No Download Link
Rate this Novel
⭐ You already rated this novel. Thank you!
Episode 2
قسط 2
بغیر اجازت کے کاپی پیسٹ کرنا منع ہے۔
💜 💜 💜 💜 ☠️☠️☠️☠️
اگر آپ کے پاس آنکھیں موجود ہیں تو اُن کو استعمال میں بھی لایا کریں اور دیکھ کر چلا کریں۔صفوان نے عروہ کی خوف سے پھیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا اور اس کی کمر سے ہاتھ پیچھے کیے کھڑا ہو گیا جس نے صفوان کے چھوڑنے پر بمشکل خود کو گرنے سے بچایا تھا۔
عروہ نے سہمی ہوئی نظروں سے صفوان کو دیکھا اس کی آنکھوں ایسا کچھ ضرور تھا جو عروہ کو کپکپانے پر مجبور کر گیا تھا۔اس لیے بنا جواب دیے وہاں سے چلی گئی۔
صفوان ابھی بھی اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔
بیوقوف لڑکی صفوان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا اسے ایک ضروری کام یاد آگیا تھا۔اس لیے جلدی سکول سے نکل گیا تھا۔
عروہ کو لگ رہا تھا کہ خوف کے مارے وہ بےہوش ہو جائے گی۔اس لیے اس نے اپنی طبعیت کی خرابی کا پرنسپل کو کہا اور چھٹی لے کر سکول سے نکل گئی۔
عروہ کے سامنے بار بار صفوان کی سرد آنکھیں آرہی تھی۔
اسے لگ رہا تھا کہ زمین گھوم رہی ہے۔
اس نے کسی طرح گھر پہنچنا تھا۔
سکول سے باہر نکلتے کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد بھی اسے لگا کہ اس کہ اس کا پورا جسم بےجان ہو گیا ہے اور آنکھوں کے سامنے آتے اندھیرے کی وجہ سے وہی زمین پر گر گئی۔
دور سے جو دو آنکھیں اسے دیکھ رہی تھیں۔اس نے عروہ کو زمین بوس ہوتے دیکھا تو اور آرام سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔اس سے پہلے وہاں کھڑا ایک آدمی عروہ کو چھو کر اُسے ہوش میں لانے کی کوشش کرتا۔اُس شخص کی سرد آواز وہاں گونجی تھی۔
اسے کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔
مقابل نے کہا تو وہاں کھڑے لوگ اُسے دیکھنے لگے۔جو دیکھنے میں اچھے گھر کا لگ رہا تھا۔
اُس نے آگے بڑھ کر عروہ کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اُسے وہاں سے لے گیا۔
اُس شخص کے چہرے کو دیکھ کر کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اُس سے کوئی سوال کر سکے۔
آخر کار تم مجھے مل ہی گئی۔اُس شخص نے عروہ کو اپنی گاڑی میں بیٹھاتے عروہ کے پرسکون سے چہرے کو دیکھتے دلچسپی سے کہا۔
مجھ سے ہی تو تم اتنے سالوں سے چھپ کر بھاگ رہی تھی اور اب دیکھو قسمت نے ہمیں دوبارہ ملوا دیا۔
لیکن مجھے پورا یقین ہے تم نے اگر میری شکل دیکھ لی تو دوبارہ بےہوش ہو جاؤ گی۔
مقابل نے گہرے لہجے میں عروہ کی شفاف گردن پر لگے کٹ کے نشان کو دیکھتے کہا جو چادر کے ہٹنے پر صاف نظر آرہا تھا۔
مقابل نے ہاتھ آگے بڑھاتے عروہ کے اُس نشان کو چھونا چاہا لیکن چاہنے کے باوجود بھی وہ عروہ کے نشان کو چھو نہیں پایا تھا۔
