110.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

صفوان نے غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد عروہ کو اندر بلایا لیکن اسے پتہ چلا کہ وہ گھر جا چکی ہے اور یہ سن کر اس کا غصہ پھر سے ساتویں آسمان تک پہنچ گیا تھا۔
مجھے لگتا ہے وہ نہیں بلکہ میں اُس کے پاس جاب کرنے آیا ہوں۔
لیکن میں بھی صفوان ہوں۔
اب دیکھو میں کیا کرتا ہوں صفوان نے غصے سے کہا اور اپنی گاڑی کی چابیاں پکڑے آفس سے نکل گیا۔
عروہ کے گھر کے بارے میں وہ پہلے سے معلوم کروا چکا تھا۔
عروہ بنا بتائے آفس سے نکل تو آئی تھی لیکن اب اسے یہ حرکت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔اس لیے کہتے ہیں غصے میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے لیکن عروہ میڈم کب اتنا سوچتی تھیں۔
بلقیس شاید مارکیٹ گئی تھی۔گھر میں کوئی نہیں تھا۔
ہاں میں مانتی ہوں مجھے آفس سے گھر نہیں آنا چاہیے تھا لیکن اُس کھڑوس انسان نے بھی تو چھوٹی سی بات پر مجھے اتنا سنا دیا۔
ٹھیک ہے مجھے سے غلطی ہوئی تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ کچھ بھی سنا دے۔
عروہ نے غصے سے پانی پیتے ہوئے خود سے کہا۔
اور پانی پینے کے بعد دوبارہ کمرے میں آئی تو اس کا موبائل رنگ ہو رہا تھا۔
اس نے نمبر دیکھا تو کوئی انجان نمبر تھا۔
لگتا ہے یہ وہی انسان ہے اسے بھی سکون نہیں ہے جب کہا ہے ایک ماہ بعد پیسے
مل جائیں گئے پھر بار بار کال کرنے کا کیا فائدہ؟ عروہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور کال اٹینڈ کرتے فون کان سے لگایا۔
آپ کو ایک بار بات سمجھ میں نہیں آتی۔
بار بار مجھے کال کیوں کر رہے ہیں؟ عروہ نے فون اٹھاتے ہی کہا۔
مس عروہ کیا بول رہی ہیں ہوش میں تو ہیں؟ سپیکر پر صفوان کی وزنی آواز سنائی دی تو عروہ نے حیرانگی سے اپنے کان سے موبائل پیچھے کرتے نمبر کو دیکھا۔
یہ تو اُس کھڑوس کی کال ہے۔
عروہ نے دل میں سوچا۔
ہیلو سر؟ آپ ہیں مجھے لگا کوئی رانگ نمبر ہے آپ کا نمبر میرے پاس سیو نہیں تھا نا اس لیے میں پہچان نہیں پائی عروہ نے لمبی چوڑی دلیل دیتے کہا۔
میں آپ کی گلی کے باہر کھڑا ہوں ابھی اور اسی وقت آپ باہر آئیں گی۔اور اگر آپ نا آئی تو میں خود اندر آجاؤ گا اگر میں یہاں تک آسکتا ہوں تو اندر بھی آنا میرے لیے مشکل نہیں ہے۔
صفوان نے سنجیدگی سے کہتے کال کٹ کر دی۔
گلی کے باہر یا اللہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟ عروہ نے اپنی چادر تلاش کرتے کہا۔اور اپنی چادر کو لیتے بھاگتے ہوئے گھر سے نکلی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر اس کا کھڑوس بوس یہاں تک آسکتا ہے تو گھر کے اندر آنے میں بھی وقت ضائع نہیں کرے گا۔
عروہ نے گلی کے باہر دیکھا تو وہ ایک کونے کے پاس اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
دوپہر کا وقت تھا تو اس وقت یہاں کوئی نہیں تھا۔
صفوان نے عروہ کو آتے دیکھا تو اپنے گلاسز اتارتے ہوئے اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔
عروہ نے ارد گرد دیکھا اور جلدی سے صفوان کے پاس آئی۔
اس نے صفوان کو بازو سے پکڑتے پریشانی سے کہا۔
ہم اندر بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں؟ عروہ نے صفوان کع دیکھتے پوچھا اس کے لہجے میں صفوان کو خوف صاف محسوس ہو رہا تھا۔
وہ تو کبھی اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھتا تو کبھی اپنے بازو کی طرف
بیٹھو اندر صفوان نے سنجیدگی سے کہتے گاڑی کا دروازہ کھولا عروہ جلدی سے اندر بیٹھ گئی تھی۔
آپ یہاں کیا لینے آئے ہیں؟
عروہ نے اندر بیٹھتے صفوان کی طرف دیکھتے پوچھا۔
پہلے میرے سوال کا آپ جواب دیں آپ میری بوس ہیں یا میں آپ کا بوس ہوں؟ صفوان نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
