Tarap Dil Ki By Ramsha Hayat Readelle 50058 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
بسمہ آج ڈرائیور کے ساتھ یونیورسٹی آئی تھی۔وہ گاڑی سے نکلی اس سے پہلے وہ اندر جاتی کسی نے اسے بازو سے پکڑا تھا۔
بسمہ نے پریشانی سے مڑ کر دیکھا تو وہاں آفاق چہرے پر سنجیدگی لیے کھڑا تھا۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے۔آفاق کہتے ہی اسے کھنچتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف لے گیا۔
اور دروازہ کھول کر اسے اندر بیٹھایا۔
بسمہ کو اس نے بھاگنے کا بھی موقع نہیں دیا تھا۔
آفاق دوسری طرف سے آکر اندر بیٹھا۔بسمہ کو اس سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔
ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ابھی تو کچھ نہیں کروں گا۔
آفاق نے اپنا رخ بسمہ کی طرح کرتے بوئے مسکرا کر کہا۔
کیا بات کرنی ہے آپ نے؟ بسمہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
تم وہاج سے شادی کے لیے کبھی ہاں نہیں کروں گی اگر تمھارے بھائی بھی کہتے ہیں تو بھی تم ہاں نہیں کروں گی تمھاری شادی صرف مجھ سے ہو گی سمجھ گئی؟ آفاق نے سنجیدگی سے بسمیہ کو دیکھتے کہا۔
جو بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
اور اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو تمھارے بھائیوں کو اس کی سزا بھگتی پڑے گی۔
میں اُن کے ساتھ کچھ بھی کروایا سکتا ہوں۔
اُن کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو سکتا ہے یا اُن پر کوئی فائرنگ کر سکتا ہے۔کچھ بھی ہو سکتا ہے۔آفاق نے مسکراتے ہوئے کہا تو بسمہ کی خوف سے آنکھیں پھیل گئی تھیں وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ کس طرح بسمہ کو قابو کرنا ہے اور اسے ڈرانا آسان تھا کیونکہ وہ ابھی یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے بھائی کیا کچھ کر سکتے ہیں اور اسی بات کا آفاق فائدہ اٹھا رہا تھا۔
نہیں آپ پلیز ایسا کچھ نہیں کریں گئے میں آپ کی بات مانو گی بسمہ نے جلدی سے کہا۔وہ سچ میں ڈر گئی تھی۔
گڈ گرل اور تم اپنے بھائیوں سے کہو گی کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔
آفاق کی اگلی بات پر تو بسمہ کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔
ارے ابھی نہیں رونا رونے کے لیے تو پوری زندگی پڑی ہے۔آفاق نے اس کی آنکھوں میں پانی دیکھتے مصنوعی فکر مندی سے کہا۔
آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں آپ تو مجھے پسند نہیں کرتے تھے۔
بسمہ نے بھاری لہجے میں کہا۔
پسند تو ابھی بھی میں تمہیں نہیں کرتا آفاق نے آنکھوں میں چمک لیے کہا۔
لیکن اب تم میری ضد بن گئی ہو۔جانتی ہو کیوں؟
کیونکہ تمہیں میرا بھائی پسند کرتا ہے۔
اور اُسے اُس کا پیار مل جائے ایسا میں کبھی ہونے نہیں دوں گا۔
بس یہی وجہ ہے اور دوسری وجہ میں تمہیں بتانا نہیں چاہتا۔اب تم جاؤ اور اگر تم نے کسی کو بتانے کی کوشش کی تو نتائج بہت برے ہوں گئے۔ آفاق نے بسمہ کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
