110.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

کس سے ہوا ہے تمھارا نکاح؟ارسم نے خود کو پرسکون کرتے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا۔
لڑکے سے ملائکہ نے کہا تو ارسم جو ماتھے پر سخت تیور لیے کھڑا تھا اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
میرے سامنے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔تمھارا نکاح جس لڑکے سے ہو گا وہ میں ہوں اب آگے تمھاری مرضی جتنی دیر تم ہاں بولنے میں کرو گی۔اس میں تمھارا ہی نقصان ہے۔ تو اچھی طرح سوچ لو۔ارسم نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور ملائکہ کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کرتے کمرے سے باہر چلا گیا۔
ملائکہ نے دروازے کو کھولا لیکن وہ بند تھا۔
اس نے پورے کمرے کو دیکھ لیا لیکن کہی بھی اسے باہر جانے کا راستہ نظر نہیں آیا تھا۔
اور دوبارہ آکر بیڈ کے پاس زمین پر بیٹھ گئی۔
اگر وہ وقت پر گھر نہیں پہنچی تو اس کے لیے مسئلہ ہو جائے گا۔
کیا کروں میں؟ ملائکہ نے ارد گرد دیکھتے سوچا جب اسے شیشے کا گلاس نظر آیا۔
اس نے گلاس پکڑا اور دروازے کے پاس کھڑی ہو گئی۔
اور ارسم کے اندر آنے کا انتظار کرنے لگی۔
اسے وہاں کھڑے کافی دیر ہو گئی تھی۔لیکن ارسم اندر نہیں آیا۔
تقریباً ایک گھنٹے کے بعد اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو ملائکہ سیدھی ہوکر کھڑی ہوئی اور اپنے ہاتھ میں پکڑے گلاس پر گرفت مضبوط کی۔
ارسم جو اپنے دھیان دروازہ کھولے اندر آیا تھا اور اچانک ملائکہ نے دروازے کے پیچھے سے اس کے سر پر گلاس سے وار کرنا چاہا لیکن سامنے آئینے میں ارسم اسے دیکھ چکا تھا۔
اس نے ملائکہ کے اُسی ہاتھ کو پکڑا اور اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
ملائکہ کے ہاتھ سے گلاس زمین پر گرے چکنا چور ہو گیا تھا۔
مجھے مارنا چاہتی ہو؟
ارسم نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے پوچھا۔
ملائکہ ایک دم بوکھلا گئی تھی۔
تمہیں لگتا ہے کہ اس طرح تم مجھ سے بچ کر بھاگ جاؤ گئی؟ ارسم نے ملائکہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
جس کی زبان پر تو تالا لگ گیا تھا۔
اب جواب کیوں نہیں دے رہی؟ ارسم نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
ہاتھ چھوڑو میرا ملائکہ نے غصے سے کہا۔
نکاح کے لیے تیار ہو یا نہیں؟
ارسم نے سنجیدگی بسے پوچھا۔
مجھے آپ سے نکاح نہیں کرنا۔اور یہ بات آپ کو سمجھے کیوں نہیں آرہی؟ ملائکہ نے چیختے ہوئے کہا۔
آرام سے لڑکی تمھارے پاس ہی کھڑا ہوں۔اتنا چیخ کیوں رہی ہو؟
ارسم نے گھورتے ہوئے کہا۔
بس بہت باتیں ہو گئی۔اب کام کی باتیں کرتے ہیں۔
ارسم نے سرد لہجے میں ملائکہ کے ہاتھ کو چھوڑتے ہوئے کہا۔
جو لڑکھڑا کر ارسم سے کچھ قدم پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی۔
اگر تم نے ابھی نکاح کے لیے ہاں نہیں کی تو دوبارہ میں شام میں یہاں آؤں گا اور اگر ابھی تم نے مجھ سے نکاح کر لیا تو خود تمھیں گھر چھوڑ آؤں گا۔
