No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ایک لڑکی کی تصور بھیج رہا ہوں۔اُس لڑکی پر نظر رکھو اور دیکھو وہ کس کے ساتھ آتی جاتی ہے؟ کیا کرتی ہے؟ اُس کی پل پل کی خبر مجھے چاہیے۔
رحمان نے موبائل کان سے لگائے سنجیدگی سے کہا۔
ایک دو اور ہدایت دینے کے بعد اس نے فون بند کر دیا تھا۔
ڈیڈ کیا کرنے والے ہیں آپ؟ حمزہ جو اپنے باپ کی بات کرتے سن چکا تھا اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
تم اس معاملے میں نا ہی پڑو تو بہتر ہے۔خان یہاں آیا تمھاری بہن کو تھپڑ مار کر گیا اور تمہیں کوئی پرواہ نہیں ہے؟
رحمان نے غصے سے کہا۔
ڈیڈ آپ کی آنکھوں پر تو اپنی بیٹی کے پیار کی پٹی بندھی ہوئی ہے لیکن میں اُس کی فطرت سے اچھی طرح واقف ہوں۔
حمزہ نے عام سے لہجے میں کہا۔
کیا کہنا چاہتے ہو تم؟ صاف صاف لفظوں میں کہو۔رحمان نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
کچھ نہیں لیکن آپ کو مشورہ دینا چاہتا ہوں آپ جو بھی کرنا چاہتے ہیں اُس کے لیے آپ کو دادا جان سے معافی مانگنی ہو گی اُس کے بعد آپ کچھ بھی کریں کسی کا شک آپ پر نہیں جائے گا لیکن ابھی اگر آپ نے بسمہ کے ساتھ کچھ بھی کیا تو خان کا صاف شک آپ کی طرف جائے گا تو بہتر یہی ہے کہ آپ دادا جان سے اپنے رویے کی معافی مانگ لیں۔حمزہ نے سمجھداری سے کہا۔
حمزہ کی بات سن کر رحمان بھی سوچ میں پڑ گیا تھا۔حمزہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔
وہ اپنی بات کہہ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔
اگر وہ چاہتا تو اپنے باپ کو روک سکتا تھا لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا۔
💜 💜 💜 💜💜
اگلے دن عروہ صفوان کے آفس میں موجود تھی۔
پریشانی سے وہ کرسی پر بیٹھی اپنے ہاتھوں کو مڑوڑ رہی تھی۔
جب سے وہ آئی تھی خاموش بیٹھی تھی۔
اور صفوان سامنے بیٹھا اس کی حرکات دیکھ رہا تھا۔
آپ مجھے گھورنا بند کریں گئے؟ عروہ نے آخر کار اکتا کر کہا۔اسے صفوان کی نظروں سے اسے خوف آرہا تھا۔
مس آپ کو یہاں آئے آدھا گھنٹا ہو گیا ہے آپ نے تو مجھے سلام تک کرنا گوارا نہیں سمجھا اور اب اگر آپ بولی بھی ہیں تو یہ مجھے گھورنا بند کرو۔صفوان نے تھوڑا آگے جھکتے سنجیدگی سے کہا وہ جانتا تھا کہ اس وقت عروہ کس قدر گھبرائی ہوئی ہے وہ بہادر بننے کی پوری کوشش کر رہی تھی لیکن اس کے چہرے کو دیکھتے صاف نظر آرہا تھا کہ وہ ڈر رہی ہے۔
سوری السلام علیکم
عروہ نے شرمندگی سے کہا۔وہ اتنا گھبرائی ہوئی تھی کہ اُسے سلام کرنا بھی یاد نہیں رہا تھا۔
مس عروہ یہ کنٹریکٹ پیپرز ہیں۔ان کو اچھی طرح پڑھ لیں۔
اور جب تک آپ میری ساری رقم ادا نہیں کر دیتی آپ اس آفس کو چھوڑ نہیں جا سکتی اور نا میں آپ کو طلاق دوں گا۔اگر آپ آفس کو چھوڑ دیتی ہیں اور طلاق مانگتی ہیں رقم ادا کرنے سے پہلے تو اپ کو مجھے پانچ گنا زیادہ رقم دینی ہوگی۔
صفوان نے عروہ کے تاثرات دیکھتے سلام کا جواب دینے کے بعد کہا۔
پانچ گنا؟ عروہ نے آنکھیں پھاڑے پوچھا۔
جی بلکل ٹھیک سنا آپ نے صفوان نے گہرا سانس لیتے کہا۔
میں آپ کے آفس میں کام کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن کیا نکاح کرنا ضروری ہے؟ عروہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
