51.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

خان نے ارسم کو فلیٹ پر چھوڑ دیا تھا۔اور خود اُسی جگہ پر عروہ کا انتظار کر رہا تھا۔جہاں پر اس نے آنے کا کہا تھا۔
اس نے کبھی کسی کا انتظار نہیں کیا تھا لیکن اب بیٹھا عروہ کا انتظار کر رہا تھا۔عجیب صورتحال ہو گی تھی اس کی اپنی بھی وہ سب کر رہا تھا جو اس نے کبھی کیا نہیں تھا۔
تھوڑی دیر بعد عروہ وہاں آئی اس کی آنکھوں کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ روئی ہے۔
مس عروہ آپ ٹھیک ہیں؟خان نے سیدھا ہوتے بیٹھتے پوچھا۔
اگر کوئی اور وقت ہوتا تو عروہ اس کے لہجے کی بے چینی ضرور نوٹ کرتی۔
آپ کو بھی لگتا ہے کہ میں چوری کرکے بھاگی تھی؟
عروہ نے خام کی طرف دیکھتے پوچھا؟
نہیں مجھے ایسا نہیں لگتا۔خان نے ایک سیکنڈ بھی سوچنے میں نہیں لگایا تھا اور فوراً جواب دیا۔
مس عروہ جتنا میں آپ کو جانتا ہوں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ ایسی حرکت کبھی نہیں کر سکتی لیکن حمزہ بہت چلاک ہے۔اُس نے آپ پر الزام لگایا ہے کہ آپ نے زیور چوری کیے ہیں۔لیکن مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔آپ بےقصور تھیں تو پھر حمزہ سے بھاگ کیوں رہی تھیں؟ اور رحمان صاحب سے آپ کیوں ڈر رہی تھیں؟ خان نے عروہ کو دیکھتے پوچھا
آپ کے سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے میرے پاس اور وہ یہ کہ میں اکیلی لڑکی تھی اور میں ان دونوں مردوں کا اکیلے مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔اُن کے سامنے تو میری کوئی بھی اہمیت نہیں تھی۔
اور حمزہ کا باپ بھی اپنے بیٹے کی کرتوت کو اچھی طرح جانتا ہے وہ جیسا نظر آتا ہے ویسے ہے نہیں۔
اور دوسرا میری خالہ نے کہا تھا کہ ہم اس سارے معاملے سے دور رہے گئے شاید اُن کو اس بات کی فکر تھی کہ کہی مجھے کچھ ہو نا جائے لیکن میرے ساتھ کیا ہوا اور میں حمزہ کے گھر سے کیوں بھاگی یہ بات میں نے اپنی خالہ کو کبھی نہیں بتائی تھی۔بس اُن کو ایک بات عجیب لگتی تھی کہ میں کس سے اتنا ڈرتی ہوں اور بعد میں اُن کو لگا کہ مجھے کوئی دماغی بیماری ہے جو میں ہر کسی سے خوفزدہ ہو جاتی ہوں لیکن حقیقت اُن کو معلوم نہیں تھی۔
عروہ نے خان کو دیکھتے کہا۔
مس عروہ دادا جان کی باتوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی اُس کے لیے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں میں جانتا ہوں اُن کی باتوں نے آپ کو بہت ہرٹ کیا ہے۔خان نے عروہ کی بات سننے کے بعد کہا۔
آپ معافی کیوں مانگ رہے ہیں اگر اُن کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو بھی یہی سب کہتا۔
عروہ نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
مس عروہ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی خالہ کے ساتھ میرے فلیٹ پر رہے اور پک اینڈ ڈراپ میں آپ کو دوں گا۔
خان نے کافی کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔
خان نے عروہ کے لیے بھی کافی منگوائی تھی۔
جس نے بےدھیانی میں کافی کا کپ لبوں سے لگا لیا۔
یہ کیا ہے؟ عروہ نے کافی کو دیکھتے ناک منہ بسوڑتے کہا۔اور جلدی سے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا۔
اس کو کافی کہتے ہیں۔خان نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
تو آپ نے میرے لیے کیوں منگوائی؟ یہ کتنی کڑوی ہے آپ کیسے اسے پی لیتے ہیں؟
عروہ ابھی بھی بار بار پانی پی رہی تھی۔
چلیں میں آپ کو آئسکریم لے کر دیتا ہوں اُس سے آپ کا ٹیسٹ ٹھیک ہو جائے گا۔
خان نے کھڑے ہوتے کہا۔
عروہ بھی اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے اٹھ گئی۔
باہر آتے خان نے عروہ کو آئسکریم لے کر دی تھی۔اس کا مقصد عروہ کا موڈ ٹھیک کرنا تھا جو کافی حد تک ہو گیا تھا۔
عروہ آئسکریم کھانے لگی تھی جب خان کی نظر اس کے ہونٹوں پر لگی چاکلیٹ پر پڑی۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھاتے اپنے انگوٹھے سے عروہ کے ہونٹ پر لگی چاکلیٹ کو صاف کیا۔
عروہ وہی شوکڈ ہوئی تھی۔خان کے چھونے پر اس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
لیکن دور کھڑی ثانیہ نے یہ سین چہرے پر نفرت لیے دیکھا تھا۔خان ثانیہ کو دیکھ چکا تھا۔لیکن اسے فرق نہیں پڑتا تھا۔
مس عروہ چلیں؟ خان نے بت بنی عروہ کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں جی چلیں عروہ نے ہوش میں آتے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔اور آگے چل پڑی۔
خان اس کی بوکھلاہٹ دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔اور خود بھی وہاں سے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜 💜