آپ میرے بوس ہیں کیا آپ کو اتنا بھی معلوم نہیں ہے؟ عروہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
تو آپ اپنی مرضی سے بنا بتائے گھر کیسے آسکتی ہیں؟ صفوان نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
سوری عروہ نے نظریں جھکا کر کہا۔
یہ ٹھیک ہے پہلے غلطی کر لو بعد میں سوری صفوان نے دل میں سوچا اور گاڑی سٹارٹ کی۔
آپ گاڑی کیوں سٹارٹ کر رہے ہیں؟
مجھے تو یہاں اترنے دیں۔
عروہ نے بوکھلائے ہوئے انداز میں صفوان کو دیکھتے کہا۔
ہم آفس جا رہے ہیں۔
اگر آپ نے ایک بھی چھٹی کی تو آپ کی سیلری کٹے گی تو پھر آپ میرے پیسے کیسے دے گی؟ صفوان نے گاڑی ڈرائیو کرتے عام سے لہجے میں کہا۔
عروہ یہ سن کر خاموش ہو گئی تھی۔
اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔اب کچھ بھی کہنا بیکار تھا۔
آفس سے تھوڑا دور ہی عروہ پھر سے بولی تھی۔
سر آپ مجھے یہی پر اتار دیں۔
عروہ نے کہا تو صفوان نے ایک سنجیدہ سی نظر اس پر ڈالی تھی۔
اگر آپ یہ کہنے والی ہیں کہ کوئی ہمیں ساتھ دیکھ نا لے اس لیے میں آپ کو یہاں اتار دوں تو یہاں ہمیں کوئی بھی دیکھے مجھے فرق نہیں پڑتا۔
اس لیے خاموشی کے ساتھ بیٹھی رہیں۔ صفوان نے کہا تو عروہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
آپ مجھے گھور کیوں رہی ہیں مس عروہ؟ صفوان نے کہا تو عروہ نے فوراً اپنی گردن دائیں جانب موڑ لی۔
اسے کیسے پتہ چلا کہ میں اسے گھور رہی ہوں۔عروہ نے دل میں سوچا۔
صفوان نے آفس کے پاس گاڑی روکی۔عروہ اترنے ہی لگی جب صفوان نے اسے پکارا۔
میرا نمبر سیو کر لیں اور دوبارہ ایسی کوئی حرکت مت کیجیے گا کیونکہ دوبارہ میں اتنے پیار سے پیش نہیں آؤں گا۔
صفوان نے سامنے سڑک کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
تو کیا اب تک جو آپ طنز کے تیر چلا کر بات کر رہے تھے وہ پیار سے بات کر رہے تھے؟ عروہ نے اپنے لہجے میں حیرانگی لیے پوچھا۔
صفوان کے ہونٹ ہلکے سے مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
آپ کیا چاہتی ہیں مس عروہ کیا میں مزید آپ سے پیار سے بات کروں؟ صفوان نے عروہ کی طرف اپنا رخ موڑے گہرے لہجے میں پوچھا۔
نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔
عروہ نے جلدی سے کہا۔اس وقت صفوان کی آنکھوں میں دیکھنا اسے دنیا کا مشکل تقریب کام لگ رہا تھا پتہ نہیں کیا تھا سامنے بیٹھا انسان کبھی اتنے اچھے سے بات کرتا کہ عروہ کو حیرت ہوتی اور کبھی اتنی سخت لہجے میں بات کرتا کہ عروہ کو رونا آتا۔
اب آپ مجھے گھور رہی ہیں مس عروہ
صفوان نے اس کی اپنے چہرے پر جمی ہوئی نظریں دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
سوری عروہ نے بوکھلاہٹ میں کہا اور جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولے باہر نکل گئی۔
بیوقوف لڑکی…
صفوان نے نفی میں سر ہلاتے کہا۔
اور خود بھی گاڑی سے باہر آتے اندر کی جانب چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
ارسم اور حمزہ نے بہت بار کہا لیکن انسپکٹر نے ان کی بات نہیں مانی۔
سر آپ ایک بار میرے بھائی سے بات کر لیں پھر آپ جیسا کہے گئے ویسا ہی ہو گا۔
ارسم نے کہتے ہی خان کو کال کی اور اُسے ساری صورتحال کا بتاتے فون انسپکٹر کی طرف بڑھایا۔
خان صاحب آپ؟ یہ آپ کے بھائی ہیں مجھے معلوم نہیں تھا لیکن دوبارہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ابھی تو میں ان کو جانے دے رہا ہوں وہ بھی آپ کے کہنے پر کیونکہ آپ ہمارے سر کے بہت قریبی دوست ہیں۔لیکن آئندہ ان کو چھوڑا نہیں جائے گا۔
انسپکٹر نے کہا۔آگے ناجانے خان نے کیا کہا۔وہ کسی کو معلوم نہیں تھا۔انسپکٹر نے فون بند کرتے اسے ارسم کو پکڑایا۔
