110.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

وہ رات مجھے کوثر کی کال آئی تھی۔تحریم نے دونوں کے چہروں کی طرف دیکھتے بات کا آغاز کیا۔
پھر؟ ارسم نے پوچھا۔
وہ بیٹا رات ثانیہ آئی تھی۔اُس نے گھر جا کر کچھ فضول بولا ہے۔
کوثر نے پریشانی سے کہا۔
پھوپھو جان اُس نے میرے بارے میں ہی کچھ نا کچھ کہا ہو گا لیکن اس میں اتنی پریشانی والی کیا بات ہے؟ اور دادا جان کو دیکھ کر تو لگ رہا تھا بات کوئی بڑی ہے۔
خان نے سنجیدگی سے کہا۔کیونکہ اسے یہی لگ رہا تھا کہ ثانیہ نے گھر میں جا کر اس کے بارے میں کچھ نا کچھ کہا ہو گا۔
نہیں بیٹا بات صرف تمھاری نہیں ہے بسمہ کی بھی ہے۔تحریم نے کہا تو دونوں نے ناسمجھی سے تحریم کی طرف دیکھا تھا۔
پھر اس نے جو بات کوثر نے اسے بتائی تھی ساری ارسم اور خان کو بتا دی۔
وہ جاہل لڑکی اتنی بےہودہ بات میری بہن کے بارے میں کر بھی کیسے سکتی ہے؟ اور اُس کا باپ کیا کان کا اتنا کچھا ہے کہ جو بھی اُس کی بیٹی کہے گی وہ مان لے گا؟ ارسم تو یہ سنتے ہی بھڑک اُٹھا تھا۔
خان جبڑے تانے ٹیبل کو گھور رہا تھا۔
میں ابھی اُس لڑکی کا دماغ ٹھیک کرکے آتا ہوں ارسم نے غصے سے اُٹھتے ہوئے کہا۔
نہیں ارسم تم نہیں میں وہاں جاؤں گا۔خان نے سرد لہجے میں وہاں سے اٹھتے کہا اور بنا کسی کی بات سنے وہاں سے چلا گیا۔
تحریم نے پریشانی سے ارسم دیکھا تھا۔
بیٹا اُس کے پیچھے جاؤ وہ کچھ الٹا ناکر دے تحریم نے کہا۔
خالہ جان آپ کو ہمیں رات ہی یہ بات بتا دینی چاہیے تھی۔اور خان کی ٹیشن مت لیں وہ سب ٹھیک کر دے گا۔یہ بات کسی بھی طرح مانو کو پتہ نہیں چلنی چاہیے۔
ارسم نے سنجیدگی سے کہا اور خود بھی وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا۔
تحریم دادا جان کے کمرے کی طرف چلی گئی تھی اسے ڈر تھا کہ خان غصے میں کچھ ایسا ویسا نا کر گزرے۔
💜 💜 💜 💜
حمزہ گھر سے باہر جا رہا تھا جب اسے سامنے خان آتا ہوا نظر آیا۔
جس کی آنکھیں سرخ اور ماتھے پر بل پڑے تھے آج کافی سالوں بعد اس نے خان کو دیکھا تھا۔
خان نے اک نظر حمزہ پر ڈالی اور اندر چلا گیا۔
جہاں سب لوگ بیٹھے اسی بارے میں بات کر رہے تھے کہ آگے کیا کرنا ہے۔
ثانیہ بھی وہی موجود تھی آفاق گھر پر نہیں تھا۔
وہاج وہی بیٹھا موبائل پر ٹائپنگ کر رہا تھا جب اس کی نظر کمرے میں داخل ہوتے خان پر پڑی۔
خان آپ وہاج نے خان کو دیکھتے اونچی آواز میں کہا۔
سب لوگوں نے خان کی طرف دیکھا تھا۔
ثانیہ کے چہرے کا رنگ خان کو دیکھتے سفید ہو گیا تھا۔
رحمان اور سلطان بھی وہی موجود تھے۔
خان نے بنا کسی کی پرواہ کیے ثانیہ کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر دے مارا۔
سب کی آنکھیں حیرت سے باہر آگئی تھیں۔
وہاج کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ثمینہ تو منہ ہر ہاتھ رکھے خان کو دیکھ رہی تھی۔ثانیہ تھپڑ لگنے کی وجہ سے پیچھے صوفے پر جا گری تھی۔
اس نے اپنی گال پر ہاتھ رکھے بےیقینی سے خان کو دیکھا۔کسی کو بھی اس بات کی توقع نہیں تھی کہ خان ثانیہ پر ہاتھ اٹھائے گا۔