مس عروہ نکاح کرنا بہت ضروری ہے اور میرے لیے تو بےحد ضروری ہے۔صفوان نے سرد لہجے میں عروہ کو دیکھتے کہا۔لیکن اُسے ابھی بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔کہ صفوان اسے اپنے جال میں پھنسا رہا ہے اور وہ آسانی سے پھنستی جا رہی تھی۔
عروہ نے کنٹریکٹ پیپرز پڑھے لیکن اس میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو اسے ٹھیک نا لگا ہو۔اس میں نکاح کا بھی لکھا ہوا تھا۔
جب آپ کا نکاح میرے ساتھ ہو گا تو اُسی وقت میں آپ کو بیس لاکھ دے دوں گا۔
صفوان نے سنجیدگی سے کہا۔
عروہ نے ایک نظر صفوان کو دیکھا اور گہرا سانس لیتے کنٹریکٹ پیپرز پر سائن کر دیے۔
صفوان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
میری بھی کچھ شرائط ہیں۔
عروہ نے سائن کرنے کے بعد کہا۔
اگر آپ کی شرائط مناسب ہوئی تو میں ضرور پوری کروں گا۔
صفوان نے پرسرار لہجے میں عروہ کو دیکھتے کہا۔
میرے نکاح کا ہم دونوں کے علاوہ کسی کو بھی پتہ نہیں چلے گا۔نا آپ کے گھر والوں کو نا میرے گھر والوں کو اور نا اپ میری پرسنل زندگی میں دخل اندازی کریں گئے نا میں کرو گی۔
عروہ نے صفوان کو دیکھتے کہا۔
اوکے اور؟
آپ اس نکاح کا فائدہ اٹھاتے کبھی میرے قریب آنے کی کوشش نہیں کریں گئے۔عروہ نے نظریں جھکا کر کہا۔
صفوان نے نفی میں سر ہلایا۔
ٹھیک ہے اور؟
صفوان نے پوچھا۔
اور میں دو دن کے بعد سے آفس جوائن کروں گی۔عروہ نے اپنی آخری شرط بتائی۔
مجھے آپ کی ساری شرائط منظور ہے۔لیکن میں چاہتا ہوں ہمارا نکاح آج ہی ہو۔
صفوان نے سنجیدگی سے کہا۔
آج؟ عروہ نے پریشانی سے پوچھا۔
کیوں کوئی مسئلہ ہے؟
کل بھی تو کرنا ہے تو آج کیوں نہیں؟ صفوان نے پوچھا۔
نہیں مجھے مسئلہ نہیں ہے۔عروہ نے جلدی سے کہا۔
تو پھر چلیں؟ صفوان نے کھڑے ہوتے کہا۔
کہا؟ عروہ نے پریشانی سے پوچھا۔
میڈم اگر آپ کہتی ہیں تو یہی مولوی صاحب کو بلا لیتا ہوں لیکن آپ کو ہی پسند نہیں آئے گا کہ یہاں کے سٹاف کو پتہ چلے۔
اور فکر مت کریں آپ مجھ پت بھروسہ کر سکتی ہے کچھ نہیں کروں گا۔نکاح کے بعد میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ آؤں گا۔اتنا بھروسہ تو آپ کر ہی سکتی ہیں مجھ پر۔
صفوان نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
عروہ بھی وہاں سے کھڑی ہوتی روم سے باہر چلی گئی مجبوری انسان کو کتنا بےبس کر دیتی ہے یہ بات اسے آج پتہ چل رہی تھی۔
آگے اس کے ساتھ کیا ہونا تھا یہ کسی کو پتہ نہیں تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
ڈیڈ مجھے خان سے ہی شادی کرنی ہے۔چاہے کچھ بھی ہو جائے ثانیہ نے اپنے باپ کو دیکھتے ضدی لہجے میں کہا۔
وہ اب تم سے شادی نہیں کرے گا ثانیہ ضد نا کرو رحمان نے کہا تو ثانیہ بھڑک اٹھی تھی۔
ڈیڈ آپ دادا جان سے معذرت کر لیں وہ اپنے دادا جان کی بات کبھی نہیں ٹالے گا لیکن مجھے خان سے ہی شادی کرنی ہے بلکہ آپ ہمارا نکاح کروا دیں کیسے بھی کرکے ثانیہ نے اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