جو فوراً گاڑی سے نکل گئی تھی۔
میرا کام تو ہو گیا۔آفاق نے گہرا سانس لیتے کہا اور گاڑی سٹارٹ کر دی اسے پورا یقین تھا کہ جیسا اس نے کہا ہے بسمہ ویسا ہی کرے گی۔
💜 💜 💜 💜
صبح خان کی آنکھیں کھلی تو عروہ اس کے ساتھ چپکی سو رہی تھی اسے دیکھتے ہی خان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اس نے جھک کر عروہ کے چہرے کی طرف دیکھا جو پرسکون سی سو رہی تھی۔
مس عروہ خان نے اسکے گال کو تھپتھپاتے ہوئے اسے جگانے کی کوشش کی۔
عروہ نے مندی مندی سی آنکھیں کھول کر خان کی طرف دیکھا پہلے تو وہ خان کو دیکھ کر مسکرا پڑی لیکن جیسے ہی اسے ہوش آئی۔فوراً خان سے پیچھے ہٹنے لگی۔لیکن اس کے بال خان کی شرٹ کے بٹن میں پھنس گئے تھے۔
آہ عروہ ہلکی آواز میں چیخی۔
ایک منٹ خان نے مسکراہٹ دباتے کہا اور اپنی شرٹ کے بٹن سے بال باہر نکالے۔عروہ جب پیچھے ہوئی تو اسکے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات تھے۔
ایم سوری سر رات میں کیسے آپ کے پاس آگئی مجھے پتہ نہیں چلا۔عروہ نے نظریں جھکائے کہا۔
کوئی بات نہیں مس عروہ اگر دیکھا جائے تو میں کوئی غیر نہیں ہوں۔خان نے ڈھکے چھپے الفاظ میں کہا۔
عروہ نے نظریں اٹھا کر خان کی طرف دیکھا تھا۔
آپ کی خالہ کو ہوش آرہا ہے۔خان نے اس کا دھیان بلقیس کی طرف کرتے کہا۔عروہ فوراً اُٹھ کر بلقیس کے پاس گئی تھی۔
امی عروہ نے خوشی سے اپنی ماں کا گال تھپتھپایا۔
بلقیس نے آنکھیں کھول کر عروہ کی طرف دیکھا تھا۔
میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتی ہوں عروہ نے خوشی سے کہا اور وہاں سے باہر کی طرف چلی گئی۔
خان اپنی جگہ سے اُٹھا اور بلقیس کے پاس آیا۔
خان کو دیکھتے ہی بلقیس حیران ہونے کے ساتھ اس کے چہرے پر خوف کا سایہ بھی لہرایا تھا۔
آپ کو مجھ سے تو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ مجھے اچھی طرح پہچانتی ہیں۔کہ میں کون ہوں۔
میں بس آپ کو یہی کہنا چاہوں گا۔مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے۔آپ نے جو کیا عروہ کی سیفٹی کے لیے کیا۔تو حمزہ کو اب پتہ چل گیا ہے کہ آپ دونوں زندہ ہیں اور وہ عروہ سے زیادہ آپ کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے کیونکہ آپ اُن کی حقیقت سے واقف ہیں۔یہ ایکسیڈنٹ بھی اُسی نے کروایا ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ دونوں میرے فلیٹ پر رہے۔اور یہ سب میں مس عروہ کے کہنے پر ہی کر رہا ہوں کیونکہ انہوں نے مجھ سے مدد مانگی تھی۔کہ میں آپ کی حفاظت کروں۔
خان نے تفصیل سے ساری بات بتاتے ہوئے کہا۔
بیٹا تم بہت اچھے ہو لیکن میں نہیں چاہتی کہ تمہیں ہماری وجہ سے کوئی مسئلہ ہو بلقیس نے دھیمے لہجے میں کہا۔
مجھے کوئی مسئلہ یا پریشانی نہیں ہے۔لیکن آپ کو کچھ ہو جاتا ہے تو عروہ کا کیا ہو گا۔آپ کو اُس کی خاطر میری بات ماننی ہو گی۔کیونکہ اُسی کی وجہ سے تو آپ اب تک خاموش تھیں۔اور اب اُسکی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔خان نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