خان نے عروہ کو اُسبکے گھر چھوڑا جو پورے راستے خاموش رہی تھی۔اس چھوڑنے کے بعد اس نے وہاج سے ملنا تھا جس نے کچھ پہلے ملنے کا کہا تھا تو اُس وقت تو خان مصروف تھا اور اب اس نے وہاج کو ملنے کا کہا۔
وہاج بیٹھا خان کا انتظار کررہا تھا اسے ٹیشن بھی تھی کہ اگر خان نے منع کر دیا تو ابھی وہ اسی بارے میں سوچ رہا تھا جب خان وہاں آیا اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
کیسے ہو وہاج جان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں بھائی۔آپ بھی ٹھیک ہی ہوں گئے؟ وہاج نے جان کو دیکھتے پوچھا۔جو ہنس پڑھا تھا۔
بھائی مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔وہاج نے خان کو دیکھتے کہا۔
میں سن رہا ہوں۔خان نے سنجیدگی سے کہا۔
وہاج نے گہرا سانس لیا اور بات کا آغاز کیا۔
میں بسمہ کو پسند کرتا ہوں۔اب سے نہیں بہت پہلے سے وہاج نے نظریں جھکائے جلدی سے کہا۔
یہ بات میں جانتا ہوں۔خان نے کہا تو وہاج نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
میں بسمہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔آپ جس طرح بھی مجھے آزمانا چاہیں آزما سکتے ہیں۔
آج آپ کے سامنے میں خود بات کرنے اس لیے آیا ہوں کیونکہ ڈیڈ اس رشتے کے لیے کبھی نہیں مانے گئے۔
وہاج نے خان کو دیکھتے کہا۔
تمھارے ڈیڈ چاہتے ہیں کہ آفاق کے ساتھ میری بہن کی شادی ہو جائے وہ دادا جان سے اس بارے میں بات کر چکے ہیں اور وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں وہ بھی میں اچھی طرح جانتا ہوں۔
اور دوسری بات وہاج تمہیں میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں تم میں کوئی برائی نہیں ہے۔لیکن میں اپنی بہن کو اُس گھر میں بھیجنے کے حق میں نہیں ہوں۔
خان نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
اس کا مطلب آپ کو گھر سے مسئلہ ہے؟ تو میں بسمہ کو الگ گھر لے دوں گا۔
وہاج نے کہا تو خان ہنس پڑا۔وہ اس کی بےتابی نوٹ کر چکا تھا۔
ٹھیک ہے تمھاری یہ بات بھی میں مان لیتا ہوں۔لیکن ارسم کو تم کیسے راضی کرو گئے؟ وہ تو کبھی نہیں مانے گا۔
خان کی اس بات پر وہاج خاموش ہو گیا تھا۔کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا ارسم ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔
دیکھو وہاج آگر تم ارسم کو راضی کر لیتے ہو تو میں خوشی خوشی اپنی بہن کا ہاتھ تمھارے ہاتھ میں دینے کو تیار ہوں۔لیکن ارسم کو راضی کرنے کے لیے تمہیں کافی محنت کرنی ہو گی۔
خان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا اور وہاج کا کندھا تھپتھپا کر وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے وہاج سوچ میں پڑ گیا تھا کہ اب وہ کیا کرے۔کیونکہ ارسم کو اس رشتے کے لیے راضی کرنا بہت مشکل تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
آگئے تم؟خان کو دیکھتے یی دادا جان نے تیکھے لہجے میں کہا۔
تحریم بھی وہی پر بیٹھی ہوئی تھی۔
دادا بجان مجھے عروہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔یہ میری زندگی ہے میں جس مرضی نکاح کروں یہ میرا مسئلہ ہے۔آپ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
خان کہہ کر وہاں سے جانے لگا جب دادا جان کی بات نے اس کے قدموں کو روکا تھا۔
تم اُس لڑکی کی خاطر اپنے دادا سے اس لہجے میں بات کر رہے ہو؟
دادا جان نے دکھی لہجے میں کہا۔
میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں دادا جان لیکن شروع سے آپ کو ہم سے زیادہ اپنے دوست کی فیملی پر یقین ہے۔وہ کچھ بھی کہہ دیں گئے آپ سچ مان لیں گئے۔
لیکن وہی بات اگر ہم میں سے کوئی کرے گا آپ یقین نہیں کریں گئے۔اتنا سب کچھ ہو گیا۔لیکن آپ نے ایک بار بھی سوچا کہ ڈیڈ کی اتنی بڑی کمپنی کیسے ایک دن میں ختم ہو گئی؟
کیسے ہمیں ایک چھوٹے سے گھر میں رہنا پڑا؟ اور یہ سب ڈیڈ کی ڈیتھ کے اگلے دن ہی ہو گیا؟ اور رحمان جس کی چھوٹی سی کمپنی تھی۔وہ کیسے ایک ہفتے میں کامیابیوں کی بلندیوں تک پہنچ گی؟
خان نے سنجیدگی سے دادا جان ہو دیکھتے کہا۔اس کے لہجے میں تکلیف تھی۔
تمھارے باپ کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔
اُس نے سارے شئیرز کم دام میں بیچ کر کمپنی کو برباد کر دیا۔
دادا جان نے غصے سے کہا۔
اور یہ کہانی بھی آپ کو رحمان نے ہی سنائی ہو گی۔ٹھیک ہے آپ کریں اُن پر یقین لیکن میرے معاملات میں کوئی دخل اندازی نہیں کرے گا۔کیونکہ یہ حق اپنے علاوہ میں کسی کو بھی نہیں دیتا۔خان نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
پیچھے تحریم نے بےبسی سے دادا جان کی طرف دیکھا تھا۔اور یہ بات سچ بھی تھی۔دادا جان رحمان کی فیملی پر زیادہ یقین کرتے تھے۔دادا جان بھی غصے میں اپنے کمرے کی طرح چلے گئے
💜 💜 💜 💜 💜