No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
قسط 4
کیا بکواس کر رہے ہیں آپ؟ عروہ نے خود میں ہمت جمع کرتے صفوان کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دھکا دیتے کہا۔
عروہ کے پیچھے کرنے پر تو نہیں لیکن صفوان خود ایک قدم اس سے پیچھے ہو کر کھڑا ہو گیا۔
اس کے اطمینان میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔
آپ کتنے گھٹیا انسان ہیں مجھے نہیں چاہیے آپ کے پیسے اور نا ہی آپ کی یہ جاب عروہ نے غصے سے صفوان کو دیکھتے کہا۔جو غور سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
عروہ کا چہرہ توہین کے مارے سرخ ہو گیا تھا۔
اس میں گھٹیا پن کیا ہے مس عروہ؟ گھٹیا تو اُس وقت ہوتا نا جب میں آپکو بنا نکاح کے رہنے کی آفر کرتا لیکن میں نے تو نکاح کی آفر کی۔
ہمارے درمیان ایک کنٹریکٹ ہو گا جب آپ میرے پیسے واپس کر دیں گی پھر آپ آذاد ہیں۔
لیکن جب تک آپ پیسے واپس نہیں کریں گی آپ میرے نکاح میں رہے گی اور میرے آفس میں آپ کو کام کرنا ہو گا۔
صفوان نے گہرے لہجے میں کہا۔
عروہ نے ایک غصیلی نگاہ صفوان پر ڈالی اور بنا کچھ کہے وہاں سے جانے لگی۔
مس عروہ یہ لیں میرا کارڈ آپ کل تک مجھے جواب دے دیں اگر آپ کا جواب ہاں ہوتا ہے تو بھی آپ مجھے انفارم کریں گی اگر نا ہوتا ہے پھر بھی آپ مجھے بتا دیں گی اگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا تو مجبوراً مجھے آپ کے گھر آنا ہو گا جواب کے لیے کیونکہ مجھے ادھورے کام پسند نہیں ہیں۔صفوان نے ہاتھ میں پکڑا کارڈ عروہ کے سامنے کرتے سنجیدگی سے کہا۔
آپ کو سب سے پہلے بات کرنے کی تمیز سیکھنی چاہیے مسٹر کہ کسی لڑکی کے ساتھ کیسے بات کرتے ہیں۔اور اپنے الفاظ کا چناؤ بھی ٹھیک کریں۔عروہ نے کرخت لہجے میں صفوان کے ہاتھ سے کارڈ چھینے کے انداز میں پکڑا اور وہاں سے چلی گئی صفوان کی باتوں نے اسے طیش دلا دیا تھا۔
صفوان کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ آکر مدھم ہوئی تھی۔
لڑکی میں ہمت تو ہے لیکن مجھے پورا یقین ہے تمھاری مجبوری دوبارہ تمہیں میرے سامنے لا کھڑا کرے گی۔صفوان نے گہرا سانس لیتے خود سے کہا اور دوبارا کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔
ناجانے وہ کیا کرنا چاہتا تھا۔
💜 💜 💜 💜
حمزہ تمھارے ڈیڈ تمہیں بلا رہے ہیں۔عظمیٰ نے اپنے بیٹے کو دیکھتے کہا جو کہی باہر جانے کی تیار میں تھا۔
موم ابھی مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے میں رات میں اُن سے ملتا ہوں۔
حمزہ نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
عظمیٰ نے پریشانی سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔ان کی اولاد کو بگاڑنے میں زیادہ ہاتھ ان کے باپ کا تھا۔
جو ان کی ہر جائز اور ناجائز بات کو پورا کرتے تھے۔اور اب تو حمزہ اپنے باپ کو بھی کسی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔
حمزہ کی گال پر ایک نشان تھا جو اسے کچھ سال پہلے ہی ملا تھا۔کیسے ملا یہ حمزہ نے کبھی کسی کو بتایا نہیں تھا۔
حمزہ گاڑی میں بیٹھا کسی کا انتظار کر رہا تھا۔جب اس کی نظر سامنے سڑک کراس کرتی لڑکی پر پڑی۔
جو شاید جلدی سڑک کراس کرنا چاہتی تھی۔اس لیے بنا دائیں جانب دیکھے سڑک کراس کرنے لگی لیکن ایک بائک جو تیز سپیڈ میں آرہی تھی اُس لڑکی کے بےحد قریب آکر رک گئی۔
