51.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode ( Part 1)

لاسٹ ایپی پارٹ ون
۔

عروہ…. خان نے کہتے ہی اپنے قدم اس کی طرف
بڑھائے جو زمین پر بےہوش ہو کر گر گئی تھی۔
خوف کی وجہ سے وہ بےہوش ہو گئی تھی۔
آصف اپنا بازو پکڑے زمین پر بیٹھا کراہ رہا تھا۔
پولیس آفیسر جو یہاں پارکنگ ایریا میں آیا تھا اپنی گاڑی کی طرف جاتے اس کی نظر آصف پر پڑی۔جو کسی لڑکی کی گردن پر ٹوٹا ہوا آئینہ رکھے کھڑا ہوا تھا۔
اس نے اپنی گن نکال کر اس کا رخ آصف کے بازو کی طرف کیا۔کیونکہ اتنا وقت نہیں تھا کہ آصف کو روکا جاتا اس لیے اس نے گن کا ٹریگر دبا دیا۔
اور بازو پر گولی لگنے کی وجہ سے کوئی نقصان بھی نہیں ہونا تھا۔
خ و ن نکل کر زمین پر بہنے لگا تھا پولیس آفیسر نے جلدی سے آگے آتے آصف کو ہتھکڑی لگائی۔
خان جلدی سے عروہ کے پاس گیا اور اس کی گال کو تھپتھپاتے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا۔
خان نے پولیس آفیسر کی طرف دیکھا۔
آپ کو ہمارے ساتھ تھانے چلنا ہو گا۔
پولیس آفیسر نے کہتے ہی اپنے ساتھیوں کو کال کرنے لگا۔
سر میں اپنی بیوی کو یہاں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔میں ان کو گھر چھوڑ کر آتا ہوں۔
خان کہتے ہی عروہ کو اٹھائے جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف لے گیا اور دروازہ کھولتے اسے آرام سے اندر لیٹایا۔
عروہ کو صحیح سلامت دیکھ کر خان نے سکون کا سانس لیا تھا ورنہ اس کو لگ رہا تھا کہ آج وہ عروہ کو کھو دے گا۔
تھوڑی دیر بعد وہاں پولیس کے باقی کے اہلکار بھی آگے تھے۔
اور آصف کو پکڑ کر لے گئے۔
خان نے ارسم کو کال کرکے یہاں آنے کا کہا تھا۔
گاڑی میں ایک نظر وہ پیچھے بےہوش لیٹی عروہ پر ڈال لیتا گھر پہنچتے ہی اس نے عروہ کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور کمرے میں آتے ہی اسے وہاں لیٹایا۔
عروہ کی گردن پر آئینہ لگنے کی وجہ سے ہلکی سی خراش آئی تھی جس میں سے خ و ن نکل رہا تھا۔
خان نے فرسٹ ایڈ باکس پکڑے اس کے زخم کو احتیاط سے صاف کیا۔
اور پھر مرہم لگانے کے بعد اس نے جھک کر عروہ کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
میں سب ٹھیک کر دوں گا۔خان نے عروہ کی بند آنکھوں کو دیکھتے پرعزم لہجے میں کہا۔
اور اس پر کمبل ٹھیک کرتے وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا۔
باہر جا کر اس نے ملازمہ کو عروہ کا خیال رکھنے کے لیے کہا اور خود گھر سے باہر چلا گیا۔اسے تھانے جانا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
خان پولیس سٹیشن چلا گیا تھا وہاں جا کر اس نے آصف کے خلاف رپورٹ درج کروائی تھی۔
آصف کے بازو پر پٹی کر دی گئی تھی ابھی تو وہ ٹھیک تھا۔
خان نے کہا کہ وہ آصف سے ملنا چاہتا ہے۔اُسے معلوم تھا کہ پولیس اُس سے اگلوا لے گی کہ اس نے کس کے کہنے پر یہ سب کیا۔
لیکن وہ اپنے بھائی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔
خان جیل کے اندر داخل ہوا جہاں آصف زمین پر سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا۔
میرا بھائی کہاں ہے؟
خان نے آصف کو دیکھتے سوال کیا۔
جس نے سر اٹھا کر سامنے کھڑے خان کو دیکھا تھا۔
لیکن خاموش رہا تھا۔
آفیسر نے آگے بڑھتے آصف کے پٹی میں بندھے بازو کو زور سے پکڑا آصف تکلیف کے مارے کراہ پڑا تھا۔
جواب دے کہاں ہے اس کا بھائی؟ آفیسر نے کرخت لہجے میں پوچھا۔
مجھے نہیں معلوم میں نے اُسے سڑک کے کنارے چھوڑ دیا تھا۔
اُس کا ایک بازو جل گیا تھا سانسیں چل رہی تھیں اس سے زیادہ مجھے کچھ نہیں معلوم۔
پتہ نہیں وہ زندہ ہے یا مر گیا میں نہیں جانتا۔
آصف نے کراہتے ہوئے کہا۔
خان کا دھیان فوراً ارمان کی طرف گیا تھا۔
