Tarap Dil Ki By Ramsha Hayat Readelle 50058 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
سر مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔
اگلے دن عروہ آفس آئی تو سیدھی صفوان کے آفس آئی تھی جو فون کان سے لگائے کسی سے بات کر رہا تھا۔
جی کیا بات کرنی ہے آپ نے؟ صفوان نے موبائل ٹیبل پر رکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
مجھے یہ جاب چھوڑنی ہے اور آپ کے پیسے واپس کرنے ہیں۔اور جب میں پیسے واپس کر دوں گی تو یہ کنٹریکٹ بھی ختم ہو جائے گا اور آپ مجھے طلاق بھی دے دیں گئے۔عروہ نے صفوان کو دیکھتے کہا جو ابھی بھی آرام سے بیٹھا عروہ کی بات سن رہا تھا۔
عروہ نے گھر جاتے ہی بلیک میل کرنے والے کو کال کی تھی اور اُسے کہا تھا کہ جس بات کی بنا پر وہ اُسے تنگ کر رہا ہے ویسا تو کچھ بھی نہیں ہے تو اب اگر وہ ویڈیو پولیس کو مل بھی جاتی ہے تو وہ لوگ عروہ کو کبھی گرفتار نہیں کریں گئے۔
بکل ٹھیک کہا آپ نے مس عروہ تو لائیں بیس لاکھ کا چیک صفوان نے عروہ کے چہرے کے تاثرات دیکھتے کہا.جس نے اپنے بیگ کو سامنے ٹیبل پر رکھے چیک نکالنے لگی۔لیکن اسی چیک نہیں ملا ایک دم عروہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے اور صفوان کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
کہاں گیا ابھی کل ہی تو میں نے اسے بیگ میں رکھا تھا۔عروہ نے پریشانی سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
کیا ہوا مس عروہ کوئی پریشانی ہے؟ صفوان نے اپنی کرسی پر جھولتے پوچھا۔
سر میں نے اسی میں چیک رکھا تھا لیکن اب مل نہیں رہا۔
عروہ نے پریشانی سے کہا۔
اس کا مطلب آپ نے چیک کھو دیا ہے۔تو اب آپ کیا کریں گی؟ آپ کو تو اب یہی کام کرکے میرے پیسے واپس کرنے ہوں گئے۔
صفوان نے پر سوچ انداز میں عروہ کو دیکھتے کہا۔
لیکن میں نے اُسے کھویا نہیں ہے مجھے لگتا ہے گھر رہ گیا ہو گا۔
عروہ نے صفوان کو دیکھتے کہا۔
تو ٹھیک ہے مس عروہ کل آپ اُس چیک کو واپس لے آئیے گا اور اگر آپ نا لائی تو پھر آپ کو یہی کام کرنا پڑے گا لیکن آج کا شیڈول مجھے بتائیں کیا ہے کیونکہ ابھی آپ نے میرے پیسے واپس نہیں کیے تو آپ میری سیکرٹری ہیں۔
صفوان نے اسے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے کہا۔جو پریشانی سے وہاں بیٹھ گئی تھی۔
لیکن پھر اچانک اسے یاد آیا کہ یہاں آتے ہوئے وہ ایک عورت سے ٹکرائی تھی۔عروہ اپنے بیگ سے کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔لیکن اُس عورت کے ٹکرانے پر اس کا بیگ زمین پر گر گیا تھا ہو سکتا ہے اُس وقت چیک کہی گر گیا ہو۔
سر اگر کوئی اُس چیک کو کیش کروائے گا تو آپ کو پتہ چل جائے گا نا؟ عروہ نے صفوان کو دیکھتے پوچھا۔
اس وقت وہ صفوان کو چھوٹی معصوم سی بچی ہی لگ رہی تھی۔جس کے چہرے کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ ابھی رو پڑے گی۔
ایک پل کے لیے صفوان کو لگا کہ وہ اس کے ساتھ غلط کر رہا ہے اُسے آذاد کر دے اپنے نام سے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دے لیکن یہ خیال صرف ایک پل کے لیے آیا تھا۔
جی بلکل مجھے پتہ چل جائے لیکن مس عروہ اگر اُس نے وہ چیک کیش نا کروایا تو مجھے کیا کسی کو بھی پتہ نہیں چلے گا۔
صفوان نے سنجیدگی سے کہا تو عروہ نے بےبسی سے صفوان کی طرف دیکھا تھا۔
اب کام کی بات کریں؟ صفوان نے عروہ کی معصوم چہرے سے نظریں چراتے کہا۔
عروہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
اس نے کیا سوچا تھا اور اس کے ساتھ کیا ہو گیا تھا آگے کیا ہونے والا تھا اسے معلوم نہیں تھا۔
میں آتی ہوں عروہ نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
کیونکہ مزید اپنے آنسوؤں کو روکنا اس کے لیے مشکل ہو گیا تھا۔
اور صفوان بھی اس کے آنسوؤں کو دیکھ چکا تھا۔اس لیے خاموش رہا تھا۔
کیا مصیبت ہے صفوان نے کھڑے ہوتے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتے غصے سے کہا۔