اُس لڑکی نے زور سے چیخ ماری اور وہی بےہوش ہو کر گر گئی۔
بائیک والے نے بروقت بریک لگا لی تھی لیکن خوف کے مارے وہ بےہوش ہو گئی۔
حمزہ یہ منظر دیکھ رہا تھا اس نے سگریٹ سلگایا ہوا تھا۔
اسنے گاڑی کی کھڑکی سے سگریٹ باہر پھینکا اور دروازہ کھولے باہر آیا۔
وہاں جمع لوگ اُس لڑکی کو ہی کوس رہے تھے جنہوں نے اسے سڑک پار کرتے دیکھا تھا کیونکہ غلطی اُس لڑکی کی تھی۔
اگر تم میں کسی نے اس لڑکی کی مدد نہیں کرنی تو باتیں بھی مت کرو تم لوگ اُسے باتیں تو ایسے سنا رہے ہو جیسے وہ لڑکی سن رہی ہو۔
حمزہ نے سنجیدگی سے کہا اور زمین پر پڑی بےسدھ لڑکی کو اپنی بانہوں میں اُٹھایا اور اسے اپنی گاڑی کی طرف لے گیا۔
اس نے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر اُس لڑکی کو بیٹھایا۔اور پانی کی بھری بوتل اُس لڑکی پر انڈیل دی تھی۔
ملائکہ ہڑبڑا کر ہوش میں آئی۔اور خود کو کسی انجان کی گاڑی میں دیکھ کر ایک پل کے لیے ڈر گئی تھی۔
کون ہو تم؟ ملائکہ نے اپنی چادر ٹھیک کرتے پوچھا۔حمزہ سامنے سڑک پر دیکھ رہا تھا اس نے اپنے چہرے کا رخ ملائکہ کی طرف کیا جو حمزہ کے چہرے کا نشان دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔
تم مجھے کڈنیپ کر رہے ہو؟
دیکھو میں بہت غریب ہوں میری امی نے تمہیں کوئی پیسے نہیں دینے بلکہ وہ تو کہیں گی اچھا ہوا جان چھوٹی میری
میری ماں نے ایک پھوٹی کوڑی بھی تمہیں نہیں دینی اور اتنی بڑی گاڑی تمھارے پاس ہے پھر بھی تم ایسے کام کرتے ہوئے تمہیں شرم آنی چاہیے ملائکہ جو ایک بار بولنا شروع ہوئی تو بولتی چلی گئی۔اس وقت اسے اپنے حلیے کی بھی پرواہ نہیں تھی۔
حمزہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے اس نے آگے بڑھ کر ملائکہ کے منہ پر اپنا وزنی ہاتھ رکھتے اس کا منہ بند کیا۔
تمہیں نہیں لگتا کہ تمھاری زبان غلط وقت پر کچھ زیادہ ہی چلتی ہے؟ اور اب اگر تم نے اپنی زبان سے ایک لفظ بھی باہر نکالا تو کاٹ کر رکھ دوں گا۔
حمزہ نے سرد لہجے میں کہا تو ملائکہ نے آنکھیں پھاڑے حمزہ کو دیکھا تھا۔
نکلو میری گاڑی سے حمزہ جو ایک پل کے لیے ملائکہ کی گہری آنکھوں میں کھو گیا تھا اس نے ہوش میں آتے اس کے منہ سے ہاتھ پیچھے کرتے سیدھا ہوتے کہا۔
ملائکہ نے گاڑی سے باہر نکلنے سے پہلے ایک گھوری سے حمزہ کو نواز اور باہر نکل گئی۔
اس نے گاڑی کا دروازہ اپنا پورا زور لگا کر بند کیا تھا۔
حمزہ نے غصے سے سٹیرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی۔
پاگل لڑکی حمزہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور گاڑی سٹارٹ کرتے وہاں سے چلا گیا کیونکہ اب اس کا کسی سے بھی ملنے کا موڈ نہیں تھا۔
ملائکہ کے باپ نے دو شادیاں کی تھی ملائکہ پہلی بیوی میں سے تھی۔
ملائکہ کی ماں کی وفات کے بعد اس کے باپ نے دوسری شادی کی تھی۔اس کی سوتیلی ماں اس کے ساتھ نا زیادہ اچھی تھی نا زیادہ بری گھر کا سارا کام ملائکہ کرتی تھی تو اس کی ماں کو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
لیکن باہر جاتے ہوئے وہ ضد کرکے اپنی ماں کو ساتھ لے کر جاتی تھی لیکن اب اس کی ماں نے صاف انکار کر دیا تھا کہ اب وہ بار بار اس کے ساتھ باہر نہیں جائے گی اگر اسے جانا ہے تو اکیلی جائے تو مجبوراً اپنے کام کے لیے یا اس نے اپنی کچھ چیزیں لینی ہوتی تو اکیلی باہر آنا پڑتا۔
