51.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

قسط 11

عروہ کی جب آنکھ کھلی تو اس نے خود کو کسی انجان کمرے میں پایا۔
لیکن جیسے ہی اس یاد آیا کہ اس نے حمزہ کو دیکھا تھا اور پھر وہی بےہوش ہو گئی جلدی سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
صفوان صوفے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا عروہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔
سر میں کہاں ہوں؟ عروہ کی نظر جب خان پر پڑی تو اس نے پریشانی سے پوچھا۔
میرے فلیٹ پر اگر آپ کو یاد ہو تو آپ میری ہی بانہوں میں کسی کو دیکھ کر بےہوش ہوئی تھیں۔کون تھا وہ جیسے دیکھ کر آپ اتنی خوفزدہ ہوئی کہ بےہوش ہو گئ؟
خان اپنی جگہ سے اٹھ کر چلتا ہوا عروہ کے پاس آیا اور سنجیدگی سے پوچھا۔
میں کسی کو دیکھ کر بےہوش نہیں ہوئی تھی شاید میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے میں بےہوش ہو گئی۔
عروہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
مس عروہ اگر آپ سچ بول رہی ہیں تو نظریں کیوں چرا رہی ہیں؟ خان نے عروہ کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
سر یہ میرا ذاتی معاملہ ہے آپ پلیز اس کے بارے میں مجھ سے کچھ مت پوچھیں اور مجھے اب گھر جانا ہے۔عروہ نے صفوان کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے میں باہر آپ کا انتظار کر رہا ہوں اور ہاں ایک اور بات جب میں آپ کو لفٹ سے باہر لے کر آرہا تھا تو آفس کے لوگوں نے ہم دونوں کو دیکھا تو اس معاملے میں مجھ سے شکایت مت کیجیے گا۔کیونکہ میرے پاس کوئی جادو تو تھا نہیں جو میں آپ کو پکڑے غائب ہو جاتا۔خان نے تیکھے لہجے میں کہا۔
کیا ہم دونوں کو آفس سٹاف نے ایک ساتھ دیکھا؟ عروہ نے پریشانی سے خان کو دیکھتے پوچھا۔
مس ساتھ نہیں میری بانہوں میں سب نے دیکھا ہے۔خان نے اس کی بات بکی درستگی کرتے کہا۔اور وہاں سے چلا گیا۔
عروہ نے اپنا حلق تر کیا تھا۔
پتہ نہیں نہیں وہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گئے۔
عروہ نے دل میں سوچا اور وہاں سے باہر چلی گئی۔لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔کسی نے ان کو نہیں دیکھا تھا۔ہاں ایک انسان نے دیکھا تھا اور وہ تھا ارسم جسے خان کی بانہوں میں عروہ کو. دیکھ کت شوکڈ ضرور لگا تھا۔
عروہ کو ایک بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ حمزہ وہاں کیا کر رہا تھا۔
اب ناجانے آگے کیا ہونے والا تھا۔
💜 💜 💜 💜

حمزہ کام کی کیا صورتحال ہے؟ سب ٹھیک چل رہا ہے؟
رحمان نے حمزہ کو دیکھتے پوچھا۔
سب ٹھیک چل رہا ہے ڈیڈ لیکن مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔
حمزہ نے اپنے باپ کو دیکھتے کہا۔
ہاں کہو کیا بات ہے؟
رحمان نے پوچھا۔
ڈیڈ میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور اُس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
اور میں چاہتا ہوں کہ آپ شریف لوگوں کی طرح اُن کے گھر رشتہ لے کر جائیں۔
حمزہ نے سنجیدگی سے اپنے باپ کو دیکھتے کہا۔
کون ہے وہ لڑکی؟ رحمان نے پوچھا۔
اُس کا تعلق کسی امید خاندان سے نہیں ہے۔
اُس کے باپ کی ایک سبزی کی دکان ہے۔
حمزہ نے کہا تو رحمان نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
تمھارا ٹیسٹ کب سے خراب ہو گیا؟ اب تم ایک سبزی بیچنے والے کی لڑکی سے شادی کرو گئے؟