حمزہ… صفوان نے سرد لہجے میں اس کا نام لیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ملائکہ بیڈ پر بےہوش لیٹی ہوئی تھی اس کے پاس ہی ارسم بیٹھا ہوا تھا وہ اسے اپنے فلیٹ پر لے آیا تھا۔
تم کتنی معصوم ہو۔ارسم نے ملائکہ کے پرسکون چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
کاش تم نے وہ تھپڑ مجھے نا مارا ہوتا تو تم مجھے زیادہ اچھی لگتی۔
ارسم نے کہتے ہی پانی کا جگ پکڑے پورا ملائکہ پر اڈھیل دیا۔
جو ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی تھی۔
اور پہلے تو انجان نظروں سے ارسم کو دیکھنے لگی لیکن جیسے ہی اس کے ہوش بحال ہوئے تواس کے چہرے پر خوف کے سائے لہرانے لگے تھے۔
ارسم اسکے بدلتے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
آپ مجھے یہاں کیوں لاؤ ہو؟ ملائکہ نے اپنی چادر کو مزید ٹھیک کرتے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا جو پانی کی وجہ سے گیلی ہو گئی تھی۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟ارسم نے عام سے لہجے میں ملائکہ کو دیکھتے پوچھا۔
یقیناً آپ نے مجھ سے بدلہ لینا ہو گا جو میں نے آپ کو تھپڑ مارا تھا۔
لیکن میری بات کا یقین کریں میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا تھا۔بس وہ صورتحال کچھ ایسی بن گئی تھی لیکن پھر بھی میں آپ سے معافی مانگتی ہوں پلیز مجھے معاف کر دیں اور یہ وجہ ہو سکتی ہے جو آپ مجھے یہاں لے کر آئے ہیں ورنہ میں کوئی اتنی خوبصورت تو ہوں نہیں کہ پہلی نظر میں آپ کو مجھ سے محبت ہو گئی اور آپ مجھے اغوا کرکے یہاں لے آئے ملائکہ کی زبان جو ایک بار چلنا شروع ہوئی تو رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
ارسم جو ملائکہ کی بات سن رہا تھا۔آخری بات پر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی۔
بےساختہ اس کی نظریں ملائکہ کی آنکھوں سے ہوتی ہوئی اس کے حرکت کرتے ہونٹوں پر آ ٹھہری تھیں۔
تم نے کبھی خود کو غور سے آئینے میں دیکھا ہے؟ ارسم نے تھوڑا ملائکہ کے قریب ہوتے گھمبیر لہجے میں پوچھا۔
وہ جو اپنی دھن میں بولتی جا رہی تھی ارسم کو قریب آتا دیکھ اس کی زبان کو باریک لگی تھی۔
ہاں میں نے کافی بار دیکھا ہے اور مجھے گھر جانا ہے۔
ملائکہ نے پیچھے ہوتے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
اگر تم نے اپنے چہرے کو غور سے آئینے دیکھا ہوتا تو تم یہ تو کبھی نا کہتی کہ تم خوبصورت نہیں ہو۔
تم میں کچھ خاص بات ضرور ہے کہ حمزہ جیسا انسان تمھارے پیچھے پاگل ہوا پڑا ہے۔
ارسم نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
ٹھیک ہے مان لیتی ہوں وہ میرے پیچھے پاگل ہوا پڑا ہے لیکن آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں؟ اگر بات تھپڑ کی ہے تو آپ بھی مجھے تھپڑ مار کر اپنا حساب برابر کر لیں۔
ملائکہ نے اپنا چہرہ آگے کرتے کہا۔
اب بات تھپڑ سے بہت آگے نکل گئی ہے میڈم
ارسم نے اپنی انگلی سے ملائکہ کے ماتھے کو پیچھے کرتے کہا۔
مجھے یہاں سے جانا ہے۔پلیز مجھے جانے دیں میں آپ کے کسی کام کی نہیں ہوں ملائکہ نے ارسم سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے کہا۔
ایک شرط پر تمہیں جانے دے سکتا ہوں۔ارسم نے اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔
کیسی شرط؟ ملائکہ نے ناسمجھی سے ارسم کو دیکھتے پوچھا۔
مجھ سے نکاح کر لو پھر ہی تم یہاں سے جا سکتی ہو ورنہ تمھارا یہاں سے نکلنا ناممکن ہے ارسم نے کہا تو ملائکہ کو لگا اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے۔
میں آپ سے نکاح کیوں کروں؟ آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے؟ پہلے آپ نے مجھے اغوا کیا اور اب نکاح کا کہہ رہے ہیں میں آپ سے کبھی بھی نکاح نہیں کروں گی۔
اور میں یہاں سے جا رہی ہوں ملائکہ نے غصے سے کہا اور اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھائے لیکن دروازہ اس سے کھل نہیں رہا تھا۔
میری مرضی کے بغیر یہ دروازہ کبھی نہیں کھلے گا۔