💜 💜 💜 💜 💜
بھائی…
بسمہ نے خان کے کمرے کا دروازہ ناک کیا اور اجازت ملنے پر اندر آتے اس نے خان کو پکارا۔
کیا ہوا مانو؟ خان نے بسمہ کو دیکھتے پوچھا۔
ارسم اور خان دونوں بسمہ کو پیار سے مانو کہتے تھے۔
بھائی بھابھی آئی ہیں بسمہ نے خان کو دیکھتے کہا۔
خان کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
مانو میری یا ارسم کی ابھی شادی نہیں ہوئی تو تمھاری بھابھی کہاں سے آگئی؟
خان نے کتاب بند کرتے سنجیدگی سے پوچھا۔
سوری بھائی وہ اس سے پہلے بسمہ ثانیہ کے آنے کا بتاتی وہ خود کمرے میں آگئی تھی۔
ٹھیک ہی تو وہ کہہ رہی ہے خان اُس کی بھابھی ہی تو میں لگتی ہوں۔
ثانیہ جو بسمہ کی بات سن چکی تھی اس نے مسکراتے ہوئے کہا ویسے تو اسے بسمہ پسند نہیں تھی لیکن اس کی یہ بات اسے اچھی لگی تھی۔
کیا اب تم یہی کھڑی رہو گی؟ جاؤ یہاں سے اور میرے لیے چائے بنا کر لاؤ ثانیہ نے بسمہ کو دیکھتے کہا۔
بسمہ نے ثانیہ کو دیکھا تو خاموشی کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔
تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی کہ کسی کے بھی کمرے میں آنے سے پہلے دروازے کو ناک کرنا چاہیے اور اجازت ملنے پت اندر آنا چاہیے خان نے بنا ثانیہ کو دیکھے سنجیدگی سے کہا۔
اپنے منگیتر کے کمرے میں آئی ہوں مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ناک یا کسی کی بھی اجازت کی ضرورت ہے۔ثانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کسی کی اجازت سے مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن یہاں میری اجازت لینا بہت ضروری ہے۔آئندہ میری اجازت کے بغیر میرے کمرے میں داخل مت ہونا اب تم جا سکتی ہو مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے۔
اور ہاں مانو سے عزت کے ساتھ پیش آیا کرو۔
خان نے کہا تو ثانیہ کا توہین کے مارے چہرہ سرخ ہو گھا تھا۔خان نے ایسا کچھ کہا نہیں تھا لیکن پھر بھی ثانیہ کو ایسا ہی لگا کہ خان نے اس کی بےعزتی کی ہے۔
اسے کبھی کسی نے پیار سے بھی ڈانٹا نہیں تھا اور بقول ثانیہ کے خان اس کی بےعزتی کر رہا تھا اور بسمہ کو اس پر فوقیت دے رہا تھا۔
تم اُس ملازمہ کو مجھ پر فوقیت دے رہے ہو؟ کیا اوقات ہے اُس کی میرے سامنے؟ ثانیہ نے چیختے ہوئے کہا۔
خان نے سرخ آنکھوں سے ثانیہ کو دیکھا اور غصے سے آگے بڑھتے اس کی گردن کو دبوچا۔
اپنی زبان پر قابو پاؤ ورنہ تمھاری قینچی جیسی چلتی زبان کو کاٹنے میں مجھے ایک سیکنڈ نہیں لگے گا۔
اور جسے تم ملازمہ کہہ رہی ہو وہ میری بہن ہے خان کی بہن سمجھی کسی نے بھی اُس کے بارے میں بکواس کی میں اُس کی جان لے لوں گا۔اب دفاع ہو جاؤں یہاں سے خان نے ثانیہ کو پیچھے دھکا دیتے ہوئے سرد لہجے میں کہا جو لڑکھڑا کر پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگی اور کھانستے ہوئے اپنے سانس کو بحال کرنے لگی۔
بہت برا کیا تم نے خان ثانیہ نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ایک ہاتھ ابھی بھی اس کا اپنی گردن پر تھا۔
ثانیہ نے ایک قہر برساتی نگاہ خان پر ڈالی اور وہاں سے چلی گئی۔
خان کی ماتھے کی رگیں پھول چکی تھیں کسی بھی طرح اس کا غصہ کم نہیں ہو رہا ثانیہ نے یہ بات کرکے جو خان کے دل میں اس کے لیے تھوڑی بہت عزت تھی اُسے بھی ختم کر دیا تھا۔