اور تمہیں لگتا ہے میں یعنی رحمان اُن غریب لوگوں کے گھر اپنے بیٹے کے رشتے کے لیے جاؤں گا؟ ہرگز نہیں اور میں تمھاری شادی کسی بھی ایسی لڑکی سے ہونے نہیں دوں گا جو غریب ہو۔غریب لفظ سے ہی مجھے نفرت ہے تم اچھی طرح جانتے ہو۔پھر بھی اُس لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو؟
اور اگر بات ایک دو راتیں گزارنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے تو تم جو کرنا چاہتے ہو کرو اُس لڑکی کے ساتھ جب دل بھر جائے تو چھوڑ دینا لیکن شادی تو بلکل بھی نہیں۔
رحمان نے سرد لہجے میں کہا۔
حمزہ ماتھے پر بل لیے اپنے باپ کی بات سن رہا تھا۔
ڈیڈ اگر وہ لڑکی مجھے ایک یا دو راتوں کے لیے چاہیے ہوتی تو کبھی بھی آپ کے پاس نا آتا۔
میں آپ کے پاس آیا ہوں تو اس کا مطلب ہے وہ لڑکی مجھے ساری زندگی کے لیے چاہیے۔ میں اُسے اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں۔
اس لیے آپ اُس کے گھر رشتہ لے کر جائیں گئے یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔اور آپ مجھے روک نہیں سکتے آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔
حمزہ نے غصے سے کہا اور کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
میری بھی ایک بات کان کھول کر سن لو میں کبھی بھی تمھاری شادی اُس لڑکی سے ہونے نہیں دوں گا۔رحمان نے پیچھے سے اونچی آواز میں کہا۔
لیکن حمزہ وہاں سے جا چکا تھا۔
رحمان نے اپنا موبائل نکالا اور کال ملائی۔
معلوم کرو کہ حمزہ کس لڑکی کے پیچھے پاگل ہوا پڑا ہے مجھے اُس کی تصویر چاہیے۔
رحمان نے اپنے آدمی کو کہتے ہی موبائل بند کر دیا.
میں بھی دیکھتا ہوں کہ کیسے تم اُس لڑکی سے شادی کرتے ہو۔رحمان نے سرد لہجے میں کہا اور خود بھی وہاں سے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜

عروہ گھر آئی تو بلقیس نے کہا کہ ملائکہ اسی کا انتظار کر رہی ہے تو عروہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔جہاں ملائکہ بیٹھی ہوئی تھی۔
خیریت؟ تم پریشان لگ رہی ہو؟ عروہ نے اپنی چادر اتراتے بیڈ پر رکھتے ملائکہ کو دیکھتے پوچھا۔
عروہ مجھے تم سے بات کرنی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کروں۔ملائکہ نے عروہ کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے سامنے بیٹھاتے ہوئے کہا۔
ہاں کیا ہوا؟ عروہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
تو ملائکہ نے ساری صورتحال عروہ کو بتا دی ارسم کو تھپڑ مارنے سے لے کر تھانے جانے والی بات تک اس نے سب عروہ کو بتا دیا تھا۔
تمھارے ساتھ اتنا کچھ ہو گیا اور تم مجھے اب بتا رہی ہو؟ عروہ نے ملائکہ کو گھورتے ہوئے کہا۔
مجھے لگا یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔اور اب تو مجھے یونیورسٹی بھی جانا ہے اگر نا گئی تو امی نے ویسے ہی میری جان نکال دینی ہے کہ پہلے میں جانے کی ضد کر رہی تھی اور اب چھوڑ رہی ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کرو؟ اگر اُن دونوں میں سے پھر کوئی میرے سامنے آگیا تو؟ پتہ نہیں وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔
میں کیا کروں مجھے سمجھ نہیں آرہی ملائکہ نے پریشانی سے پوچھا۔
تم اُن سے پوچھو کہ وہ دونوں چاہتے کیا ہیں؟ جہاں تک مجھے لگتا ہے وہ دونوں تمہیں پسند کرتے ہیں عروہ نے پر سوچ انداز میں کہا۔
عروہ میرا مزاح کا موڈ نہیں ہے۔
اس وقت میں بہت پریشان ہوں۔ملائکہ نے گھورتے ہوئے کہا۔
ارے میں مزاح نہیں کر رہی۔
دیکھو تم کب تک گھر میں چھپ کر بیٹھو گی اگر تم یونی چھوڑ بھی دیتی ہو تو یہ مسلے کا حل نہیں ہے وہ تمہیں کہی بھی مل سکتے ہیں اس لیے اُن سے پوچھ لو کہ وہ تم سے کیا چاہتے ہیں۔تم کہہ رہی تھی کہ وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں تو تم دونوں میں سے ایک سے بھی پوچھ لو گی تو پتہ چل جائے گا۔
