Tarap Dil Ki By Ramsha Hayat Readelle 50058 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
ہم کہاں آئے ہیں؟ ملائکہ نے گاڑی رکتے ہی پوچھا۔
اندر چلو پتہ چل جائے گا۔
ارسم نے سرد لہجے میں کہا اور گاڑی کا دروازہ کھولتے باہر آیا۔
اس نے دوسری طرف آکر دروازہ کھولا اور ملائکہ کو بازو سے پکڑ کر اندر لے کر گیا۔
یہ ایک بہت بڑا گھر تھا۔ملائکہ تو ارسم کے ساتھ کھینچی چلی جا رہی تھی۔گھر کو دیکھنے کا ہوش نہیں تھا۔
ارسم کو اندر جانا نہیں پڑا سامنے ہی اسے حمزہ باہر آتا ہوا نظر آیا تھا۔
یہ حمزہ کا اپنا گھر تھا۔جو اس کے باپ نے اسے گفٹ کیا تھا۔
حمزہ کو سامنے دیکھ کر ملائکہ کی آنکھیں باہر آگئی تھی۔
اور حمزہ تو ارسم کے ہاتھ میں ملائکہ کا ہاتھ دیکھ کر جل بھن گیا تھا۔
سالے صاحب میں آپ کو ایک خوشخبری دینے آیا ہوں۔
ہم دونوں نکاح کر چکے ہیں۔ارسم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ملائکہ تو خاموش کھڑی تھی۔
کیا بکواس کر رہے ہو؟ تمہیں لگتا ہے کہ میں تمھاری بات پر یقین کر لوں گا؟
حمزہ نے سرد لہجے میں کہا۔
فکر مت کرو میں تمہیں نکاح نامہ بھی بھیجوا دوں گا۔
اور اب تم اپنے گھر والوں کو میری بیوی کے گھر نہیں بھیجو گئے۔
ارسم نے اسے تنبیہ کرتے کہا اور جیسے آیا تھا ویسے واپس چلا گیا۔
حمزہ ابھی بھی حیران کھڑا ہوا تھا۔
ارسم نے کہا کہ وہ ملائکہ سے نکاح کر چکا ہے۔وہ اتنا بڑا جھوٹ کبھی نہیں بولے گا اس کا مطلب تھا وہ سچ میں ملائکہ سے نکاح کر چکا تھا۔
یہ تم نے کیا کیا ارسم؟ تمہیں لگتا ہے اس طرح تم مجھے ملائکہ سے دور کر دو گئے؟ لیکن مجھے پرواہ نہیں ہے اگر تمھاری بیوہ کے ساتھ بھی مجھے نکاح کرنا پڑا تو میں کروں گا۔لیکن ملائکہ میری ہے صرف میری حمزہ نے چہرے پر خطرناک تیور لیے دھاڑتے ہوئے کہا۔
اور وہاں سے چلا گیا۔
ارسم خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
ملائکہ کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
اس لیے خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔اس کی زندگی کو دونوں نے مل کر مزاح بنا دی تھی۔ارسم نے ملائکہ کے گھر سے کچھ دور گاڑی روکی۔
اب حمزہ کے گھر والے تمھارے گھر نہیں آئے گئے۔اور میرے نمبر کو سیو کر لو۔ارسم نے سنجیدگی سے کہا تو ملائکہ غصے میں بنا کوئی جواب دیے گاڑی کا دروازہ کھولے وہاں سے چلی گئی۔
اس کے جاتے ہی ارسم نے گہرا سانس لیا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
ملائکہ نے اپنے گھر آتے ہی خود کو اپنے کمرے میں بند کیا کر لیا تھا۔کیونکہ اس وقت وہ کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔
💜 💜 💜 💜
آپ دونوں مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہیں؟
ارسم نے دادا جان اور تحریم کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
بسمہ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔کیونکہ اسے کسی بھی بات کا معلوم نہیں تھا۔
تم ہمارے سوالوں کا سچ سچ جواب دو گئے اگر تم نے غلط جواب دیا تو یہاں پورا دن یہی بیٹھے رہو گئے۔دادا جان نے سخت لہجے میں کہا۔
لیکن آپ دونوں نے پوچھنا کیا ہے؟ ارسم نے بے چارگی سے دادا جان کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
خان کا نکاح جس لڑکی کے ساتھ ہوا کیا تم اُسے جانتے ہو؟ تحریم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
آپ کو کیسے پتی چلا کہ خان نکاح کر چکا ہے؟ ارسم نے لہجے میں بےیقینی لیے پوچھا۔
اس کا مطلب تمہیں اُس کے نکاح کا پتہ تھا لیکن تم نے بھی ہمیں نہیں بتایا۔دادا جان نے گھورتے ہوئے کہا۔
نانا جان یہ خان کا ذاتی معاملہ ہے اور مجھے اچھا نہیں لگتا کسی کے ذاتی معاملے میں دخل اندازی کرنے کا ارسم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