ایک پل کے لیے دل نے کہا تھا کہ وہی اس کا بھائی ہے۔
لیکن بنا کسی ثبوت کے وہ اپنے دل کو تسلی نہیں دینا چاہتا تھا۔اگر ڈی این کروانے کے بعد ارمان اس کا بھائی نا نکلا تو اسے زیادہ تکلیف ہوتی۔
آفیسر اس کے پیچھے کوئی ضرور ہے جس کے کہنے پر اس نے میری بیوی اور اپنی بیٹی پر حملہ کیا اور اُسے مارنے کی کوشش کی۔
اس طرح کے انسان کو تو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔اور مجھے اس پر شک ہے کہ میرے ماں باپ کی جان بھی اسی شخص نے لی ہے۔خان نے آفیسر کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
آپ فکر مت کریں۔تھوڑی دیر کی خاطر تواضع کے بعد ہی یہ سچ بولنے لگے گا۔ آفیسر نے آصف کو دیکھتے کہا۔
آپ کا بہت بہت شکریہ آفیسر خان نے تشکرانہ انداز میں کہا۔اور وہاں سے چلا گیا۔

دوسری جانب رحمان کو خبر مل گئی تھی۔کہ آصف پکڑا گیا ہے۔اس نے حمزہ کو کہا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ آصف آسانی سے اپنا منہ کھول
دے گا۔
ڈیڈ میں کہی نہیں جا رہا اگر مجھے جیل جانا ہی ہے تو ارسم کی جان لے کر ہی جاؤں گا۔
حمزہ نے تلخ لہجے میں کہا۔
حمزہ ابھی ان سب باتوں کا وقت نہیں ہے تم اپنی بہن اور ماں کو لے کر باہر کے ملک چلے جاؤ۔میں بھی آجاؤں گا۔ٹھیک ہے رحمان نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔
لیکن ڈیڈ حمزہ نے کچھ کہنا چاہا جب رحمان جلدی سے بول پڑا تھا۔
اگر تمھارے دل میں میرے لیے زرا سی بھی عزت ہے تو تم میری بات سے انکار نہیں کرو گئے رحمان نے بےبسی سے حمزہ کو دیکھتے کہا۔
جس نے خاموش نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا اور وہاں سے چلا گیا۔
ماں اور بہن کو اس نے کچھ بتایا نہیں بس یہی کہا کے ڈیڈ کا حکم ہے۔اور ثمینہ کو بھی عظمیٰ بیگم اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ثانیہ تو کسی بھی طرح جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔
جب حمزہ نے اسے کہا کہ ڈیڈ نے کہا ہے اگر اس نے بات نہیں مانی تو وہ اسے جائیداد سے عاق کر دیں گئے۔تو اس کے بعد ثانیہ کے پاس کچھ بھی کہنے کو نہیں بچا تھا۔
خان سے زیادہ اسے اپنے عیش اور آرام اہم تھے اس لیے خاموشی سے حمزہ کے ساتھ چل پڑی اور اس نے سوچا کہ وہ واپس آکر بھی خان کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ واپس کبھی نا آنے کے لیے جا رہی ہے۔
لیکن اس وقت تو ان سب کو رحمان کا حکم ماننا تھا۔
💜 💜 💜 💜
خان گھر آیا تو شام ہو چکی تھی۔
ملازمہ نے اسے بتایا کہ عروہ کو ہوش آگیا ہے اور وہ بات بھی نہیں کر رہی بس خاموش لیٹی ہوئی ہے۔
ملازمہ نے بتایا تو خان گہرا سانس لیتا کمرے کی طرف گیا تھا وہ جانتا تھا کہ یہ بات عروہ کے لیے قبول کرنا بہت مشکل ہے۔
خان کمرے میں داخل ہوا تو عروہ چھت کو گھور رہی تھی۔
خان چلتا ہوا اس کے پاس گیا۔
عروہ… خان نے دھیمے لہجے میں اس کا نام پکارا۔
عروہ نے خان کی طرف دیکھا لیکن ویسے ہی لیٹی رہی۔
خان نے اس کے پاس بیٹھتے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
آپ ٹھیک ہیں؟
خان نے عروہ کو دیکھتے پوچھا۔
بابا کہاں ہیں؟ عروہ نے الٹا سوال کیا۔
اُن کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے وہ جیل میں ہیں۔خان نے سرد لہجے میں کہا۔
انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے ہی امی کی جان لی تھی۔عروہ نے بھاری لہجے میں کہا۔
آنسو آنکھوں سے نکل کر کنپٹی کو بھگو رہے تھے۔
عروہ آپ پلیز رونا بند کریں۔اُس انسان کی خاطر تو میں آپ کو بلکل بھی رونے نہیں دوں گا۔
خان نے پیار سے عروہ کے آنسوؤں کو صاف کرتے کہا۔
میرا آپ سے وعدہ ہے آپ کی امی کے قاتل کو ضرور سزا ملے گی۔
