Tarap Dil Ki By Ramsha Hayat Readelle 50058

Tarap Dil Ki By Ramsha Hayat Readelle 50058 Last updated: 5 July 2025

51.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarap Dil Ki By Ramsha Hayat

آج ہمیں تمھارے سسرال جانا ہے کیا تمہیں یاد نہیں ہے؟ دادا جان کی آواز اونچی ہو گئی تھی سامنے کھڑا شخص ہمیشہ اپنی من مانی کرتا تھا۔اور ان کے صبر کا امتحان لیتا تھا۔ یاد ہے دادا جان اسی لیے تو باہر جا رہا ہوں خان نے بے تاثر لہجے میں کہا۔ دادا جان اس کی صاف گوئی پر حیران ہوئے تھے۔ اپنے سسرال والوں کے سامنے تم ہمیں شرمندہ کرنا چاہتے ہو؟ آخر تم چاہتے کیا ہو؟ اگر تمہیں اُس لڑکی سے شادی نہیں کرنی تو رشتہ ختم کیوں نہیں کر دیتے کیوں اُس لڑکی کو اپنے نام سے باندھ کر تم نے رکھا ہوا ہے؟ جب سے واپس آئے ہو ایک بار بھی تم اپنے سسر سے ملنے نہیں گئے۔دادا جان نے سرد لہجے میں کہا۔

آپ لوگوں کو ہی تو شوق تھا دونوں خاندانوں کو ایک ساتھ جوڑنے کا تو اب مسئلہ کیا ہے؟ خان نے سامنے دروازے کی طرف اپنی نظریں گارڈھتے پوچھا۔ خان تم کرنا کیا چاہتے ہو؟ کیا وہ لڑکی ساری زندگی تمھارے نام سے جڑی رہے گی؟ ٹھیک ہے اس رشتے میں تمھاری مرضی نہیں تھی۔لیکن اب میں تمھاری اس خاموشی سے تنگ آگیا ہوں۔یا تو سیدھے طریقے سے شادی کرو یا اُس لڑکی کو اپنے نام سے جڑے رشتے سے آذاد کر دو. دادا جان نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ آذاد ہی تو نہیں کر سکتا دادا جان خان نے لہجے میں نفرت لیے کہا۔ اور پھر وہاں بنا دادا جان کا جواب سنے وہاں سے چلا گیا۔ دادا جان نے بےبسی سے اپنے پوتے ہو دیکھا تھا۔ وہ خود نہیں جانتے تھے کہ وہ چاہتا کیا ہے۔ 💜 💜 💜 💜💜

صفوان بیٹا کہاں جا رہے ہو؟ اپنے بھائی کو بھی ساتھ کھیلنے کے لیے لے جاؤ ورنہ وہ میرا سر کھائے گا۔ صفوان کی امی نے اپنے لاڈلے کو دیکھتے کہا. جو ہاتھ میں گیند پکڑے باہر جانے کی تیاری میں تھا۔ ماما وہ میرا سارا کھیل خراب کر دیتا ہے میں اُسے ساتھ لے کر نہیں جاؤں گا۔اور ابھی اُسے کھیلنا بھی نہیں آتا۔صفوان نے منہ بسوڑتے اپنی ماں کو دیکھتے کہا جو اپنے بیٹے کی بات سن کر ہنس پڑی تھی۔ بیٹا جب آپ چھوٹے تھے تو آپ کو بھی کھیلنا نہیں آتا تھا۔لیکن آپ کے پاپا پھر بھی آپ کے ساتھ کھیلتے تھے تو اب اگر آپ کے بھائی کو کھیلنا نہیں آتا تو آپ اُسے سیکھا دو پھر دونوں بھائی مل کر کھیلنا۔صفوان کی امی نے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ٹھیک ہے ماما میں اُسے ساتھ لے جاتا ہوں۔صفوان نے اپنی ماں کو دیکھتے مسکرا کر کہا۔ اس کی ماں کا مسکراتا چہرہ دھندلا ہو جاتا جا رہا تھا۔ ماما…. بیڈ پر لیٹے صفوان نے آنکھیں میچی ہوئی تھیں ماتھے پر بل ڈالے اس وقت اس کا پورا چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔ علی… صفوان چیختے ہوئے نیند سے جاگا اور گہرے سانس لیتے سامنے دیوار کو دیکھنے لگا۔جو اندھیرے کی وجہ سے نظر نہیں آرہی تھی۔ پورا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ کھڑکی سے چاند کی روشنی کمرے میں جھانک رہی تھی۔ صفوان نے گہرا سانس لیتے سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ کو اٹھایا اور گلاس میں پانی ڈال کر ایک ہی سانس میں سارا پانی پی گیا۔ پرانی اور تکلیف دہ یادوں نے آج تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔اس کا بھائی بار بار اس کے خواب میں آتا تھا۔ کاش وہ اُس وقت اپنی فیملی کو بچا سکتا تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔ بہت انتظار کر لیا میں نے اب باری بدلہ لینے کی ہے۔وہ لوگ سکون سے کیسے رہ سکتے ہیں جنہوں نے مجھ سے میری ساری خوشیاں چھین لی۔ صفوان اب کسی کو نہیں چھوڑے گا۔کسی کو بھی نہیں صفوان نے غصے سے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو دیکھتے کہا اور اپنا موبائل پکڑے ٹیریس کی طرف چلا گیا کیونکہ اب اسے نیند تو آنی نہیں تھی۔اور پھر سے اس نے پوری رات جاگ کر گزارنی تھی۔