خام تمھارا بھائی ہے۔ایک تو بنا کسی کو بتائے اُس نے نکاح کیا۔اور اب آکر آرام سے ہمیں کہہ رہا کہ میں نکاح کر چکا ہوں اور بہت جلد اُسے طلاق بھی دے دوں گا۔
آجکل کے بچوں نے شادی بیاہ کو مزاح سمجھ لیا ہے۔
تم ہمیں یہ بتاؤ کیا تم اُس لڑکی سے مل چکے ہو؟ دادا جان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
نہیں میں اُس لڑکی کو نہیں جانتا۔ارسم نے جلدی سے کہا لیکن پھر اس کے دماغ میں ایک خیال آیا۔
ایک منٹ آپ نے یہ جان کر کیا کرنا ہے؟ ارسم نے جلدی سے پوچھا۔
ہم لوگ چاہتے ہیں کہ خان اُس لڑکی کو طلاق نا دے اگر اُس نے نکاح کر ہی لیا ہے تو پوری زندگی اُسی لڑکی کے ساتھ گزارے۔
تحریم نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے پھر کل ہی میں آپ کو اُس لڑکی سے ملوا دیتا ہوں۔
ارسم نے خوشی سے کہا کیونکہ وہ بھی یہی چاہتا تھا۔
لیکن پہلے تو تم نے کہا کہ تم اُسے نہیں جانتے؟ دادا جان نے مشکوک انداز میں پوچھا۔
وہ زبان پھسل گئی تھی۔ارسم نے مسکین سی شکل بناتے کہا۔
ایک منٹ کیا یہ سچ ہے؟ صفوان بھائی نکاح کر چکے ہیں؟ کون ہے وہ لڑکی؟ بسمہ نے بےچینی سے پوچھا۔
بریک پر پاوں رکھو گڑیا بہت جلد تم بھی اپنی بھابھی سے مل لینا لیکن ابھی نانا جان کو ملنے دو ارسم نے ریلیکس سے انداز میں کہا۔
کس سے ملنے کی بات ہو رہی ہے؟ خان کی آواز پر ارسم فوراً سیدھا ہوا تھا۔
خان تم آج جلدی آگئے؟ تحریم نے خان کو دیکھتے پوچھا۔
جی آج میں نے سوچا کہ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارتا ہوں اس لیے جلدی گھر آگیا۔
خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
آج چاند کس طرف سے نکلا ہے؟ ارسم نے کھڑے ہوتے حیرانگی سے پوچھا۔
آپ لوگ تیار ہو جائیں ہم ڈنر باہر کریں گئے۔اور تم میرے ساتھ کمرے میں آؤ۔خان نے پہلے نرم لہجے میں تحریم اور دادا جان کو دیکھتے کہا اور آخری بات اس نے ارسم کو دیکھتے گھورتے ہوئے کہی۔
لو جی یہ بات بھی اسے پتہ چل گئی ارسم نے منہ میں بڑبڑاتے بوئے کہا۔
تمہیں نہیں لگتا کہ تمہیں مجھے نہیں بلکہ کسی اور کو کمرے میں بلانا چاہیے؟ ارسم نے خان کے پاس آتے اس نے ایک آنکھ دباتے بےباکی سے کہا۔
شٹ اپ جلدی آؤ خان نے ڈپٹتے ہوئے کہا اور وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
دادا جان مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلے گئے۔
تحریم اور بسمہ بھی اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں۔
خان اپنے کمرے میں داخل ہوا اس کے پیچھے ہی ارسم بھی چل رہا تھا۔
خان نے اپنی تائی پہلے ڈھیلی کی پھر اُسے اتار کر بیڈ پر رکھا۔
اور اپنے شرٹ کا اوپری بٹن کھولا ارسم کھڑا خان کو دیکھ رہا تھا۔
خان یار میں تمھارا بھائی ہوں۔کچھ تو شرم کرو میرا انٹرسٹ لڑکیوں میں ہے۔ارسم نے اس قدر سنجیدگی سے کہا کہ پہلے تو خان بھی تھوڑی دیر حیرت میں مبتلا ہوا لیکن جیسے ہی اسے سمجھ آئی اس کا دل کیا کہ ارسم کا سر پھاڑ دے۔
شٹ آپ ارسم تمھارے دماغ میں ہمیشہ فضول خیال ہی کیوں آتے ہیں۔
اور تم ملائکہ کو حمزہ کے پاس کیوں لے کر گئے اور اُسے اپنے نکاح کا کیوں بتایا؟ اب وہ ہر ممکن کوشش کرے گا تمہیں نقصان پہنچانے کی خان نے گھورتے ہوئے کہا۔
پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ تمہیں اتنی جلدی سب پتہ کیسے چل جاتا ہے؟ ارسم نے حیرانگی سے پوچھا۔
مجھے حمزہ کی کال آئی تھی۔وہ چاہتا ہے تم آرام سے ملائکہ کو طلاق دے دو۔پہلے وہ مجھ سے آرام سے بات کرنا چاہتا تھا۔
اگر میں نے اُسے طلاق نہیں دی تو؟ اُس نے بتایا نہیں کہ ورنہ وہ یہ کر دے گا وہ کر دے گا؟ مطلب کوئی دھمکی نہیں دی؟ ارسم نے ڈرامائی انداز میں پوچھا۔
ارسم ہر بات مزاح نہیں ہوتی اگر حمزہ نے تمھیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اپنے ہاتھوں سے اُس کی جان لوں گا.