تم اُس لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہو جس پر کل تم الزام لگا رہی تھی؟ رحمان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا ڈیڈ ثانیہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے ہم لوگ اس ہفتے وہاں جائیں گئے میں مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کروں گا۔
رحمان نے اپنی بیٹی کے سامنے ہتھیار ڈالتے کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی بیٹی خان کو پسند کرتی ہے اور انہوں نے حمزہ کی بات کے بارے میں بھی سوچا تھا تو دادا جان سے معذرت کرنا ضروری تھا۔
ثانیہ نے خوشی سے اپنے باپ کے ہاتھوں کو چوم لیا تھا تھینک یو ڈیڈ ثانیہ نے خوشی سے کہا اور پھر وہاں سے چلی گئی۔
عظمی بیگم دونوں باپ بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔
رحمان آپ ثانیہ کا ساتھ دے کر اُس کے ساتھ غلط کر رہے ہیں۔عظمیٰ نے کہا تو رحمان نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
مجھے اچھے سے معلوم ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں اس لیے خاموش رہو تم رحمان نے سرد لہجے میں کہا اور اُٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔
عظمیٰ بیگم نے بےبسی سے اپنے شوہر کو دیکھا تھا۔
رحمان تو اب ان سے کوئی مشورہ بھی نہیں کرتا تھا بچوں کو بھی اس نے اپنے جیسا بنا لیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ملائکہ اپنے بیگ پر گرفت مضبوط کیے بھاگنے کے انداز میں وہاں سے جا رہی تھی اس وقت وہ ڈر چکی تھی بس جلدی سے گھر پہنچنا چاہتی تھی۔
یہ وہی لڑکی ہے نا جو اُس دن مارکیٹ سے ہمارے ہاتھ سے نکل گئی تھی۔
ایک دوکان کے پاس کھڑے دو لڑکوں نے ملائکہ کو دیکھتے کہا۔یہ وہی تھے جو اُس دن مارکیٹ میں ملائکہ کو دیکھ رہے تھے لیکن اُس دن وہ ان کے ہاتھ سے نکل گئی تھی۔
ان کا ایک گینگ تھا لڑکیوں کو اغوا کرکے آگے بیچ دیتے تھے۔
تو آج اگر ہم اس لڑکی کو پکڑ لیتے ہیں تو ہمیں اچھے پیسے مل جائیں گئے ایک لڑکے نے دوسرے کو دیکھتے کہا۔
اسے پیچھلی والی گلی میں لے جاتے ہیں وہاں کوئی نہیں ہوتا اور پھر کال کرکے کسی کو بلا لیں گئے ایک لڑکے نے پلان بتاتے دوسرے کو کہا اور دونوں نے ملائکہ کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے۔
ملائکہ جو اپنی دھیان جا رہی تھی۔
اس نے مارکیٹ والے لڑکوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ڈر کے مارے وہاں سے دوڑ لگا دی۔
دونوں لڑکوں نے بھی اس کے پیچھے دوڑ لگا دی تھی لیکن ملائکہ بھاگتے ہوئے ایک گلی کے اندر چلی گئی۔لیکن بدقسمتی سے وہ آگے سے بند تھی۔
ملائکہ نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے پیچھے دیکھا اور وہاں سے بھگانے لگی لیکن راستے میں پڑے پتھر کی وجہ سے وہی زمین پر گر گئی تھی۔
اس کے منہ سے بےساختہ چیخ نکلی تھی گرنے سے اسکے ماتھے اور ہاتھ سے خون نکلنے لگا تھا۔ہاتھ میں تو اس کے زمین پر گرا ہوا شیشہ لگا تھا جس کا تھوڑا سا ٹکرا اس کی ہتھیلی میں ہی تھا۔
اس سے پہلے وہ وہاں سے اٹھتے وہی لڑکے وہاں آگئے تھے۔
بہت بھاگیا ہے تم نے اب نہیں چھوڑے گئے تجھے ایک لڑکے نے غصے سے کہا۔