عروہ نے سنجیدگی سے کہا۔
ہاں یہ ٹھیک ہے اور اللہ کرے مجھے وہ کھڑوس دوبارہ نا ملے ملائکہ نے ارسم کا سوچ کر جھرجھری لیتے کہا۔
وہ حمزہ سے زیادہ ارسم سے ڈر رہی تھی۔
ٹھیک ہے میں اب چلتی ہوں امی نا آجائے یہاں ملائکہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
ملائکہ اپنا خیال رکھنا عروہ نے کہا تو ملائکہ ہنس پڑی اور پھر وہاں سے چلی گئی۔
عروہ بھی فریش ہونے چلی گئی تھی۔

اگلے دن ملائکہ یونی کے لیے نکل گئی تھی ناجانے آج اسے لگ رہا تھا کہ کچھ عجیب ہونے والا ہے۔
لیکن پھر بھی اللہ کا نام لیتے یونی کے لیے نکل گئی۔
جب وہ بس میں بیٹھی تو اسے ایسا لگا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔لیکن جب مڑ کر دیکھتی تو کوئی بھی نا ہوتا۔
بس نے سٹاپ پر اتارا تو یونی تک اس نے پیدل چل کر جانا تھا۔اور سٹاپ سے یونی تک کا راستہ پانچ منٹ کا تھا۔
وہ اپنے دھیان چل رہی تھی جب کسی نے اسے پیچھے سے آکر اس کے منہ پر رومال رکھا۔ملائکہ وہی اُس شخص کی گرفت میں پھڑپھڑانے لگی تھی۔
لیکن پھر مقابل کی بانہوں میں بےہوش ہو گئی صبح کا وقت تھا اور اس راستے پر لوگ بھی نا ہونے کے برابر تھے۔
💜 💜 💜 💜
ڈیڈ خان کیسے شادی سے انکار کر سکتا ہے؟ مجھے اُسی سے شادی کرنی ہے۔
ثانیہ نے اپنے باپ کو دیکھتے روتے ہوئے کہا۔
ڈیڈ وہ اپنی پھوپھو سے بہت پیار کرتا ہے اور اُنکی خاطر وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جائے گا۔
آپ بس کسی طرح چچی کی لاعلمی میں خان کو پیغام بھجوا دیں کہ اگر خان نے مجھ سے شادی نہیں کی تو چاچو کوثر چچی کو بھی طلاق دے دیں گئے۔
ثانیہ نے اپنے دماغ میں.ل آتے خیال کو اپنے باپ تک پہنچاتے کہا۔
اگر سلطان کو پتہ چل گیا تو وہ کیا کرے گا؟
رحمان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ڈیڈ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی لیکن ابھی بس یہی راستہ ہے جس سے ہم خان کو ہینڈل کر سکتے ہیں۔
پھر یہ کام تم ہی کرو گی اور خان سے خود اس بارے میں خود بات کرو گی۔
رحمان نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ثانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
خان تم صرف میرے ہو تمہیں حاصل کرنے کے لیے میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوں۔
ثانیہ نے اپنے آنسو صاف کرتے مسکرا کر کہا اور اپنا موبائل اٹھائے اُسے دیکھنے لگی۔
💜 💜 💜 💜
مس عروہ آپ کا موبائل کہاں ہے صفوان نے آفس میں داخل ہوتی عروہ کو دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
عروہ جو ڈرتے ہوئے آفس میں داخل ہوئی تھی کہ جن سٹاف نے اسے دیکھا ہے وہ اسے دیکھ کر باتیں نا کریں اُن سے بچتے ہوئے اندر جا رہی تھی جب اسے صفوان ملا۔
جی سر وہ میرے بیگ میں ہے شاید چارجنگ نہیں ہے۔
عروہ نے صفوان کو دیکھتے کہا۔
کل آپ ایک عدد فائل گھر لے کر گئی تھیں۔اور اب مجھے وہ فائل چاہیے یقیناً آپ وہ فائل گھر چھوڑ کر آئی ہوں گی؟
صفوان نے دانت پیستے عروہ کو دیکھتے کہاجس نے پریشانی سے صفوان کی طرف دیکھا تھا کیونکہ وہ فائل سچ میں گھر پر بھول آئی تھی۔
سوری سر لیکن وہ فائل میں گھر بھول آئی ہوں عروہ نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔
شکر ہے آپ خود یہاں آگئی ورنہ مجھے تو لگ رہا تھا جیسے آپ کے حالات چل رہے کہی آپ خود کو ہی گھر پر نا بھول آئے۔