اور وہ انسان آپ کا باپ کہلوانے کے بھی لائق نہیں ہے۔اور اب آپ اس بارے میں نہیں سوچے گی۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔بس یہاں سب ٹھیک ہو جائے پھر ہم واپس چلے جائیں گئے۔
خان نے عروہ کو تسلی دیتے کہا۔
لیکن اتنی بڑی حقیقت کو برداشت کرنا بھی آسان نہیں تھا۔عروہ خاموش رہی تھی۔
جب ملازمہ نے دروازہ ناک کرتے باہر ارسم کے آنے کی اطلاع دی۔
آپ آرام کریں میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔
خان نے کہتے ہی جھک کر عروہ کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اُٹھ کر وہاں سے باہر چلا گیا۔
عروہ خان کے جاتے ہی اُٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
اور بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی۔
اسے یہی لگتا تھا کہ اس کا باپ مر چکا ہے اور اب جب وہ سامنے آیا بھی تو اتنی بڑی حقیقت اس پر کھل گئی کہ اس کی ماں کو مارا گیا تھا اور قاتل کوئی اور نہیں اس کا اپنا باپ تھا۔جو آج اپنی بیٹی کی بھی جان لینا چاہتا تھا۔
بابا میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔
عروہ نے بےبسی سے کہتے اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
دل کا غبار بھی باہر نکلنا ضروری تھا۔
عروہ کو بھی ہمت سے کام لینا تھا۔
اور اس کی ہمت تو خان تھا جو اسے کسی قسم کی تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
💜 💜 💜 💜
خان باہر آیا تو ارسم بیٹھا اسی کا انتظار کر رہا تھا۔
سب ٹھیک ہے بھابھی ٹھیک ہیں؟ ارسم نے کھڑے ہوتے پوچھا۔
اُس کا باپ زندہ ہے اور باپ نے ہی اُس کی ماں کی جان لی اب بیٹی کی بھی لینا چاہتا تھا یہ سب جاننے کے بعد کسی کو بھی نارمل ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔
خان نے گہرا سانس لیتے کہا۔
وہ تو ہے لیکن اُس آصف کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔اُس نے منہ کھولا کہ علی کہا ہے اور تمھارے ماں باپ کے بارے میں کچھ بتایا؟ ارسم نے خان کی گرفت دیکھتے پوچھا۔
علی کو اُس نے سڑک کے کنارے چھوڑ دیا تھا۔اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں جانتا باقی پولیس اُس سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے جلد ہی پتہ چل جائے گا۔کہ اس کے ساتھ اور کون شامل ہے مجھے پورا یقین ہے کہ اس سب معاملے میں رحمان بھی شامل ہے لیکن ایک دفعہ آصف اپنی زبان سے اپنے گناہ کا اعتراف کر لے تو اُسے سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا۔میں خود دونوں کو سزا دلاؤں گا۔صفوان نے پرعزم لہجے میں کہا۔
ارسم اس کی بات سن رہا تھا۔
ارسم تم یہاں سب دیکھ لینا میں نے آفیسر سے بات کر لی ہے۔میں عروہ کو لے کر گھر جا رہا ہے ہوں باقی کی کاروائی وہاں ہو گی۔لیکن یہاں کا معاملہ تم دیکھ لینا۔
خان نے سنجیدگی سے کہا۔
ٹھیک ہے تم ٹینشن نا لو اور بھابھی کو لے کر گھر جاؤ میں یہاں سب سنبھال لوں گا۔
ارسم نے کہا تو خان نے ہلکا سا سر ہلائے وہاں سے جانے کے لیے مڑنے لگا جب ارسم نے پوچھا۔
تو اس کا مطلب ہے علی کا ابھی بھی ہمیں پتہ نہیں چلا؟ ارسم نے پوچھا تو خان نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
مجھے لگتا ہے علی ہمارے سامنے ہی ہے بس ہم اُسے پہچان نہیں پا رہے۔
خان نے پرسوچ انداز میں کہا تو ارسم نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
کیا مطلب ارسم نے حیرانگی سے پوچھا۔
تمہیں بعد میں بتاؤں گا ابھی پہلے میں خود تسلی کر لوں۔
خان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ارسم کو کچھ سمجھ تو نہیں آئی تھی پھر بھی خاموش رہا تھا۔
اگر خان کہہ رہا ہے تو اُسے اس کی بات پر یقین تو کرنا ہی ہو گا۔
ارسم یہ سوچتے ہی گھر سے باہر چلا گیا اسے پولیس سٹیشن جانا تھا۔