Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh NovelR50727 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17
No Download Link
506.2K
19
Rate this Novel
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode01 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode02 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode03 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode04 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode05 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode06 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode07 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode08 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode09 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode10 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode11 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode12 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode13 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode14 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode15 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode16 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17 (Watching)Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode18 Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Last Episode
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17
Tumhain Jana Ijazat Hai by Amrah Sheikh Episode17
ایک سال چار مہینے۔۔۔۔۔
رات کا پہر تھا سردی اپنے عروج پر تھی ایسے میں ولید بالکنی میں لگے باسکٹ کے گول جھولے میں سوئی تالیہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔جب کے چھوٹے ٹیبل پر کافی کے خالی مگ دھرے تھے۔۔۔
ولید نے گہری سانس لے کر پلٹ کر آسمان کی جانب دیکھا جب کے سوچیں آج پھر ہسپتال کے کمرے میں بےبس و لاچار عورت کے آنسوؤں سے بھیگا چہرہ یاد کر کے دل ایک بار پھر وہ وقت فلم کی طرح چلنے لگا
____________
ایک سال چار مہینے پہلے۔۔۔۔
“ممی۔۔۔حنا کہتے ہی انکا ہاتھ تھام کر چومنے لگی جب کے حرا بھی پیچھے آکر کھڑی ہوگئی۔۔
سُمیرا بیگم نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھول کر دونوں کی طرف دیکھا۔۔
“حنا۔۔۔سرگوشی میں پکارتیں وہ دونوں کو دیکھنے لگیں کتنے ہی آنسوں خاموشی سے پھسلتے چلے گئے۔۔۔۔
تینوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں لفظ جیسے سب ختم ہوگئے تھے کچھ تھا تو صرف گرتے آنسوں۔۔
___________
“ولید بھائی ممی سے اب کوئی ایسی بات مت کیجئے گا وہ ہماری ماں ہیں تھیں اور رہیں گی اس حقیقت کو آپ نہیں جھٹلا سکتے…ہم نے تو آنکھ بھی انہی کی گود میں کھولی تھی کبھی بھی یہ محسوس ہی نہیں ہوا کے ہمارے ناز نخرے اٹھانے والی ہماری سگی ماں نہیں ہے۔۔ آپ تو ہم سے بڑے تھے آپ نے کیوں نہیں انہیں کبھی سمجھنے کی کوشش کی۔۔۔حنا ولید کو کمرے کی طرف جاتا دیکھتی تیزی سے راستے میں اکر بولتی پلٹ گئی جب کے ولید اسی طرف سرخ آنکھوں سے بند دروازے کو دیکھتا رہا۔۔۔
__________
“کیسی ہو ؟
“بہتر ہوں اب۔۔۔ولید کہاں ہے.۔۔۔سُمیرا بیگم نے جواب دے کر دھیرے سے پوچھا۔۔۔ ولید اور تالیہ جو اسی وقت دروازے کھول کر اندر آئے تھے سُمیرا بیگم کی بات سن چکے تھے۔۔