تمھارا یہ نشان بہت خوبصورت ہے حسینہ اسے چھپا کر رکھا کرو کسی دن میرا اد ہر دل آگیا تو پھر مجھ سے چھپتی پھیرو گی۔مقابل نے ہلکا سا مسکرا کر خود سے کہا اور اپنا ہاتھ پیچھے کیے ڈرائیونگ کرنے لگا۔
💜 💜 💜 💜
ارسم تم ہمارے ساتھ نہیں چلو گئے؟ تمھاری خالہ بھی ساتھ چل رہی ہیں۔
ارسم ابھی تھوڑی دیر پہلے گھر آیا تھا جب اس کی ماں نے اسے دیکھتے پوچھا۔
کہاں؟ ارسم نے سنجیدگی سے انجان بنتے پوچھا۔
خان کے سسرال کوثر بیگم نے ارسم کے تاثرات دیکھتے بتایا۔
امی جان جس کے سسرال آپ لوگ جا رہے ہیں یقیناً وہ محترم خود بھی آپ لوگوں کے ساتھ نہیں جا رہا تو نانا اور خالہ جان بھی وہاں کیا لینے جا رہے ہیں؟
اُن لوگوں سے رشتہ رکھنا تو دور میں اُن سے بات کرنا بھی گوارا نہیں سمجھتا اور آپ ساتھ جانے کی بات ک رہی ہیں۔ارسم نے اپنی شرٹ کے اوپری بٹن کو کھولتے ہوئے کہا۔
تم آج اتنا غصے میں کیوں ہو؟ کسی سے جھگڑ کر آرہے ہو؟ کوثر نے ارسم کی بات کو اگنور کرتے پوچھا۔
کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ خان اور ان کا اپنا بیٹا غصے کے کتنے تیز ہیں۔
امی جان آپ کو لگتا ہے کہ میں کسی سے جھگڑ کر اتنے آرام سے آپ کے سامنے کھڑا ہوتا؟ اگر میں کسی سے جھگڑتا تو اس وقت تھانے میں ہوتا کیونکہ جس کے ساتھ میں جھگڑا کروں گا یقیناً وہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہوگی تو اُسے اگلے جہان پہنچا کر ہی دم لوں گا۔
ارسم نے تپے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
کیا فضول بول رہے ہو؟ جانتے بھی ہو کیا کہہ رہے ہو تم؟
امی جان آپ اپنے سسرال جا سکتی ہیں لیکن پلیز میرے سامنے اُن لوگوں کے گھر کے کسی افراد کا بھی ذکر مت کیا کریں۔ارسم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
ارسم وہ بھی تمھارا گھر ہے وہاں تمھارے بھائی بھی ہیں۔کوثر نے مزید کچھ کہنا چاہا جب ارسم نے گہرا سانس لیتے اپنی ماں کو روکا۔
میرا صرف ایک بھائی اور ایک ہی بہن ہے اور وہی میرے کزنز بھی ہیں خان اور بسمہ اس کے علاوہ میرا کوئی بھائی بہن نہیں ہیں۔اور میں امید کرتا ہوں آئندہ آپ میرا نام کسی بھی ایسے انسان کے ساتھ نہیں جوڑیں گی جو مجھے پسند نہیں ہے۔
ارسم نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔کوثر نے بےبسی سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔
کوثر کچھ دن کے لیے یہاں رہنے کے لیے آئی تھی ارسم زیادہ تو گھر پر نہیں ہوتا تھا لیکن جب بھی اس کی اپنی ماں اس سے بات کرتی تو دونوں میں کسی نا کسی بات کو لے کر ضرور جھگڑا ہوتا تھا۔
💜 💜 💜💜
کوثر دادا جان کے ساتھ اپنے سسرال واپس آگی تھی۔کوثر کے پہلے شوہر کی ایکسیڈنٹ میں موت ہو گئی تھی۔اُس وقت ارسم دس سال کا تھا۔
دادا جان کے دوست داجی نے کوثر کے لیے اپنے بیٹا کا رشتہ دادا جان کے سامنے رکھا۔داجی کے چھوٹے بیٹے سلطان جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور طلاق کیوں دی یہ کسی کو معلوم نہیں تھا اور ان کے بھی دو بیٹے تھے۔