ارسم نے کہا تو ملائکہ نے بےبسی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
ٹھیک ہے میں نکاح کے لیے تیار ہوں۔ملائکہ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔کیونکہ وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ بنا نکاح کے سامنے کھڑا انسان اسے یہاں سے کبھی بھی جانے نہیں دے گا۔
ارسم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
اپنی چادر سے اپنے چہرے کو کور کرو مولوی صاحب باہر ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔
ارسم نے کہا۔
آپ کو اتنا یقین تھا کہ میں ہاں کر دوں گی؟ ملائکہ نے دانت پیستے پوچھا۔
بلکل مجھے پورا یقین تھا اب دیر مت کرو چلو میرے ساتھ ارسم نے ملائکہ کو بازو سے پکڑتے کہا اور اسے وہاں سے باہر لے گیا۔
باہر کون لوگ تھے۔ملائکہ نے کسی کو نہیں دیکھا۔
بس اسے اتنا یاد تھا کہ اس کا نکاح ایک ایسے انسان کے ساتھ ہو رہا ہے جیسے وہ جانتی تک نہیں ہے نا ہی اسے اُس شخص کے نام کا پتہ ہے جس سے اس کا نکاح ہو رہا تھا۔
مولوی صاحب نے جب اس سے پوچھا کہ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے تو پہلے تو ملائکہ خاموش رہی پھر اس نے تین بار قبول ہے بول کر خود کو اُس شخص کے حوالے کے دیا جس نے اسے اغوا کیا تھا۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی قسمت میں کیا لکھا ہے لیکن آگے کے آثار اسے کچھ اچھے نہیں لگ رہے تھے۔
نکاح کے بعد ملائکہ دوبارہ اُسی کمرے میں آگئی تھی۔
ارسم کمرے میں داخل ہوا تو ملائکہ نے جلدی سے کہا کہ اُسے گھر جانا۔
ارسم نے آگے بڑھتے اسکا موبائل پکڑا اور اُس میں اپنا نمبر سیو کر دیا۔
یہ میرا نمبر ہے اگر کوئی بھی مسئلہ ہو تو مجھے کال کر لینا۔اور فکر مت کرو اب میں تمہیں پریشان نہیں کروں گا۔ارسم نے موبائل ملائکہ کے آگے کرتے کہا۔
جتنا پریشان آپ نے کیا ہے وہ بھی کم نہیں ہے۔
ملائکہ نے ارسم کے ہاتھ سے موبائل چھینے کے انداز میں پکڑا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
ارسم بھی اس کی بات پر ہلکا سا مسکراتے اسکے پیچھے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
آپ؟ بھائی کہاں ہیں؟
بسمہ جب یونی سے باہر آئی تو اس نے ارسم کی جگہ وہاج کو دیکھا تو حیرانگی سے پوچھا۔
تمھارے بھائی نے ہی مجھے بھیجا ہے۔وہاج نے بسمہ کے چہرے کو دیکھتے کہا۔
ارسم بھائی نے؟ بسمہ نے پوچھا تو وہاج ہنس پڑا۔
وہ تو کبھی مر کر بھی مجھے کوئی کام نا کہے وہاج نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں ایسی باتیں نہیں کرتے بسمہ نے جلدی سے کہا۔
اگر تمہیں یقین نہیں ہے تو میں تمھاری کال پر بات کروا دیتا ہوں خان کی مجھے کال آئی تھی انہوں نے ہی کہا تھا کہ آج میں تمہیں یونی سے پک کرکے گھر چھوڑ دوں وہاج نے اپنا موبائل نکالتے ہوئے کہا۔
اس کی ضرورت نہیں ہے مجھے آپ کی بات پر بھروسہ ہے۔بھائی نے ہی کہا ہو گا آپ کو بسمہ نے جلدی سے کہا۔
وہاج اس کی بات سن کر ہنس پڑا تھا۔
اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو بسمہ اندر بیٹھ گئی۔
مجھے پیاس لگی ہے مجھے پانی پینا ہے۔تھوڑی دیر بعد بسمہ نے وہاج کو دیکھتے کہا۔
جس نے اثبات میں سر ہلاتے ایک بیکری کے سامنے گاڑی کو روکا۔
میں پانی لے کر آتا ہوں۔
وہاج نے کہا اور گاڑی سے باہر چلا گیا۔
بسمہ سامنے سڑک پر دیکھ رہی تھی۔
جب اس کی نظر سامنے سے آتے ہوئے وہاج پر پڑی۔اس نے تو اب غور کیا تھا کہ وہاج نے بھی بلیو شرٹ ساتھ بلیو جینز پہنی تھی اور اس کے سوٹ کا کلر بھی ڈارک بلیو تھا۔
شرٹ کو کہنیوں تک فولڈ کیے اور آنکھوں پر بلیک کلر کے گلاسز لگائے اس وقت وہ بسمہ کو سب سے مختلف ہی لگ رہا تھا۔
بسمہ ابھی بھی وہاج کو دیکھ رہی تھی۔
کیا ہوا؟ وہاج نے گاڑی میں بیٹھتے بسمہ کو خود کو تکتے پایا تو پانی کی بوتل اس کی طرف بڑھاتے پوچھا۔
وہ میں دیکھ رہی تھی کہ اس سے پہلے بسمہ کہتی کہ” آپ پر یہ رنگ بہت سوٹ کر رہا ہے“یہ کہنے سے پہلے ہی اس کی زبان کو بریک لگی تھی۔
کچھ نہیں بسمہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور پانی کی بوتل پکڑے اسے پینے لگی۔
وہاج نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر گاڑی سٹارٹ کر دی۔
بسمہ نے دوبارہ وہاج کی طرف نہیں دیکھا تھا۔
وہاج نے ایک دو بار اس کی طرف دیکھا جو اپنا پورا دھیان باہر چلتی گاڑیوں کی طرف لگائے بیٹھی ہوئی تھی۔جیسے اس سے ضروری اور کوئی کام ہی نا ہو۔
💜 💜 💜 💜
ڈیڈ حمزہ بسمہ کے ساتھ شادی کرنے کے لیے مان گیا؟ آفاق نے سلطان کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
بیٹا جی حمزہ مانے یا نا مانے وہ بعد کی بات بات ہے۔
جب تک اُس کے بھائی نہیں مانے گئے اُس وقت تک کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔
اور خان نے صاف صاف لفظوں میں منع کر دیا ہے کہ وہ اپنی بہن کی شادی حمزہ کے ساتھ تو کبھی نہیں کرے گا۔سلطان نے سنجیدگی سے کہا تو آفاق کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
اس کا مطلب خان نے حمزہ کو منع کر دیا ہے تو حمزہ کا کیا ردعمل ہے؟ آفاق نے پوچھا کیونکہ وہ زیادہ گھر پر نہیں ہوتا تھا اس لیے اسے آج ہی اس بارے میں پتہ چلا تھا۔
حمزہ نے بھی منع کر دیا تھا وہ شاید کسی اور لڑکی کو پسند کرتا ہے۔سلطان نے کہا تو آفاق نے حیرانگی سے اپنے باپ کی طرف دیکھا تھا۔
آپ کو کس نے کہا کہ حمزہ کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے؟ آفاق نے لہجے میں حیرانگی لیے پوچھا۔
مجھے معلوم نہیں ہے بھائی صاحب نے سرسری سی بات کی تھی۔
آفاق تمھارا کیا خیال ہے؟ اگر میں دادا جان سے تمھارے اور بسمہ کے بارے میں بات کروں تو؟ اگر بسمہ اس گھر میں آجاتی ہے تو خان سے ہم اپنے مطلب کے بہت سے کام کروا سکتے ہیں۔خان جانا مان بزنس مین ہے ہماری بھی بزنس میں مدد کر سکتا ہے۔
میں وہاج کی بات بھی کر سکتا ہوں لیکن مجھے اُس کی عادت کا معلوم ہے وہ اپنی مرضی کرے گا میری بات نہیں مانے گا۔
سلطان نے آفاق کو دیکھتے کہا۔