“ممی۔۔۔ولید کی آواز پر دونوں نے دروازے کی طرف دیکھا۔
“میرے پاس نہیں اؤ گے۔۔۔سُمیرا بیگم نے بھیگی آواز میں اپنا ہاتھ بڑھایا ولید تیزی سے قریب آتا ہاتھ تھام کر پیشانی ٹیکا کر رو دیا۔۔۔
“مجھے معاف کر دیں زندگی بھر میں آپ کو غلط سمجھتا رہا کبھی آپ کی اچھائی کو نہیں دیکھ سکا مجھے معاف کردیں یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے میری ماما نے جو کیا آپ نے جو کیا مجھے کچھ یاد نہیں رکھنا پلیز مجھے معاف کردیں۔۔۔ میں نے کبھی آپ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔ ولید روتے ہوۓ کہ رہا تھا سُمیرا بیگم نے دوسرا ہاتھ اسے سر پر رکھنا چاہا جو بری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔
حماد خاں نے آگے بڑھ کر انکا ہاتھ تھام کر ولید کے سر پر رکھا سمیرا بیگم ساکت نظروں سے حماد کو دیکھنے لگیں جو بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔ کتنے ہی لمحے وہ انکی مسکراہٹ کو دیکھتی رہیں۔۔۔زندگی بھر انکی محبت کے لئے تڑپتا دل جیسے اپنی منزل پا گیا ہو۔۔۔۔۔
____________
“تالیہ بیٹی مجھے معاف کردو۔۔۔
“نہیں آنٹی آپ کی جگہ اگر میں ہوتی تو میں بھی یہی کرتی میرے دل میں آپ کے لئے کوئی شکوہ نہیں ہے۔۔۔ تالیہ سوپ ک پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھتی بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھتی مسکرا کر بولی.۔۔۔۔
“سمیرا بیگم نے پیار سے اسکے ہاتھ کو تھام لیا۔۔۔اس سے قبل وہ کچھ کہتیں خالہ کی فیملی کمرے میں داخل ہوئی۔۔تالیہ سب سے مل کر اپنے کمرے میں آگئی۔۔
“تالیہ سنو۔۔ ولید کی سنجیدہ آواز پر تالیہ نے پلٹ کر اسے دیکھا جو سپاٹ چہرے کے ساتھ ہاتھ میں پپیرز لئے کھڑا تھا تالیہ کا دل زور سے دھڑکا اسکی نظریں ولید کے ہاتھ میں پکڑے پپرز پر تھیں جب کے ولید کی نظریں اسکے چہرے پر۔۔۔
“جی۔۔۔تالیہ کو اپنی آواز بہت دور سے آتی سنائی دی۔۔
“تم کچھ بھول رہی ہوں۔۔۔۔ہماری شادی.
“پلیز ولید۔۔۔تالیہ نے بات کاٹ کے روہانسی ہوکر اسے دیکھا جو محظوظ ہوتا اسکے نزدیک آرہا تھا۔۔
“محبت تو نہیں ہوگئی جاناں۔۔۔۔۔ولید مسکراہٹ ضبط کرتا اسکے نزدیک اکر روکا.
“اگر میرا جواب ہاں ہو پھر۔۔۔
“آہ!! یہ محبت۔۔۔ ولید سانس کھینچتا روکا پھر اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب تر کرتا اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولا۔۔
“پھر میں تمہیں خود سے کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔ولید نے کہ کر ہاتھ میں پکڑا ایگرہمنٹ اُسکی طرف بڑھایا۔۔
“ترس کھا رہے ہیں۔۔۔۔۔تالیہ نے منہ پھلایا۔۔۔
“نہیں پر اپنے دل پر کھا رہا ہوں۔۔۔ولید کہ کر مسکرایا۔۔
“سچ کہ رہے ہیں۔۔۔تالیہ نے بولتے ہاتھ اسکے سینے پر رکھے ولید نے اسکے دونوں ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کے اسکی پیشانی چومی۔۔
تالیہ آسودگی سے آنکھوں موند گئی۔۔۔
_________
“انففف یار اتنے سارے وعدے۔۔۔ولید نے چیخ کر تالیہ کو گھورا جو اسکے سینے سے لگی بیڈ پر نیم دراز وعدے لے رہی تھی
“اچھا اچھا اب صرف دو تین چار رہ گئے ہیں.۔۔۔
“دو تین چار کیا ہوتا ہے ایک بتاؤ دو یا تین۔۔۔ولید گھورتے ہوۓ اسے دیکھ رہا تھا جو نچلا لب دانتوں تلے دباتی سوچ رہی تھی۔۔
“امم ہاں تین.۔۔۔تالیہ نے مسکرا کر کہتے دوبارہ اس کے سینے پر سر رکھا۔۔