اس لیے اس نے گاڑی کی چابیاں اُٹھائی اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
لیکن یہ بات یہی پر ختم نہیں ہوئی تھی۔
ثانیہ نے گھر جاتے ہی پورے گھر کو رو رو سر پر اُٹھا لیا تھا۔
عظمیٰ بیگم بار بار اس سے وجہ پوچھ رہی تھیں لیکن وہ بس روئے جا رہی تھی۔
حمزہ اور وہاج بھی وہی آگے تھے۔آفاق پہلے سے وہاں پر موجود تھا۔
سلطان اور رحمان دونوں کام کے سلسلے میں دوسرے شہر گئے تھے اس لیے وہ دونوں گھر چہر نہیں تھے۔
ثمینہ ثانیہ کے پاس بیٹھی تھی۔ثانیہ اپنی پھوپھو کی چہیتی تھی یہ بات سب لوگ جانتے تھے۔
پھر سے کوئی نیا ڈرامہ شروع ہو گیا ہے وہاج نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا اور وہاں سے جانے لگا جب اس نے بسمہ کا نام سنا تو وہی رک گیا۔
کیا ہوا بیٹا؟ ثمینہ نے پیار سے پوچھا۔
کوثر بھی پریشانی سے ثانیہ کو دیکھ رہی تھی۔
پھوپھو میں تو خان سے ملنے گئی تھی لیکن جب میں خان کے کمرے میں داخل ہوئی تو ثانیہ کہتے ہی خاموش ہو گئی۔
کیا؟ ثمینہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
مجھے تو بتاتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے اس لیے خان مجھ سے شادی نہیں کر رہا وہ بسمہ کو پسند کرتا ہے۔اور کمرے میں وہ دونوں اس سے پہلے ثانیہ اپنی بات مکمل کرتی کوثر کی سرد آواز وہاں گونجی تھی۔
ثانیہ سوچ سمجھ کر بات کرو خان بسمہ کو بہن کہتا ہی نہیں بلکہ مانتا بھی ہے اور تم ان دونوں کے کردار پر کیچڑ اچھال رہی ہو۔کوثر نے سرد لہجے میں ثانیہ کو دیکھتے کہا۔
آپ تو دونوں کی سائیڈ لے گی ہی لیکن بسمہ اُس کی سگی بہن نہیں ہے اور جو میں نے دیکھا وہی میں نے بتایا۔ثانیہ نے بدتمیزی سے کوثر کو دیکھتے کہا۔
وہاج نے اپنی ہاتھ کی مٹھی بنا کر اپنے غصے کو کنٹرول کیا تھا۔
دوبارہ اگر نے میری ماں سے اونچی آواز میں بات کی تو بہت برا حال کروں گا تمیز تو تم میں ویسے ہی ختم ہو گئی ہے۔وہاج نے آگے بڑھتے ثانیہ کو تنبیہ کرتے کہا باقی سب خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہے تھے لیکن حمزہ اپنی بہن کو اچھی طرح جانتا تھا اور وہ خان کو بھی جانتا تھا کہ وہ کیسے کردار کا مالک ہے۔اس لیے وہ کافی حد تک معاملے کو سمجھ گیا تھا۔
وہاج ثانیہ کو کیا ضرورت ہے جھوٹ بولنے کی اُس نے جو دیکھا وہی بتاتا۔اور ہم کیا جانے کہ وہ لڑکی خان کے ساتھ کیا کرتی رہتی ہے نام کی ہی بہن ہے ثمینہ نے نحوست سے کہا اُس کے ہاتھ میں تو بات آگئی تھی۔
بس پھوپھو بہت ہو گیا۔
کیا ثبوت ہے اس کے پاس؟ کیسے ہم اس کی بات پر یقین کر لیں؟ اور خان کی عادت سے تو سب واقف ہیں اب بیٹھ کر یہ سوچو کہ تم نے جو خان پر الزام لگایا ہے اُسے ثابت کیسے کرو گی۔
کیونکہ یہ چھوٹی بات تو ہرگز نہیں ہے کل ڈیڈ اور تایا جان واپس آرہے ہیں میں خود اُن سے بات کروں گا۔اور پھر کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ سب کے سامنے آجائے گا لیکن بنا کوئی ثبوت کے کسی کے کردار کو اچھالا نہیں جائے گا۔
اور دوسری بات تم رات کے وقت وہاں کیوں گئی؟ کیا تمھارا وہاں جانا ٹھیک تھا؟
وہاج نے سرد لہجے میں پوچھا۔
ثانیہ اد کے سوال پت ہڑبڑا گئی تھی۔
وہاج نے ایک قہر برساتی نگاہ ثانیہ پت ڈالی اور وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