خان تم نے میرے ہی گھر آکر میری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا؟ تمھاری ہمت کیسے ہوئی ؟رحمان نے آگے بڑھتے خان کے سامنے آتے غصے سے کہا۔
ہمت کی تو آپ بات ہی نا کریں۔میری ہمت کتنی ہے اور میں کیا کچھ کر سکتا ہوں وہ ابھی آپ جانتے نہیں ہیں۔
شکر کریں میں نے آپ کی بیٹی کی جان نہیں لے۔ ورنہ میرے لیے یہ مشکل نہیں تھا۔
اگر یہی تھپڑ آپ نے اسے مارا ہوتا تو آج آپ کی بیٹی بھی جانتی ہوتی کہ دوسروں کی بہن بیٹی کی عزت کیسے کرنی ہے۔
خان نے رحمان کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا۔
تمہیں لگتا ہے کہ میری بیٹی جھوٹ بول رہی ہے؟ اور تم سچے ہو؟ رحمان نے مٹھیاں بھینچتے غصے سے کہا۔
مجھے فرق نہیں پڑتا کہ آپ یا کوئی بھی میری بات پر یقین کرے یا نا کرے میں یہاں صفائیاں دینے نہیں آیا بلکہ آپ کی اس کم عقل بیٹی کو وارن کرنے آیا ہوں۔
اگر اس نے یا کسی نے میری بہن کے کردار پر انگلی اٹھائی تو میں اُس انسان کو دنیا سے اٹھا دوں گا۔
اپنی بہن کے بارے میں میں ایک لفظ بھی غلط برداشت نہیں کروں گا۔
خان نے کھا جانے والی نظروں سے رحمان کو دیکھتے کہا۔
خان بس کر دو اتنی چھوٹی سی بات کو تم نے رائی کا پہاڑ بنا لیا ہے۔ثمینہ نے غصے سے خان کو دیکھتے کہا۔
واہ چھوٹی سی بات؟ ویسے ٹھیک کہا آپ نے آپ کے لیے یہ چھوٹی بات ہی ہو گی۔لیکن ہم غیرت والے لوگ ہیں۔ہمارے لیے یہ چھوٹی بات نہیں ہے۔میرے لیے میری بہن کی عزت مجھے اپنی عزت سے زیادہ عزیز ہے۔
امید کرتا ہوں آپ لوگ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گئے۔خان نے کرخت لہجے میں کہا اور جیسے آیا تھا ویسے وہاں سے چلا گیا۔
وہاج پرسکون سا کھڑا تھا۔
معاملہ اب حد سے بڑھ گیا ہے خان کو میری بیٹی پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا رحمان نے غصے سے کہا۔
بھائی آپ کو نہیں لگتا ایک بار ہمیں پھر سے ثانیہ سے حقیقت پوچھ لینی چاہیے۔
خان کی عادت سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں وہ اتنا بھڑکا ہوا ہے تو ضرور کچھ نا کچھ ایسی بات ہوگی جس سے ہم لوگ واقف نہیں ہیں۔
سلطان نے اپنے بھائی کو دیکھتے کہا۔
رحمان نے ثانیہ کی طرف دیکھا تھا۔
مجھے اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ ہے لیکن خان کو اس کی قیمت چکانی ہو گی۔رحمان نے دانت پیستے کہا۔
لیکن وہاج کو اپنے تایا کے ادارے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔
خان تم نے اُس لڑکی کی وجہ سے میری بیٹی کو تکلیف دی ہے اب دیکھنا میں اُس کی کیا حالت کرتا ہوں۔
رحمان نے غصے سے دل میں سوچتے ہوئے کہا۔
اس بار تو کوثر نے بھی خان کو نہیں روکا تھا۔
💜 💜 💜 💜💜

حمزہ گھر سے باہر چلا گیا تھا۔اسے کسی کی تلاش تھی۔اس نے ہر جگہ اُسے تلاش کر لیا تھا۔
کہاں ہو تم؟ کہاں کہاں نہیں تمہیں میں نے تلاش کیا؟
ایک بار تم میرے ہاتھ آجاؤ پھر دیکھنا میں تمھارا کیا حال کرتا ہوں۔
حمزہ نے سگریٹ سلگاتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔
ابھی بھی وہ گاڑی میں بیٹا ہوا تھا جب اس کی نظر نیچے گئی جہاں پر ایک سلور کلر کا بریسلٹ گرا ہوا تھا۔
حمزہ نے جھک کر بریسلٹ اٹھایا تو اسے یاد آیا کہ یہ اس نے اُس لڑکی کے ہاتھ میں دیکھا تھا۔
حمزہ کے چہرے پر بےساختہ مسکراہٹ آگئی تھی جو اسے بھی معلوم نہیں تھا۔
تم میں کچھ تو خاص بات ضرور ہے کہ میرے جیسا انسان تمھاری خوبصورت آنکھوں کے سحر میں قید ہو گیا تھا۔
حمزہ نے اُس بریسلٹ کو دیکھتے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔
لیکن میں یہی چاہتا ہوں کہ ہماری دوبارہ ملاقات کبھی نا ہو ورنہ پھر تمہیں مجھ سے کوئی بچا نہیں سکے گا۔
کیونکہ حمزہ کو آج تک کسی سے محبت نہیں ہوئی اور اب اگر ہوئی تو یقیناً کسی ایسی لڑکی کے ساتھ ہو گی جس میں کوئی نا کوئی بات تو ضرور ہو گی اور تم میں کچھ نا کچھ تو ایسا ہے جو مجھے تمھاری طرف مائل کر رہا ہے۔
حمزہ نے بریسلٹ لو اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
رات بھی کافی بار پتہ نہیں کیوں اسے ملائکہ کا بار بار خیال آرہا تھا۔
وہ خود بھی حیران تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک بار کسی سے ملنے کے بعد بار بار اُس کا خیال آئے۔
💜 💜 💜 💜

خان تم کہاں گئے تھے؟ دادا جان نے خان کو آتے دیکھا تو سنجیدگی سے پوچھا۔
ارسم بھی ان کے پاس ہی بیٹھا تھا ان کو ارسم سے پتہ چل گیا تھا کہ خان کہاں گیا ہے۔
دادا جان آپ کو معلوم ہے کہ میں کہاں گیا تھا۔
خان نے صوفے پر بیٹھتے اپنی کنپٹی کو دباتے ہوئے کہا۔
کیا کہا تم نے وہاں جا کر؟ دادا جان نے اگلا سوال کیا۔ارسم بھی خان کو ہی دیکھ رہا تھا۔
دادا جان مجھے کیا کہنا چاہیے تھا؟
خان نے الٹا دادا جان کو دیکھتے سوال کیا۔
خان میں تم سے سوال پوچھ رہا ہوں اور تم جواب دینے کی بجائے مجھ سے سوال پوچھ رہے ہو؟ دادا جان نے غصے سے کہا۔
کچھ خاص نہیں کہا دادا جان بس وارن کیا ہے۔
مجھے تمھاری بات پر یقین کیوں نہیں آرہا خان؟ تم خود وہاں گئے تو کچھ نا کچھ تو وہاں ہوا ہو گیا۔دادا جان نے جانچتی ہوئی نظروں سے خان کو دیکھتے پوچھا۔
دادا جان جو الزام اُس جاہل لڑکی نے میری بہن پر لگایا میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا۔
اپنی مجھے پرواہ نہیں ہے میرے بارے میں کوئی کچھ بھی بولے مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن اپنی فیملی کے بارے میں ایک لفظ بھی غلط برداشت نہیں کروں گا۔خان نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ویسے نانا جان میرے خیال سے خان نے بلکل ٹھیک کیا جو بھی کیا مجھے اپنے بھائی پر پورا بھروسہ ہے۔
ارسم نے گہرا سانس لیتے دادا جان کو دیکھتے کہا جو خاموشی سے ارسم کو دیکھ رہے تھے۔
میں بھی نکلتا ہوں مجھے ایک ضروری کام کے سلسلے میں جانا ہے۔ارسم نے کھڑے ہوتے کہا اور وہاں سے چلا گیا پیچھے دادا جان کسی سوچ میں پڑ گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜 💜

عروہ گھر آکر اپنے کمرے میں بند ہو گئ۔اُس اجنبی کی بار بار کالز اور میسج آرہے تھے۔