داجی نے دادا جان کو کہا کہ کوثر کی سارے زندگی پڑی ہے اور ان کا بیٹا کوثر کا بہت خیال رکھے گا کب تک کوثر اکیلی زندگی گزارے گی آگے ہماری زندگی کا کیا بھروسہ کسی بھی وقت بلوا آجائے تو پیچھے کوثر کا کیا ہو گا۔
دادا جان کو بھی داجی کی یہ بات ٹھیک لگی تھی اس لیے انہوں نے سادگی سے کوثر کا نکاح سلطان سے کر دیا۔
کوثر ہمیشہ سر جھکائے اپنے باپ کا کہنا مانتی تھی ماں تو بہت پہلے ہی جا چکی تھی ایک باپ کا ہی اس کے سر پر سایہ تھا۔اور اس بار بھی کوثر نے بنا کوئی سوال کیے اپنے باپ کا کہا مانا تھا۔لیکن وہ یہ نکاح کرکے اپنے بیٹے کو ناراض کر چکی تھیں۔
ارسم نے اپنی ماں کے ساتھ جانے سے منع کر دیا تھا دادا جان نے بھی اسے زیادہ فورس نہیں کیا اور کوثر کو اپنے دل پر پتھر رکھے اپنے بیٹے کو چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔وہ جانتی تھی کہ تحریم ان کے بیٹے اور خان کا اچھے سے خیال رکھے گی لیکن پھر بھی اپنے بیٹے کو چھوڑ کر جانا ان کے لیے مشکل تھا۔
تحریم دادا جان کی بیوی کی جو ملازمہ تھی اُن کی بیٹی تھی۔تحریم کا شوہر شراب پیتا تھا اور جوا کھیلتا تھا تحریم کی ایک بیٹی بسمہ تھی۔جب بیچنے کو کچھ نہیں بچا تو تحریم کے شوہر نے اپنی بیوی پر جوا لگایا۔
اور جوا ہارنے کے بعد اپنی بیوی کو اُن لوگوں کے حوالے کر دیا۔
اُس وقت تحریم کو اُن لوگوں سے چھڑوا کر خان کے ابو لائے تھے اور انہوں نے اُسی وقت کہا تھا کہ تحریم ان کی چھوٹی بہن ہے اور وہ گھر میں انکی بہن بن کر رہے گی نا کہ ملازمہ تحریم نے بھی بہن ہونے کا فرض بخوبی نبھایا تھا۔گھر میں سب لوگ تحریم کو گھر کا فرد ہی سمجھتے تھے۔اس کی بہت چھوٹی عمر میں شادی ہو گئی تھی۔
خان اور ارسم بسمہ کا بہت خیال رکھتے تھے۔اُن کو یہ چھوٹی سی گڑیا بہت پسند آئی تھی۔
دادا جان نے تو تحریم کی بھی دوسری شادی کروانے کی بہت کوشش کی لیکن تحریم اپنی ضد پر قائم رہی کہ وہ اب شادی نہیں کرے گی بلکہ اپنے بچوں کا خیال رکھے گی۔
کوثر جانے سے پہلے دونوں بچوں کی ذمہ داری تحریم کو دے کر گئی تھی۔
داجی کے گھر والے دادا جان کے گھر والوں سے بہت قریب تھے اس لیے دونوں خاندان ایک دوسرے کے بارے میں اچھی طرح جانتے تھے۔
سلطان کے نکاح کے کچھ دیر بعد ہی دا جی کا انتقال ہو گیا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔اور داجی کی آخری خواہش پر ہی خان اور ثانیہ کی منگنی ہوئی تھی۔یہ داجی کی آخری خواہش تھی تو کیسے نا دادا جان اپنے دوست کی آخری خواہش پوری کرتے زبردستی ہی سہی لیکن دادا جان نے خان اور ثانیہ کی منگنی کروا دی تھی تاکہ دونوں خاندان کے تعلقات مزید گہرے ہو جائیں۔اور خان منگنی کے فوراً بعد ملک سے باہر چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
کچھ بھی کرو لیکن اُس لڑکی کو کہی سے بھی ڈھونڈ نکالو مجھے کل تک وہ لڑکی کسی بھی حال میں اپنے کمرے میں چاہیے۔
ارسم نے فون کان سے لگائے دہاڑتے ہوئے کہا۔