بلقیس خاموش ہو گئی تھی خان کی بات بھی ٹھیک تھی۔
ٹھیک ہے بیٹا میں عروہ کی خاطر تو کچھ بھی کر سکتی ہوں وہ میری بہن کی آخری نشانی ہے میرے پاس میں اُسے ہر حال میں سنبھال کر رکھنا چاہتی ہوں۔
بلقیس نے کہا تو خان نے اثبات میں سر ہلایا۔
اتنے میں ڈاکٹر بھی وہاں آگئے تھے۔
عروہ خان کے پاس اکرم کھڑی ہو گئی تھی۔
آپ کی خالہ مان گئی ہیں۔خان نے سنجیدگی سے کہا۔
آپ نے بات کر بھی لی؟ عروہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
جی بلکل آپ اپنی خالہ کے پاس رہیں۔اور اپنی گھر مت جائیے گا۔میں تھوڑی دیر تک واپس آتا ہوں۔مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔خان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
عروہ اپنی خالہ کے پاس آتے بیٹھ گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
ملائکہ نے ہسپتال جانا تھا۔اور اس نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا۔اسے چاہیے تھا ارمان کو اپنے ساتھ لے کر جاتی لیکن وہ اکیلی گئی تھی۔
ابھی وہ اپنی گلی سے باہر نکلی ہی تھی جب سامنے ایک بلیک کلر کی گاڑی آکر رکی اُس میں سے کالے کپڑے پہننے آدمی نکلے تھے جنہوں نے ہاتھ میں گنز پکڑی ہوئی تھیں۔
ملائکہ تو ان کو دیکھ کر ڈر گئی تھی۔
میڈم آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہو گا۔ان میں سے ایک آدمی نے آگے آتے موبائل کو ملائکہ کے آگے کرتے کہا۔
جس نے ناسمجھی سے موبائل بکی طرف دیکھا اور اسے پکڑے کان سے لگایا۔
سپیکر میں ارسم کی آواز گونجی تھی۔
خاموشی کے ساتھ جیسا یہ لوگ کہتے ہیں ویسا کرو اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں خود تمہیں لینے آؤں گا۔
ارسم نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
ملائکہ نے دانت پیستے موبائل کو دوبارہ اُس آدمی کو پکڑایا اور خود جاکر پیچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہ جو کہہ رہا ہے کرکے دکھائے گا۔اس لیے خاموشی سے بیٹھ گئی تھی۔
لیکن اسے ارمان نے دیکھ لیا تھا۔اُسے حیرانگی ہوئی تھی کہ وہ لوگ کون تھے۔اور ملائکہ آرام سے انبکے ساتھ بیٹھ کر چلی گئی۔
وہ جب تک وہاں پہنچا وہ لوگ جا چکے تھے۔
ارمان نے جلدی سے ملائکہ کو کال کی اسے فکر ہو رہی تھی۔
ملائکہ نے موبائل کہ سکرین پر ارمان کا نام جگمگایا دیکھا تو کال اٹینڈ کی۔
ملائکہ تم ٹھیک ہو؟ اور وہ لوگ کون تھے؟ارمان نے جلدی سے پوچھا۔
بھائی میں بلکل ٹھیک ہوں۔اور آپ فکر مت کریں میں گھر آکر آپ کو ساری بات بتا دوں گی۔لیکن پلیز آپ امی کو مت بتائیے گا۔
ملائکہ نے بےبسی سے کہا۔
اچھا نہیں بتاتا کسی کو بھی لیکن مجھے تمھاری فکر ہو رہی ہے۔اور تم اتنی ریلیکس کیسے ہوسکتی ہو؟ ارمان نے اپنا ماتھا مسلتے کہا۔
میں بلکل ٹھیک ہوں میری بات پر یقین کریں۔میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔ملائکہ نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