اس بار تم لوگوں کو جانے دے رہا ہوں اگلی بار ایسا کچھ کیا تو سیدھا جیل جاؤ گئے۔
انسپکٹر نے کہتے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا اور وہاں سے چلے گئے۔
ملائکہ نے جب پولیس کو جاتے دیکھا تو خود بھی وہاں سے بھاگ گئی۔
ارسم اور حمزہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
یہ کہاں گئی حمزہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور خود بھی وہاں سے چلا گیا۔
ارسم کو خان کا میسج ملا تھا کہ وہ ابھی گھر آئے تو ارسم بھی وہاں سے چلا گیا۔
ارسم گھر آیا تو ملازم نے اسے بتایا کہ خان کمرے میں اس کا انتظار کر رہا ہے۔تو سیدھا اُس کے کمرے میں گیا۔
خان اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا باہر کا منظر دیکھ رہا تھا۔
وہ لڑکی کون ہے جس کے لیے تم اور حمزہ آپس میں جھگڑ رہے تھے؟
خان نے رخ موڑے ارسم کو دیکھتے پوچھا۔
خان میں اُس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ارسم نے خان کے سوال کا جواب دیے بنا اپنی بات کہی۔
تم اُس لڑکی سے نکاح اس لیے کرنا چاہتے ہو کیونکہ وہ لڑکی حمزہ کو پسند ہے؟ خان نے ایک آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا۔
تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیوں اُس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔
ارسم نے غصے سے کہا۔
لیکن مجھے لگتا ہے وہ لڑکی تم سے زیادہ حمزہ کو پسند کرتی ہے۔تو کیا تم اُسکے ساتھ زبردستی کرو گئے؟ خان نے کہا تو ارسم نے سرخ آنکھوں سے خان کی طرف دیکھا تھا۔
تم نے کب سے ہم تینوں پر نظر رکھی ہوئی ہے خان؟ ارسم نے الٹا سوال کیا۔
یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔خان نے ارسم کے پاس آتے کہا۔
خان مجھے بس اُس لڑکی سے نکاح کرنا ہے چاہے وہ مجھے پسند کرے یا نا کرے لیکن مجھے اُس لڑکی سے ہی نکاح کرنا ہے۔اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے اگر تم نے اس میں میرا ساتھ نہیں دیا تو پھر میں وہی کروں گا جو میرا دل کرے گا۔ارسم نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
خان ابھی بھی وہی کھڑا تھا۔
یہ کرنا کیا چاہتا ہے لگتا ہے اسطکا دماغ خراب ہو گیا ہے۔خان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور اپنا موبائل پکڑے اُس پر نمبر ڈائل کرنے لگا۔
💜 💜 💜 💜
حمزہ گھر نہیں گیا تھا بلکہ سڑکوں پر گاڑی گھوما رہا تھا اسے ایک بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ارسم ملائکہ کو کیسے جانتا ہے۔
جیسے وہ بات کر رہا تھا اس کا مطلب تھا وہ دونوں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں۔
حمزہ اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔جب اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی اور وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ عروہ تھی جو واپسی پر کچھ سامان لینے کے لیے وہی پر اس نے ڈرائیور کو کہا تھا کہ اتار دے۔
عروہ …. حمزہ نے اسے دیکھتے بےیقینی سے منہ میں بڑبڑایا۔
اس نے جلدی سے اپنی سیٹ بیلٹ کھولی اور گاڑی سے باہر نکل کر اُسی جگہ پر گیا جہاں پر اس نے عروہ کو دیکھا تھا۔
کہاں چلی گئی یہی پر تو تھی۔
حمزہ نے ارد گرد دیکھتے خود سے کہا۔
عروہ تم مجھے مل ہی گئی۔تم زندہ ہو اور سہی سلامت بھی ہو۔
لیکن فکر مت کرو اب میں تمھاری زندگی جہنم بنا دوں گا۔مجھ سے بچ کر بھاگ رہی تھی نا اور دیکھو آج طتم مجھے نظر آ ہی گئی۔مجھے لگا تھا کہ تم مر گئی ہو گی لیکن میں غلط تھا تمھارا میرے ہاتھوں مرنا لکھا ہوا ہے۔
حمزہ نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے اپنے چہرے کے نشان کو چھوتے ہوئے کہا۔
اور اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