اس نے سوچا کہ وہ نمبر بلاک کر دیتی ہے لیکن اُس کے پاس اس کی ویڈیو تھی اگر اُس نے پولیس کے حوالے کر دی تو میرا کیا ہو گا؟
اور دوسری جانب وہ نوکری تھی اور نکاح اس کا تو سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔
نا کسی کو بتا سکتی تھی نا کسی کی مدد لے سکتی تھی۔
اگر اُس آدمی نے پیسے لینے کے بعد بھی مجھے تنگ کیا تو؟ لیکن ابھی ایک چھوٹی سی ہی سہی لیکن امید ہے کہ وہ پیسے لینے کے بعد مجھے تنگ نہیں کرے گا۔
لیکن اُس کے لیے مجھے اُس کھڑوس سے نکاح کرنا ہو گا۔
میں کیا کروں میں پاگل ہو جاؤں گی۔عروہ نے اپنے بالوں کو پریشانی سے کھنچتے ہوئے کہا۔
اگر میں اُن سے کنٹریکٹ کر لیتی ہوں تو ساری رقم ادا کرنے کے بعد تو میں آذاد ہو جاؤں گی اور مجھے نکاح کے بعد بھی صرف اُنکے آفس میں کام کرنا ہے اس طرح میرا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور اُس انسان کو پیسے بھی دے دوں گی۔
اور پھر میں آرام سے طلاق بھی لے لوں گی۔
عروہ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد خود سے کہا۔
اس کی نظر بیڈ پر پڑے کارڈ پر پڑی تھی۔
اس نے حلق تر کرتے کارڈ کو پکڑا۔اور اس پر لکھا نمبر اپنے موبائل میں ڈائل کرنے لگی۔ایک سیکنڈ میں اس نے فیصلہ کیا تھا لیکن وہ نہیں نہیں جانتی تھی کہ اس فیصلے کی وجہ سے وہ کتنی بڑی مصیبت میں پڑنے والی ہے۔ لیکن اس وقت اس کے سر پر اُس آدمی کا ڈر سوار تھا جس کے پاس اس کی ویڈیو تھی۔
اس نے نمبر ڈائل کیا تو پہلی ہی رنگ پر کال اٹھا لی گئی تھی۔
دوسری جانب صفوان جو لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا اس نے موبائل رنگ ہونے پر بے دھیانی میں موبائل اٹھا کر کان سے لگایا۔
لیکن دوسری جانب چھائی خاموشی نے اسے نمبر دیکھنے پر مجبور کیا۔
مس عروہ؟ صفوان نے کہا تو عروہ بھی حیران ہوئی تھی۔
اس نے تو اندازہ لگایا تھا۔
جی عروہ نے بس اتنا ہی کہا۔
تو کیا جواب ہے آپ کا؟ صفوان نے پیچھے بیڈ سے ٹیک لگاتے گہرے لہجے میں پوچھا۔
وہ میں عروہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرح کہے۔
ابھی تو وہ اس کے سامنے نہیں تھا تو اس کی یہ حالت ہو رہی تھی۔
میں نکاح کے لیے تیار ہوں لیکن میری بھی کچھ شرائط ہیں۔عروہ نے جلدی سے کہا۔
صفوان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
ٹھیک ہے کل آپ میری آفس آجائیں اور کنٹریکٹ پیپرز پر سائن کر لیں۔اور نکاح جب آپ چاہیں۔صفوان نے کہا تو عروہ نے اپنا حلق تر کیا تھا۔
عروہ نے بنا کوئی جواب دیے فون بند کر دیا۔
صفوان نے ایک نظر موبائل کو دیکھا اور اسے بیڈ پر رکھ دیا۔
مس عروہ تم خود اپنی زندگی کو جہنم بنانا چاہتی ہو تو تمھارے ساتھ اب سے جو کچھ بھی ہو گا اُس کی ذمہ دار صرف تم ہی ہو گی۔
صفوان نے سرد لہجے میں کہا۔
اور دوبارہ اپنا کام کرنے لگا۔
💜 💜 💜 💜
تم لوگوں سے ایک لڑکی ڈھونڈی نہیں جا رہی؟ ارسم نے اپنے آدمیوں کو دیکھتے دہاڑتے ہوئے کہا۔
سر ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ لڑکی ہمیں نہیں مل رہی۔ ایک آدمی نے نظریں جھکا کر کہا۔
