110.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

پھر کیا سوچا تم نے؟ دادا جان نے خان کی طرف دیکھتے پوچھا۔
اس وقت سب لوگ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔
کس بارے میں؟ خان نے پوچھا۔
بسمہ کے بارے میں دادا جان نے اسے یاد دلاتے کہا۔
دادا جان حمزہ کے ساتھ میں اپنی بہن کی شادی کبھی نہیں کروں گا۔وہ میری بہن کے لائق نہیں ہے۔خان نے سنجیدگی سے کہا۔
میں بھی خان کی بات سے متفق ہوں۔وہ انسان ہماری بہن کے لائق نہیں ہے۔
ارسم نے بھی خان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔
اور تمھارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ دادا جان نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
رشتہ ختم کر دیں۔خان نے کندھے اچکاتے کہا تو ارسم کے ہاتھ سے چمچ چھوٹ کر پلیٹ میں گرا تھا۔تحریم نے بھی حیرانگی سے خان کی طرف دیکھا۔
کیا کہا تم نے؟ دادا جان نے حیرانگی سے پوچھا۔
رشتہ ختم کر دیں میں نا تو پہلے اُس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا نا اب اور جو اب اُس نے حرکت کی ہے ۔اُس کے بعد تو بلکل بھی نہیں خان نے عام سے لہجے میں کہا۔
تو اتنے سال تم نے کیوں اُسے اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر رکھا ہوا تھا؟ اور اب میں کیا جواب دوں گا رحمان کو؟ دادا جان نے غصے سے پوچھا۔
یہ آپ کا مسئلہ ہے دادا جان
خان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
خان تم کسی کو پسند کرتے ہو؟ خان وہاں سے مڑ کر جانے لگا جب دادا جان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
آپ نے یہ سوال کیوں پوچھا؟ خان نے مڑتے دادا جان کو دیکھتے پوچھا۔
یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔دادا جان نے دانت پیستے کہا۔
دادا جان ایسا کچھ نہیں ہے لیکن اب میں مزید اُس لڑکی کو برداشت نہیں کرسکتا اس لیے اس رشتے کو ختم کر دیں۔
خان کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
کیا تم ہی اس بارے میں کچھ معلوم ہے؟
دادا جان نے ارسم کو دیکھتے پوچھا۔
نانا جان آپ کا پوتا جو بھی کرتا ہے یہ اُس کے علاوہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتا تو آپ مجھ سے تو اس بارے میں کچھ نا ہی پوچھیں۔
ارسم نے کندھے اچکاتے کہا۔
تم دونوں ایک جیسے ہو سب جانتے ہو ایک دوسرے کے بارے میں۔
جانتا ہوں میں دادا جان نے ارسم کو گھورتے ہوئے کہا۔
لیکن نانا جان اس بارے میں میں سچ میں کچھ نہیں جانتا۔
ارسم نے جلدی سے صفائی دیتے کہا۔
میں بھی چلتا ہوں ارسم نے کہا اور جلدی سے اُٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔
پتہ نہیں یہ دونوں کیا کرنا چاہتے ہیں۔
دادا جان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔
تحریم دادا جان کی بات سن کر مسکرا پڑی تھی۔اور ناشتہ کرنے لگی۔
💜 💜 💜 💜
ارسم اپنے آفس میں بیٹھا ملائکہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
اسے لگا کہ اس نے اُس دن اُس لڑکی کے ساتھ غلط کیا تھا وہ کتنی ڈری ہوئی تھی۔
لیکن اُس نے بھی تو مارکیٹ میں مجھے تھپڑ مارا تھا۔
اگر میں چاہوں تو یہ سب بھول سکتا ہوں۔
اور اُس تھپڑ کے لیے اُسے معاف بھی کر سکتا ہوں۔کیونکہ میں ایسا انسان نہیں ہوں جو ایک تھپڑ کی خاطر ایک لڑکی کی زندگی خراب کر دوں۔
ہاں پہلے مجھے بہت غصہ تھا اور اگر اُس وقت وہ لڑکی مجھے مل بھی جاتی تو ناجانے میں کیا کر گزرتا۔لیکن اب میرا غصہ ٹھنڈا ہو چکا ہے۔
لیکن ایک بار میں ضرور تم سے ملنا چاہوں گا۔اگر قسمت نے چاہا تو ہم ضرور ایک بار پھر ملے گئے۔