اور اگر تم ٹائم پر گھر نہیں پہنچی تو تمھارے گھر والوں پر کیا گزرے گی۔میرے خیال سے لوگ باتیں بھی بنائے گئے؟ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟ ارسم چلتا ہوا ملائکہ کے پاس آیا اور سوچنے کے انداز میں کہا۔
آپ کیوں ایسا کر رہے ہیں پلیز مجھے جانے دیں۔میں آپ سے نکاح نہیں کر سکتی ملائکہ نے بے بسی سے کہا۔
کیوں نہیں کر سکتی مجھے وجہ بتا دو ارسم نے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ میرا نکاح ہو چکا ہے ملائکہ نے اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے کہا۔
اور اس کی بات سن کر ارسم کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
💜 💜 💜 💜 💜
تم یہاں کیا لینے آئی ہو؟ خان ابھی گھر آیا ہی تھا جب سامنے اسے ثانیہ نظر آئی جو مسکراتی ہوئی اسی کی طرف آرہی تھی۔
اس کا سر پہلے ہی درد سے پھٹ رہا تھا۔
اپنے منگیتر سے ملنے آئی ہوں ثانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ ڈھیٹ لڑکی ہو میں یہ رشتہ ختم کر چکا ہوں اب نا میرا تم سے کچھ بھی لینا دینا ہے نا تمھاری فیملی سے خان نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے جانے لگاجب ثانیہ نے اس کو بازو سے پکڑ کر روکا تھا۔
خان میری بات تو سنتے جاؤ۔ثانیہ نے کہا تو خان نے زور سے اپنے ہاتھ کو جھٹکا تھا۔
آئندہ مجھے ہاتھ مت لگانا۔
خان نے اسے تنبیہ کرتے کہا۔لیکن سامنے بھی دنیا جہاں کی ڈھیٹ لڑکی ثانیہ کھڑی تھی اور مسکرا رہی تھی۔
تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہو گی خان
ثانیہ نے خان کو دیکھتے کہا۔
اور میں ایسا کیوں کروں گا؟
خان نے سینے پر ہاتھ باندھتے پوچھا۔
اپنی پھوپھو کی خاطر اگر تم نے مجھ سے شادی نہیں کی تو چچا جان اُن کو طلاق دے دیں گئے۔
ثانیہ نے کہا تو خان کا دل کیا سامنے کھڑی لڑکی کی اپنے ہاتھوں سے جان لے لیں۔
تمھاری بکواس ختم ہو گی تو دفع ہو جاؤ۔میں تمھاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا اور دوبارہ اگر تم میرے گھر میں آئی تو زندہ واپس نہیں جاؤ گی۔
خان نے سرد لہجے میں کہا۔اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔اور اس کے چہرے پر چھائی سرد مہری دیکھ کر ثانیہ بھی گھبرا گئی تھی اور بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی۔
خان غصے سے گھر میں داخل ہوا تھا۔
دادا جان کہاں ہیں؟ خان نے ملازم کو دیکھتے سرد لہجے میں پوچھا۔
برخوردار کیا ہوا ہے؟ اتنے غصے میں کیوں ہو؟
دادا جان نے خان کو دیکھتے پوچھا۔
تحریم بھی وہی آگئی تھی۔
ثانیہ یہاں کیوں آئی تھی؟ خان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
بیٹا وہ ابو جان سے ملنے آئی تھی۔ابھی گئی ہے۔تحریم نے خان کو دیکھتے کہا۔
وہ ملنے نہیں آئی تھی جانتی ہیں وہ باہر مجھے کیا کہہ کر گئی ہے۔خان کو دھمکی دے کر گئی ہے دادا جان میں اُس کا لحاظ کر رہا ہوں تو صرف آپ کی وجہ سے ورنہ آپ بھی مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔
خان نے کہا تو دادا جان نے حیرانگی سے تحریم کی طرف دیکھا تھا۔
ایسا بھی اُس نے کیا کہہ دیا خان جو تم اتنا غصہ ہو رہے ہو؟ دادا جان نے حیرانگی سے پوچھا۔
وہ مجھے دھمکی دے کر گئی ہے اگر میں نے اُس سے شادی نہیں کی تو اُس کا چچا پھوپھو کو طلاق دے دیں گا۔
اتنی سی اہمیت ہے پھوپھو کی اُس گھر میں؟ کہ وہ آج کی لڑکی پھوپھو کا گھر خراب کر رہی ہے۔اور کسی کو پرواہ نہیں؟
خان نے سرد لہجے میں کہا تو تحریم نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے بےیقینی سے خان کو دیکھا تھا۔
دادا جان یہ آخری بار تھا اب آگر آپ کے دوست کے گھر والوں نے اب کچھ بھی غلط کرنے کی کوشش کی تو صفوان خان اُن لوگوں کو اپنے طریقے سے ہینڈل کرے گا۔اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا طریقہ کار کیا ہے۔
صفوان نے غصے سے کہا اور وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
پیچھے دادا جان اور تحریم نے پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔
💜 💜 💜 💜