میری بچی تم پریشان مت ہو مجھے پتہ ہے کہ تم سچ بول رہی ہو ثمینہ نے ثانیہ کو گلے لگاتے کہا لیکن اُسے وہاج کی باتوں نے ٹیشن میں ڈال دیا تھا۔اور یہ چھوٹی بات تو بلکل بھی نہیں تھی۔
کوثر بھی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اُسے پورا یقین تھا کہ ثانیہ جھوٹ بول رہی ہے۔اسکا خان اور بسمہ ایسے نہیں ہو سکتے۔بسمہ کو تو وہ اپنی بہن مانتا ہے اور ثانیہ اتنا بڑا الزام اُس پر لگا رہی تھی۔
باقی سب بھی اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔
کوثر نے تحریم کو فون کرکے ساری بات کا بتا دیا تھا اُسے تو یقین نہیں آرہا تھا کہ ثانیہ اتنا بڑا الزام انکے بچوں پر لگا سکتی ہے۔
تحریم نے فون بند کیا لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے وہ سب کو بتائے۔
💜 💜 💜 💜
اگلے دن سلطان اور رحمان واپس آگئے تھے سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے جب وہاج نے بات شروع کی۔
ثانیہ کے ہاتھ سے چمچ پلیٹ میں گر گیا تھا۔
ڈیڈ اور تایا جان مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی بلکہ پھوپھو آپ کو تفصیل سے بتاتی ہیں۔وہاج نے طنزیہ لہجے میں کہا تو پھر ثمینہ نے سارا واقعہ نمک مرچ لگا کر دونوں کو بتا دیا۔
دونوں کو تو یقین نہیں آیا تھا۔
ثانیہ کیا تم ابھی بھی اپنی بات پر قائم ہو؟ رحمان نے اپنی بیٹی سے سرد لہجے میں پوچھا جو اپنے کہے جھوٹ میں پھنس چکی تھی۔
یس ڈیڈ ثانیہ نے بس اتنا ہی کہا۔
سلطان نے کوثر کی طرف دیکھا تھا جس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
رحمان اور سلطان دونوں کو اپنی بیویوں سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔
ورنہ اُنکو پہلے پتہ چل جاتا۔
وہاج دادا جان کا نمبر ملاؤ مجھے اُن سے بات کرنی ہے اگر اُن کے پوتے نے یہی سب حرکتیں کرنی ہے تو ہماری بیٹی کو کیوں اپنے نام سے باندھ کر رکھا ہے رحمان نے کہا تو وہاج نے جلدی نمبر ملا کر رحمان کی طرف فون بڑھایا۔
دوسری جانب دادا جان بھی بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔بسمہ لیٹ ناشتہ کرتی تھی اس لیے وہ یہاں نہیں تھی لیکن ارسم اور خان یہی پر تھے۔تحریم کچھ خاموش خاموش تھی۔سب نے یہ نوٹ کیا تھا وہ ٹھیک سے ناشتہ بھی نہیں کر رہی تھی۔
کیا ہوا پھوپھو آپ ٹھیک ہیں؟ خان تحریم کو دیکھتے پوچھا۔اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی ملازم نے آکر فون کو دادا جان کے سامنے کیا اور بتایا کہ رحمان صاحب کی کال آئی ہے۔
دادا جان نے فون کان سے لگایا لیکن جیسے وہ مقابل کی بات سنتے جا رہے تھے اُن کا چہرہ سرخ ہوتا جا رہا تھا۔
رحمان تم اپنی بیٹی کی بات پر یقین کرکے میرے بچوں پر اتنا بڑا الزام کیسے لگا سکتے ہو؟ تمہیں یہ بات کرتے ہوئے بھی شرم آنی چاہیے۔
دادا جان نے غصے س کہا اور فون بند کر دیا۔ارسم اور خان حیرانگی سے دادا جان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
دادا جان نے ایک نظر تحریم پر ڈالی اور وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے؟
خالہ جان یقیناً آپ جانتی ہیں؟ کیا بات ہے؟ ارسم نے تحریم کو دیکھتے پوچھا۔
وہ بیٹا…. تحریم کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے وہ بتائے۔
خان اور ارسم دونوں کی نظریں اس وقت تحریم پر جمی ہوئی تھیں۔
💜 💜 💜 💜