ارسم نے پرسوچ انداز میں کہا اور اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا۔
شٹ مجھے تو بسمہ کو پک کرنا تھا۔
ارسم نے جلدی سے اٹھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
یونی کے باہر پہنچتے ہی وہ گاڑی سے باہر نکلا۔اور بسمہ کا انتظار کرنے لگا۔
ملائکہ جو یونی سے باہر آرہی تھی اس کی نظر ارسم پر پڑی تو فوراً الٹے قدم لیتے دوبارا یونی کے اندر چلی گئی۔
ارسم کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی۔
اس نے بہت سوچا تھا۔
پڑھنا اس کا شوق تھا اور اتنی محنت کر بعد اسے آگے پڑھنے کا موقع ملا تھا تو ڈر کر وہ گنوانا نہیں چاہتی تھی۔
ملائکہ الٹے قدم لیتی پیچھے کی طرف بھاگی لیکن پیچھے سے آتی بسمہ کے ساتھ اس کا زبردست تصادم ہوا اور دونوں زمین بوس ہو گئی۔
بسمہ نیچے جبکہ ملائکہ اس کے اوپر تھی۔
ایم سوری میری غلطی ہے آپ کو لگی تو نہیں؟ ملائکہ نے شرمندہ لہجے میں بسمہ کو دیکھتے کہا۔
جو اُٹھ کر ملائکہ کا ہاتھ پکڑے کھڑی ہو گئی اور اپنے کپڑے جھاڑنے لگی۔
نہیں کوئی بات نہیں میں ٹھیک ہوں۔
آپ ٹھیک ہیں؟ بسمہ نے ملائکہ کو دیکھتے پوچھا۔
جی میں ٹھیک ہوں۔ملائکہ نے مسکرا کر کہا اور یونی کے اندر چلی گئی۔
ملائکہ بھی باہر آگئی تھی۔
جہاں ارسم کھڑا اس کا انتظار کررہا تھا۔
بسمہ کے آتے ہی اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا
اور اس کے بیٹھتے ہی گاڑی سٹارٹ کیے وہاں سے چلا گیا۔
ملائکہ نے باہر نکل کر دیکھا۔تو اب وہاں کوئی نہیں تھا اس لیے سکون کا سانس لیتے وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
ماں کاش آپ میرے ساتھ ہوتی تو دیکھتی کہ آپ کا بیٹا بھی ایک کامیاب بزنس مین بن گیا ہے۔
اُن لوگوں نے ہم سے سب کچھ چھین لیا لیکن دیکھیے آج صفوان کو ہر کوئی جانتا ہے۔
آج میرے پاس بہت پیسہ ہے۔ان پیسوں سے میں آپ کو واپس نہیں لا سکتا۔
لیکن اس پیسے کا استعمال کرکے میں اُن لوگوں کو ویسے ہی تکلیف دے سکتا ہوں جیسے انہوں نے آپ سب کو دی۔
صفوان نے اپنی ماں کی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
کمرے کی ساری لائٹس بند تھیں چاند کی روشنی کمرے میں آرہی تھی۔
جانتی ہیں میں نے نکاح کر لیا۔
اُس انسان کی بیٹی سے جو آپ کے قاتلوں میں شامل تھا۔
میں اُسے بھی ویسی ہی تکلیف دوں گا جیسی آپ کے جانے کے بعد مجھے ملی۔
میں اُسے بھی اتنی ہی اذیت دوں گا جتنی مجھے ملی۔اُس کی زندگی میں جہنم بنا دوں گا۔
میں اُسے پل پل تڑپتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔بہت انتظار کیا ہے میں نے اس پل کا
اور ایک ایک کرکے اُن سب کو مار دوں گا جنہوں نے آپ کو اور بھائی کو تکلیف پہنچائی۔
صفوان نے سنجیدگی سے تصویر کو دیکھتے کہا۔
ناجانے وہ عروہ کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔
لیکن اس کے ادارے خطرناک ہی لگ رہے تھے۔
💜 💜 💜 💜 💜
آج میری ایک بہت اہم میٹنگ تھی آپ نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟
اگلے دن صفوان کافی مصروف رہا تھا۔آج اس کی بہت اہم میٹنگ تھی لیکن عروہ نے اسے یاد نہیں دلایا۔
یہ جاب اس کے لیے نئی تھی بلکہ سب کچھ نیا تھا۔اور وہ تھوڑا گھبرا بھی رہی تھی۔
وہ سر مجھے یاد نہیں رہا۔
عروہ نے نظریں جھکا کر شرمندہ لہجے میں کہا۔
میری اتنی اہم میٹنگ تھی اور آپ کہہ رہی ہیں کہ آپ بھول گئی؟ اس طرح آپ کام کریں گی؟ ابھی آپ کو آئے دو دن نہیں ہوئی اور آپ غیر زمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
صفوان نے سرد لہجے میں عروہ کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتے کہا۔