اور مس عروہ مجھے وہ فائل ایک گھنٹے کے اندر چاہیے۔ ابھی آپ گھر واپس جائیں گی اور فائل لے کر آئے گی دوسری بات جب بھی میں کال کروں آپ کا موبائل اون ہونا چاہیے اور پہلی بیل پر ہی کال اٹینڈ ہونی چاہیے ورنہ آپ اچھی طرح جانتی ہیں۔صفوان طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
کھڑوس انسان عروہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
کل حمزہ ارسم کے بارے میں ہی خان سے بات کرنے آیا تھا لیکن آفس آکر اسے پتہ چلا کہ خان آفس میں نہیں ہے اس لیے واپس آگیا۔

اور اب عروہ کو دوبارہ گھر واپس جانا تھا۔
اس لیے منہ بسوڑتے آفس سے نکل گئی۔
صفوان نے جو ڈرائیور عروہ کے لیے رکھا تھا عروہ غصے میں اُس کے ساتھ نہیں گئی بلکہ رکشہ لے کر گھر گئی تھی۔
عروہ گھر گئی اور وہاں سے وہ فائل لے کر دوبارہ آفس آئی۔
سر یہ آپ کی فائل عروہ نے روم میں داخل ہوتے صفوان کو دیکھتے کہا۔جو اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر مسکرا پڑا تھا۔
آپ تو بڑی جلدی فائل لے آئی مس عروہ صفوان نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے کہا۔اور پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
عروہ نے ایک نظر صفوان کو دیکھا پھر پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے پینے لگی۔
اتنے میں ارسم دروازہ ناک کرتے اندر آیا اسکے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔
خان حمزہ کیا لینے آیا ہے یہاں؟ وہ کل بھی آیا تھا؟ ارسم نے خان کو دیکھتے پوچھا۔
لیکن حمزہ کا نام سن کر عروہ جو پانی پی رہی تھی زور زور سے کھانسنے لگی۔
خان اور ارسم دونوں نے عروہ کو دیکھا تھا۔
آپ ٹھیک ہیں؟ ارسم نے عروہ کو دیکھتے پوچھا۔
جس نے خان کی طرف دیکھا تھا۔
ارسم وہ مجھ سے ملنے آیا ہے تو میں اُس سے بات کرتا ہوں تم جاؤ ابھی خان نے سنجیدگی سے کہا۔تو ارسم اثبات میں سر ہلائے وہاں سے چلا گیا۔
آپ ٹھیک ہیں؟ صفوان نے عروہ کو دیکھتے پوچھا۔
کیا وہ یہاں آپ سے ملنے آئے گئے؟ عروہ نے صفوان کو دیکھتے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔اور اپنے ماتھے کا پسینہ صاف کیا۔
کون؟ صفوان نے انجان بنتے پوچھا۔
وہ عروہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرح حمزہ کا پوچھے۔
مس عروہ آپ کی طبعیت ٹھیک ہے؟ صفوان اس بار فکر مندی سے پوچھا۔
کیونکہ عروہ چہرے کا رنگ پیلا ہو گیا تھا۔
جی می میں ٹھیک ہوں۔عروہ نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔
فکر مت کریں میری اجازت کے بغیر یہاں کوئی نہیں آئے گا۔صفوان نے کہا تو عروہ تھوڑی پرسکون ہوئی تھی۔
مس عروہ ہر بار آپ اُس سے چھپ نہیں سکتی کبھی نا کبھی تو آپ دونوں کی ملاقات ضرور ہو گی تو کیوں نا ایک بار آپ خود ہی اُس کے سامنے آجائیں۔آپ کا خوف بھی ختم ہو جائے گا۔صفوان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
عروہ خاموش رہی تھی۔
صفوان نے ایک نظر اس پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔
لیکن عروہ کے دماغ میں اچانک خیال آیا کہ اب وہ کیوں اُس آدمی کو پیسے دے اب تو حمزہ اس کے سامنے سہی سلامت ہے۔
جس بات کو لے کر وہ آدمی اسے تنگ کر رہا تھا ویسا تو کچھ بھی نہیں ہے اور وہ پیسے صفوان کو واپس کر دے گی تو اسے یہ جاب بھی نہیں کرنی پڑگی نا وہ یہاں آئے گی اور نا ہی اُس کا سامنا حمزہ سے ہو گا۔
یہ عروہ نے سوچا تھا آگے صفوان کیا کرنے والا تھا وہ تو صرف اُسے ہی معلوم تھا اتنی آسانی سے تو وہ اُس کا پیچھا نہیں چھوڑنے والا تھا۔
💜 💜 💜 💜