اس سے پہلے دونوں ملائکہ کی طرف بڑھتے پیچھے کسی نے ان میں سے ایک کے سر پر ڈنڈا دے مارا دوسرے نے مڑ کر دیکھا تو حمزہ نے اسکے سر پر بھی ڈنڈا دے مارا تھا۔
دونوں وہی بےہوش ہو کر گر گئے تھے۔
حمزہ اپنے دوست کی طرف آیا تھا۔
راستے میں اسے کچھ کام تھا جب اس کی نظر ملائکہ پر پڑی اور اس کے پیچھے اس نے لڑکوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔تو ایک سیکنڈ میں معاملے کو سمجھ گیا تھا۔
اس نے ڈنڈے کو زمین پر پھینکا اور چلتا ہوا ملائکہ کے پاس آیا۔
اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا ملائکہ کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کی گال پر بہہ رہے تھے۔
اس وقت اس کا رنگ خوف سے سفید پڑ گیا تھا۔
حمزہ سرد نظروں سے اس کے ماتھے سے نکلتے خون کو دیکھ رہا تھا۔
یہاں کیا کر رہی ہو؟ حمزہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔لیکن ملائکہ اسے جواب دینے کی بجائی وہی بےہوش ہو گئی۔حمزہ نے اسے بازو سے پکڑا ہوا تھا اس لیے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے گرنے سے بچایا تھا۔
حمزہ کی نظر اس کے ہاتھ کی طرف گئی جہاں شیشہ لگا ہوا تھا اور خون بھی نکل رہا تھا۔
اس نے ملائکہ کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اسے اپنی گاڑی کی طرف لے گیا۔
وہ اسے اپنے فرینڈ کے گھر لے کر نہیں جا سکتا تھا۔
اس نے فرسٹ ایڈ باکس پکڑا اور اس میں سے روئی نکالے ملائکہ کے ماتھے کے زخم کو صاف کرنے لگا۔
ملائکہ کے چہرے پر ابھی بھی آنسوؤں کے نشان موجود تھے۔
حمزہ کی نظر اس کے آنسوؤں کے نشان پر ٹھہر گئی تھی۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر اپنی انگلی کی پور سے ملائکہ کی گال کو چھوا تھا۔
کیسے فضول حرکتیں کر رہا ہوں میں کبھی سوچا نہیں تھا کہ میرے جیسا انسان بھی کسی کی مدد کرے گا۔
حمزہ نے خود پر ہنستے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
حمزہ نے ملائکہ کا ہاتھ پکڑا جہاں شیشہ لگا تھا اس کے ہاتھ میں ملائکہ کا ہاتھ چھوٹا سا سا ہی لگ رہا تھا۔
چھوٹا سا شیشے کا ٹکرا اس کے ہاتھ میں ابھی بھی تھا۔اس نے کھنچ کر باہر نکالا تو تکلیف کے مارے ملائکہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے حمزہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
حمزہ بہت احتیاط سے ملائکہ کی پٹی کر رہا تھا۔ اپنے کام سے فارغ ہو کر وہ پیچھے ہو کر بیٹھ گیا اور سگریٹ کی ڈبی پکڑے اس میں سے سگریٹ نکالنے لگا لیکن پھر اس نے ایک نظر ملائکہ کی طرف دیکھا اور پھر سے سگریٹ کو ڈبی کے اندر رکھ دیا۔
کیا مصیبت ہے حمزہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
جب اس کا موبائل رنگ ہوا اس کے دوست کی کال تھی۔
اس نے کال اٹینڈ کرتے موبائل کان سے لگایا۔
ہاں مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا تھا اس لیے میں آج نہیں آ سکتا۔حمزہ نے ملائکہ کے پرسکون سے چہرے کو دیکھتے کہا۔اور پھر موبائل بند کر دیا۔
حمزہ کا دل نہیں کر رہا تھا کہ وہ اسے جگائے۔
عجیب لڑکی ہے۔مجھ جیسے انسان کو قابو کرنے کا ہنر رکھتی ہے۔
حمزہ نے ملائکہ کو دیکھتے دل میں سوچا۔