ناجانے کیوں اسے آج غصہ بہت آرہا تھا۔
اور سارا غصہ عروہ پر نکل رہا تھا۔
اب آپ مجھے بتانا پسند کریں گئی؟ اب میری کون سی میٹنگ ہے؟ صفوان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
لیکن عروہ ابھی بھی نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
میں نے آپ سے کچھ پوچھا ہے مجھے بتانا پسند کریں گی؟ صفوان نے عروہ کی طرف دیکھتے کہاجس نے نظریں اٹھا کر سامنے کھڑے کھڑوس انسان کو دیکھا تھا۔
آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں نے اس کے پورے چہرے کو بگو دیا تھا۔
عروہ کے آنسوؤں کو دیکھ کر صفوان نے زور سے اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اسے بھینچا تھا۔
مس عروہ اگر آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے بیٹھ جائیں گی تو کام کیسے کریں گی؟
صفوان نے گہرا سانس لیتے اپنے غصے کو کنٹرول کرتے کہا۔
سوری عروہ نے بس اتنا ہی کہا تھا اور اس سے زیادہ کچھ کہنے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔
جائیں یہاں سے صفوان نے کہا۔
عروہ ایک سیکنڈ سے پہلے وہاں سے گئی تھی۔
وہ جب آفس سے باہر نکلی تو اندر آتے صفوان کے مینیجر سے اس کا زور دار ٹکراؤ ہوا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی مینیجر نے عروہ کو کلائی سے پکڑ کر گرنے سے بچایا تھا اور یہ منظر صفوان نے دانت پیستے دیکھا تھا۔
آپ ٹھیک ہیں؟ مینجر نے عروہ کی سرخ آنکھیں دیکھتے پوچھا۔
جی عروہ نے جلدی سے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
مینیجر نے صفوان کی طرف دیکھا جو اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے آنکھوں سے سالم نگل جائے گا۔
سر مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔مینیجر نے کہا تو صفوان نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
اور کام کی بات کرنے لگے۔
لیکن صفوان کا دھیان بار بار بھٹک کر عروہ کی طرف جا ریا تھا لیکن ابھی اُسے یہ نہیں معلوم تھا کہ عروہ میڈم غصے میں گھر کے لیے نکل چکی ہیں۔
💜 💜 💜 💜
حمزہ آج خود ملائکہ کو ڈھونڈ رہا تھا۔
اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ آج اسے ڈھونڈ رہا تھا۔
جہاں وہ اسے پہلی بار ملی تھی وہاں بھی گیا تھا لیکن وہ اسے کہی نہیں ملی اور اب اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا ہاتھ میں اس نے ملائکہ کا بریسلٹ پکڑا ہوا تھا۔
جب اس کی نظر سامنے موبائل شاپ پر پڑی جہاں سے اسے ایک لڑکی نکلتی ہوئی نظر آئی جو حلیے سے اسے ملائکہ کے جیسی ہی لگی تھی۔لیکن وہ کافی دور تھی۔
اس نے پیسے جمع کیے تھے اور موبائل لینے آئی تھی کیونکہ کام کے سلسلے میں اسے ضرورت پڑنے والی تھی۔
وہ اپنے دھیان ہی چل رہی تھی۔جب حمزہ نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔
تم دیکھ کر نہیں چل سکتی؟ حمزہ نے ملائکہ کو دیکھتے سرد لہجے میں پوچھا کیونکہ وہ نظریں جھکائے چل رہی تھی۔اور ایک گاڑی اس کے پیچھے آرہی تھی۔
آپ کو اور کوئی کام نہیں ہے جو ہمیشہ میرے سامنے آجاتے ہیں؟ ملائکہ نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
ابھی بھی اس کا ہاتھ حمزہ کے ہاتھ میں تھا۔
ہو سکتا ہے قسمت ہمیں بار بار ملانا چاہتی ہو۔
حمزہ نے پرسکون سے انداز میں اسے دیکھتے کہا۔
لیکن دور کھڑا ارسم جو بسمہ کے کہنے پر خود اُسکے لیے موبائل لینے آیا تھا اس نے جب حمزہ کو ملائکہ کے ساتھ دیکھا تو پہلے تو اسے یقین نہیں آیا۔لیکن پھر اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
یہ اس لڑکی کو کیسے جانتا ہے؟ لگتا ہے اس لڑکی کو اپنی جان عزیز نہیں ہے۔ارسم نے دانت پیستے کہا۔