مجھے بسمہ کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔اس سے ہمارے بزنس کو کافی فائدہ ہو گا۔
آفاق نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ناجانے ایسا کیا ہوا تھا۔کہ آفاق کے بسمہ کے بارے میں خیالات تبدیل ہو گئے تھے۔
ٹھیک ہے پھر میں کوئی موقع دیکھ کر تمھاری اور بسمہ کی بات کرتا ہوں سلطان نے خوشی سے کہا۔
آفاق خاموش ہو گیا تھا۔پتہ نہیں وہ کیا سوچ رہا تھا اور کیا کرنا چاہتا تھا۔یہ تو آنے والے وقت میں بہی پتہ چلنا تھا۔
💜 💜 💜 💜
مس عروہ آج آپ میرے ساتھ چلے گی میری ایک میٹنگ ہے۔صفوان نے عروہ کو دیکھتے کہا۔
آپ کی میٹنگ زیادہ تر باہر ہی کیوں ہوتی ہیں؟ فضول کا خرچہ آفس میں بھی تو میٹنگز ہو سکتی ہیں۔
عروہ نے آخری بات منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہی۔
کل کا پورا دن عروہ نے گھر جاتے تنہا گزارا تھا اور کافی حد تک خود کو سنبھال چکی تھی۔بلقیس نے زیادہ کچھ نہیں پوچھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ عروہ کی اب تو کمرے میں بند رہنے کی عادت سی بن گئی ہے۔لیکن اب وہ کافی حد تک بہتر تھی۔
کیا کہا آپ نے؟ صفوان نے ناسمجھی سے عروہ کو دیکھتے پوچھا۔
کچھ نہیں چلیں عروہ نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
آپ کو باہر جانے میں مسئلہ ہے یا میرے ساتھ باہر جانے میں مسئلہ ہے؟صفوان نے اپنے قدم عروہ کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
آپ تو بہت عقلمند ہیں بہت اچھا اندازہ لگاتے ہیں آپ عروہ نے کہا تو صفوان مسکرا پڑا۔
مس عروہ میں آپ کی سوچ سے بھی زیادہ سمجھدار اور عقلمند ہوں اور آہستہ آہستہ آپ کو پتہ چل جائے گا۔اور ہو سکتا ہے قسمت میں ہمارا ساتھ پوری زندگی کا ایک ساتھ لکھا ہو۔
لیکن یہ بعد کی بات ہے ابھی آپ میرے ساتھ چلیں۔صفوان نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔عروہ کو اس کی بات سمجھ میں تو نہیں آئی تھی پھر بھی کندھے اچکاتے وہاں سے چلی گئی۔
صفوان عروہ کو ایک ریسٹورنٹ میں لے کر آیا تھا۔
ایک بار وہ صفوان کے ساتھ اس ریسٹورنٹ میں آئی تھی۔اُس وقت بھی صفوان کی کوئی میٹنگ تھی۔
عروہ صفوان کے سامنے ہی بیٹھی ہوئی تھی۔اور صفوان کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔
صفوان آنے والے وقت کے بارے میں سوچ رہا تھا لیکن عروہ لاعلم تھی۔
آپ شکل سے بہت شریف لگتے ہیں۔لیکن درحقیقت ایسے ہیں نہیں عروہ نے صفوان کو دیکھتے چہرے ہر زبردستی کی مسکراہٹ لاتے کہا۔
آپ بھی میرے ساتھ رہتے ہوئے کافی سمجھدار ہو گئی ہیں مسز عروہ صفوان نے کافی کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے کہا تو عروہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
جب اس کے کانوں میں جانے پہچانی آواز پڑی۔
کیسے ہو خان؟
رحمان صاحب نے صفوان کو دیکھتے کہا۔
لیکن عروہ اور رحمان نے جب ایک دوسرے کو دیکھا تو دونوں اپنی اپنی جگہ ساکت ہو گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