لیکن اس کے آدمیوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ جو حلیہ ان کے بوس نے اُس لڑکی کا بتایا ہے ویسی تو ہزاروں لڑکیاں ہیں تو وہ کیسے اُس لڑکی کو ڈھونڈ کر لائے لیکن انکار بھی نہیں کر سکتے تھے اس لیے خاموشی سے اپنے بوس کو سن رہے تھے۔
ارسم نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔ابھی تک اس کی آنکھوں کے سامنے وہی نظارہ بار بار آرہا تھا۔
چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے کسی بھی حد تک جانا پڑے میں تمہیں ڈھونڈ نکالو گا۔
اور اس تھپڑ کی قیمت تمہیں پوری زندگی چکانی ہو گی۔
تمھارا ایک ایک پل میں تم پر عذاب بنا دوں گا۔
ارسم نے اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر اپنی پکڑ سخت کرتے غصے سے کہا۔
ملائکہ کو اس تھپڑ کی قیمت بہت مہنگی پڑنے والی تھی جس سے وہ لاعلم تھی۔
کوئی تھا جو اسے پاگلوں کی طرح اپنے بدلے کے لیے تلاش کر رہا تھا اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ ارسم خان تھا۔جس کے غصے کے قہر سے آج تک کوئی نہیں بچ پایا تھا۔اور اس کا نشانہ ملائکہ بھی بننے والی تھی۔
💜 💜 💜 💜💜
عروہ کو ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک کمرے میں لیٹا پایا۔
وہ جلدی سے اُٹھ کر بیٹھ گئی اور آنکھوں میں خوف لیے ارد گرد دیکھنے لگی۔اس کی چادر بھی اس کے پاس ہی پڑی تھی اس نے جلدی سے اپنی چادر اچھی طرح اوڑھی جب اس کا موبائل رنگ ہوا جو سائیڈ ٹیبل پر ہی پڑا تھا۔عروہ نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنا موبائل دیکھا جس پر ایک انجان نمبر سے میسج آیا ہوا تھا۔
ڈرتے ہوئے اس نے میسج کھولا جس میں لکھا تھا۔
” سویٹی اپنے چھوٹے سے دماغ پر زور مت ڈالنا کہ تم یہاں کیسے آئی اور میں کون ہوں۔
تم بہت خوبصورت ہو اس بار میں نے تمھارا ساتھ کچھ نہیں کیا لیکن اگلی بار کا میں کچھ کہہ نہیں سکتا تمہیں دیکھ کر تو انسان کا بھٹکنا بنتا ہے۔خیر یہ سب چھوڑو یہاں سے تم جا سکتی ہو۔لیکن میرے نمبر کو بلوک کرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت اگر تم میرا کہنا مانو گی تو میں بھی تمہیں تنگ نہیں کروں گا۔لیکن تم نے کیا کرنا ہے وہ میں تمہیں شام میں بتاؤں گا ابھی تم گھر جاؤ۔اور اس بارے میں کسی کو بتانے کی غلطی مت کرنا۔ورنہ اس کے نتائج بہت برے ہوں گئے۔
عروہ جیسے جیسے میسج پڑھتی جا رہی تھی اس کے چہرے کا رنگ زرد ہوتا جا رہا تھا لیکن سب سے پہلے یہاں سے نکلنا تھا یہ ایک چھوٹا سا کمرا تھا۔عروہ نے اپنا بیگ اور پیپرز اٹھائے اور جلدی سے باہر کی طرف بھاگی جہاں دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا۔بوکھلاہٹ میں اس نے گھر پر دھیان نہیں تھا۔
وہاں سے نکلتے ہی اس نے رکشہ لیا اور گھر آتے ہی اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔
بلقیس نے کافی بار دروازہ کھٹکھٹایا لیکن عروہ نے دروازہ نہیں کھولا اتنے میں ملائکہ بھی وہاں آگئی تھی۔جو ساتھ والے گھر میں رہتی تھی اور عروہ کی دوست بھی تھی۔
کیا ہوا آنٹی؟ ملائکہ نے بلقیس کو دیکھتے پوچھا۔
عروہ آج پھر آتے ہی کمرے میں بند ہو گئی ہے پتہ نہیں اس لڑکی نے قسم کھائی ہوئی ہے مجھے تنگ کرنے کی بلقیس نے غصے سے کہا۔
آنٹی میں اسے دیکھتی ہوں آپ پریشان مت ہوں ۔ملائکہ نے کہا تو بلقیس ایک نظر دروازے پر ڈال کر وہاں سے چلی گئی۔ملائکہ نے دروازہ کھٹکھٹایا اور عروہ کو دروازہ کھولنے کا کہا۔عروہ نے ملائکہ کی آواز سنتے جلدی سے دروازہ کھولا اور ملائکہ کو کلائی سے پکڑ کر اندر کھینچا اور پھر سے دروازہ بند کر دیا۔
عروہ کیا ہوا؟ ملائکہ نے پریشانی سے پوچھا۔
کچھ نہیں بس میں تھوڑا ڈر گئی تھی۔پہلے تو عروہ ساری حقیقت ملائکہ کو بتانے لگے تھی لیکن پھر اُس میسج کا سوچ کر خاموش ہو گئی۔
اچھا بیٹھو میں تمہیں بتاتی ہوں میرے ساتھ کیا ہوا۔
ملائکہ سمجھ گئی تھی کہ عروہ ڈر گئی ہے اس لیے دروازہ بند کیے بیٹھی تھی۔
امی نے مارکیٹ سے مجھے کچھ سامان لینے بھیجا تھا تم تو جانتی ہو نا میں اکیلی باہر نہیں جاتی تو وہاں دو لفنگے کھڑے تھے جو مجھے گھور کر دیکھ رہے تھے۔لیکن جب وہ چلتے ہوئے میرے پاس آنے لگے تو میں نے وہاں سے دوڑ لگا دی میں بہت ڈر گئی تھی اور امی بھی میرے ساتھ نہیں تھیں۔
ملائکہ نے اپنا خلق تر کرتے کہا۔
پھر؟ عروہ جو تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی لیکن اپنی پریشانی کو بھولائے ملائکہ کی بات سن رہی تھی اس نے جلدی سے پوچھا۔
تو میں مارکیٹ سے باہر نکل آئی اور باہر ایک لڑکے سے ٹکرائی میرے ٹکرانے سے اُس کا موبائل ٹوٹ گیا لیکن غلطی اُس کی بھی تھی۔میں اُسے سوری بولے جب وہاں سے جانے لگی تو اُس نے مجھے بازو سے پکڑ کر سامنے کھڑا کیا میں پہلے ہی ڈری ہوئی تو بنا سوچے سمجھے میں نے ملائکہ سانس لینے کے لیے روکی تو عروہ نے جلدی سے پوچھا۔
کیا کیا تم نے؟
میں نے اُسے تھپڑ دے مارا ملائکہ نے کہا تو عروہ نے حیرت کے مارے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔
تم ایسے کیسے کسی کو تھپڑ مار سکتی ہو اگر وہ تم سے اس تھپڑ کا بدلہ لینے آگیا تو؟ عروہ نے اپنے خدشات بیان کرتے کہا۔
کچھ نہیں ہو گا۔
اور ویسے بھی میں کسی سے ڈرتی نہیں ہوں۔
ملائکہ نے عام سے لہجے میں کہا۔
ڈر تو اب کہی بھاگ گیا تھا اس لیے عام سے لہجے میں بات کر رہی تھی۔
تو پھر اُن لڑکوں سے ڈر کر بھاگی کیوں؟ عروہ نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
وہ تو میں اُس وقت اکیلی تھی نا اس لیے ملائکہ نے بتیسی دکھاتے کہا۔
ملائکہ عروہ جیسی ڈرپوک نہیں تھی لیکن کبھی کبھار وہ بھی ایسی چیزوں سے ڈر جاتی تھی جس سے عروہ ڈرتی تھی۔
اگر اس کے ساتھ کوئی ہوتا تو ملائکہ میڈم شیرنی بنی پھیرتی تھی اور جب اکیلی ہوتی تو بھیگی بلی بن کر پھیرتی۔
آنٹی پریشان ہو رہی تھیں میں اُن کو بتا کر آتی ہوں کہ تم ٹھیک ہو۔ملائکہ نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر باہر چلی گئی۔