پہلے تو میرا ارادہ تمھارا پیچھا چھوڑ دینے کا تھا لیکن اب نہیں ارسم نے سرد لہجے میں کہا۔
مجھے گھر جانا ہے آپ پلیز مجھے راستہ دیں۔
ملائکہ نے کہا تو حمزہ جلدی سے ہوش میں آیا۔
ہاں جاؤ حمزہ نے پیچھے ہوتے کہا تو ملائکہ اسے ایک گھوری سے نواز کر وہاں سے چلی گئی۔
ابھی ملائکہ نے کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا جب سامنے اسے ارسم کھڑا ہوا نظر آیا۔
ارسم کو دیکھتے ملائکہ نے ڈر سے اپنا حلق تر کیا تھا۔
لگتا ہے آج کا دن ہی برا ہے۔یہ دونوں ہمیشہ مجھے ہی کیوں ملتے ہیں ان کو کوئی اور کام نہیں ہوتا۔
ملائکہ نے دل میں سوچا۔اس کا ارادہ وہاں سے بھاگنے کا تھا۔لیکن ارسم چلتا ہوا اسکے پاس آیا اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ ارسم سے ڈر رہی ہے۔
تم اُس لڑکے کو کیسے جانتی ہو؟ اور وہ تمہیں چھو کیوں رہا تھا؟ ارسم نے ملائکہ کے قریب آتے اسے کندھوں سے پکڑ کر غصے سے پوچھا۔ملائکہ کو ارسم کی انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں تم ہوتے کون ہو مجھ سے پوچھنے والے؟ میرے باپ لگتے ہو؟ تمھارا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے۔اس بار ملائکہ نے اپنے ڈر پر قابو پاتے ارسم کو پیچھے دھکا دیتے کہا۔
وہ تنگ آگئی تھی۔اور اب تو اس کا صبر جواب دے گیا تھا۔
حق ٹھیک ہے حق بھی حاصل کر لیتا ہوں۔
ارسم نے سرد لہجے میں ملائکہ کو بازو سے پکڑتے کہا اور اسے وہاں سے لے جانے لگا جب حمزہ نے آتے ہی اس کے جبڑے پر زور سے مکا دے مارا۔
ملائکہ کے جانے کے بعد اسے ہوش آیا تو اس کے سوچا اُد سے نمبر ہی لے لیتا اس لیے اس کے پیچھے آیا تھا۔لیکن ارسم کو. دیکھ کر اس کا خون خول گیا۔
ملائکہ ڈر سے چیخ مارے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گئی تھی۔اور منہ پر ہاتھ رکھے دونوں کو دیکھنے لگی۔
ارسم نے سرخ آنکھوں سے حمزہ کو دیکھا جو غصے سے اسے دیکھ رہا تھا۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی اُسے ہاتھ لگانے کی حمزہ نے آگے بڑھتے ارسم کا گریبان پکڑتے سرد لہجے میں کہا۔
تیری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ارسم نے کہتے ہی حمزہ کے منہ پر بھی مکا دے مارا۔
ملائکہ دور کھڑی رونے کا کام سر انجام دے رہی تھی۔اس سے پہلے وہ دونوں کی طرف اپنے قدم بڑھاتی ارسم کی کرخت آواز گونجی تھی۔
اگر تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو سب سے پہلے تمھاری ٹانگیں توڑوں گا۔
ارسم نے ملائکہ کو دیکھتے کہا جس کے پاؤں کو وہی بریک لگی تھی۔
دونوں ایک دوسرے کی جان لینے کے در پر تھے۔
لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔
کیا ہو رہا ہے یہاں؟ انسپکٹر جو وہاں سے گزر رہا تھا بھیڑ دیکھ کر وہاں پر آیا۔
دونوں کو پولیس اہلکاروں نے ایک دوسرے سے الگ کیا تھا۔
تم دونوں کو تھانے جانا ہو گا اور وہ لڑکی انسپکٹر نے ملائکہ کی طرف اشارہ کیا۔
نہیں وہ کہی نہیں جائے گی۔دونوں نے جلدی سے کہا۔
سر اُس لڑکی کا اس سارے معاملے سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔
میں آپ کے ساتھ تھانے چلتا ہوں۔
ارسم نے اپنے ہونٹ سے نکلتے خون کو صاف کرتے کہا۔
مجھے تو ایسا لگ رہا ہے تم دونوں اُس لڑکی کی وجہ سے ہی جھگڑ رہے تھے تو اُس لڑکی کا بھی تھانے جانا ضروری ہے انسپکٹر نے بھاری لہجے میں کہا۔
ملائکہ نے جب تھانے کا سنا تو اس کے رونے میں روانگی آگئی تھی۔
ارسم نے ملائکہ کی طرف دیکھا تھا جو کھڑی رو رہی تھی حمزہ تو پہلے سے اسے دیکھ رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