“اوکے محترمہ بولنا شروع کرو۔۔۔۔
“آپ کبھی مجھے ڈانٹیں گے نہیں
“یہ کیسا وعدہ ہوا۔۔سوری یہ سب فطری ہے۔۔نیکسٹ۔۔ولید نے آنکھوں موند کر تکیے پر سر گرایا جب کے تالیہ سیدھی بیٹھ کر اسے گورنے لگی جس نے سنتے ہی اسکا معصوم وعدہ رد کر دیا تھا۔۔۔
“پہلے یہ وعدہ کریں۔۔۔ تالیہ نے خفگی سے اسکے بازو پے ہاتھ رکھا۔۔۔
“اچھا سنو۔۔ولید اچانک آنکھیں کھول کر سنجیدگی سے بولا
“کیا؟ تالیہ اپنی بات بھول کر اسے دیکھے لگی جس نے اسکے متوجہ ہوتے ہی جھٹکے سے اسے کھنچ کر اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔
“سو جاؤ بیوی۔۔۔
“نہیں چھوڑیں۔۔۔۔۔تالیہ چیخی لیکن دوسری طرف ولید نے جلتے سائیڈ لیمپ کو بند کرتے اندھیرا کردیا۔۔۔
___________
“ولید۔۔۔۔تالیہ کی ننید میں ڈوبی آواز اسے خیالوں سے باہر لائی۔۔۔ولید لمبی سانس کھینچتا زور سے سر جھٹک کر پلٹ کر اُسے دیکھنے لگا جو آنکھوں میں بھری نیند شال اڑھے کھڑی تھی۔۔۔
“میں یہیں سو گئی اور آپ نے جگایا ہی نہیں۔۔۔تالیہ بالوں کو سمیت کر کہتی آگے بڑھ کر اسکے سینے سے لگ گئی.۔۔
“بیوی تم سوتے میں اتنی پیاری لگ رہی تھی تبھی جگایا نہیں ورنہ تم اور تمہاری وہ دو اولادیں صبح تک میرے کان کھا جاتے ہو.۔۔۔ولید شرارت سے بولا جب کے تالیہ جو مسکرا کر سن رہی تھی حیرت سے الگ ہو کر اسے دیکھنے لگی.۔۔
“کیا کہا۔۔۔اس سے قبل تالیہ شروع ہوتی اذان کے رونے کی آواز پر تیزی سے اندر بھاگی۔۔
____________
“یہ شور کس چیز کا مچا رکھا ہے۔۔۔۔ولید تنگ آکر سیاہ بنیان پہنے کہتا باہر نکلا لیکن کمرے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا بیڈ پر ہی تالیہ انکے دو جڑواں پیارے گول مٹول بیٹوں سے انکی زبان میں باتوں میں لگی ہوئی تھی جب کے سُمیرا بیگم ساتھ بیٹھیں کھیلونوں کو اذان اور ریان کے آگے رکھ رہی تھیں جو کلکاریاں مار کر نیچے پھینک رہے تھے جس پے ماں کے ساتھ دادی بھی واری صدقے جا رہی تھیں۔۔۔
ایک طرف حماد خان بیٹھے مسکرا کر ان سب کی ویڈیو بنا رہے تھے جب کے حنا اور حرا زور و شور سے شاپنگ کی باتوں میں لگی ہوئی تھیں جب کے حنا کی بیٹی جو اب گھٹنوں چلنے لگی تھی ولید کے پاس آکر سر اٹھا کر اسے گود میں لینے کا اشارہ کرنے لگی۔۔جب کے چھ مہینے کا بیٹا حنا کی گود میں سو رہا تھا۔۔
“پاپا یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔ولید نے جھک کر مناہل کو اٹھا کر چڑ کر باپ سے کہا۔
“برخوردار بچے کھیل رہے ہیں۔۔
“پاپا بچوں سے زیادہ بچوں کی ماؤں نے شور کر رکھا ہے بندہ سکون سے نہا بھی نہیں سکتا اور تم حرا ہلکی آواز میں بات کرو مجھے تو ڈر ہے عثمان بیچارے کے کان ہی خراب نہ ہوجاییں۔۔۔ولید تپ کر بولتا حرا کو بھی جھڑکنے لگا جو منہ کھولے اپنے بھائی کو سن رہی تھی۔۔
“ولید بھائی میں نے کیا کیا ہے۔۔۔اس سے قبل ولید کچھ کہتا مناہل جو اسکی گود میں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ولید کی ناک پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی ایکدم ولید کے دیکھنے پر کھلکھلانے لگی جب کے ولید نے تیزی سے اسے نیچے اتارا
“شٹ یہ کیا کردیا گندی بچی۔۔ولید نے اپنی گیلی بنیان کو دیکھ کر بیچارگی سے کہا.
جب کے سب اس کی حالت پر زور سے قہقہ لگا کر ہنس دیے۔۔۔
اذان ریان کے ساتھ منہال بھی سب کو ہنستا دیکھ کر کھلکھلانے لگے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