خان نے سنجیدگی سے کہا۔
خان مجھے کچھ نہیں ہو گا۔تمھاری پریشانی میں سمجھ سکتا ہوں اگر میں یہ سب نا کرتا تو ملائکہ کے گھر والے حمزہ کا نکاح اُس سے کر دیتے کیونکہ حمزہ ملائکہ کے گھر تک پہنچ گیا ہے اور رشتہ بھی فائنل ہو گیا۔دونوں بلے گھر والے کسی بھی وقت دونوں بکا نکاح کر. سکتے تھے۔ارسم نے بھی سنجیدگی سے کہا۔
ٹھیک ہے لیکن اپنا خیال رکھنا اور جاؤ تیار ہو جاؤ پھر ہمیں جانا بھی ہے۔خان کچھ سیکنڈ ارسم کے چہرے کو دیکھتا رہا پھر اس نے کہا۔
خان کبھی کبھی تم مجھے حیران کر دیتے ہو۔ارسم نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
خان کے چہرے پر بھی دھیمی دی مسکراہٹ آگئی تھی۔
اور خود بھی فریش ہونے چلا گیا۔
💜 💜 💜💜
عروہ گھر آئی تو بلقیس نے اسے ملائکہ کے رشتے کے بارے میں بتایا۔پہلے تو اسے حیرانگی ہوئی پھر سیدھا ملائکہ کے گھر اس سے ملنے چلی گئی۔
ملائکہ کی ماں سے پتہ چلا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے۔
عروہ دروازہ کھولے اندر آئی تو ملائکہ اوندھے منہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔
ملائکہ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ عروہ نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
کس بارے میں؟ ملائکہ نے لیٹے ہی پوچھا۔
اپنے رشتے کے بارے میں عروہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مجھے بھی ابھی پتہ چلا ملائکہ نے گہرا سانس لیتی کہا۔
عروہ ہم آج دونوں کہی باہر چلے؟ اگر تمہیں کوئی مسئلہ نا ہو تو؟ شاپنگ کریں گئے اور تھوڑی بہت مستی بھی ملائکہ نے اٹھتے ہوئے عروہ کو دیکھتے پوچھا۔
کیونکہ ابھی وہ اپنے دماغ کو تھوڑا پرسکون کرنا چاہتی تھی۔
ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں۔
عروہ نے مسکراتے ہوئے کہا اب تو اس کا ڈر بھی کافی حد تک ختم ہو گیا تھا۔
تم جلدی سے چادر لے کر آؤ میں تمھارا انتظار کر رہی ہوں باہر عروہ نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا۔
اس نے زیادہ رشتے کے بارے میں ملائکہ سے نہیں پوچھا تھا اسے وہ کچھ پریشان سی لگی تھی۔
دونوں گھر سے نکل گئی تھیں۔
دونوں نے بہت سی شاپنگ کی اور آخر میں عروہ نے کہا کہ وہ اسے ایک زبردست سی جگہ پر لے کر جائے گی۔
لیکن جب عروہ اسے ایک مہنگے سے ہوٹل لے کر گئی تو ملائکہ کی تو حیرت کے مارے آنکھیں کھل گئی تھیں۔
عروہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔تم یہاں کیوں لائی ہو؟ ملائکہ نے عروہ کی بازو کو پکڑتے اس کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا۔
تم فکر مت کرو۔میرے پاس ہیں پیسے عروہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
دونوں وہاں جا کر بیٹھ گئی۔صفوان کی وجہ سے وہ کافی کچھ سیکھ گئی تھی۔
کھانا عروہ نے آڈر کیا اور دونوں باتیں کرنے لگی جب عروہ کی نظر خانپت پڑی اور خان بھی اسے دیکھ چکا تھااور حیران تو وہ ساتھ ملائکہ کو دیکھ کر ہوا تھا۔
دادا جان، تحریم اور بسمہ بیٹھے ارسم سے باتیں کر رہے تھے۔لیکن خان کی نظریں عروہ پر جمی ہوئی تھیں۔اور وہاں اب کنفیوز ہو رہی تھی۔