تم سب کسی کام کے نہیں ہو ارسم نے غصے سے کہا اور وہاں سے نکل گیا۔
آخر دنیا کے کون سے کونے میں تم چھپ گئی ہو؟ لیکن میں تمہیں تلاش کر لوں گا۔
ارسم نے ڈرائیونگ کرتے سرد لہجے میں کہا۔
وہ آج خود بسمہ کو لینے یونی گیا تھا خان نے کہا تھا کہ اب سے وہی بسمہ کو یونی چھوڑے گا اور اُسے واپس لے کر آئے گا۔
ارسم گاڑی سے باہر نکلا اور اس سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا۔
اس نے گلاسز لگائے ہوئے تھے۔
بلیو جینز پر اس نے سفید شرٹ پہنی ہوئی تھی۔
وہاں سے سے گزرتے لوگ اسے مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے۔لیکن وہ لاپرواہ بنا بسمہ کا انتظار کر رہا تھا جب اس کی نظر اُس لڑکی پر پڑی جسے وہ پاگلوں کی طرح تلاش کر رہا تھا۔
ملائکہ اپنے باپ سے ضد کرکے یہاں یونی میں ایڈمیشن لینے آئی تھی۔ماں تو اس حق میں نہیں تھی لیکن ملائکہ آگے پڑھنا چاہتی تھی۔اور اب تو وہ خود اکیلی باہر آ جا سکتی تھی تو یونی میں آنے میں کیا مسئلہ تھا۔
ملائکہ اپنے دھیان جا رہی تھی جب کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر کھنچا۔ملائکہ تو بوکھلا گئی تھی۔
ارسم اسے کھنچتے ہوئے ایک سنسان جگہ پر لے گیا تھا۔
اس نے ملائکہ کے منہ پر اپنا وزنی ہاتھ رکھا۔
ملائکہ نے ارسم کو دیکھا تو خوف سے اسکی آنکھیں باہر آگئی تھیں۔
آخر کار تم مجھے مل ہی گئی۔ارسم نے تمسخرانہ انداز میں ملائکہ کی خوف سے پھیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
تمہیں کیا لگا تم مجھے تھپڑ مار کر آسانی سے چلی جاؤ گی؟
میں اپنے دشمن کو کبھی نہیں بھولتا۔اور تم تو ایک خوبصورت دشمن ہو ارسم نے سرد لہجے میں کہا۔
ملائکہ کو جب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو اس نے ارسم کے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑھ دیے۔
ارسم نے گھور کر ملائکہ کو دیکھا اور اپنا ہاتھ پیچھے کیے جہاں پر ملائکہ کے دانتوں کے نشان موجود تھے۔اور وہاں سے خون بھی نکل رہا تھا۔
ایک اور غلطی ہاں ارسم نے اپنے ہاتھ کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
ملائکہ ارسم کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے پیچھے دھکا دینے لگی جب ارسم نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے اسے کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔
جو اس کے سینے سے آ لگی تھی۔
تمھارا مجھ سے بچنا اب مشکل ہی نہیں نامکمل ہے۔
تم نے جو غلطی کی ہے اُس کی سزا تو ضرور ملے گی۔ارسم نے ملائکہ کے کان کے پاس جھکتے ہوئے پرسرار لہجے کہا۔اس کی گرم سانسوں کی تپش کی وجہ سے ملائکہ کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
ابھی میں جا رہا ہوں لیکن بہت جلد پھر سے ہماری ملاقات ہو گی مجھے پوری امید ہے۔ارسم نے اس بار ہلکا سا مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ملائکہ جو اپنا سانس روکے کھڑے تھی جلدی سے وہاں سے بھاگ گئی۔
💜 💜 💜 💜 💜