وہ کافی دیر اسے بیٹھا ایسے ہی دیکھتا رہا تھا۔
حمزہ کو سگریٹ کی طلب ہو رہی تھی اس لیے سگریٹ پکڑے گاڑی سے باہر نکل گیا اس کے باہر نکلتے ہی تھوڑی دیر بعد ملائکہ کو ہوش آ گیا تھا۔
لیکن جیسے ہی اسے سارا واقعہ یاد آیا تو جلدی سے سیدھی ہو کر بیٹھی۔
اس نے باہر کچھ فاصلے پر کھڑے حمزہ کو دیکھا تو آرام سے گاڑی کا دروازہ کھولتے وہاں سے بھاگ گئی۔
حمزہ جب گاڑی کا دروازہ کھولتے اندر آیا تو خالی جگہ دیکھ کر ہلکا سا مسکرا پڑا تھا۔
پاگل لڑکی حمزہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور گاڑی سٹارٹ لیے وہاں سے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
سادگی سے صفوان کا نکاح عروہ سے ہو گیا تھا۔صفوان نے اسے کہا تھا کہ وہ اسے گھر چھوڑ دیتا ہے لیکن عروہ نے کہا کہ وہ خود چلی جائے گی۔صفوان نے عروہ کو اپنے کہی گئی بات کے مطابق بیس لاکھ کا چیک دے دیا تھا۔
عروہ نکاح کے بعد خاموش سی صفوان کو لگی تھی۔اور اتنا بڑا فیصلہ اُس نے خود اکیلی نے کیا تھا تو اس کا پریشان ہونا تو بنتا تھا۔
صفوان کے علاوہ کسی نے بھی عروہ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔کیونکہ اس نے لمبا گھونگٹ لیا ہوا تھا۔
مس عروہ ضد مت کریں میں آپ کو میں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔
صفوان نے سنجیدگی سے کہا۔
سر میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے تو وہاں کسی نے بھی مجھے آپ کے ساتھ دیکھ لیا تو میرے لیے مسئلہ ہو جائے گا۔
عروہ نے کہا تو صفوان کو بھی اس کی بات ٹھیک لگی تھی۔
ٹھیک ہے لیکن آج آپ اپنے گھر والوں کو اپنی اس جاب کے بارے میں بتائے گئی اور ساتھ یہ بھی کہیں گی کی کمپنی والے آپ کو پک اینڈ ڈراپ بھی دے رہے ہیں اور اس بات پر کوئی بحث نہیں ہو گی۔
صفوان نے بات ختم کرنے والے انداز میں کہا۔
سر مجھے آپ کا مزید کوئی احسان نہیں چاہیے۔
مس عروہ یہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ کنٹریکٹ میں یہ بات لکھی ہوئی تھی۔صفوان نے اسے یاد دلاتے کہا۔
کنٹریکٹ کا سوچ کر عروہ خاموش ہو گئی تھی۔
اور بنا کچھ کہے وہاں سے جانے لگی۔اور جلدی نکلنے کے چکر میں وہاں پڑے ٹیبل سے اس کا پاؤں زور سے ٹکرایا ابھی وہ گرنے ہی لگی تھی جب صفوان نے آگے بڑھتے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے گرنے سے بچایا تھا۔
دیکھ کر چلا کریں مس عروہ ہر جگہ آپ کو سنبھالنے کے لیے میں موجود نہیں ہوں گا۔
صفوان نے عروہ کے سہمے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے پرسرار لہجے میں کہا۔
عروہ جو اپنے چہرے کے بےحد قریب صفوان کے چہرے کو دیکھ رہی تھی فوراً ہوش میں آئی اور صفوان سے پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی۔
میں چلتی ہوں۔عروہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
صفوان جس کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی عروہ کے جانے کے بعد فوراً سمٹ گئی۔
نکاح مبارک ہو مسز صفوان
صفوان نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
اور اپنا موبائل نکالے کسی کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔
💜 💜 💜 💜