ارمان کو تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
پھر بھی اگر ملائکہ اتنے یقین سے کہہ رہی تھی تو اسے بھی ٹیشن لینے کی ضرورت نہیں تھی۔لیکن پھر بھی اسے ٹینشن ہو رہی تھی اور یہ اُس وقت تک رہتی جب تک ملائکہ سہی سلامت گھر واپس نا آجاتی۔
💜 💜 💜 💜
ڈیڈ آپ نے ارسم کے ڈیڈ کی جان لی؟ ارسم نے کمرے میں آتے ہی دھاڑتے ہوئے کہا۔
وہ اپنے باپ بلسے بات کرنے آیا تھا جب اس نے اپنے باپ کے منہ سے کوثر کے پہلے شوہر کا نام سنا اور یہ انکشاف اس کے لیے ناقابل یقین تھا۔کہ اس کے باپ نے ارسم کے ڈیڈ کی جان لی اس لیے کہ وہ کوثر کو پسند کرتا تھا۔
اور اُسے ایک یہی راستہ نظر آیا تھا جس سے وہ کوثر کو حاصل کر سکتا تھا۔
کیا بکواس کر رہے ہو آہستہ بولو آفاق نے سرد لہجے میں کہا۔تم اپنی بکواس بند کرو میں ڈیڈ سے بات کر رہا ہوں۔
وہاج نے آفاق کو دیکھتے غصے سے کہا۔
آپ ایک قاتل بھی ہیں؟ شرم آنی چاہیے آپ کو اور کیا آپ کا ضمیر آپ کو ملامت نہیں کرتا؟ وہاج نے اپنے باپ کے سامنے کھڑے ہوتے کرخت لہجے میں کہا۔
وہاج تم غلط سمجھ رہے ہو۔ایسا کچھ نہیں ہے۔سلطان نے اسے سمجھانا چاہا۔
میں نے غلط سنا ہے؟ ابھی جو آپ نے کہا میں نے وہی سنا ہے اور وہی سچ ہے۔
آپ اتنا کیسے گر سکتے ہیں؟ میرا باپ ایک قاتل ہے اور کھلے عام آزاد پھیر رہا ہے؟ وہاج نے اونچی آواز میں کہا۔
میں ابھی جا کر ماں کو سب کچھ بتاتا ہوں پھر دیکھتا ہوں کیسے وہ آپ کے ساتھ رہتی ہیں۔
وہاج نے سرخ آنکھوں سے سلطان کو دیکھتے کہا اور وہاں سے جانے لگا.
جب آفاق نے سامنے آتے اس کے جبڑوں پر زور سے مکا دے مارا۔
وہاج کے ہونٹ سے خون نکلنے لگا تھا۔
ڈیڈ کی خوشی تم سے برداشت نہیں ہوتی اور یہ سب انہوں نے اپنی خوشی کے لیے کیا اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔
آفاق نے وہاج کو دیکھتے غصے سے کہا۔
خوشی کسی کی جان لے کر خوش ہونا لعنت ہے ایسی خوشی پر اور تم میرے راستے سے دور رہو ورنہ اپنی خوشی کے لیے میں تمھاری جان بھی لے سکتا ہوں۔وہاج نے اس کی بات اسے ہی واپس لوٹاتے ہوئے کہا اور وہاں سے جانے لگا۔
جب آفاق کو کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو اس نے اپنا چھوٹا سا چاقو نکالا جو یہ اپنے پاس رکھتا تھا اور وہاج کے پیٹ میں دے مارا۔
آفاق یہ کیا کیا تم نے؟ سلطان چیختا ہوا وہاج کے پاس آیا جو بےیقینی سے آفاق کو دیکھ رہا تھا۔
چاقو چھوٹا ضروری تھا لیکن بہت تیز تھا۔
خون زمین پر گرے لگا تھا۔وہاج وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
وہاج بیٹا سلطان نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیے گڑگڑایا۔
جس نے بےبسی سے اپنے باپ کو دیکھا تھا۔
آفاق کا چہرہ بےتاثر تھا۔
اس نے آگے بڑھتے پھولوں کا گلدستہ پکڑا اور وہاج کے سر کے پیچھے دے مارا۔جس کے سر سے بھی خون نکلنے لگا تھا اور وہی بےہوش ہو کر زمین پر گر گیا۔
آفاق سلطان نے چیختے ہوئے کہا اور اس کے سامنے کھڑے ہوتے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ طہر دے مارا۔
💜 💜 💜 💜