اس کے جاتے ہی عروہ کو پھر سے پریشانی نے آن گھیرا تھا۔
ابھی اس نے اپنے موبائل کو پکڑا ہی تھا جب وہ رنگ ہوا عروہ ڈر کے مارے اُچھلی تو موبائل بیڈ کر جا گرا۔
اس نے ڈرتے ہوئے دوبارہ موبائل اٹھایا جس پر اُسی نمبر سے میسج آیا تھا۔
ویڈیو دیکھنے کے بعد تو انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی اس لیے مجھے اگلے ماہ بیس لاکھ چاہیے اگر تم نے مجھے پیسے نہیں دیے تو میں یہ ویڈیو پولیس کے حوالے کر دوں گا۔
عروہ نے میسج پڑھا تو اس کے ہاتھ کپکپانے لگے تھے۔لیکن جیسے ہی اس نے ویڈیو اون کی تو اُس ویڈیو کو دیکھتے اسے اپنے پیروں تلے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔اسی سے تو وہ کئی سالوں سے بھاگ رہی تھی اور اب وہی سب کچھ دوبارہ اس کے سامنے آگیا تھا۔خوف سے آنکھیں اس کی پھیل گئی تھیں بےساختہ اس کے آنسو بہہ کر اس کے گال کو بھگو گئے تھے۔اس وقت عروہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیوں کو روکنی کی کوشش کر رہی تھی۔پرانی اور تلخ یادیں پھر سے اس کی نظروں کے سامنے گھومنے لگی تھی۔
💜 💜 💜 💜💜
کوثر، دادا جان، تحریم اور بسمہ کے ساتھ اپنے سسرال آگئی تھی دادا جان ثانیہ کے ڈیڈ سے باتیں کر رہے تھے انہوں نے بتا دیا تھا کہ خان واپس آگیا ہے ۔اور دادا جان نے اگلے ہفتے سب کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی تھی۔
بسمہ نے اپنی ماں کو کہا کہ وہ کوثر کی مدد کرنے کرنے کچن میں جا رہی ہے تحریم نے اثبات میں سر ہلایا دیا اور عظمیٰ بیگم سے باتیں کرنے لگی۔
بسمہ کمرے سے باہر آئی تو سامنے آفاق چلا آرہا تھا۔بسمہ نے آفاق کو دیکھا تو اسے سلام کیا۔
آفاق نے غصے سے بسمہ کو دیکھا تھا۔
کتنی بار میں نے تمہیں منع کیا ہے کہ اپنی گندی زبان سے میرا نام نا لیا کرو جتنا مرضی تم خود کو سنوار لو لیکن رہو گی تو تم ایک ملازمہ کی ہی بیٹی آفاق نے زہریلے لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
بسمہ کے آنسو جو پہلے ہی باہر نکلنے کو تیار تھے۔آفاق کے جاتے ہی باہر آگئے۔
تم کب آئی؟ وہاج جو بسمہ کو دیکھ چکا تھا اس نے بسمہ کے پاس آتے پوچھا لیکن اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔
کس نے رلایا تمہیں؟ وہاج نے سنجیدگی سے پوچھا لیکن بسمہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
میں نے پوچھا کس نے رلایا تمہیں؟ اس بار وہاج نے بسمہ کو دونوں بازوں سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے غصے سے پوچھا۔
بسمہ وہاج کو دیکھ کر ڈر گئی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ وہاج کی انگلیاں اس کے بازوں میں پیوست ہو جائیں گی۔
تکلیف کے مارے بسمہ کے رونے میں روانی آگئی تھی۔وہاج نے اس کا کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھسیٹنے کے انداز میں وہاں سے لے گیا۔
💜 💜 💜 💜