انہوں نے بھی آج ہی یہاں آنا تھا۔عروہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
کیا ہوا؟ ملائکہ نے عروہ کو دیکھتے پوچھا۔
کچھ نہیں ۔عروہ نے کہا۔تو اتنے میں ایک لڑکا چلتا ہوا ان دونوں کی ٹیبل کے پاس آیا۔
تم ملائکہ ہو نا؟
اُس لڑکے نے ملائکہ کو دیکھتے ہوئے لہجے میں حیرانگی لیے پوچھا۔
آپ؟ ملائکہ نے بھی حیرانگی سے پوچھا۔
عروہ تو دونوں کی شکلیں دیکھ رہی تھی۔
عروہ یہ امی کے بھائی کے بیٹے ہیں۔
ارمان بھائی ملائکہ نے عروہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
آپ پلیز بیٹھیں نا ملائکہ نے ارمان کو دیکھتے جلدی سے کہا۔
جو مسکرا کر ان کے پاس بیٹھ گیا تھا۔
آپ واپس کب آئے؟ ملائکہ نے پوچھا۔
کل ہی واپس آیا ہوں اور آج میں نے پھوپھو سے ملنے بھی آنا تھا۔لیکن تم یہی پر مل گئی اور یہ کون ہیں؟ ارمان نے عروہ کی طرف اشارہ کرتے پوچھا۔
یہ میری فرینڈ اور بہن بھی ہے عروہ
ملائکہ نے عروہ کی طرف دیکھتے لہجے میں محبت لیے کہا۔
لگتا ہے آپ دونوں میں بہت محبت ہے ارمان نے عروہ کو دیکھتے مسکرا کر کہا۔
جی بہت زیادہ ملائکہ نے کہا تو اتنے میں ویٹر کھانا لے آیا تھا۔
آپ لوگ انجوائے کریں اور واپس آپ دونوں میرے ساتھ جائیں گی میں ویٹ کرتا ہوں۔ارمان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
آپ بھی ہمارے ساتھ ہی کھانا کھا لے عروہ نے جلدی سے کہا۔
نہیں میں تو واپس جا ریا تھا تو ملائکہ نظر آئی۔میں وہ سامنے والی ٹیبل پڑ بیٹھا ہوں ارمان نے اپنی ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
ایسے اچھا نہیں لگتا آپ بھی یہی بیٹھ جائیں۔
عروہ نے کہا۔
اگر اتنا ہی کہہ رہی ہیں تو میں یہی بیٹھ جاتا ہوں ارمان نے کہا تو عروہ بھی مسکرا کر کھانا کھانے لگی۔لیکن اسکی یہ مسکراہٹ خان کو زہر لگ رہی تھی۔
اس کا سارا دھیان عروہ کی طرف تھا۔
جو ارمان کی کسی بات پر مسکرا رہی تھی۔
خان نے بل ادا کیا اور ارسم کو کہا کہ سب کو گھر لے جائے اسے ایک ضروری کام ہے۔
دادا جان اور باقی سب بہت خوش تھے کہ سب نے ایک ساتھ وقت گزارا ہے۔ارسم لوگ کے جاتے ہی خان نے اُس ٹیبل کی طرف دیکھا جہاں عروہ بیٹھی ہوئی تھی۔
لیکن اب وہاں کوئی نہیں تھا۔خان باہر آیا تو عروہ اور ملائکہ اُسی لڑکے کے ساتھ اُس کی گاڑی میں بیٹھ رہی تھیں۔
مس عروہ کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟ خان نے تھوڑا اونچی آواز میں کہا عروہ جسکے چہرے پر مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی اُس کی جگہ بےزاری نے لے لی۔
ارمان اور ملائکہ نے بھی سامنے کھڑے خان کو دیکھا تھا۔اور ارمان خان کی پرسنیلٹی سے کافی متاثر بھی ہوا تھا۔
یہ کون ہیں؟ ارمان نے ملائکہ سے پوچھا جس نے کندھے اچکاتے یہی سوال عروہ سے پوچھا۔
میں بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں خان چلتا ہوا آگے آیا لیکن عروہ کو لگ رہا تھا کہ خان کچھ فضول ہی بولنے والا ہے اس لیے اس کے چہرے پر خوف کا سایہ سا آکر گزرا تھا۔
💜 💜 💜 💜
