے کی طرف بڑھا جب کے ساس پر تالیہ پھرتی سے اٹھی۔۔
“آپ محھے ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔۔۔تالیہ کی بات پر ولید نے پلٹ کر اُسے دیکھ کر آئی برو اُچکایا۔۔
“میں ہمیشہ کے لیے نہیں جارہا شام تک آجاؤں گا
“کیا ؟ شام تک اور اگر آپ کی ممی نے مجھے گھر سے نکال دیا۔۔۔
“وہ ایسا نہیں کریں گی۔۔۔سو ریلیکس۔۔ولید کا چہرا ایکدم سپاٹ ہوا۔۔
“نہیں میں یہ رسک نہیں لے سکتی آپ جب تک نہیں آجاتے میں کمرے سے کہیں نہیں جانے والی۔
تالیہ ہڈ دھرمی سے بولتی واپس بیٹھ گئی ولید کا دماغ گھوم گیا۔۔
“بچکانہ حرکتیں بند کرو تالیہ جب میں کہ چکا ہوں کے کچھ نہیں ہوگا تو مطلب کچھ نہیں ہوگا۔۔۔باقی جو مرضی کرو بچی نہیں ہو جتنا ڈرو گی اتنا ڈرایا جائے گا۔۔
ولید سختی سے جھڑکتا غصّے سے کمرے سے نکل گیا ایک دھماکے سے دروازہ بند ہوا جب کے تالیہ ہونٹ بھنجے دروازے کو گھور کے رہ گئی۔۔
________
“وہیں روک جاؤ لڑکی۔۔۔سُمیرا بیگم کے چلانے پر تالیہ کے قدم ایکدم رکے۔۔
“ممی پلیز ۔۔۔۔حرا نے تالیہ کو دیکھ کر اپنی ماں کو روکنا چاہا جو اپنا ناشتہ چھوڑ کر اسے گھور رہی تھیں۔۔
“تم خاموش رہو حرا اور تم لڑکی جہاں سے آئی ہو وہیں دفع ہوجاؤ۔۔
“آنٹی آپ۔۔۔
“بکواس بند کرو میرے بیوقوف بیٹے کو اپنی اس معصوم شکل سے پھنسا سکتی ہو لیکن یاد رکھو میں بیوقوف نہیں ہو۔۔۔چلی جاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔۔۔سُمیرا بیگم زہر خند لہجے میں چلاتیں رخ پھیر گئیں تالیہ کو بہت زور کا رونا انے لگا۔۔
“مالکن چھوٹے صاحب نے۔۔۔
“رہنے دو کومل۔۔۔تالیہ نے روندھی ہوئی آواز میں اسے ٹوکا اس سے قبل وہ پھر کچھ کہتی تالیہ تیزی سے پلٹ کر بھاگ گئی۔۔۔
__________
جاری ہے۔۔۔
